پاکستانی سماج میں محنت کشوں کا المیہ
محنت کش، جنہیں کارل مارکس سرمایہ اور قدرِ زائد کا اصل خالق اور صنعتی سماج میں ”ریڑھ کی ہڈی“ قرار دیتا ہے۔ آج اکیسویں صدی کے پاکستان میں بھی ویسی ہی زندگی گزار رہے ہیں جیسی وہ کبھی اٹھارہویں اور انیسویں صدی کے یورپ اور امریکہ میں جیا کرتے تھے۔ البتہ، یورپ اور امریکہ نے تو ”سرخ انقلاب“ کے ڈر سے اور ”طبقاتی تصادم“ کی ناگزیریت کو ٹالنے کے لئے محنت کشوں اور مزدوروں کے حالات بہت حد تک سدھارے ہیں، لیکن پاکستان اور بشمول تمام تیسری دنیا کے ممالک میں محنت کش مسلسل سرمایہ داروں کی بربریت اور استحصال کا شکار ہیں۔ ایسے میں پاکستانی سیاسی سماج کا یہ المیہ ہے کہ سیاسی جماعتوں میں محنت کشوں کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے اور ہر جگہ سرمایہ دار، جاگیردار اور صنعت کار طبقے سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں کا قبضہ ہے جو عوام دوستی کا ڈھونگ رچاتے مگر ملکی اشرافیہ کے ساجھے دار ہیں۔ پارلیمان ہو یا بیوروکریسی ہر جگہ اسی اشرافیہ کی مضبوط گرفت ہے۔
سیاسی جماعتوں کے سامنے جب انتخابات آتے جاتے ہیں تو محنت کشوں اور مزدوروں کی بھلائی و فلاح کے لئے اپنے ”انتخابی منشوروں“ میں دو چار سطریں بھی لکھی جاتیں ہیں اور جلسے جلوسوں میں ”روٹی، کپڑا اور مکان“ جیسے متاثر کن نعرے بھی لگوائے جاتے ہیں لیکن جیسے ہی انتخابات کی گھڑی ختم ہوتی ہے، غریبوں کو واپس ان کی غریبی میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ تجزیہ کاروں اور سیاسی مبصروں کی جانب سے سیاست پر خوب تجزیے کیے جاتے ہیں، کالم لکھتے جاتے ہیں لیکن ان سب کی فکری دیوالیہ پن کا یہ عالم ہے کہ ”عوامی مسائل“ سے انہیں کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ دانشوروں کی بھی کچھ ایسی ہی حالت ہے کہ انہیں فکری الجھنوں اور ادبی موشگافیوں سے فرصت نہیں اور زندہ مسائل میں انھیں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ کارل مارکس ان ہی عوام دشمن دانشوروں کے بارے میں کہتا ہے :
”مجھے نام نہاد علمی لوگوں کی عقل پر ہنسی آتی ہے، اگر کوئی شخص انسان کے بجائے بیل بن جائے تو وہ بے شک انسانیت کے دکھوں پر اپنی پیٹھ موڑ کر صرف اپنی کھال بچانے کی فکر کر سکتا ہے۔ ”(حوالہ:فلسفہ کیا ہے؟ گلینا کریلینکو، لیدیا کورشونووا۔ ترجمہ: ڈاکٹر ظفر عارف)
بہرحال، جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے کہ محنت کشوں کا بنیادی المیہ، سماج میں ان کی نمائندگی کا فقدان ہے۔ یوں تو ہر سیاسی جماعت میں ”لیبر ونگ“ موجود ہوتے ہیں اور محنت کشوں کی فلاح و بہبود کے لئے ”متحرک“ دکھائی دیتے ہیں لیکن ان ہی ونگوں کا وجود محنت کشوں کے استحصال کے خاتمے کے لئے بہت بڑی رکاوٹ ہے کیونکہ محنت کش اپنی طاقت اور حیثیت کو سیاسی جماعتوں کی لیبر ونگ کے ”استحصالی رویوں“ میں ضم کر کے اپنی ”شناخت“ کو مسخ کر دیتے ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ ان سیاسی جماعتوں کے ذریعے پارلیمان میں عوام دوست افراد منتخب ہونے کے بجائے ”موروثی سیاست“ کے شاخسانے یعنی جاگیردار، سرمایہ دار یا ان کی اولادوں کی اکثریت بھر جاتی ہے۔ اور ظاہر سی بات ہے کہ ان مشرف زادوں ’زادیوں سے عوام دوستی اور سرمایہ دارانہ و جاگیردارانہ استحصال کا خاتمہ تو متصور نہیں کیا جاسکتا ہے۔ مزید براں، صرف سرمایہ دار یا جاگیردار ہی نہیں بلکہ محنت کشوں کے استحصال میں ”پیروں اور ملاؤں“ کا بھی خوب ہاتھ ہے کہ جو استحصال کردہ، ظالم اور جابر حکمرانوں کو مذہب کی ڈھال میں بچاتے اور مذہبی اقدار کو بیچنے جیسے گھناؤنے جرم میں مصروف رہتے ہیں۔ یہی ملا اور پیر ہیں جن کی بدولت جاگیرداروں اور وڈیروں کو کسانوں اور ہاریوں پر گویا ”خدا کی طرف سے عطا کردہ حق حکمرانی“ مل جاتا ہے اور یہ ظالم و جابر زمین پر خدا کے عدل و انصاف کے ”رکھوالے اور نائب“ ٹھہرتے ہیں اور ان کے خلاف بغاوت کو خروج اور کفر سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
ریاستی نمائندے اور وہ ڈھونگی دانشور جو ”معاہدہ عمرانی“ جیسے آفاقی ضابطوں کی بحثیں کرتے ہیں اور یہ یقین دلاتے ہیں کہ پاکستان میں کوئی ”آئین یا قانون“ موجود ہے، اس وقت ”خاموش تماشائی“ بنے رہتے ہیں جب ان کے سامنے سرمایہ داریت اور جاگیرداری کی ہولناکی اور تباہ کاری محنت کش اور مزدور کی کمر توڑ کر رکھ دیتی ہے۔ اس سب کے بعد باری ان سب کھوکھلے نعروں کی بھی آتی ہے جو ریاست اور حکمرانوں کی طرف سے تعلیم اور صحت کی فراہمی پر لگائے جاتے ہیں، بلند و بانگ دعوے کیے جاتے ہیں، اسکیمیں تیار کی جاتی ہیں لیکن ان سب موشگافیوں کی کوئی حیثیت نہیں، عوام ان نعروں کے فریب کی عادی ہو چکی ہے اور وہ محض ان دعوؤں کو ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتی ہے۔ عوام اب کسی پر اعتماد نہیں کرتی، چاہے وہ عمران خان ہو، نواز شریف ہو یا آصف زرداری ہو، وہ جانتے ہیں کہ یہ سب ہمارے گوشت چیر کر اپنے نوالے بنانے والے اور ہمارا خون نچوڑ کر اپنے جام بھرنے والے ہیں۔ محنت کش جانتا ہے کہ کوئی بھی چہرہ ہو یہ ناگزیر ہے کہ وہ میرا استحصال کرے کیونکہ یہی اس کی بقاء کے لیے لازم ہے۔
علاوہ ازیں، جمہوریت کے فرزندوں کی جانب سے بھی شور و غل اب عام سی بات ہے، ان کی جانب سے جمہوریت کی بحالی کے لئے پھر وہی انداز اپنایا جاتا ہے یعنی بلند و بانگ دعوے، ولولہ انگیز نعرے اور خیالی جنت کے قیام کی نوید لیکن یہ فکری دیوالیہ اس سوال کا جواب دینے سے کتراتے ہیں کہ کیا تمہاری خیالی جنت محنت کشوں، مزدوروں اور عوام کے مسائل کا حل کرسکے گی، سرمایہ داریت و جاگیرداری کے استحصال کا خاتمہ کرسکے گی، غریبوں کی غربت ختم ہوگی، سماج میں معاشی عدم مساوات کا خاتمہ ہو گا اور کیا محنت کش کو یہ یقین حاصل ہو گا کہ اس کا استحصال نہیں کیا جا رہا ہے؟ جب یہ سوالات ان کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں تو وہ اپنی پریشانی سے چکرائے جاتے ہیں کیونکہ ان کی خیالی جنت بھی دراصل اشرافیہ کی ہی فردوس گم گشتہ ہے جس میں وہی استحصال روا رہے گا جس کا آج بھی ہمیں سامنا ہے۔
البتہ، بات اگر سوشلزم کے قیام کی جائے، ایک ایسے معاشرے کے حوالے سے کی جائے جہاں ذرائع پیداوار پر کسی کی ذاتی ملکیت نہ ہو بلکہ تمام مجموعی سماج اس سے فائدہ اٹھائے، تعلیم اور صحت کی سہولیات مفت فراہم کی جائیں اور محنت کش ’مزدور کو یہ یقین ہو کہ ریاست میری بھلائی کے لئے قائم ہے نہ کہ مجھے لوٹنے والوں کی حفاظت کے لئے تو پھر ایسے ہی سماج کا قیام ناگزیر اور لازم ہے۔
محنت کش کا دوسرا بڑا المیہ سماج میں اپنے اسی انقلابی کردار کو بھول جانا ہے، گویا اپنے ہاتھ سے پرولتاری جنت کو آگ لگانا ہے اور اپنے اوپر استحصال کو رواں رکھنا ہے۔ تمام محنت کشوں کو اسی خواب کی تکمیل کے لئے جدوجہد کرنی ہے اور اسی کے لئے اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر معاشرے میں اپنی شناخت اور حیثیت بنانی اور مضبوط کرنی ہے۔ مضمون کا اختتام میں کارل مارکس اور فریڈرک اینگلز کے شہرہ آفاق ”دی کمیونسٹ مینی فیسٹو“ کے اس تاریخی اور اختتامی فقرے پر کر رہا ہوں : ”دنیا بھر کے محنت کشو ایک ہو جاؤ۔“


