ضیا الحق کی آئینی باقیات پر سوال: عوام نہیں تو کون؟
نوآبادیاتی عہد کی پروردہ سول و ملٹری بیوروکریسی نے قومی اقدار کا تعین تقسیم ہند کے فوری بعد کر لیا، یہ اقدار انگریزی طرز حکمرانی سے ماخوذ تھے اور اس میں نوآبادیاتی عہد کی حکمرانی کا تجربہ پاکستان کو ورثہ میں ملا۔ انڈین انڈی پینڈنس ایکٹ 1947 ء کے تحت پاکستان نے قانون ہند 1935 ء کو ملک میں نافذ کیا اور اس قانون کے تحت جتنے بھی ضابطے تھے وہ بھی من و عن نافذ ہو گئے، نوآبادیاتی عہد کے قوانین و ضابطے محکوم ہندستانیوں پر حکمرانی کو تقویت دینے کے لیے تھے تاہم آزاد پاکستانیوں کے لیے بھی محکوم قوم کے ضابطے نافذ کر دیے گئے۔
نوآبادیاتی طرز حکمرانی میں جمہوریت کے مقابلے پر فسطائیت انگریزوں کا نظریہ تھا اسی فسطائیت نے پاکستان میں 1948 ء سے لے کر 1971 ء تک براہ راست حکومت کی اور جمہوری اقدار کا راستہ روکے رکھا۔ اس عہد میں پولیٹیکل کلاس کی نشوونما کو بھی روکا گیا اور فسطائیت کی نرسری میں جو پولیٹیکل ایلیٹ تیار کی گئی آج پاکستان اسی ایلیٹ کے ہاتھوں جبر و استبدادیت کا شکار ہے۔ اس کلاس کی جڑیں سماج میں مضبوطی سے پیوست ہو گئیں اور پاکستان میں فسطائیت پر مبنی ضیاء الحق کا عہد حکمرانی صرف استبدادیت پر مبنی نہیں تھا بلکہ یہ عہد پاکستان کا سیاہ ترین عہد ہے جس کے دستوری اثرات آج پاکستان کی عوام بھگت رہی ہے۔
جیسے 1971 ء تک جمہوری انتخابات کا راستہ بند تھا ایسے ہی 1977 ء سے 1988 ء تک بھی جمہوری انتخابات کا سوال توہین امیر المومنین بن گیا، چوں کہ پاکستان کے بعض مذہبی رہبروں نے ضیاء الحق کو امیر المومنین تسلیم کر رکھا تھا، ان مذہبی کاسہ لیسوں کے ساتھ قانون دان بھی ضیاء الحق کی چھتری بن کر ملک کی تباہی کر رہے تھے ان میں ضیاء کے قانونی مشیر اے۔ کے بروہی اور شریف الدین پیرزادہ بھی تھے۔ 1973 ء کے دستور پاکستان کو پہلے تو 1985 ء تک منسوخ رکھا گیا، جب دستور کی بحالی کا وقت آیا تو بروہی اور پیرزادہ نے آمریت کے تحفظ کے لئے اپنا ضمیر فروخت کر دیا۔ آئین پاکستان پر ضیاء الحق کے نقوش مرتب کرنے کے لیے دستور پاکستان کی 280 شقوں میں سے 67 شقوں کو تبدیل کر دیا گیا۔ اے کے بروہی اور شریف الدین پیرزادہ نے ضیاء آمریت کو قوت بخشنے کے لیے نیا آئین تیار کیا جسے آرسی او کا نام دیا گیا اور ضیاءالحق نے بہ طور صدر جاری کیا۔
مارچ 1985 ء میں جاری شدہ آر سی او کی متعدد شقیں آج بھی آئین پاکستان کا حصہ ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے سے صدر سے اسمبلی توڑنے کا اختیار تو واپس لے لیا البتہ آئین پاکستان سے ضیاء الحق کے آسیب زدہ سائے کو ختم کرنے کی جراءت نہیں کر سکی، ضیاء الحق کی آئینی ترامیم میں نگران حکومت کا تصور غیر جمہوری، آمرانہ اور جابرانہ ہے جس کے تحت ہر پانچ سال بعد ملک نگران حکومت کے قبضے میں چلا جاتا ہے جنھیں جمہور منتخب نہیں کرتی، پاکستان میں ضیاء الحق کے بعد سے نگران حکومتیں کون بناتا ہے، کیسے بنتی ہیں اور انھیں کون چلاتا ہے، کیا یہ آئینی سوال پوچھنا بنیادی شہری حقوق کا مطالبہ کرنے کے بھی خلاف ہے؟
غلام مصطفیٰ جتوئی، بلخ شیر مزاری، معین الدین احمد قریشی، ملک معراج خالد، محمد میاں سومرو، میر ہزار خان کھوسو، جسٹس ریٹائرڈ ناصر الملک اور انوار الحق کاکڑ، پاکستان کی نگران حکومتوں کے سربراہ ہیں۔ بے نظیر کی حکومت برخاست ہونے کے بعد پہلی نگران حکومت 1990 ء میں بنائی گئی اور ہیئت حاکمہ نے غلام مصطفیٰ جتوئی کو نگران وزیر اعظم بنا یا اور پھر 9 جماعتوں کے اسلامی جمہوری اتحاد نے نواز شریف کو وزیر اعظم کے عہدے پر بٹھا دیا، یوں کہہ سکتے ہیں کہ ضیاء الحق نے جیسے اپنے حکم سے نواز شریف کو پنجاب کا وزیر خزانہ لگایا تھا ویسے ہی ضیاء الحق کے نگران حکومت کے تصور کا پہلا بنیفشری بھی نواز شریف ہی تھا۔
نگران حکومتوں کا تصور 1973 ء کے آئین میں نہیں تھا حتیٰ کہ 1956 ء اور 1962 ء کے آئین میں بھی ایسا کوئی حکومتی تصور پیش نہیں کیا گیا تھا۔ جنرل ضیاء کی آمریت میں، 1985 ء میں نگران حکومت کا تصور آئینی ترامیم کے ذریعے پیش کیا گیا۔ نان پارٹی سسٹم کے تحت ضیاء نے انتخابات کرائے، انتخابات کے بعد نئی اسمبلیوں کے اجلاس منعقد ہونا تھے اور نئی اسمبلیوں کے اجلاس سے پہلے ہی ضیاء الحق نے اپنی پسند کا آئین پاکستان صدارتی حکم کے ذریعے سے نافذ کر دیا۔ ضیاء الحق نے آئین میں آمریت کی پیوند کاری کی جسے اصلی آئین بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ 1973 ء کے اصل آئین کے آرٹیکل 94 کے تحت اس وقت تک وزیر اعظم اور وزراء اعلیٰ عہدوں پر تعینات رہیں گے جب تک ان کے جانشین منتخب نہ ہو جائیں۔
ضیاء الحق کی موت کے بعد ، جب جب نگران حکومتیں بنائی گئیں، ان حکومتوں میں اشرافیہ اور ان کے سہولت کاروں کو وزیر اعظم، وزراء اعلیٰ اور وزیر کے مناصب عطا کیے گئے، غیر جمہوری طریقے سے تشکیل پانے والی نگران حکومتوں نے قومی خزانوں، پالیسیوں کو ایسے پیش کیا جیسے انھیں وطن عزیز کے کروڑوں ووٹرز نے اپنا نمائندہ بنا کر حکومتی مناصب پر بٹھایا، ملک کی نگران حکومت بین الاقوامی معاہدات کرنے لگتی ہیں، نگران حکومت پالیسی ساز فیصلے کرنے لگتی ہیں، نگران حکومت آئندہ حکومت کی تشکیل کے لیے سیاسی جماعتوں کی سہولت کاری کا کردار نبھانے لگتی ہیں، نگران حکومت سرکاری وسائل پر اپنے من پسند وزیروں، مشیروں کو اختیارات سونپ کر ضیاء کی آمریت کے عہد کی یاد دہراتی ہیں۔
نگران حکومت کی طاقت کا اندازہ لگائیے کہ تمام سیاسی جماعتیں بے بس و لاغر نظر آتی ہیں کہ آئین پاکستان کے تحت 90 روز میں الیکشن کرانے کی دستوری شق کا نفاذ کرا سکیں، نگران حکومت کی طاقت کا اندازہ لگائیے کہ نواز شریف کی سزا کو معاف کر دیتی ہے، نگران حکومت کی طاقت کا اندازہ لگائیے کہ برطانیہ و امریکا کے ساتھ براہ راست قومی پالیسی کے امور پر تبادلہ کرتی ہے۔ نگران حکومت کی طاقت کا اندازہ لگائیے کہ قوانین کو ثبوتاژ کر کے اہم ترین عہدوں پر تقرریاں کر دیتی ہے۔
یہ نگران حکومت اتنی طاقت ور کیسے ہو گئی کہ ریاست پاکستان کے آئین کو معطل کر کے رکھ دیا گیا ہے؟ الیکشن کمیشن اگر آئین پاکستان پر عمل درآمد کرنے سے گریزاں ہے تو پھر نگران حکومت کے پاس باقی تمام اختیارات ہیں تو الیکشن کمیشن سے جواب طلبی کا اختیار نہیں ہے؟ اچھا نگران حکومت اس معاملے پر کم زور ہے تو کیا آئین کے تحت طاقت ور ادارہ عدلیہ بھی اس حد تک کم زور و لاغر ہے کہ وہ آئین پاکستان پر عمل درآمد نہ کر اسکے؟ آخر کون ہو گا جو ضیاء الحق کے نافذ کردہ نگران حکومتوں کے سیٹ اپ کو چیلنج کر کے ملک میں جمہوری و دستوری حکومت قائم کر سکے؟ عوام نہیں تو کون؟


