لال لہو کا موسم اور فلسطین کی افسردہ شامیں
اس درد پر ہر قلم حرکت کر چکا ہو گا، مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ میں تاریخ کے اس بڑے درد کو لفظوں کی تنگ چادر میں کیسے سمیٹوں۔ لفظوں کی سڑکوں پر چلتے ہوئے اب میں جس خطے کی طرف جا رہا ہوں، وہاں ہوائیں بارود سے آلودہ ہیں، سڑکوں پر لاشوں کے ڈھیر پڑے ہیں، سحر غم زدہ، راتیں آبدیدہ اور شامیں افسردہ ہیں۔
ہتھیاروں کے منہ سے نکلے ہوئے آگ کے شعلے کنکریٹ کی بڑی عمارتوں کو مسمار کرتے رہتے ہیں، جس عمارتوں میں موجود سینکڑوں جانیں زندگی کی جنگ ہار رہی ہیں۔ یہ سارا خطہ تجربات کی لیبارٹری بنا ہوا ہے سینٹرل ایشیا کے بچوں سے لے کر یورپ اور امریکہ کے بچوں کو کیا پتا جو سائنسی اصولوں کو جانوروں اور دیگر غیر جاندار اشیا پر تجربے کر کے ثابت کرتے ہیں۔ اب ذرا عالمی میڈیا کو اپنا چہرہ مشرقی وسطی کے اس خطے کی طرف کرنا چاہیے جہاں سائنس کے سارے اصول چند لمحوں میں ثابت ہو رہے ہیں اور وہ بھی انسانوں پر تجربات کر کے جس میں اس خطے کے کمسن بچے بھی شامل ہیں۔
بھلا انسانی اقدار کی پرواہ نہیں کم از کم فزکس، کیمیا، حیاتیات، ریاضیاتی اصول، اور دیگر سائنسی سماجی تجربات اور تحقیق کے لیے ہی سہی لیکن کچھ تصویریں نکال کر عالمگیریت کے آنگن پر تو دکھاؤ۔ یہ کہانی ہے فلسطین کی! اک ایسی کہانی جس میں آگ، خون، لاشیں، آنسوؤں، آ نہیں، درد، بھوک اور پیاس ہے لیکن اس کہانی میں خوف اور بزدلی نہیں ہے، اس کہانی کا مرکز اتنا گہرا ہے کہ فلسطینی بچوں کے ہاتھوں میں پتھر اسرائیلی افواج کی بھاری توپوں کا مقابلہ کرتے ہیں۔
یہ زخم کوئی نیا نہیں ہے لیکن اس زخم کی ابتدا تب ہوئی تھی جب یہودیوں کو دنیا میں کوئی پناہ دینے والا نہیں تھا تو فلسطین نے انسانی ہمدردی کا نظریہ اپناتے ان یہودیوں کو اپنی آغوش میں جگہ دی۔ یہ احسان فراموش نکلے اور دیکھتے دیکھتے ہی وطن کو قبضہ مافیا کی آنکھ سے دیکھنے لگے، فلسطینی دیکھتے رہ گئے سارا خطہ اسرائیل بن گیا۔ جب کائنات میں احساس اور احسان کا مادہ مر گیا تب سے پناہ گیر بھی قوموں کے لیے کینسر جیسا مرض بن گئے، یہ ایسے جراثیم ہیں جو دھرتی کے اصل باشندوں کو ختم کر کے خطوں کے وسائل اور اثاثوں پر قبضہ جمانے میں مصروف عمل رہتے ہیں۔ یہ مہاجرین اور پناہ گیروں کی روایت رہی ہے۔
اب تاریخ کیا ہے وہاں تک سفر کرنے کے بجائے ہم آج کا فلسطین دیکھتے ہیں جس کے ہر طرف سے میزائل برس رہے ہیں، یہاں بارود کی مصنوعی بارش روز کا معمول ہے جس کی کوئی موسم نہیں۔
اب تک کی رپورٹس کے مطابق کئی لاکھ ٹن بارود فلسطین پر برس چکا ہے جس سے سینکڑوں جانیں تباہ ہو چکی ہیں، ہاں میں کہانی کا دوسرا رخ بھی یہاں ضرور بیان کروں گا کہ اس جنگی طوفان میں زندگیاں دونوں طرف ایکسپائر ہوئی ہیں۔ انسانیت کے ناتے بغیر تفرقے کے لیبل والی ساری معصوم زندگیوں کا ہم احترام کرتے ہیں لیکن اگر تاریخ کو دیکھا جائے تو اس ساری کتاب میں سب سے افسردہ کہانی فلسطین کی ہے، کیونکہ وہ دھرتی کے مالک ہیں۔
دھرتی کا درد سب سے بڑا درد ہوتا ہے، دھرتی ماں ہوتی ہے۔ جب دھرتی سے سامراج کی غلیظ نگاہ دور نہیں جاتی تو وطن کی سائنس میں یہ فرض ہوتا ہے کہ ہر بچہ بچہ بھی اپنے لہو کا آخری قطرہ گنوائے لیکن ظالم کے آگے جھک کر اپنی دھرتی یعنی دھرم اور ماں سے غداری نہ کرے۔ یہ دھرتی محمود درویش، یاسر عرفات اور لیلی خالد کی جنم بھومی ہے اس میں مزاحمت نہ ہو یہ ہو ہی نہیں سکتا!
مجھے مساوی نظام پسند ہے، مجھے سرحدوں کو دیکھ کر الرجی ہوتی ہے کہ انسان اتنا اینٹی کیوں ہو گیا ہے؟ لیکن جب فطرت کو پڑھا کہ جبلت کے بغیر سفر ممکن ہی نہیں ہے۔ مخالفت کے بغیر ارتقا طرف بڑھنے کا آپشن ہی نہیں بنتا۔ جب انسانی حقوق کے علمبردار سماج جنہوں نے سماجی علوم میں انسانی حقوق پر مبنی کتنی ہی نظریے دیے وہ بھی سرحدوں کو مسمار نہیں کر سکے نہ ہی دوسری محکوم اقوام کو پناہ دینے کے لیے اپنی سرحدیں کھول سکے تو پھر یہ انسانی ہمدردی والے لبادے میں انسانی حقوق پر قابض پناہ گیروں کو سندھ اور فلسطین جیسے خطوں طرف بھیجنی کی سفارش کیوں کی جا رہی ہے۔
بیشک انسانیت اول ہے اور رہے گی، سندھ تو انسانی چمک دمک کی پوری تاریخ رہی ہے۔
ابھی تک بھی فلسطین اور اسرائیل کا مسئلہ گرم ہے ہر لمحہ کتنی ہی لاشوں کو کھا کر آگے بڑھتا ہے، اقوام متحدہ اس پر جتنا چاہیے اتنی متحرک دیکھنے میں نہیں آ رہی۔ بیت المقدس فلسطین کا بنیادی حق ہے اس کو ملنا چاہیے جس پر صرف ایران، لبنان، شام، روس کس حد تک ترکی کا منفرد رویہ رہا ہے اور کچھ ملک ہوں گے باقیوں کا نہیں۔
آخرکار اس جنگ کو ختم کر کے خطے میں امن قائم کرنے کے لیے عالمی ادارے کیوں ناکام ہو رہے ہیں؟ جنگیں افراد نہیں بلکہ نسلیں تباہ کرتی ہیں، ہر چند لمحوں میں ہزاروں زندگیاں تباہ ہو رہی ہیں لیکن دنیا خاموش کیوں؟
ہاں! اس لیے کہ آج کل جنگیں دنیا میں اک انڈسٹری کی حیثیت رکھتی ہیں، جنگی حالات میں ہتھیاروں کی خرید و فروخت سے لے کر بہت سارا دھندا ہوتا ہے اس لیے آج کا عالمی سرمایہ دار جنگ بندی کے حق میں نہیں۔ اس لیے ساری مشرق وسطی کو جنگ کا میدان بنایا ہوا ہے جہاں ہر دن لاکھوں انسان مرتے ہیں اور ہتھیاروں کا بزنس ہوتا ہے اس لیے جنگ بندی عالمی معیشت کو بڑا دھچکا دے گی۔ پیسے کی طرف نکلا انسان دنیا میں امن کبھی بھی قائم نہیں کر سکتا، اس لیے برسوں سے جنگ کی پہلی صنف سے اس جدید صنف تک دنیا میں عالمی امن اک سوالیہ نشان رہا ہے۔
پھر بھی اقوام متحدہ اور دیگر عالم انسان کے قائل ممالک کو اپیل کرتے ہیں کہ دنیا میں اب برداشت نہیں اس لیے عالمی امن کے لیے سوچیں۔
اس بیٹوں، بیٹیوں اور دیگر انسانوں کی جنگ میں برسوں سے ماؤں کے نینوں سے نمکین آنسو کب رکیں گے اور بہنوں کے لبوں سے دستبردار مسکراہٹیں کب لوٹ آئیں گی۔ کب لوٹ آئیں گی۔


