ڈاکو راج اور 1947 سے جاری ہجرتوں کی رت
ٹھاہ، ٹھاہ۔ دو فائر کی آواز آئی۔
شہر کراچی کے حالات اتنے بگڑ چکے تھے کہ آئے روز فائرنگ کی آوازیں یا گولی چلنے کی آواز آنا ایک معمول کی بات ہو گئی تھی۔ ان دنوں میں اور میرا خاندان جس کٹھن حالات سے گزر رہا تھا اس کے پیش نظر ”فائر“ کی وہ آواز سن کر ہم سب نیند سے ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھے، صبح کے ساڑھے پانچ بج رہے تھے، میرا بیڈروم گھر کی پہلی منزل پر تھا، میں فوراً اپنے کمرے سے با ہر نکلا اور ٹیرس کی جانب دوڑ پڑا جہاں سے نیچے گھر کا صدر دروازہ نظر آتا تھا۔ وہاں میں نے دیکھا کہ میرے گھر کا سیکورٹی گارڈ جو رات کی ڈیوٹی پر مامور تھا فرش پر پڑا تڑپ رہا ہے اور دوسرا گارڈ جو ہماری طرح ہی فائر کی آواز سن کر سوتے میں سے اٹھا تھا ہذیانی انداز میں چیخ رہا تھا، مار گئے۔ ظالم گولی مار گئے!
میں یہ منظر دیکھ کر نچلی منزل کی جانب دوڑا اور سراسیمگی کی حالت میں صدر دروازے کا تالا کھولا، فرش پر پڑے گارڈ کی نبض کو ٹٹولہ، مجھے اندازہ ہو گیا کہ یہ بیچا رہ آخری سانسیں لے رہا ہے۔ اس کے چاروں طرف خون بھی بکھر گیا تھا۔ ستائیں، اٹھائیس سال کا کڑیل نوجوان ”علی بخش“ چند لمحوں میں شہید کا درجہ پا گیا، ٹھیک اسی وقت فجر کی اذان کی آواز فضا میں گونجنے لگی۔ اور پھر وہی ایمبولینس، پولیس تھانہ، ہسپتال پوسٹ مارٹم، کچہری وغیرہ وغیرہ۔ تھوڑی ہی دیر میں مختلف ٹیلی ویژن چینلوں پر اس سانحہ کی خبر پٹی کی شکل میں نشر ہونے لگی اور پھر کئی ٹیلی ویژن چینل کی او۔ بی وینز ہمارے گھر پر پہنچ گئیں۔
”علی بخش“ جیکب آباد کے ایک گاؤں ”گڑھی خیرو“ سے کراچی روزگار کی تلاش میں آیا تھا اور ہمارے گھر پر سیکیورٹی ایجنسی کی طرف سے سیکیورٹی گارڈ کے طور پر پچھلے ایک سال سے تعینات تھا۔ نہایت ہی خوش مزاج، کم گو، اپنی ڈیوٹی کا پکا۔
پچھلے دو سال میں یہ ہمارے گھر پر ڈاکوؤں کا پانچواں ”حملہ“ تھا۔ پہلی دو دفعہ تو ڈاکو ہمارے گھر کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے اور جو سمجھ میں آیا لوٹ کر فرار ہو گئے۔ اس کے بعد ہم نے سیکورٹی گارڈز رکھ لیے لیکن ڈاکوؤں نے پھر بھی ہمت نہ ہاری۔ اس دوران ڈاکوؤں نے مزید تین دفعہ گھر میں داخل ہونے کی کوشش کی، ایک دفعہ تو ہمارے سکیورٹی گارڈ کو شدید زخمی بھی کر گئے لیکن اس کی زندگی تھی ہم نے بروقت اس کو اسپتال پہنچا دیا اور وہ بچ گیا۔
اس واقعے کے دو ماہ بعد ہی ”علی بخش“ ڈاکوؤں کے حملے میں شہید ہو گیا۔ حیرت کی بات ہے کہ تین دفعہ ہماری ڈاکوؤں سے بالمشافہ مڈ بھیڑ ہوئی۔ پہلی دفعہ آنے والے چار ڈاکو اردو بولنے والے تھے۔ دوسری دفعہ آنے والے سرائیکی تھے۔ تیسری دفعہ آنے والے پٹھان تھے۔ چوتھی اور پانچویں دفعہ آنے والے چونکہ باہر سے ہی ہمارے سیکورٹی گارڈ کو فائرنگ کا نشانہ بنا کر فرار ہو گئے تھے اس لئے ان کی قومیتوں کا نہ پتہ چل سکا، لیکن یہ بات تو طے ہو گئی کہ پاکستان میں ڈاکو راج قائم کرنے میں تمام قومیتیں برابر کی حصہ دار ہیں۔
ویسے تو آپ کو پورے پاکستان کے شہروں میں اور قومی شاہراہوں پر ٹریفک پولیس کے جوانوں کی شکل میں پاکستان کی مختلف قومیتوں کے افراد نظر آئیں گے۔ جو عام طور پر تین چار جتھوں کی شکل میں کھڑے رہتے ہیں جن کا بنیادی کام ٹریفک کا درست انتظام و انصرام کرنا ہے۔ لیکن یہ جتھے گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو روک کر اپنی جیبیں بھرتے رہتے ہیں۔ یہ کھلی ڈاکا زنی ہے اور پاکستان کا بچہ بچہ اس سے واقف ہے لیکن کوئی اتھارٹی اس کا سدباب کرنے سے قاصر ہے۔
ہم اس علاقے میں پچھلے چالیس سال سے رہ رہے تھے۔ میں نے اسی علاقے میں پندرہ سال پہلے ایک پرانا گھر خریدا اور اس کو مسمار کروانے کے بعد خود ری ڈیزائن کیا اور بڑے چاؤ سے تعمیر کروایا تھا لیکن افسوس کہ ہمیں اس گھر کو خیر باد کہنا پڑا۔ شاید مسلسل ہجرت میرے وطن کے باسیوں کا اب مقدر بن چکی ہے۔ پاکستان آزاد ہوا تو ہجرت، بنگلا دیش بنا تو ہجرت، سندھ میں لسانی ہنگامے ہوئے تو اندرون سندھ سے کراچی کی طرف ہجرت، ماضی قریب میں بلوچستان سے خصوصاً غیر مقامیوں کی کوئٹہ سے ہجرت، کوئٹہ کے ہزارہ قبیلے کی پاکستان سے بیرون ممالک کی جانب ہجرت سرائیکی اور پشتونوں کی کراچی کی جانب ہجرتوں کا سلسلہ سالہا سال سے جاری ہے اور آج کل افغان مہاجروں کی پاکستان سے واپس اپنے ملک کی طرف جبری ہجرت۔
عدم تحفظ کا شکار ہو کر ہجرتیں کرنے کا یہ سلسلہ نہ جانے کب تھمے گے۔ اب ہم کراچی کے ایک ایسے علاقے میں رہتے ہیں جہاں کوئی آزادانہ طور پر داخل بھی نہیں ہو سکتا حتی کہ وہاں کے مستقل رہائشی بھی اپنے اپنے ”اجازت نامے“ دکھا کر اندر داخل ہوتے ہیں اور ہر دفعہ ان کی گاڑیوں کی تفصیلی تلاشی لی جاتی ہے۔ اب یہ خود اختیار کردہ نظر بندی ہے اور ہم ہیں دوستو!


