فائر الارم، محکمۂ سراغ رسانی اور کلچر شاک
کون جانے کہ جب آتی ہے ہنسی ہونٹوں پر
درد کم ہوتا ہے یا درد سوا ہوتا ہے
مجھے ہندوستان سے امریکہ آئے چند مہینے ہوئے تھے۔ ہر چیز حسین نظر آتی تھی: سڑکیں، گلیاں اور بازار کشادہ اور صاف۔ بسیں اور ٹرینیں بھیڑ بھاڑ شور شرابے سے پاک۔ دکانیں لبھاونی و من بھاونی۔ آسمان نیلا شفاف۔ سورج روشن چمکدار۔ دھوپ دھلی نہائی خوشگوار۔ راتیں خاموش، پرسکون و پر اسرار۔ پیڑ ہرے من بھرے راجا جی کے باغ میں دو شالہ اوڑھے کھڑے۔ چڑیاں چلبلی، الھڑ و بے باک۔ گھاسیں اور پودے جیون کے رس سے بھرے۔ پھول رنگ برنگے، شوخ، چمکیلے۔ کانٹے سیدھے، سڈول نکیلے۔ میرے وجود پر عجیب لطف انگیز بے خودی طاری رہتی تھی۔ ہر چیز پر ٹوٹ کر پیار آتا تھا۔
چاندنی راتوں میں اک اک پھول کو
بے خودی کہتی تھی سجدہ کیجئے
ایسی ہی ایک سرشار شام کا واقعہ ہے۔ وہ تھینکس گیونگ کی چھٹی والی شام تھی۔ چھٹی نے دل پر ہمہ وقت طاری رہنے والی بے خودی کو دو بالا کر دیا تھا۔ ایک دوست کے ساتھ ریسٹورنٹ میں پانچ بجے ڈنر کیا۔ یہاں لوگ رات کا کھانا جلدی کھاتے ہیں۔ کھانا لذیذ تھا۔ ویسے بھی چھٹی یا ویک اینڈ والی شام کا کھانا عموماً لذیذ ہوتا ہے۔ اب مارکیٹ کی سیر شروع ہوئی۔ یہاں کی مارکیٹ میں قدم رکھنا گویا دلدل میں قدم رکھنا ہے۔ دکانوں کے شفاف شیشوں کے پیچھے سے اشیا باہیں نکال کر پکارتی ہیں۔ دامن دل کھینچتی ہیں۔ جیبوں میں پڑے پیسے ہمک ہمک کر ان کی طرف لپکتے ہیں۔ پر بازار بازی کے لئے میرے پاس پیسے کہاں تھے۔ کفایت شعاری سے کام لینا پڑا۔ بس ونڈو شاپنگ کرتا رہا، یہاں تک کہ اندھیرا چھا گیا۔
بیوی بیٹیاں ہندوستان میں تھیں۔ اپارٹمنٹ پہنچنے کی جلدی تھی نہ مجبوری۔ تجھے دیکھا تو یہ جانا صنم پیار ہوتا ہے دیوانہ صنم، آ جا صنم مدھر چاندنی میں ہم تم ملیں تو ویرا نے میں آ جائے گی بہار جھو منے لگے گا آسماں، جیسے رومانٹک گیت گنگنا تا دیر میں اپارٹمنٹ پہنچا۔ خلاف معمول اپارٹمنٹ کے زینے پر اندھیرا تھا۔ سوئچ تلاشنے کے لئے زینے کے پاس دیوار ٹٹولنے لگا۔ جس شے پر ہاتھ پڑا وہ عام سوئچ جیسی تو نہیں لگی۔ سوچا امریکہ میں زینے کے پاس والی دیوار کی سوئچیں ایسی ہی ہوتی ہوں گی۔
لیکن اسے چھوتے ہی ایک حشر برپا ہو گیا۔ گویا حضرت اسرافیل نے صور قیا مت پھونک دیا ہو۔ دراصل وہ ایک فائر الارم کا سوئچ تھا اور میری انگلی نے اس کی دکھتی رگ کو چھو لیا تھا۔ اس کی چیخ پکار اور ہائے توبہ سے بری طرح ہڑبڑا گیا۔ عالم وحشت میں دیوار کو اس سرے سے اس سرے تک ٹٹول ڈالا کہ اسے بند کرنے والا سوئچ یہیں کہیں ہو گا۔ کچھ ہاتھ نہ لگا تو عمارت سے باہر نکل آیا۔ با ہر دروازے کے پاس ایک سوئچ بورڈ میں کئی بٹن جڑے تھے۔
ایک سرخ بٹن الارم کی ”ہو ں ں! ہو ں ں! “ کی لے پر جل بجھ رہا تھا۔ بسم اللہ کہہ کر انگشت شہادت اس پر رکھی۔ کوئی افاقہ نہ ہوا۔ درد بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔ لگتا تھا یہ شور کبھی نہیں تھمے گا۔ معمولی شور نہیں تھا یہ۔ ابلیس کو راندۂ درگاہ کیا گیا تھا تو وہ اسی طرح چیخا، چلایا اور تنتنایا تھا۔ ایسا شور کہ اچھا بھلا صحتمند آ دمی اختلاج قلب میں مبتلا ہو جائے۔ لوگ عمارت سے نکلنے لگے۔ دیکھتے ہی دیکھتے تیس چالیس لوگ عمارت کے باہر والی کھلی جگہ میں جمع ہو گئے۔
چار مہینوں میں پہلی بار احساس ہوا کہ عمارت میں میرے علا وہ بھی لوگ تھے۔ ان سے نہ کبھی سامنا ہوتا تھا نہ سلام دعا۔ خدا جانے انھوں نے کیوں گوشہ نشینی کی زندگی اختیار کر رکھی تھی۔ ہندوستان میں تو ایسا نہیں ہوتا۔ وہاں تو گوشہ نشینی کی زندگی صوفی سنت اور حق کے متلاشی گزارتے ہیں کہ راہ حق پر چلنے والوں کے لیے دنیا سے بے نیازی و بے رغبتی لازمی شرط ہے۔ البتہ گوشہ نشینوں کا ایک اور طبقہ وہاں ہے جو کم حیثیت چوروں بدمعاشوں، ٹٹ پونجیے قرض داروں اور جعل سازوں وغیرہ پر مشتمل ہے۔
یہ حضرات اپنے کاروبار میں ترقی پانے یا کروڑ پتی قرض دار کا مقام حاصل کرنے تک، یعنی بقول مرزا غالبؔ ’تری زلف کے سر ہونے تک‘ ، پولیس اور قانون کی نظروں سے محفوظ رہنے کے لئے یہ طرز زندگی مجبوراً اختیار کرتے ہیں۔ قانون کے محافظوں کے یخ بستہ ہاتھ بھلا وہ کب تک گرم رکھ سکتے ہیں۔ اسے ’گوشہ نشینیٔ مصلحت آمیز‘ کہہ سکتے ہیں۔ البتہ انہی کے ہم پیشہ و ہم مشرب و ہمراز، لیکن ان سے بلند حیثیتوں کی حامل ہستیوں کی بات جدا ہے۔
انھیں گوشہ نشینی کی کیا ضرورت۔ کس کی مجال ہے کہ ان پر ہاتھ ڈالے۔ کیا معلوم ان میں کون حضرت ایم ایل اے، ایم پی، منسٹر یا کسی صوبے کے وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز ہوجائیں اور اپنے سابقہ ہم مشربوں کے لیے مشعل راہ اور عوام میں ہر دلعزیز ہوجائیں۔ کبھی کبھی پیار کی شادی کرنے والوں کو بھی گوشہ نشینی اختیار کرنی پڑتی ہے۔ خاص طور سے اگر انھوں نے شادی اپنی ذات یا مذہب کے باہر کی ہو۔ ایسے باغی جوڑے پولیس کے علاوہ خاندان، رشتے داروں اور معاشرے کے شریف و معزز حضرات کی نظروں سے بچنے کے لئے یہ طرز زندگی اختیار کرتے ہیں۔ تو ہمارے یہاں گوشہ نشینی یا تو خدا رسیدہ حضرات کا شغل ہے یا بدمعاشوں اور بدکاروں کی مجبوری۔
البتہ نیکی اور بھلائی گاجے باجے کے ساتھ کی جاتی ہے۔ اور یہ اچھی بات ہے۔ نیکی اور بھلائی پوشیدہ رہ جائے تو انسان کے دل میں کار خیر کرنے کا جذبہ ہی سرد ہو جائے گا۔ شہر، محلے بلکہ پورے معاشرے میں ہماری شرافت اور بھلمنساہٹ کے چرچے نہ ہوں تو نیک کام کرنے کا کیا فائدہ! نیکیاں کھلم کھلا کرنے کا ایک اور واضح فائدہ ہے۔ اس سے سماج اور آنے والی نسلوں کو زندگی گزارنے کے کچھ اہم رہنما اصول بھی ہاتھ لگ جاتے ہیں۔
اسی لیے میں اس نظریے کا قائل نہیں کہ نیکی کر اور دریا میں ڈال۔ غنیمت ہے ہمارے یہاں بیش تر شریف النفس حضرات اس دقیانوسی مقولے میں یقین نہیں رکھتے۔ خفیف سے خفیف کاروبار خیر ڈنکے کی چوٹ پر کرتے ہیں۔ یہ بڑی ذمہ داری کا کام ہے اور یہ حضرات اپنی ذمہ داریاں سمجھ کر ہی نہیں سمجھا کر بھی نبھاتے ہیں۔ انھیں اپنی آنکھیں کھلی رکھنی پڑتی ہیں۔ پاس پڑوس کے حالات سے باخبر رہنا پڑتا ہے :کس گھر میں بغیر میٹر کے اے سی چلتے ہیں، کس شخص کو نوکری پانے کے لیے رشوت دینی پڑی، فلاں آدمی تنخواہ، رشوت اور دیگر اوپری آمدنی سے کتنا کما لیتا ہے، کون بیٹے کی شادی میں کتنا کیش اور کار مانگ رہا ہے، کن بھائیوں کے درمیان آپسی سر پھٹول ہونے کی نوبت آ گئی ہے، کس گھر میں بہو نے ساس اور نندوں سے بغاوت کردی ہے، کس کی بہن بیٹی یا بہو کا کس سے افیئر چل رہا ہے اور کس قدر ’سنجیدہ‘ نوعیت کا ہے، اور کون نوجوان لڑکا لڑکی ابھی تک عشق کے مقام آنکھ مٹکا پر اٹکے پڑے ہیں۔
گناہوں میں ملوث ان بدنصیب بہو بیٹیوں کی حرکتیں کہیں وبا کی صورت نہ اختیار کر لیں اور دوسری شریف بہو بیٹیاں بھی چپیٹ میں آجائیں۔ ان سب باتوں کو لے کر یہ حضرات فکرمند رہتے ہیں۔ یہ نیک خصلت خیر خواہان محلہ و معاشرہ اپنے پڑوس کے دیگر غیر مضر معاملات پر بھی پینی نظر رکھتے ہیں : کس کے یہاں دولت الغاروں ہے اور فراغت و فارغ البالی ہے اور کس کے یہاں فاقہ مستی و تنگ حالی ہے، مہمان گھر آئے تو کون کپ، کیتلی، برتن اور بستر پڑوسی سے مانگنا ہے، کس گھر میں کیا پکتا ہے۔ مسلمان محلوں کے بھلے مانسوں کے پاس یہ ایکسٹرا انفارمیشن بھی رہتی ہے کہ کس گھر میں اکثر قورمہ، بریانی، پلاؤ اور زردہ پکتا ہے اور کون سا محلے دار مہینوں محض دال، چٹنی اور سبزی زہرمار کرتا ہے۔
معذرت خواہ ہوں۔ اڑن قالین خیال کسی اور سمت لے اڑا۔ عرض یہ کر رہا تھا کہ الارم کی آواز سے تیس چالیس لوگ عمارت سے باہر نکل آئے۔ تب مجھے نہیں معلوم تھا کہ عمارت میں الارم بجے تو عمارت نشینوں کا باہر نکلنا لازمی ہے۔ میں تو یہی سمجھا کہ لوگ اس منحوس آواز کی وجہ سے بلبلا کر بلوں سے نکل پڑے ہیں۔ ایک بہت ہی عجیب و غریب بات بھی میرے مشاہدے میں آئی۔ وہ یہ کہ الارم کی آواز پر صرف ہماری عمارت کے لوگ باہر نکلے تھے۔ آس پاس کی عمارتوں کے مکینوں کے کانوں پر جوں بھی نہ رینگی۔ پڑوس سے کوئی یہ تفتیش کرنے نہیں آیا کہ آخر یہاں ہنگامہ ہے کیوں برپا؟ نہ ہی پیدل چلنے والوں نے رک کر یا کار والوں نے کار روک کر کچھ دریافت کرنے کی کوشش کی۔ سب سے زیادہ حیرانی اس پر ہوئی کہ خود ہماری عمارت کے لوگ جو وہاں اکٹھا ہو گئے تھے، انھوں نے الارم بج اٹھنے کی وجہ جاننے میں کوئی دلچسپی نہیں ظاہر کی۔ کسی نے یہ پتہ لگانے کی کوشش نہیں کی کہ آخر یہ حرکت کس بد معاش نے کی ہے۔
اس قدر اہم بات جاننے کی ان کے اندر کوئی کیوراسٹی نہیں تھی۔ کیا ان کا تجسس بالکل مر گیا تھا؟ یا وہ اپنی سوجھ بوجھ کے سبب غیر ضروری سوال اور فالتو پچڑے میں پڑنے سے کترا رہے تھے؟ یا اپنے گرد و پیش کے معاملات کے تئیں یہ ان کی شدید بے حسی تھی؟ خدا ہی بہتر جانتا ہے۔ بہرحال اپنا حال دگرگوں تھا۔ حالانکہ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ یہ حرکت مجھ سے سرزد ہوئی تھی، لیکن احساس گناہ، ندامت اور خوف کے بوجھ سے گردن بار بار یوں جھکتی کہ ٹھوڑی سینے سے رگڑا کھا جاتی اور پھر ٹھوڑی اور سینہ دونوں پر پرانے لگتے۔ اس پر ایک شعر یاد آ گیا:
دل کے آئینے میں ہے تصویر یار
اک ذرا گردن جھکائی دیکھ لی
خیر، میری ذہنی کیفیت کا اس شعر سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ میری حالت قابل رحم تھی۔ مگر کسی نے میرا نوٹس نہ لیا۔ نوٹس لینا تو درکنار، کوئی جھوٹے منہ بڑبڑایا بھی نہیں کہ ”کمینے، بدمعاش کہیں کے! جانے کہاں سے چلے آتے ہیں ہماری زندگیاں حرام کرنے! حرامزادے! “
تبھی کسی نے فائر سروس آفس کو فون لگا دیا۔ اندازہ نہیں تھا کہ بات اتنی آگے بڑھ جائے گی۔ امید تھی کہ کوئی بندہ الارم بند کردے گا۔ اور معاملہ یہیں رفع دفع ہو جائے گا۔ کوئی الارم بند کرنا جانتا نہیں تھا، یہ بات مجھے معلوم نہ تھی۔ میں تو یہی سمجھا کہ جرم کی رپورٹ درج کرا دی گئی ہے۔ فائر سروس والے یقیناً پولیس کو بھی ساتھ لائیں گے۔ بری طرح بوکھلا گیا۔ وسوسوں کے بھنور میں ڈبکیاں کھانے لگا۔ دم اکھڑنے لگا۔ تفتیش ہوگی۔ وہ مجرم کا پتہ لگا ہی لیں گے۔ گرفتار کر لیا جاؤں گا۔ یا میری اوقات سے بڑھ کر جرمانہ عائد کر دیں گے جو میرے حق میں گرفتاری کے مقابلے کہیں زیادہ برا ہو گا۔ یہ سب نہیں تو وہاں موجود لوگوں کو ہنسانے کی خاطر مجھے ذلیل تو کریں گے ہی۔ ’ابے احمق! گنوار! کس ملک سے آیا ہے؟ ہندوستان جنت مقام سے؟! وہاں سے یہ نازیبا حرکتیں کرنے آیا ہے؟ وہاں کبھی فائر الارم سے واسطہ نہیں پڑا تھا کیا؟ آنے سے پہلے تحقیق کر لیتا کہ یہاں عمارتوں میں فائر الارم نام کی ایک چڑیا ہوتی ہے جو وقت پڑے پر ، مطلب یہ کہ آگ لگنے پر یا یہ دیکھ کر کہ یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے، چہچہاتی بھی ہے۔
محض دیواروں کی زینت بڑھانے کے لئے نہیں ہوتی۔ کیا کہا، یونیورسٹی میں پروفیسر ہو! ؟ ہا ہا ہا! یو سی برکلی میں ایسا پروفیسر نہ دیکھا نہ سنا۔ خدا محفوظ رکھے یونیورسٹی کو ۔ اچھا تو جناب پروفیسر صاحب، بالکل سچ سچ بتائیے گا کہ کیا واقعی آپ کو عام سوئچ اور فائر الارم کی سوئچ میں فرق نہیں معلوم تھا یا شرارتاً یہ حرکت کی ہے؟‘ بس اسی نوعیت کے وسوسوں نے من پر دھاوا بول دیا۔
میرے ہی من کا مجھ پر دھاوا
دل نے دل کو سمجھایا کہ کسی نے مجھے الارم بجاتے دیکھا تو ہے نہیں۔ انھیں سچ بتا نے کی ضرورت کیا ہے۔ پھر خود دل نے ہی دل کو جواب دیا کہ نہیں، یہ نہیں چلے گا۔ سچائی تو معلوم ہو کر رہے گی۔ دراصل امریکہ پہنچتے ہی انگریزی بہتر کرنے کی لالچ میں کئی سنسنی خیز ہا لی ووڈ فلمیں اور جرائم پر مبنی ٹی وی شوز دیکھ ڈالے تھے۔ انگریزی کتنی بہتر ہوئی وہ تو معلوم، البتہ دل پر یہ بات ضرور نقش ہو گئی کہ امریکہ کا محکمۂ سراغ رسانی بہت لائق فائق اور چوکس ادارہ ہے۔
چٹکیاں بجاتے میں سب کچھ پتہ لگا لیتا ہے۔ ہر پولیس افسر کے چہروں میں مجھے کرنل فریدی اور عمران کی صورتیں نظر آتی تھیں۔ یہ وہم بھی دل میں بیٹھ گیا تھا کہ اگر کسی فرد کے نام میں ”احمد“ ، ”محمد“ یا ”حسین“ کا دم چھلا لگا ہو، تب تو اس شخص کی کوئی بھی حرکت محکمہ کی نظر سے پوشیدہ نہیں رہتی ہے : ہفتے بھر کا رو ٹین کیا ہے؟ کب سوتا ہے؟ کب جاگتا ہے؟ کس طرح کے لوگوں سے ملتا جلتا ہے؟ خود پکاتا ہے یا ریسٹورنٹ میں کھاتا ہے؟
کیا کھاتا ہے؟ صرف حلال گوشت کے لئے بولایا پھرتا ہے یا بغیر دریافت کیے کوئی بھی گوشت کھا لیتا ہے؟ کیا پیتا بھی ہے؟ دن میں کتنی بار کھا نستا ہے؟ کیسی اور کتنی بار فلمیں دیکھتا ہے؟ کس قدر مسکراتا ہے؟ کتنی آہیں بھرتا ہے؟ ہر روز نہاتا ہے یا جمعہ جمعہ آٹھ دن پر ؟ غرض، محکمۂ سراغ رسانی کی دھاک دل پر ایسی بیٹھی تھی کہ یقین تھا کہ ہماری سوچوں، تمناؤں، آرزوؤں اور ہمارے لطیف ترین احساسات اور حد درجہ فحش جذبات، بلکہ ہمارے خوابوں تک کا رکارڈ اس محکمہ کے پاس موجود ہو گا۔
محکمۂ سراغ رسانی کی لامحدود صلاحیتوں کا احساس میرے دل میں کتنا شدید تھا اس کا اندازہ آپ کو اس واقعے سے ہو گا۔ ہوتا یہ تھا کہ امریکی طالب علموں کو ہفتہ بھر ٹوٹی پھوٹی انگریزی کے ذریعے اردو زبان سکھانے کے بعد نواح جاں میں، احساس ندامت، تھکن اور افسردگی کا غبار چھا جاتا۔ میرے وجود کا ذرہ ذرہ ایک اندھے کنویں میں گرتا محسوس ہوتا۔ تو اپنے وجود میں ایک توازن برقرار رکھنے کے لئے وقتاً فوقتاً تزکیۂ نفس ضروری تھا۔
اس غرض سے کبھی کبھی یونہی اردو میں گالیاں بکنے لگتا۔ ان گالیوں کا ہدف کوئی انسان نہ ہوتا تھا۔ بالکل بے ضرر گالیاں ہوتی تھیں۔ نفرت، بغض اور انتقامی جذبے سے عاری۔ بلکہ گالیوں کا روئے سخن جن کی جانب ہوتا ان کے لئے دل میں پیار کا جذبہ امنڈتا تھا۔ بالکل اسی طرح جیسے ہما شما اپنے لنگوٹیے یاروں کو گالیاں دیتے ہیں اور پیار بھی کرتے ہیں۔ اشارہ کرچکا ہوں کہ یہ مشق دشنام محض تطہیر قلب اور تزکیۂ نفس کی خاطر تھی۔
لہٰذا ان کا روئے سخن زیادہ تر موجودات نگارخانۂ فطرت کی جانب ہوتا تھا: ہوا بارش آسمان چاند سورج ستارے سمندر پھول پیڑ پودے چڑیاں۔ وغیرہ۔ کچھ انسانی مصنوعات کی طرف بھی۔ مثلاً بسیں کاریں، ٹیکسیاں گلیاں، پارک چوبارے۔ اور کبھی کبھی تو اپنی ہی ذات مشق دشنام بن جاتی۔ تب خود کو گالیاں دیتا اور خود ہی ان گالیوں کا جواب بھی دیتا۔
لیکن ہم نے جو بات کہنے کے لئے یہ گفتگو چھیڑی تھی وہ یہ ہے کہ کئی بار یہ ہوا کہ گالیاں بکتے بکتے اچانک چونک کر چپ ہو گیا۔ دائیں بائیں آگے پیچھے دیکھنے لگا کہ کہیں کوئی خفیہ کیمرہ اس حرکت کی فلم نہ بنا رہا ہو۔ خدا ناخواستہ یہ حرکت کرتے ہوئے کسی کے ہتھے چڑھ گیا تو اپنی بے گناہی کے ثبوت میں کوئی صفائی کام نہ آئے گی۔ کوئی بھلا کیوں یقین کرنے لگا کہ ان گالیوں کا مقصد تزکیۂ نفس تھا اور گالیاں نفرت، غصے اور بغض سے نہیں پیار سے بکی گئی تھیں۔ بہر حال گالیوں کے درمیان چونک کر ادھر ادھر دیکھنا ایک اضطراری فعل تھا جو میرے لاشعور میں جاگزیں اس خوف کی غمازی کر رہا تھا جس کا ذکر اوپر کرچکا ہوں۔ اسی لئے فائر الارم کو لے کر جھوٹ بولنے کی جرات مجھ میں نہیں تھی۔ تو طے کر لیا کہ تفتیش کے دوران سچ بولوں گا۔ انجام کچھ بھی ہو۔ آخرکار سچائی سامنے آنی ہی ہے۔ آج نہیں تو آٹھ دس سال بعد سہی۔ جھوٹ کا پردہ فاش ہونے پر جو ذلت و رسوائی ہوگی اس کا میں تصور نہیں کرنا چاہتا تھا۔
خیر، دس منٹ میں فائر سروس کی سرخ ٹرک چیختی چنگھاڑتی آ پہنچی۔ دور ہی سے اس کی آواز سے دل بیٹھنے لگا تھا۔ ٹرک ہماری عمارت کے پاس آ کر رکی۔ مجھے ہوش نہیں تھا کہ اسی دنیا میں ہوں یا عالم ارواح میں۔ دو ہٹے کٹے حضرات مثل حضرت منکر نکیر سرخ ٹرک سے نمودار ہوئے۔ حساب لینے آئے ہوں گے۔ دل نے دل سے سرگوشی کی۔ حواس کہاں مجتمع تھے کہ سوچتا کہ منکر نکیر بھلا ٹرک میں بیٹھ کر شور مچاتے ہوئے کیوں آئیں گے، اور نہ ہی فرشتے شادی بیاہ رچاتے ہیں کہ بینڈ باجا اور براتیوں کے جلو میں دلہن بیاہنے جائیں اور پورا شہر سر پر اٹھا لیں۔
یہ بھی ہوش میں آنے کے بعد احساس ہوا کہ ان کے ہاتھ میں جس دہشت ناک چیز کو میں گرز سمجھا تھا وہ دراصل فلیش لائیٹیں تھیں۔ یہ حضرات عمارت کے ایک حصے میں گئے۔ ایک سوئچ بورڈ کے کان میں کچھ پھسپھسائے اور یکلخت سناٹا چھا گیا۔ جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آ جائے، جیسے کہہ دی ہو کسی نے پیار کی بات۔ سوئچ بورڈ نے بھی یقیناً کچھ کہا تھا۔ کیونکہ فوراً دونوں نے جائے واردات کی جانب رخ فرمایا۔ یعنی زینے کے اس حصے کی طرف جہاں فائر الارم واقع تھا۔
دندناتے ہوئے زینے پر چڑھے۔ الارم سوئچ اور ان کے درمیان کچھ راز و نیاز کی باتیں ہوئیں۔ اس دوران ایک ایک لمحہ میری جان پر عذاب بنا ہوا تھا۔ دل دھڑ دھڑ دھڑک رہا تھا۔ سانسوں کی ڈوری سینے میں الجھ رہی تھی۔ وہاں سے فارغ ہوتے ہی وہ اس خطاکار کی جانب توجہ مبذول فرمائیں گے۔ پل پل دل یہی کہے جا رہا تھا کہ وہ اب چل چکے ہیں وہ اب آرہے ہیں۔ اعتراف جرم کے لیے میں ذہنی طور پر تیار ہو چکا تھا۔
لیکن۔ ارے۔ یہ کیا؟! منکر نکیر صاحب مسکراتے ہوئے کھٹ پٹ کھٹ پٹ زینے سے اترے۔ لوگوں کو تھینکس گیونگ کی مبارک باد دی اور سرخ ٹرک کی طرف بڑھے۔ چشم زدن میں ٹرک یہ جا وہ جا۔ نظروں سے اوجھل۔ یہ سب اتنی تیزی سے ہوا کہ میرا دماغ پروسس نہیں کر پا یا کہ آخر ماجرا کیا تھا۔ باقی لوگ عمارت میں واپس جا چکے تھے۔ میں عالم حیرت میں دیر تک وہیں کھڑا رہا۔ یہ کوئی خوفناک خواب تھا یا حقیقت؟ اتنا ہنگامہ! اتنا شور کہ الامان الحفیظ!
اور نتیجہ؟ ٹائیں ٹائیں فش۔ نہ کسی کو پکڑا گیا نہ دھکڑا گیا، نہ ڈانٹا گیا نہ ڈپٹا گیا، نہ مارا گیا نہ پیٹا گیا۔ نہ کوئی ذلیل و رسوا ہوا۔ نہایت حیرتناک! نا قابل فہم! خوشگوار اینٹی کلائمیکس! امریکہ میں کچھ اور عرصہ گزارنے کے بعد معلوم ہوا کہ اس قسم کے اینٹی کلائمیکس یہاں ہوتے رہتے ہیں۔ افسوس ہوا۔ یہ بات معلوم ہوتی تو ایسی تکلیف، ایسا عذاب کیوں جھیلتا۔ جی چاہا کہ لپک کر پھر الارم بجا دوں۔ اور اس بار صرف انجوائے کروں۔


