بحری کپتان احتشام الدین خان کی ناقابل یقین سر گزشت


ترتیب و تحریر شاہد لطیف
( 14 مئی 2023 )

آج 14 مئی 2023 ہے۔ میں اور کپتان احتشام الدین خان، باربی کیو ٹونائٹ کراچی میں بیٹھے ہیں۔ احتشام الدین خان کے والد محکمہ شہری ہوابازی میں ملازم اور سابقہ مشرقی پاکستان میں متعین تھے جہاں احتشام الدین خان پیدا ہوئے۔ ابتدائی پرائمری اسکول کی تعلیم وہیں سے حاصل کی۔ اسی لئے بنگلہ زبان فر فر بولتے تھے۔ میرے والد محکمہ صحت میں ملازم تھے اور کراچی ائرپورٹ کے رہائشی علاقے میں آس پاس ہی رہتے تھے۔ ان کے بڑے بھائی اور ہمشیرہ میرے بڑے بھائی بہنوں کے دوست تھے اور ایک خاندان جیسا ماحول تھا۔

ہم دونوں کلثوم بائی ولیکا سیکنڈری اسکول، کراچی ائر پورٹ پر پانچویں کلاس سے میٹرک تک ایک ساتھ پڑھے۔ ان کے بڑے بھائی بحری جہاز کے کپتان تھے لہٰذا یہ بھی شپنگ لائن میں آ گئے۔ احتشام بہترین تیراک اور کرکٹر تھے۔ یہ تب بھی اور اب بھی مجھ سمیت سب ہی ہم جماعتوں سے رابطے میں رہے اور گاہے بہ گاہے ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں۔

بات کراچی میں ایک نشست کی ہو رہی تھی جہاں ذکر ہو رہا تھا کہ 90 کی ابتدائی دہائی میں یہ کسی شپنگ کمپنی کے ایک بحری جہاز کے کپتان تھے جس کے ساتھ بنگلہ دیش کی چٹاگانگ بندرگاہ پر ایک کہانی وابستہ ہے جہاں وہ اپنے ہی جہاز میں نظر بند کر دیے گئے۔ پھر کپتان اور عملے کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے کیا مسائل تھے؟ جہاز مالکان کے دیوالیہ ہونے اور اس کے بعد کے واقعات کا کیا قصہ ہے؟ یہ جہاز چٹاگانگ کیوں جا رہا تھا اور پھر مسائل کہاں سے شروع ہوئے؟ ان سوالات کے جوابات ہی کپتان احتشام الدین خان کی سرگزشت ہے۔ ان ہی کی زبانی سنتے ہیں :

مصائب کی ابتدا:

” میرا جہاز ’انڈیورینس سی‘ Endurance Sea چونکہ برف میں سے ہو کر آیا تھا لہٰذا سروے میں کوئی خصوصی مرمت 02 ماہ کے اندر اندر کرانے کی نشاندہی کی گئی تھی۔ یہ نومبر 1991 تھا جب میری اولین کپتانی میں جہاز کارگو لے کر چٹاگانگ آ رہا تھا اور ساتھ ہی مرمت کروانے کی مہلت بھی ختم ہو رہی تھی۔ تب ہی جہاز کے مالکان نے اپنے آپ اور کمپنی کو دیوالیہ قرار دے دیا اور یوں عملے کی تنخواہیں بند ہو گئیں۔ جہاز مرمت کے لئے خشک گودی میں کھڑا کروا دیا گیا۔

مرمتوں، جہاز کو چلنے کی حالت میں رکھنے کے لئے ڈیزل اور راشن کے پیسے ملنا بھی بند ہو گئے۔ یہ ہمارے مصائب کی ابتدا ہے۔ سب سے پہلے تو چٹاگانگ پورٹ اتھارٹی نے کہا کہ پیسوں کی عدم ادائیگی کی بنیاد پر ہم جہاز کو باہر نکال دیں گے۔ ادھر ایک سائکلون یا سمندری طوفان کی پیش گوئی بھی تھی ادھر ہمارے پاس ڈیزل کی شدید قلت تھی اگر پورٹ چھوڑ جاتے تو پھر کیا کرتے۔ لہٰذا میں نے پورٹ اتھار ٹی کو بتایا کہ جب تک ہمارے پاس ایک خاص مقدار میں ڈیزل نہیں ہو گا تب تک ہم پورٹ سے باہر نہیں جا سکتے۔ خیر اس طوفان کا رخ تبدیل ہو گیا“ ۔

بحری جہاز حراست میں :

” مرتا کیا نہیں کرتا کے مصداق پھر ہم نے پورٹ اتھارٹی کے کہنے پر جہاز کو پورٹ کی حراست میں دے دیا تا کہ جہاز کو بیچ کر عملے اور میری تنخواہیں ادا ہونے کی شروعات تو ہوں! جہاز بینک آف کریڈٹ اینڈ کامرس انٹرنیشنل المعروف بی سی سی آئی کا رہن کردہ یا گروی شدہ تھا۔ اب بینک، پورٹ اتھارٹی اور ہمارے سپلائروں نے بھی اپنی درخواستیں ڈال کر اس کار خیر میں حصہ لیا۔ یہ کیس بڑی عدالت کا تھا جو کہ چٹاگانگ میں نہیں تھی۔

اس کے لئے ہمیں ڈھاکہ جانا پڑا۔ اب آنے جانے، کورٹ کچہری، وکیل کی فیس کے لئے پیسوں کی ضرورت تھی۔ پھر جہاز سے باہر اور ڈھاکہ جانے کے لئے اجازت لینا اور امیگریشن کو تھوڑی رشوت دینا پڑتی تھی۔ ہمارے لئے مشکلات پیدا ہو گئیں۔ اس مقصد کے لئے میں نے گھر سے کچھ پیسے منگوائے اور ڈھاکہ جا کر ہم نے کیس کر دیا۔ اتفاق سے اسی وقت عدالتوں کی تعطیلات شروع ہو گئیں۔ پہلی تاریخ پر بی سی سی آئی والوں نے کہا کہ ہمیں کچھ مہلت درکار ہے تا کہ ہم اپنے لندن آفس سے ہدایات لے سکیں کہ کیا کرنا ہے!

اس وقت تک جہاز کو کھڑے ہوئے 06 ماہ ہو چکے تھے۔ ہمارا جہازی عملہ 24 افراد پر مبنی تھا جو یہاں چٹاگانگ میں اب ہتھے سے اکھڑتا جا رہا تھا۔ ان کے گھروں میں پیسے نہیں تھے کیوں کہ ہم جب سے جہاز پر چڑھے تب سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ عدالت سے دو مہینے کے بعد کی تاریخ آئی۔ یہ عرصہ بھی کسی نہ کسی طریقے سے گزار ہی لیا۔ سپلائر اس یقین پر راشن دیتے رہے کہ جہاز تو پورٹ پر کھڑا ہے جب بکے گا تو حساب چکا دیا جائے گا“ ۔

انٹرنیشنل ٹرانسپورٹ ورکرز فیڈریشن ( آئی ٹی ایف) کی امداد:

” وقت گزرتا جا رہا تھا اور ہمارے حالات بد سے بد تر ہوتے جاتے تھے۔ ایسے میں انٹرنیشنل ٹرانسپورٹ ورکرز فیڈریشن ( آئی ٹی ایف) کا خیال آیا۔ یہ بین الاقوامی تنظیم، جہاز رانوں کے حقوق اور ان کو درپیش مسائل کے حل کے لئے کام کرتی ہے۔ میں نے اس سے رابطہ کیا۔ انہوں نے وکیل کی فیس، ڈیزل اور کھانے پینے کے کچھ پیسے دینا شروع کر دیے۔ ڈیزل اتنا نہیں ہوتا تھا کہ ہم اپنا کھانا پینا فریزر میں زیادہ دیر محفوظ رکھ سکتے۔ جنریٹر چلتے رہیں تو ہی مطلوبہ درجہ حرارت برقرار رہتا ہے۔ اسی لئے فریزر میں رکھا سامان تھوڑے ہی عرصے بعد کھانے کے قابل نہیں رہتا تھا۔

ویسے کبھی جہاز مالکان بھی رحم کھا کر کچھ پیسے بھیج دیتے۔ عملہ بھی چڑچڑا ہو گیا۔ وہ سمجھتا تھا کہ اس سب خرابی کا ذمہ دار کپتان ہے! اس لئے میں کیس کی وجہ سے زیادہ تر ڈھاکہ میں رہنے لگا۔ میں ایک معمولی ہوٹل میں رہتا تھا جہاں کا کرایہ 250 ٹکا تھا۔ مسائل سے نبٹنے کے لئے ہم نے پاکستانی سفارتخانے سے بھی رجوع کیا لیکن دیواروں سے ہی سر ٹکرایا! ہم نے پاکستان سی مین یونین اور شپنگ آفس سے بھی رابطہ کیا لیکن سوائے ایک آئی ٹی ایف کے سب نے وعلیکم السلام ہی کہا! ”۔

آف شور کمپنی اور ہمارا جہاز ’اینڈیورنس سی‘ Endurance Sea:

” بہت سے بحری جہاز مالکان ان ممالک سے اپنے جہازوں کی کسی چھوٹی سی کمپنی کے نام سے رجسٹریشن کراتے ہیں جہاں کے ٹیکس برائے نام ہوتے ہیں۔ انہیں آف شور کمپنیاں کہا جاتا ہے۔ یہ جہاز ’اینڈیورنس سی‘ لائبیریا سے رجسٹرڈ کرایا گیا تھا۔ جب کہ جہاز کی اتنی زیادہ قیمت نہیں تھی۔ جہاز کی ملکیت کے کاغذات میں کہیں بھی مالکان کا نام نہیں تھا۔ ہم اصل مالکان میں سے کسی کو بھی عدالت میں نہیں بلوا سکتے تھے۔ جہاز گلف ایسٹ کمپنی کے زیر انتظام تھا جو ہانگ کانگ میں تھی۔

اب دیوالیہ ہونے کے بعد اس کے دفاتر بھی بند ہو گئے۔ پھر غالباً وہ کراچی کسی دوسری انتظامیہ کو منتقل ہو گئی۔ نئے لوگ ہمارے مسائل اور واجبات کے جواب دہ نہیں تھے۔ کیس کیا جاتا تو کس پر کیا جاتا؟ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ تنخواہوں کے نہ ملنے کا تھا۔ مثلاً میری تنخواہ 2,350 ڈالر ماہانہ تھی۔ اس میں 900 ڈالر بنیادی تنخواہ اور باقی مختلف الاؤنسز۔ جب ہم اپنا کیس عدالت میں لے کر گئے تو عدالت میں جج نے سوالات کیے کہ جہاز تو کھڑا ہے، کوئی سرگرمی ہی نہیں تو الاؤنس اور اور ٹائم کس لئے؟

اب ان کے جوابات ہماری جانب سے وکیل نے دینا تھے جو کہ سرے سے ہی بحری جہازوں کے کیسوں سے نا واقف تھا۔ وہ فوجداری معاملات کا وکیل تھا۔ جب بھی تاریخ ملتی تو ادھر سے ادھر، رجسٹرار آفس، عدالتی اسٹاف سب ہی کو بخشش دینا پڑتی۔ ہمارا وکیل کہتا کہ آئی ٹی ایف وکیل کی فیس تو دیتی ہے بخشش کے پیسے نہیں! اب ان پیسوں کا مجھ ہی کو انتظام کرنا پڑتا۔ گھر سے پیسے منگواتا تھا“ ۔

ایک دن جیل میں :

” گزر بسر کے واسطے بھی کوئی پیسے نہیں تھے۔ ہمیں ہر ایک پیشی پر پیسوں کی ضرورت ہوتی۔ ایسے میں جہاز کا سامان بھی بیچنا پڑا۔ جہاز میں ایک 70,000 ڈالر مالیت کا جنریٹر بھی موجود تھا۔ میں چاہتا تھا کہ بیچ دوں لیکن چیف انجینیئر نے کہا کہ میرے دوسرے جنریٹر صحیح نہیں اس لئے یہ نہیں بک سکا۔ جہاز کے افسران پاکستانی تھے جب کہ عملے میں کچھ پاکستانی اور کچھ مالدیپ کے لوگ تھے۔ مالدیپ میں کئی کئی شادیاں کرنے کا رواج عام ہے۔

ان میں سے دو تین افراد نے چٹاگانگ میں مقامی خواتین سے شادیاں کر لیں تا کہ کچھ خرچہ پانی چلتا رہے۔ کچھ پاکستانی عملہ یہ دیکھتے ہوئے کہ یہاں سے تو پیسے ملنے والے نہیں، کراچی چلا گیا جہاں ان کے پیسے ادا کر دیے گئے۔ آخری وقت میں جہاز کا عملہ محض 18 افراد کا رہ گیا۔ رہے ہمارے واجبات تو یہ بڑھتے بڑھتے 700,000 ڈالر تک پہنچ گئے! اس دوران مجھے جہاز کا سامان بیچنے کے جرم میں ایک دن جیل میں بھی رہنا پڑا! اس کے علاوہ اکثر پورٹ اتھارٹی، کسٹم والے دھمکیاں دیتے کہ آپ نے کس کی اجازت سے سامان بیچا ہے۔

اس دوران میں چٹاگانگ سے ڈھاکہ ہوائی جہاز میں آتا اور جاتا رہا۔ ہر ایک مرتبہ مجھے غیر ملکی ہونے کے ناتے امیگریشن والوں کو الگ بخشش دینا پڑتی۔ تین چار دفعہ جانے کے بعد کسی ہمدرد نے کہا کہ پولیس کمشنر کے پاس جائیے۔ میں ان سے ملا اور بتایا کہ میرا عدالت میں کیس چل رہا ہے۔ میرے پاس پیسے بھی کم ہیں پھر ہر دفعہ جہاز سے ڈھاکہ آنے جانے کی اجازت کے لئے پیسے پانی کی طرح بہہ جاتے ہیں۔ پھر میں آپ کا بھائی بھی تو ہوں! پولیس کمشنر نے مجھے ایک خط دیا کہ جب کوئی پوچھے تو یہ دکھا دوں! میں ان کا مشکور ہوں کہ اس کے بعد پھر میں آزادانہ جہاں چاہتا یہ خط دکھا کر سفر کر تا رہا“ ۔

صحت کی خرابی، کراچی جا کر تین دن میں چٹا گانگ واپس آنا:

” دن گزرتے رہے اور یہاں رہتے ہوئے سوا سال ہو گئے۔ عملے کے لوگ بیمار ہو جاتے تھے۔ مجھے خود بہت سخت اسہال کا عارضہ لاحق ہو گیا جو بگڑ کر السر بن گیا۔ میری صحت بھی خراب ہوتی جا رہی تھی۔ ایک دفعہ میرے بڑے بھائی جو خود بھی جہاز ران تھے، ان کا جہاز چٹاگانگ آیا۔ میری حالت دیکھ کر بے ساختہ بولے کہ تم ذہنی طور پر ختم ہو جاؤ گے۔ میں تمہارے ٹکٹ کا انتظام کرتا ہوں۔ فوراً چلے جاؤ۔ میں ہوائی جہاز سے کراچی پرواز کر گیا“ ۔

کپتان ایم ایل رحمن ایک شاندار انسان:

” میں اپنی جگہ ایک بنگلہ دیشی ریٹائرڈ کپتان ایم ایل رحمن کو چھوڑ کر آیا تھا کہ 15 دن میں واپس آ جاؤں گا۔ یہ صاحب کراچی میں میری ٹائم ڈپارٹمنٹ میں پرنسپل افسر رہے تھے۔ آپ یقین کریں مجھے تین دن وہاں نیند نہیں آئی! صرف یہ سوچتا تھا کہ عزت کی بات تھی کہ جہاز کا کپتان ہوں اور عملے کو مشکل میں چھوڑ کر بھاگ گیا۔ کراچی میں ایک پل آرام نہیں آیا۔ سوچتا تھا کہ تاریخ میں نام آ جائے گا کہ فلاں کپتان مشکل حالات میں عملہ اور جہاز چھوڑ کر بھاگ نکلا!

کپتان کی ذمہ داری آپ فلموں میں دیکھتے ہوں گے کہ خواہ کچھ ہی کیوں نہ ہو وہ یا تو جہاز سے نکلنے والا آخری شخص ہوتا یا وہ جہاز کے ساتھ ہی چلا گیا۔ اس طرح میں جہاز کی کمان سنبھالنے واپس چٹاگانگ آ گیا۔ یوں تین بعد ہی مجھے دیکھ کر کپتان ایم ایل رحمن حیران ہوئے۔ وہ پہلے ہی مہربان تھے اب تو کہیں زیادہ مشفق ہو گئے۔ انہیں کراچی اور چٹاگانگ پورٹ کی الف سے ے کا علم تھا اس لئے بہت قیمتی مشورے بھی دیتے تھے۔ وہ تسلی دینے والے بھی تھے کہ انتہائی مخدوش حالات میں بھی کیسے بچ کر نکلنا ہے! مثلاً پینے کا پانی کیسے مطلوبہ مقدار میں مل سکتا ہے“ ۔

جہاز کے متوقع خریدار:

” درمیان میں کچھ ایسا ہوا کہ ہمارے جہاز کے متوقع خریدار بھی منظر پر آنے لگے۔ خواہشمند اپنے ایجنٹ، مجھ سے جہاز کے سروے کی اجازت طلب کرنے کے لئے بھیجنے لگے۔ مجھے اپنے اور عملے کے راشن اور جنریٹر کو زیادہ سے زیادہ دیر چلانے کے لئے ڈیزل کی ضرورت رہتی تھی لہٰذا میں نے فی سروے 1000 ڈالر فیس عائد کر دی۔ جہاز جیسا بھی تھا ملین ہا ڈالر مالیت کا تھا اس لئے یہ متوقع خریدار ہزار ڈالر فیس دینے کو تیار تھے۔ تین چار پارٹیوں نے جہاز کا سروے کروایا۔ جہاز کا سودا وہاں پر آ کر رک جاتا تھا جب انہیں کاغذات سے علم ہوتا کہ جہاز تو ایک خاصی تگڑی رقم کے عوض بینک سے گروی شدہ ہے۔ پھر سودے منسوخ ہو جاتے“ ۔

السر سے نجات:

” جیسا کہ پہلے کہا گیا کہ میری صحت بگڑتی جا رہی تھی اور مجھے السر ہو گیا تھا۔ جس کا میں نے بعد میں 15 سال مختلف جگہوں پر علاج کرایا۔ اس میں امریکہ، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا بھی شامل ہیں۔ مجھے کوئی تلی ہوئی چیز ہضم نہیں ہوتی تھی۔ پھر میرے رشتے کے ایک ماموں نے کہا کہ بیکٹیریا نے تمہارے معدے کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے اس کا فوراً علاج کر اؤ ورنہ یہ کینسر میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ خیر میں نے ان حضرت سے سوا سال علاج کرایا۔ الحمدللہ آج میں پیٹ کے حساب سے بالکل صحتمند ہوں“ ۔

عملے میں مایوسی:

” اب جہاز پر مایوسی پھیلتی جا رہی تھی۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ عملے نے پورٹ والوں سے قرضے لئے ہوئے تھے جن کی واپسی کی کوئی صورت نہیں نظر آتی تھی۔ میرے پیچھے بنگلہ دیش کسٹمز، امیگریشن اور جہاز کے سپلائر لگے ہوئے تھے کہ کپتان صاحب فیصلہ کب آ رہا ہے؟ جہاز کب بک رہا ہے؟ ہمارے پیسے کب ملیں گے؟ ہمیں ہمارے پیسے چاہئیں! میں تنگ آ کر کم کم ہی چٹاگانگ آتا ویسے بھی مجھے کیس کی خاطر ڈھاکہ میں رہنا پڑتا تھا۔

میرے چیف اور سیکنڈ افسران چھوڑ کر چلے گئے۔ میرے ساتھ اب صرف تھرڈ افسر تھا جس کا نام نعمان سلطان تھا۔ یہ ’پیرا میرین‘ کے منیجنگ ڈائریکٹر کا قریبی عزیز اور بہت اچھا لڑکا تھا۔ ہم دونوں ساتھ ہی رہتے اور برائے نام پیسوں میں گزارا کر لیتے تھے۔ میرے ڈھاکہ میں کچھ اچھے دوست بن گئے تھے جو مجھے قرضہ دیتے تھے۔ میں الحمدللہ بالآخر ان تمام بنگلہ دیشی احباب کا قرض چکا کر کراچی آیا“ ۔

زندگی کے 02 کٹھن سال یا داستان حسرت:

” جہاز میں ہمارا رہائشی علاقہ کبھی آرام دہ ہوا کرتا تھا پھر وہاں جانے سے وحشت ہوتی۔ جب ہم کمروں میں جاتے تو اداسی بال کھولے بین کرتی نظر آتی۔ چٹاگانگ میں ایک ایک ہفتے بارشیں ہوتیں۔ جب بارش ہوتی تو ہمارا ائر کنڈیشن سسٹم نہیں چلتا۔ ایسے میں مچھر بھی شہنائی نہیں بجاتے تھے۔ لیکن جب بارشیں نہیں ہوتیں تو ہمارا سونا بڑا دشوار ہو جاتا کیوں کہ جنریٹر نہیں چلتا تھا۔ وہ جہاز ائر کنڈیشن تھا لہٰذا اس میں پنکھے نہیں تھے۔

ہماری راتیں مچھروں کی وجہ سے بڑی مشکل سے گزرتی تھیں۔ کبھی باہر کبھی اندر، یہی ہوتا رہتا۔ کبھی لوگوں کو ایسا بخار چڑھ جاتا کہ اللہ کی پناہ! دوا لینے پورٹ اتھارٹی کے اسپتال جاتے۔ یوں سمجھیں کہ ہم نے اپنی زندگی کے وہ دو سال بہت برے حالات میں گزارے۔ کئی دفعہ یوں بھی ہوا کہ عدالت میں ہم کیس کی شنوائی کو گئے اور جج نے کوئی آگے کی تاریخ دے دی۔ ایک مرتبہ میں کٹہرے میں اپنی داستان حسرت سنا سنا کے رو پڑا۔ میں تو کپتان تھا مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ یہ ایک انسانی فطرت اور انسانی جذبات ہوتے ہیں۔ یہ میری پہلی پہلی کمان تھی اور جو ہمارے ساتھ پیش آ رہا تھا وہ نہ تو میں نے کبھی سنا اور نہ کبھی دیکھا تھا“ ۔

لندن پورٹ میں 1856 کا بعینہٖ ہم جیسا معاملہ:

” مجھے وہاں پورٹ میں مہذب ممالک کی کتابیں پڑھنے کا موقع ملا۔ جیسے کہ 1856 میں لندن پورٹ میں ایک یونانی بحری جہاز کے ساتھ بعینہٖ یہی معاملہ پیش آیا تھا جیسی صورت حال کا ہمیں سامنا تھا۔ وہ بھی مرمت کے لئے خشک گودی میں گیا تھا۔ یونانی جہاز ران وہاں سوا سال رہے۔ اس دور میں کمرشل ہوائی جہاز نہیں تھے اور تیز ترین ذرائع نقل و حمل بحری جہاز ہی تھے۔ جج نے وہاں بڑا اچھا فیصلہ دیا اور جہاز بک گیا۔ جہاز پر سب سے پہلا حق جہاز کے عملے کا ہوتا ہے۔ اس کے بعد پورٹ اتھارٹی، سپلائر وغیرہ آتے ہیں۔ جس کو ہم ’لی اون‘ کہتے ہیں۔ یوں جج نے پہلا لی اون جہاز کے عملے کا رکھا۔ اس چیز نے مجھے بہت حوصلہ دیا“ ۔

کمال کے بیرسٹر، بیرسٹر کمال :

” خیر میں اپنے جہاز کی جانب آتا ہوں۔ دن تو بہت برے گزر رہے تھے۔ ایک شنوائی کے دوران عدالت میں ڈھاکہ کے نامور بیرسٹر، بیرسٹر کمال کارروائی دیکھ رہے تھے۔ مجھ سے ہمارے کیس کے بارے میں پوچھا۔ سن کر بے ساختہ بولے کہ یہ تو بہت ہی سادا کیس ہے! آپ ایسا کیجئے کہ وقت نکال کر شام کو میرے گھر آ جائیں۔ ہم ان کے ہاں گئے۔ وہ سلہٹ کے رہنے والے بہت خوبصورت آدمی تھے۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ وہ ڈھاکہ کے جانے پہچانے بڑے وکلاء میں سے ایک تھے۔

اس وقت وہ 40 کے پیٹے میں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ تمہارا وکیل میرا رشتہ دار ہے اور اس کیس کو بھی کسی پھانسی کی سزا والے مجرم کی طرح لے کر چل رہا ہے۔ ہمیں یہاں سے بچنا ہے۔ کہنے لگے کہ آپ کو منت سماجت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اب میں آپ کا کیس تو نہیں لے سکتا لیکن آپ کی مدد ضرور کروں گا۔ پہلی بات تو یہ کہ میں آپ سے کوئی پیسہ نہیں لوں گا۔ وہ بہت بڑے آدمی تھے پہلے ہی سب سے ضروری بات کہہ ڈالی جو عام طور پر آخر میں یا پھر پوچھنے پر کہی جاتی ہے۔ یہ اس لئے کہ آپ ادھر مصیبت میں ہیں اور ہمارے مہمان ہیں۔ نیز یہ کہ آپ کو کبھی بھی کوئی ذہنی پریشانی یا دباؤ کا سامنا ہو تو فوراً میرے پاس آ جائیں“ ۔

” اب جناب بیرسٹر کمال نے ہمارا کیس شروع کیا۔ جج ہندو مذہب کے تھے لیکن وہ بڑے زبردست جج تھے۔ چوں کہ بیرسٹر کمال کی، عدالت میں بہت عزت تھی اس لئے جج نے دوبارہ سے بڑی توجہ کے ساتھ کیس سننا شروع کیا۔ ہمارے وکیل کو بیرسٹر کمال نے یہ کہہ کر مطمئن کر دیا کہ آپ تو بہت سینئر وکیل ہیں یہ کیس مجھے کرنے دیجئے بس آپ عدالت آ جایا کیجئے۔ پہلی پیشی میں جج نے ہمیں کہا کہ آپ لوگوں کو سب ہی کچھ ملے گا۔ پورے پیسے ملیں گے۔ ہوائی جہاز کا ٹکٹ اور گھر پہنچنے تک کا خرچہ بھی“ ۔

بدقسمتی دروازے پر :

ہمارے دوست کپتان احتشام الدین خان کی سرگزشت کا یہ حصہ لکھتے لکھتے قائم ؔچاند پوری یاد آ گئے۔ یہ 1722 میں چاند پور میں پیدا ہوئے اور 1793 کو رام پور میں انتقال کر گئے۔ ان کی حیات اور خدمات، ریختہ، وکی پیڈیا اور دیگر ذرائع سے معلوم ہو سکتی ہیں۔ یہ البتہ حقیقت ہے کہ ان کا ایک شعر بلکہ ایک مصرعہ ضرب المثل بن گیا ہے جو کپتان صاحب اور ان کے عملے پر صادر آ رہا ہے :

قسمت کی خوبی دیکھئے ٹوٹی کہاں کمند
دو چار ہاتھ جب کہ لب بام رہ گیا
(قائم ؔچاند پوری)

” ڈھاکہ ہائی کورٹ کے ان جج کا فیصلہ کپتان احتشام الدین خان اور ان کے عملے کی توقع سے بھی بڑھ کر بس آیا ہی چاہتا تھا کہ بد قسمتی ان کے دروازے پر پھر دستک دینے آئی۔ ہوا یوں کہ اسی روز کسی نے ڈھاکہ کے ایک معروف اخبار میں لکھ دیا کہ بنگلہ دیشی عدالت عالیہ غیر ملکی جہازیوں کو عاجز اور مایوس کر رہی ہے۔ اور گزشتہ ڈیڑھ دو سال سے انہیں لٹکا رکھا ہے! “

” اس کے علاوہ اس زمانے میں وہاں کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس شہاب الدین صاحب تھے۔ یہ ایک وقت بنگلہ دیش کے صدر بھی رہ چکے تھے۔ آئی ٹی ایف نے ان سے رابطہ کیا کہ جہاز والوں کا کیس جلد نبٹا دیا جائے۔ یہ نہیں کہا کہ ان کے حق میں فیصلہ دیجئے، صرف درخواست کی کہ ان بے چاروں کو آر یا پار کرا دیں۔ یہ لوگ بڑی مصیبت میں ہیں اور یہ ان کی بہت بڑی مدد ہوگی کہ کیس کا جلد فیصلہ کر دیا جائے۔ اس تحریری درخواست کی نقول وزیر اعظم پاکستان اور بنگلہ دیش کو بھی بھیجی گئیں۔ یہ آئی ٹی ایف کا اپنا طریقہ کار ہوتا ہے۔ کسی نے اس خبر کی بنیاد پر یہ کہانی نکال لی جس کا اوپر ذکر ہو چکا۔ حالاں کہ ہمارا کیس تو اس وقت ہماری توقعات سے بھی بہت بہتر انداز میں حل ہونے والا تھا“ ۔

فیصلہ آ گیا :

” اب دو دن بعد جب جج صاحب کی عدالت میں کارروائی پھر شروع ہوئی تو جج صاحب نے اس خبر کے بارے میں پوچھا۔ کمال صاحب نے کہا کہ انہیں علم نہیں کہ کس نے مذکورہ خبر شائع کروائی۔ جب کہ جج صاحب یہ سمجھے کہ یہ کام ہم ہی لوگوں نے کروایا ہے تا کہ عدالت پر دباؤ بڑھا کر فیصلہ جلد لیا جا سکے۔ اب میرے خلاف توہین عدالت کی گونج بھی سنائی دینے لگی۔ جج صاحب نے کہا کہ میں تو تمہارا مسئلہ احسن طریقے سے حل کرنے کی کوشش کر رہا ہوں تو پھر تم نے اس طرح سے کیوں لکھا؟ اس کے تین چار دنوں بعد جج نے اپنا فیصلہ دے دیا۔ ہمارے 700,000 ڈالر کے تنخواہوں کے واجبات تھے جو ہمیں صرف 186,000 ڈالر ملے۔ یہ ہماری محض بنیادی تنخواہیں تھیں جبکہ انہی جج نے کہا تھا کہ میں الاؤنسز اور ہوائی جہاز کے ٹکٹ سمیت سب ہی کچھ دوں گا“ ۔

بھاگتے بھوت کی لنگوٹی:
” کیا آپ اس فیصلے پر نظر ثانی میں نہیں جا سکتے تھے؟“ ۔ میں نے سوال کیا۔

” بہت اچھا سوال ہے۔ لیکن اس میں ہمیں ایک دو سال مزید لگ جاتے۔ پھر وہاں پر رہنا بھی پڑتا۔ جو پیسے مل رہے تھے ہو سکتا ہے وہ بھی نہیں ملتے۔ کیا کرتے بھاگتے بھوت کی لنگوٹی ہی سہی۔ خود مجھے بھی ذاتی نقصان پہنچا۔ جب ڈالر 1994 میں 25 روپے کا تھا تب میرے 40,000 ڈالر کاٹ دیے گئے۔ اسی طرح دیگر افراد کے بھی پیسے کاٹ لئے گئے اور ہم نے اپنے پیسوں سے واپسی کے ٹکٹ خریدے۔ ہم یہی سمجھ رہے تھے کہ ادھر فیصلہ آیا ادھر ہمیں پیسے مل جائیں گے اور ہم اپنے گھر چلے جائیں گے۔

جب کہ ہمیں کہا گیا کہ اگر کل پرسوں ہی پیسے لینے ہیں تو بنگلہ دیشی کرنسی ٹکہ میں ملیں گے۔ اب ٹکوں میں پیسے لینا ایک بڑا عجیب کام تھا کہ ہم اتنے ٹکے کیسے ڈالر میں تبدیل کرائیں گے! پھر ہمارے پیسوں میں مزید کٹوتی بھی ہو گی۔ اس کو دیکھتے ہوئے ہم نے وہاں کے اسٹیٹ بینک کو عدالت کی معرفت درخواست کی ہمیں ڈالر عنایت کیے جائیں۔ ہم سمجھے کہ ایک دو مہینوں میں کام ہو جائے گا“ ۔

جہاز خالی کرانے کے لئے پولیس کا آنا :

” نئے مالکان کے نمائندے عدالت کے رجسٹرار کے ہمراہ قیدیوں کی گاڑی کے ساتھ پورٹ میں آ گئے اور کہا کہ ان لوگوں کو جہاز سے اتارو کیوں کہ اب یہ ہم نے خرید لیا ہے، ان کے پاس عدالت کا فیصلہ بھی تھا۔ میں عام طور پر ان حالات میں وردی میں نہیں ہوتا تھا۔ صورت حال بھانپ کر میں بھی خم ٹھونک کر کپتان کی وردی پہن کر آیا اور انگریزی میں ایس ایس پی پولیس سے بات کی کہ ٹھیک ہے یہ جہاز بک گیا ہے لیکن فیصلے میں یہ بھی ہے کہ ہمارے پیسے ادا کیے جائیں! ہمارے پیسے تو ملے نہیں ہیں ہم کیسے جہاز کو خالی کریں؟ کیا آپ کے پاس جہاز خالی کروانے کے عدالتی احکام موجود ہیں؟ پولیس افسر نے رجسٹرار سے کہا کہ اگر ایسے کوئی احکامات ہیں تو دکھائے جائیں۔ جواب میں کہا گیا کہ وہ تو نہیں ہیں! اس طرح رجسٹرار سے ناراض ہو کر پولیس چلی گئی“ ۔

دودھ کا جلا چھاچھ پھونک پھونک کر پیتا ہے :

” پھر کچھ دنوں بعد جہاز کے نئے مالکان نے کہا کہ ہمیں جہاز چاہیے۔ اس نے ہم سے میٹھی میٹھی باتیں کیں۔ ہمیں ہوٹل میں رہائش دینے کی پیشکش کی اور کہا کہ میں پیشگی ادائیگی کر دیتا ہوں کیوں کہ میں نے جہاز کی مرمتیں کروا کر سفر کے قابل بنانا ہے۔ مجھے تو ان کے وعدوں پر کوئی اعتبار نہیں تھا پھر حالات کے ہاتھوں ہم دودھ کے جلے تھے اور چھاج پھونک پھونک کر ہی پینا چاہتے تھے۔ میں نے یہ معاملہ اپنے عملے کے سامنے رکھا۔

قبر کا حال مردہ ہی جانتا ہے نہ جانے کس کے گھر میں کیا حالات چل رہے ہوں؟ لہٰذا ان میں سے زیادہ تعداد ہوٹل جانے پر راضی ہو گئی اور ہم ہوٹل میں منتقل ہو گئے۔ ایک مہینے کے پیسے مالکان نے ہوٹل انتظامیہ کو پیشگی دے رکھے تھے۔ مہینہ ختم ہونے پر ہوٹل نے کھانے اور کمروں کے پیسے مانگنا شروع کیے۔ اس طرح روتے پیٹتے 09 مہینے گزر گئے۔ اب وہ دن آ گیا جب پیسے ڈالر میں تبدیل ہو گئے اور ہم کو ٹریولرز چیک دیے گئے۔ میں نے اور تھرڈ افسر نے اپنے پیسے لے لئے۔ میں نے عدالتی حکم نامہ تھرڈ افسر کو دے کر چٹاگانگ بھیج دیا کہ سب کے چیک بنے ہوئے ہیں آ کر اپنے پیسے لے جاؤ۔ اب جا رہا ہوں کیوں کہ میرے پیچھے کسٹمز، امیگریشن اور سپلائر پڑے ہوئے ہیں۔ کیوں کہ ان سب کو بھی علم ہو گیا تھا کہ ہمیں اب پیسے ملنے ولے ہیں۔ یہ پتا نہیں تھا کہ مل چکے ہیں! “ ۔

ڈھاکہ ائر پورٹ پر مٹھی گرم:

” میں ایک ٹریول ایجنٹ کے پاس گیا اور پوچھا کہ آج کوئی کراچی کی پرواز ہے؟ کہا کہ پی آئی اے تو روانہ ہو گئی۔ پھر پوچھا کہ سنگاپور ائر لائن؟ کیوں کہ اس زمانے میں سنگاپور کا ویزہ نہیں تھا۔ کہا کہ اس کی پرواز بھی نہیں ہے۔ میں نے دبئی کے ذریعے جانے والی پروازوں کا پوچھا۔ تو کہا گیا کہ کیا میرے پاس دبئی کا ویزہ ہے؟ میں اس ایجنسی سے نکل آیا کہ اب مزید کوئی سوال کیا تو یہ نہ جانے کیا سوچے۔ اب ایک دوسری ایجنسی میں جا کر پوچھا کہ کھٹمنڈو کی کوئی پرواز ہے؟

میں نے سنا تھا کہ نیپال کا ویزہ نہیں ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ ہاں لیکن یہاں تو اب دیر ہو گئی ہے البتہ ائرپورٹ سے مل جائے گی۔ وہاں اس وقت ٹیکسیاں نہیں بلکہ رکشے چلتے تھے اور ائرپورٹ تقریباً 20 کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ وہ ٹریفک کے رش کا وقت تھا۔ میں نے رکشہ والے کو دگنے پیسے دے کر جلدی پہنچانے کا کہا۔ کیوں کہ اگر یہ پرواز رہ جاتی تو سپلائر تو مجھے نہیں چھوڑتے اور ٹریولرز چیک کی صورت جو بھاگتے بھوت کی لنگوٹ تھی وہ بھی مجھ سے زبردستی کیش کروا کر لے جاتے۔

پھر میں ہوتا اور غم کے گیت۔ بہرکیف جب میں ہوائی اڈے پہنچا تو مجھے تیس چالیس افراد قطار میں کھڑے نظر آئے۔ ان میں زیادہ تر بوڑھے یورپی سیاح تھے۔ کسی نے ہیٹ پہنا ہوا کسی نے گلے میں کیمرہ لٹکایا ہوا تھا۔ میں قطار میں سب سے آخر میں کھڑا ہو گیا۔ میرا نمبر آیا تو میں نے نقد پیسوں سے ٹکٹ کی ادائیگی کی اور امیگریشن کا ؤنٹر پر گیا۔ میں تو جہازیوں کی سی مین بک پر آیا تھا لہٰذا میرے پاسپورٹ پر بنگلہ دیش میں آمد والی امیگریشن مہر نہیں تھی۔

مجھے بنگلہ زبان بھی بولنا آتی تھی (واضح ہو کہ کپتان احتشام الدین خان سابقہ مشرقی پاکستان میں ہی پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم بھی وہیں سے حاصل کی ) پھر وہاں کے دستور سے بھی واقف ہو گیا تھا۔ میں نے پہلے ہی اپنے پاسپورٹ میں 100 ڈالر نکال کر رکھ دیے۔ جب میں نے جب اپنا پاسپورٹ اس کے سامنے رکھا تو وہ بنگلہ میں بولا کہ اجازت کہاں ہے؟ میں نے بھی بنگلہ میں کہا کہ پاسپورٹ کے اندر ہے! ان کے کاونٹر کے نیچے دراز کھلی ہوتی تھی اور یہی وہاں کا دستور بھی تھا! تو جب اس نے پاسپورٹ کھولا تو مسکرا یا اور خروج کی مہر لگا دی“ ۔

لاؤنج میں سسپنس کے روح فرسا لمحات:

” اب میں لاؤنج میں آ گیا۔ ویسے تو مجھے پیسے عدالت نے دلوائے ہیں لیکن بنگلہ دیش کسٹمز کو میں نے ان کا نہیں بتایا ہے۔ وہاں 02 کسٹمز والے داخل ہوئے اور متلاشی نظروں سے مسافروں کو دیکھنے لگے۔ ظاہر ہے وہ کسی خاص مسافر کی تلاش میں تھے۔ میرے ذہن میں یہی چل رہا تھا کہ یہ مجھے ہی ڈھونڈھ رہے ہیں۔ ادھر ادھر دیکھتے بھالتے وہ میرے پاس آئے۔ اور انگریزی میں پوچھا کہ کیا میں حفیظ الرحمن ہوں؟ مجھے جواب دینے میں کچھ دیر لگی مگر میں نے کہا کہ میں وہ نہیں! وہ شکریہ کہہ کر چلتے بنے اور میری جان میں جان آئی“ ۔

سر سے پہاڑ اترنا اور کھٹمنڈو آمد:

” پھر پرواز کا اعلان ہوا۔ میں اس گمان میں تھا کہ یہ کوئی بڑا جہاز ہو گا۔ لیکن وہ فوکر جہاز نکلا۔ اس سے پہلے کھٹمنڈو میں جہازوں کے حادثات ہو چکے تھے۔ ایک تو پی آئی اے کی ائر بس گری تھی اور ایک تھائی ائر کی۔ میرے ذہن میں عجیب عجیب خیالات جنم لینے لگے۔ پھر میں ذہنی طور پر اتنا تھک چکا تھا کہ اپنی نشست پر جا کر بیٹھا اور بیٹھتے ہی یوں لگا جیسے میرے سر پر کوئی پہاڑ رکھا ہوا تھا جو اب اتر گیا۔ کوئی 45 منٹ کی پرواز تھی۔

جہاز بادلوں سے اوپر تھا لیکن پہاڑ پھر بھی نظر آتے تھے۔ جہاز کے کپتان نے اعلان کیا کہ چونکہ ٹریفک زیادہ ہے لہٰذا اترنے میں کچھ دیر لگ جائے گی۔ میں نے دل میں سوچا کہ میں تو کبھی یہاں نہیں آیا لیکن کیا کھٹمنڈو میں اتنا ٹریفک ہوتا ہے؟ 15 منٹ ہو گئے۔ پھر پائلٹ نے لینڈنگ کا تو اعلان نہیں کیا صرف یہ کہا کہ اپنی حفاظتی بیلٹ باندھ لیں۔ اور 30 سے 45 ڈگری سے جہاز نے بادلوں کے درمیان سے نیچے آنا شروع کیا۔ بادلوں میں جہاز اس طرح جھٹکے کھا رہا تھا جیسے ابھی اس کے ٹکڑے ہو جائیں گے۔ ہوتے ہوتے پھر ہمیں رن وے سے بالکل پہلے زمین دکھائی دی۔ بعد میں پائلٹ نے اعلان کیا کہ چوں کہ موسم خراب تھا لہٰذا اس کا ذکر ہی گول کر دیا۔ میں آخری شخص تھا جو جہاز سے اٹھا“ ۔

ہر موسم بہار کا موسم:

” اپنا بیگ لے کر امیگریشن میں گیا۔ مجھ سے پوچھا گیا کہ آپ ادھر کیوں آئے؟ میں نے کہ فلائٹ ہی یہ ملی۔ پھر پوچھا کہ کیا آپ کے پاس پیسے ہیں؟ میں نے یہ تو نہیں بتایا کہ رقم کتنی ہے بس کہا کہ ضرورت کے مطابق مناسب ہیں۔ پوچھا کہ کیا مالیت ہے؟ میں نے پوچھا کہ کیا بتانا ضروری ہے؟ کہا گیا کہ یہ یہاں کا قانون ہے۔ جب ظاہر کیے تو وہ تھوڑا سا چونکا۔ میں نے کہا کہ میں جہاز ران ہوں ابھی تنخواہ ملی ہے۔ اس کو مطمئن کر کے باہر نکلا۔

نکلتے ہی ٹیکسی والوں کی کھینچ تان شروع ہو گئی۔ میرے پاس چونکہ بڑی رقم تھی لہٰذا میں واپس ائر پورٹ میں آ گیا۔ اندر سے پوچھا کہ یہاں کا اچھا ہوٹل کون سا ہے۔ بتایا گیا کہ ایورسٹ ہوٹل اچھا ہے۔ یہ دراصل شیریٹن ہوٹل تھا۔ میں نے پک اینڈ ڈراپ کی سہولت کا پوچھا۔ جواب دیا کہ ہاں دستیاب ہے۔ میں ہوٹل کے کمرے میں گیا۔ جا کر بستر پر جو لیٹا تو مجھے یاد نہیں کہ کتنی صدیوں سویا! “ ۔

” وہ تھا بھی نوجوانی کا زمانہ۔ میری عمر اس وقت 39 برس ہو گی۔ پھر جب اٹھا تو سوچا کہ اب گھر جانا چاہیے۔ گھومنے والے رستوران میں رات کا کھانا کھایا۔ بھارتی گانوں کو گلو کار اسٹیج پر سنا رہے تھے۔ ایک زمانے بعد مجھے یہ سب بہت اچھا لگ رہا تھا جیسے بہار کا موسم! میرے لئے تو اب ہر موسم بہار کا ہی موسم تھا۔ اگلے روز کی پروازوں کی معلومات لیں۔ بتایا گیا کہ ’لفت حنسا‘ کی پرواز جا رہی ہے۔ اب 1993 آ گیا تھا۔ کھٹمنڈو سے کراچی دو ائرلائیز چلتی تھیں : ’لفت حنسا‘ اور پی آئی اے۔ میں نے لفت حنسا کا ٹکٹ لیا۔ یہاں صرف دن کی پروازیں تھیں رات کو نہیں چلتی تھیں۔ تو یوں تقریباً تین سال بعد میں کراچی پہنچ گیا۔ میں ذہنی طور پر ایسا ہو گیا تھا جیسے اب سمندری سفر کے قابل ہی نہیں رہا! میں نے بہت دباؤ برداشت کیا تھا“ ۔

کیپٹن احتشام الدین خان بنام اینڈیورنس سی :

” عدالتوں کے پیچیدہ اور عام ڈگر سے ہٹ کر کیس، آئندہ پیش آنے والے کیسوں کے لئے نظیر یا مثال بنا کر کتابی شکل میں شائع کیے جاتے ہیں۔ میں نے سنا ہے ( خود جا کر نہیں دیکھا) کہ میرے نام سے ڈھاکہ ہائی کورٹ میں 1992 یا 1993

’ کیپٹن احتشام الدین خان بنام اینڈیورنس سی‘ کیس کتابی شکل میں موجود ہے ”۔
ملائیشیا کے جہازوں کا خوشگوار تجربہ:

” احتشام صاحب آپ کی سرگزشت سے یہ سبق ملا کہ اگر آپ کو اختیار ہو تو کسی ایسے مشکوک جہاز پر نہیں جانا چاہیے؟“ ۔

” یہ تو میں نہیں کہوں گا کہ نہیں جانا چاہیے۔ اب بھی زیادہ تر جہاز مالکان اپنی سہولت دیکھتے ہوئے پاناما وغیرہ سے اپنے جہاز رجسٹرڈ کرواتے ہیں۔ ہاں! یہ دیکھنا ضروری ہو گا کہ کس جہاز راں کمپنی کی ساکھ بہتر ہے۔ البتہ میں نے اس تلخ تجربہ کے بعد پھر یہ کیا کہ صرف اسی جہاز پر کام کیا جو جس جگہ یا ملک میں رجسٹرڈ تھا۔ میں نے ملائشیائی جھنڈے والے ملائیشیا کے جہازوں میں کام کرنا شروع کیا۔ میں نے زندگی کے 30 سال یہیں ان جہازوں میں گزارے۔

مالکان بھی وہیں کے تھے۔ شپنگ دفاتر بھی ادھر ہی تھے۔ مجھے اس بات پر بڑی حیرانی ہوتی تھی کہ 30 سالوں میں ایک دن بھی ایسا نہیں آیا میری تنخواہ پہلی تاریخ کو ملی ہو۔ ہمیشہ 28 یا 29 تاریخ کو بینک اکاؤنٹ میں پیسے آ جاتے تھے۔ ایک دفعہ بھی ایسا نہیں ہوا کہ انہوں نے وقت پر پیسے نہ دیے! اگر کسی بھی وجہ سے کسی کی تنخواہ میں دیر ہو گئی تو اس کو اس کے بدلے میں زیادہ پیسوں سے تلافی بھی کی جاتی تھی! میں واحد پاکستانی تھا جو اس کمپنی میں کام کرتا تھا باقی سب ہندوستان کے تھے۔

الحمدللہ میری وہاں بہت اچھی ساکھ تھی۔ میری اسی ساکھ کو دیکھتے ہوئے انہوں نے مزید 15 پاکستانیوں کو کام پر رکھا۔ میں ان کا مستقل ملازم تھا۔ اتنے اچھے مالکان تھے کہ ڈیڑھ سال ان کے پاس جہاز نہیں تھا لیکن اس تمام عرصے مجھے تنخواہ دی! پھر جب مالک کا انتقال ہوا تو وہ کمپنی ختم ہو گئی۔ اب میں متحدہ عرب امارات میں فجیرہ کی کمپنی کے لئے کام کرتا ہوں“ ۔

” بنگلہ دیش سے واپس آ کر پھر کتنے عرصہ بعد دوبارہ کام کا آغاز کیا؟“ ۔

” میں کوئی تین سے چار ماہ گھر پر رہا۔ میرے بھائی کا ایک میرین آفس تھا میں وہاں چلا جاتا تھا۔ ایک دن انہوں نے کہا کہ اب تم ٹھیک ہو اور اپنے پیشے کو برقرار رکھو۔ میں نے کہا کہ میری تو پہلی کمانڈ تھی سر منڈاتے ہی اولے پڑ گئے! اب مجھے کون کپتان لے گا؟ کہنے لگے کہ کوشش کرتے ہیں۔ میرے جہاز کی کمپنی، گلف ایسٹ کمپنی میں ایک برطانوی تھا جو اب ملائیشا کی کسی شپنگ کمپنی کا ڈائریکٹر تھا۔ اس نے کہا کہ گلف ایسٹ اچھی کمپنی تھی۔ ہم اب بھی ان کو (یعنی مجھے ) کپتان ہی لیں گے۔ اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ پہلے سے دگنی تنخواہ پر کپتانی ملی۔ میں نے عزت کے ساتھ ان کے 15 جہازوں کی کمان کی اور 23 سال کام کیا“ ۔

میری ٹائم لاء نہایت بے انصافی کا قانون :

” آپ کی پہلی کمان میں جہاز کے مالکان دیوالیہ ہو گئے اور جہازیوں کے لئے مصائب شروع ہو گئے تو اس میں کپتان یعنی آپ کیسے قصور وار ہو گئے؟ بھلا یہ کیا بات ہوئی کہ مجھے اب کون کمان دے گا؟ یہ کون سی فلم بن رہی تھی کہ ہیرو کی پہلی فلم ناکام ہوئی اور ہیرو پٹ گیا؟“ ۔

” دیکھیں کپتان کا قصور نہیں تھا لیکن سمندری قانون یا میری ٹائم لاء شاید دنیا کا و احد قانون ہے کہ اگر کوئی چوہا بھی جہاز میں مر جائے تو ذمہ دار کپتان ہوتا ہے۔ میری ٹائم لاء بہت ہی بے انصافی کا قانون ہے۔ کچھ بھی اچھا برا ہو وہ کپتان کے کھاتے میں ہی جاتا ہے۔ کچھ برا ہو جائے تو تاویلات کے دفتر کھول دیے جاتے ہیں کہ ایسا کر لیتے، ویسا کیوں نہیں کیا۔ ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ میرے کیس میں مجھ سے کہا گیا کہ آپ جہاز چھوڑ کر کیوں نہیں آئے؟ مجھے کراچی میں میری ٹائم والوں نے بھی کہا کہ آپ جہاز چھوڑ کر آ جاتے“ ۔

میرا فیصلہ صحیح فیصلہ:
” آخری سوال یہ کہ کیا آپ کا وہ فیصلہ صحیح تھا؟ آپ کو اس پر افسوس ہے یا اطمینان؟“

” میں سمجھتا ہوں کہ میرا فیصلہ بالکل صحیح تھا۔ کیوں کہ در حقیقت عموماً جہازیوں کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا۔ ایسے کیس لاکھوں میں ایک ہوتے ہیں۔ پھر ہر ایک کو اس کا تجربہ بھی نہیں۔ آپ دیکھیں کہ ہمیں بھی اگر اپنے کیس کی نظیر ملی تو 1856 کی ملی۔ تب سے اب تک، ایک طویل عرصہ بعد یہ قصہ میرے ساتھ پیش آیا۔ مجھے خوشی ہے کہ میں نے صدیوں کی کپتانی ریت برقرار رکھی۔ تمام مشکلات کے باوجود جب کہ مجھے پاکستان واپس جانے کا موقع بھی مل گیا تھا، میں نے آخر وقت تک اپنا جہاز نہیں چھوڑا۔ میں سمجھتا ہوں کہ میں نے اپنا فرض احسن طریقے سے نبھا کر یقیناً بحری تاریخ میں اپنا نام لکھوا لیا ہے۔ میرے لئے یہ ایک بہت بڑا اعزاز ہے اور میں بالکل مطمئن ہوں“ ۔

Facebook Comments HS