کیا پرندے واقعی بے زبان ہوتے ہیں؟


محترم قارئین، پرندے ہر گز بے زبان نہیں ہوتے، فرق صرف اتنا ہے کہ جس طرح ہم انسانوں کی ہزاروں زبانیں ہیں اور ہم ان سبھی کو سمجھ نہیں سکتے اسی طرح پرندوں کی زبانیں بھی نہیں سمجھ پاتے۔

ہمارے ذاتی مشاہدے کی کچھ مثالیں درج زیل ہیں

جب مرغی انڈے دینے کے مرحلے سے گزر رہی ہوتی ہے تو ایسے میں وہ ایک مخصوص آواز نکالتی ہے۔ جس سے مالک سمجھ جاتے ہیں کہ مرغی اب انڈے دینے والی ہے اور وہ اس کے انڈے دینے کے لیے خاص جگہ پر بھوسے وغیرہ کا اہتمام کرتے ہیں۔ اس آواز کو ”پور پکانا“ بھی کہتے ہیں۔ پھر جب انڈا دینے کے دن بہت قریب آ جاتے ہیں تو مرغی کی وہ مخصوص آواز بہت تیز ہوجاتی ہے اور چہرہ بھی سرخ پڑ جاتا ہے۔ تو ان دنوں میں وہ انڈا دینے کے لیے پورے گھر میں کسی محفوظ جگہ کو ڈھونڈنے لگتی ہے، وہ گھر کے کونوں کھروں، الماریوں وغیرہ میں ایسی جگہیں ڈھونڈتی ہے کہ جہاں اس کا انڈا محفوظ رہے۔

ایسے میں گھر کا مرغا اس کی مدد کو آتا ہے۔ وہ ایک محفوظ جگہ ڈھونڈ کر وہاں کھڑے ہو کر ایک خاص آواز نکالتا ہے کہ یہ جگہ محفوظ ہے۔ مرغی تھوڑی دیر وہاں بیٹھتی ہے لیکن پھر اس جگہ کو غیر محفوظ سمجھتے ہوئے اٹھ جاتی ہے۔ مرغا پھر کسی دوسری جگہ کی نشاندہی کرتا ہے اور یوں انڈا دینے سے کئی دن پہلے تک یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔ یوں افراد خانہ بھی سمجھ جاتے ہیں وہ کسی بڑی ٹوکری، ڈبے وغیرہ میں بھوسا بھر کر کسی کونے میں یا ایسی محفوظ جگہ پر رکھتے ہیں کہ جو شکاری جانوروں چیل، بلی، کتے سے محفوظ ہو اور مرغی یک دم کسی چیز سے خوفزدہ ہو کر وہاں سے بھاگ نہ اٹھے۔

پھر مرغی اسی جگہ پر انڈے دینا شروع ہو جاتی ہے۔ جب مرغی انڈا دے دیتی ہیں تو گھر کی ساری مرغیاں ایسی آواز نکالتی ہیں کہ جیسے انہیں بہت زیادہ خطرہ ہو، مالک سمجھ جاتے ہیں اور وہ انڈے کو کسی محفوظ مقام پر رکھ دیتے ہیں تو مرغیاں چپ ہو جاتی ہیں۔ اگر ایک دن میں ایک سے زائد مرغی انڈا دیتی ہو تو ہر دفعہ انڈا دینے پر سبھی مرغیاں آواز نکالنے لگتی ہیں۔ عام طور پر مرغیاں آپس میں لڑتی بھی رہتی ہیں لیکن انڈے کی حفاظت کے لیے سبھی کا اتحاد ہوتا ہے۔

اب ایسے جانوروں کو کون بے زبان یا احمق کہہ سکتا ہے؟

ایک اچھی مرغی کی پہچان یہ ہے کہ جب اس کے نیچے دس بارہ انڈے رکھے جاتے ہیں تو وہ چوبیس چوبیس گھنٹے ان پر بیٹھی رہتی ہے اور انڈوں کو اپنے پروں اور جسم کی حرارت دے کر سینچتی رہتی ہے۔ گھر والے چوبیس گھنٹوں بعد زبردستی اسے انڈوں سے ہٹاتے اور اس ٹوکری کو چھپا دیتے ہیں تاکہ مرغی کچھ تو کھا پی لے۔ وہ تھوڑا سا انتہائی تیزی سے کچھ کھاتی پیتی ہے اور پھر انڈوں کی جانب لپکتی ہے۔ یوں بیس اکیس دنوں کے اندر انڈوں سے چوزے نکل آتے ہیں۔

ان چوزوں کے پر بہت نرم ملائم ہوتے ہیں اور پنجے ایسے گلابی صاف ستھرے ہوتے ہیں جیسے پیروں کا پیڈی کیور کروایا ہو۔ جب چوزے نکل آتے ہیں تو تب تک مرغی کے بہت سے پر کمزوری کی وجہ سے جھڑ چکے ہوتے ہیں لیکن جب چوزے نکلتے ہیں تو مرغی اپنی کمزوری، بھوک، تھکن بھول کر انہیں ہر چیز کھلاتی ہے۔ جب وہ کوئی کھانے کی چیز دیکھتی ہے تو ایک مخصوص آواز نکال کر انہیں اس طرف متوجہ کرتی ہے۔ وہ کھانے کی چیز کے ساتھ چونچ مارتی ہے کہ بچے اس طرف متوجہ ہو جائیں۔

بچے ماں کی جانب سے اشارہ کی جانے والی جگہ پر جانے کی کوشش میں ایک دوسرے سے ٹکرا جاتے ہیں۔ اگر ماں کسی مکھی کو کھلانا چاہے تو اس کے لیے وہ مکھی کو مار کر ایک جگہ رکھتی ہے اور جب اشارہ کرتی ہے تو سب چوزوں کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اسی مکھی کو کھائیں۔ اس لیے خوب دھینگا مشتی ہوتی ہے۔ چوزے اس کام میں بازی لے جانے کے لیے ایک دوسرے کے اوپر چڑھ جاتے ہیں۔ اگر کسی ایک چوزے کے منہ میں پوری مکھی آ جائے تو باقی چوزے اس کے پیچھے یوں لگ جاتے ہیں جیسے رگبی کے کھلاڑی گیند رکھنے والے پر چڑھ دوڑتے ہیں۔ اگر اس چوزے کے منہ سے مکھی نکل کر کسی دوسرے چوزے کے پاس چلی جائے تو پھر وہی رگبی کے کھیل جیسا تماشا شروع ہو جاتا ہے۔

جب چوزوں کو سردی محسوس ہوتی ہے تو وہ ایک مخصوص آواز نکالتے ہیں جسے سن کر مرغی بیٹھ جاتی ہے اور انہیں اپنے پروں میں چھپا کر گرمی پہنچاتی ہے۔ پھر جب انہیں کچھ دیر بعد سردی نہیں لگتی تو وہ ماں کے پروں کے مختلف حصوں سے سر نکالتے ہیں۔ ان کی بٹن نما کالی کالی آنکھوں میں ایسی تسلی، فخر اور تیقن ہو تا ہے جیسے انہیں سارے جہان کی دولت مل گئی ہو جو بہت پیارے لگتے ہیں۔ مرغی خود بھوکی ہوتی ہے لیکن وہ چوزوں کو ہر چیز کھلاتی ہے کہ ان کے معدے ضرورت سے زیادہ بھر جاتے ہیں۔

چھوٹے چوزوں کو مرغی ہر وقت ساتھ رکھتی ہے لیکن جب وہ کسی چیل یا بلی کو دیکھتی ہے تو ایک خاص ڈراونی سی چیخ یا آواز نکالتی ہے اور چوزوں کو جلد سے جلد اس خطرناک جگہ سے اپنے ڈربے یا پناہ گاہ کی طرف لے جاتی ہے یا لے جانے کی کوشش کرتی ہے اور جب اس کے مالک انسان یہ آواز سنتے ہیں تو وہ بھی سمجھ جاتے ہیں کہ ان کی مرغی کسی خطرے کی لپیٹ میں ہے چنانچہ وہ مرغی کا پیغام سمجھ کر اس کی مدد کو لپکتے ہیں۔ وہ کوئی تین مہینے تک یہی کرتی ہے یہاں تک کہ چوزے بڑے ہوتے ہیں اور مذاق مذاق، میں ایک دوسرے پر لڑنے کے انداز میں چھلانگیں لگاتے ہیں تو پھر مرغی سمجھ جاتی ہے کہ بچے اب بڑے ہو چکے ہیں، پھر وہ انہیں چھوڑ کر اپنی صحت پر توجہ دینے لگتی ہے

اسی طرح کوے دیکھیں۔ کوے اگر ہوشیار پرندے نہ ہوتے تو ان کے حوالے سے سیانا کوا، چالاک کوا اور پیاسا کوا کی کہانیاں مشہور نہ ہوتیں۔ اگر کوئی کوا مر جائے تو دوسرے کوے اس کے گرد جمع ہو کر ایک خاص ڈراؤنی آواز نکالتے ہیں جسے سن کر اردگرد کے درختوں اور گھروں سے کوے وہاں آ جاتے ہیں اور سب مل کر آوازیں نکال کر گویا اس کا سوگ مناتے ہیں۔

اسی طرح جب گھریلو چڑیاں، مینا، کوے، کہیں بلی یا کتے کو دیکھتے ہیں تو وہ سب مل کر ایسا شور مچاتے ہیں کہ جس سے گھر والوں کو آگہی مل جاتی ہے کہ گھر میں بلی یا کتا گھس آیا ہے۔ اسی طرح بکریاں گائیں بھینسیں، جب بھوکی ہوتی ہیں یا بھوک کی شدت سے بے حال ہوتی ہیں یا دھوپ میں مسلسل بندھی کھڑی رہ جائیں تو وہ بھی ایک خاص آواز نکالتی ہیں جسے سن کر گھر والے سمجھ جاتے ہیں کہ انہیں ہماری مدد کی ضرورت ہے۔

اسی طرح شیر کو دیکھ لیں۔ شیر جب بھوکا ہوتا ہے تو سخت دھاڑتا ہے اور جب اسے شکار مل جائے تو ایسی آواز نکالتا ہے کہ جسے سن کر انسان سمجھ جاتے ہیں کہ یہ اب اپنے شکار کو دبوچ چکا ہے۔ اسی طرح پنجروں میں بند پرندے اور جانور مخصوص آواز نکال کر اپنی بے کسی کی فریاد دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔

کیا آپ نے کبھی اس جانب دھیان دیا ہے کہ طوطے، چڑیاں، کبوتر، مینا، کوے اور دیگر اونچی اڑان بھرنے والے پرندے کم کھاتے ہیں جن کا سینہ سپاٹ ہوتا ہے اور وہ ساری عمر ہلکے پھلکے سے، چاق و چوبند رہتے ہیں۔ جبکہ مرغیاں، بلیاں، کتے ضرورت سے زیادہ کھا کر بہت موٹے ہو جاتے ہیں، یوں سبک رفتار نہیں رہتے اور چلنے پھرنے سے بھی قاصر ہو جاتے ہیں۔ جیسے کہ وہ افراد جو جینے کے لیے کھاتے ہیں، طویل عمر پاتے ہیں اور صحت مند رہتے ہیں جبکہ وہ لوگ جو کھانے کے لیے جیتے ہیں، نہ صرف تیزی سے چلنے پھرنے سے قاصر ہوتے ہیں بلکہ ذیابیطس، بلند فشار خون، دل کی بیماریوں کا شکار ہو کر جلد ہی اس دنیا سے کوچ کر جاتے ہیں۔

لوگ مختلف پرندوں کو پنجرے میں قید کر کے رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ بہت خوبصورت اور پیارے لگتے ہیں تو یہ بات سراسر غلط ہے۔ اگر آپ کو کوئی انسان پیارا لگتا ہے تو کیا آپ اسے پنجرے میں قید کر کے رکھیں گے؟ اس کے لیے بہتر یہ ہے کہ ایک کھلی جگہ پر ان کے کھانے پینے کا انتظام کیا جائے، پرندے خود ہی وہاں کھانے کے لیے آئیں گے اور آپ ان کو چہچہاتا دیکھ کر خوش ہو لیں گے۔

اسی طرح کراچی وغیرہ میں لوگ چڑیوں مینا کو قید کر کے لاتے ہیں اور لوگ ان کو رقم ادا کر کے چھوڑ دیتے ہیں لیکن یہ ان چڑیوں کے ساتھ سخت زیادتی ہے کیونکہ اس طرح انہیں قید کر کے لانے والوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے، وہ دوسرے دن پھر چڑیاں پکڑ لاتے ہیں۔ اب جن چڑیوں کو وہ لوگ دور دراز کے دیہاتوں، جنگلات وغیرہ سے پکڑ لاتے ہیں، وہ بے چاریاں اپنے اصل گھروں کو کبھی لوٹ نہیں پاتیں جو کہ ان پیاری معصوم سی چڑیوں کے ساتھ سراسر ظلم ہے، ہم انسان اپنے آبائی شہروں، گاؤں کو یاد کر کے کتنا تڑپتے ہیں تو ان چڑیوں پر کیا بیتتی ہوگی، وہ اپنے آبائی گھروں کو جانے کے لیے کتنا تڑپتی ہوں گی مگر کچھ نہ کر پاتی ہوں گی۔

پھر اگر ان چڑیوں کو یہ ظالم لوگ اس وقت پکڑ لاتے ہیں کہ جب وہ اپنے بچوں کی دیکھ بھال کر رہی ہوتی ہیں، تو جن چڑیوں کو یہ ظالم پکڑ لاتے ہیں، ان کے ساتھ ان کے گھونسلوں میں منتظر بچے بھی ماں باپ کی دیکھ بھال نہ ملنے کے باعث فوت ہو جاتے ہیں جو کہ ان چڑیوں کی نسل کشی کے مترادف ہے۔ اس لیے ہونا یہ چاہیے کہ مخیر حضرات ایسے لوگوں کو کہیں کہ ہم تمھیں کوئی دوسرا کاروبار کرا دیتے ہیں، تم یہ کام چھوڑ دو ، اور اگر وعدہ خلافی کی تو پھر ہم تمھارے خلاف پرندوں پر ظلم کرنے کے حوالے قانونی کارروائی کریں گے۔

اسی طرح جو لوگ جانوروں، پرندوں کا شکار کرتے ہیں تو یہ بھی سخت ظلم ہے کیونکہ شکار ہونے والے جانوروں، پرندوں کے بچے والدین کی دیکھ بھال نہ ملنے کے باعث فوت ہو جاتے ہیں۔ جس طرح انسانوں کے بچے والدین کا سایہ نہ ہونے کے باعث رل جاتے ہیں یا کسی ظالم کے ہاتھوں قتل ہو جاتے ہیں۔

اسی طرح چڑیا گھروں کو قائم رکھنا آج کے زمانے میں غلط ہے جس طرح پاکستانی عدالت عالیہ بھی کہ چکی ہے۔ اس سے بہتر ہے کہ جانوروں کے اصل مسکنوں یعنی جنگلات کو ختم نہ کی جائے اور انہیں لوگ ان کے اصل ٹھکانوں میں سفاری پارک کی طرح دیکھنے جائیں۔ اس طرح چڑیا گھروں میں جانوروں کی خوراک اور دیکھ بھال پر جو اخراجات آتے ہیں، وہ بھی بچ جائیں گے اور چڑیا گھروں کی زمین بے گھر لوگوں میں تقسیم کر کے بے یارو مدد گار لوگوں کی مدد بھی ہو سکے گی کہ اگر جانوروں کو چڑیا گھر کی زمین پر مفت میں رکھا جا سکتا ہے تو انسانوں کو کیوں نہیں۔

اسی طرح سائبیریا سے آنے والے ایک پرندے کونج کے ساتھ مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ انہیں سرد علاقوں میں بھی اور پھر ہمارے گرم علاقے سے ہجرت کرتے ہوئے اپنے بچے چھوڑنا پڑتے ہیں، چنانچہ واپسی میں کسی کسی وقت وہ نیچی پرواز کر کے بڑی دردناک آواز نکالتے ہیں لیکن ظالم لوگ ان مہمان پرندوں کا بھی لحاظ نہیں کرتے اور انہیں شکار کر کے ان کے دونوں جانب والے بچوں کو ہمیشہ کے لیے یتیم کر دیتے ہیں۔ جو شکار کر لیے جاتے ہیں ان کو لوگ کھا لیتے ہیں اور جن کونجوں کو زندہ پکڑا جاتا ہے، ان کو امیر لوگ اپنے گھروں میں بڑی چاہ سے قید کر کے رکھتے ہیں اور ان کی بڑی تعریفیں ہوتی ہیں لیکن قید تو قید ہوتی ہے۔ شاید اسی لیے اب ان پرندوں نے شہروں کا رخ کرنا چھوڑ دیا ہے کہ انہیں پتا چلا گیا ہے کہ ”شہر دے لوگ ظالم ہن“ اور ان کو ”مرن دا شوق نہیں“ ۔

ایکسپریس نیوز کی اس خبر کے مطابق ویانا کی جامعہ کے ماہرین نے مشاہدہ کیا کہ جنگل میں پائے جانے والے خاص قسم کے بڑے طوطے یا کو کاٹو پھلوں کا گودا کھانے کے لیے درختوں کے تنکوں سے خاص اوزار بناتے ہیں۔

اس طرح پرندوں میں یہ دوسرا اہم جانور ہے جو اپنا کٹلری سیٹ خود تیار کر سکتا ہے

انڈونیشیا کے دوردراز تانمبنر جزائر میں تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے دو طوطوں کا مشاہدہ کیا۔ ماہرین نے دیکھا کہ سمندری آم نامی ایک پھل سے گودا نکالنے کے لیے دونوں نے درخت کے تنکوں کو کامیابی سے استعمال کیا۔ اس نسل کے طوطے پورٹو ریکو اور سنگاپور میں بھی پائے جاتے ہیں۔

ماہرین نے کل 15 پرندے دیکھے جن میں سے دو ہنرمند طوطے نکلے اور وہ سمندری پھل کا گودا کھانے کے لئے مختلف اوزار استعمال کر رہے تھے۔ جب قریب سے جاکر دیکھا تو معلوم ہوا کہ ان پرندوں نے مختلف اوزار بنا رکھے تھے جو شمار کرنے پر تین مختلف اوزار نکلے۔ ماہرین نے ازراہ تفنن انہیں پرندوں کا کٹلری سیٹ کہا ہے۔

طوطے نے لکڑی کا ایک مضبوط لیکن سلاخ نما باریک ٹکڑا لیا جسے سے اس نے پھل کھولا۔ اب اس نے ایک اور قدرے نفیس آلہ تھاما جسے بطور چمچہ استعمال کرتے ہوئے اندر موجود گودا نکال کر مزے سے کھانے لگا۔ طوطے نے یہ آلات درخت کی شاخ سے بنائے ہیں اور اس کے لیے کئی شاخوں کو تلاش کرنا پڑتا ہے۔

ماہرین نے دیکھا کہ پرندے نے ایک کھانے کے دوران اوسطاً آٹھ اوزار استعمال کیے کیونکہ ناکارہ ہونے پر وہ اپنے کٹلری سیٹ سے دوسرا آلہ نکال لیا کرتا تھا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ کٹلری سازی کی صلاحیت طوطوں کو ورثے میں نہیں ملی بلکہ ہر طوطے نے اپنے لحاظ سے اختراع کی ہے یعنی پھل کے لحاظ سے وہ اوزار بناتے ہیں۔ ان پرندوں کی چونچ چھوٹی اور کم طاقتور ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ بڑے اور ڈھیٹ پھلوں کو نہیں کھول سکتے اور اب مختلف برتن ایجاد کر رہے ہیں۔

آخر میں ایک خوفناک مثال جو یہ ثابت کرتی ہے کہ جانور دکھ سے گزر رہے ہیں۔ جب بندھے ہوئے ریچھ پر انسان نما جانور اس کی بے بسی سے لطف اٹھانے کے لیے اس ہر شکاری کتے چھوڑ دیتے ہیں اور وہ اسے بھنبھوڑتے ہیں، اور اسے خون چکاں کر دیتے ہیں اور وہ بے چارہ سخت اذیت بھری آوازیں نکالتا ہے اور اسے دیکھنے والے انسان نما اصل جانور اس کی اس بے بسی سے لطف اٹھاتے ہیں، اس اذیت کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔

کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا۔ ایسے میں ہم بڑے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ جانور بھی زبان رکھتے ہیں لیکن انسان ان کی زبان سمجھتے نہیں اور اپنی کم علمی چھپانے کے لیے انہیں بے زبان کہہ دیتے ہیں


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments