ناول ”بت پرستوں کی نئی نسلیں“ ۔ آخری باب

نوٹ : بت پرستی ان کا مذہب نہیں تھا۔ یہ تو ان کے اذہان کے جنگلوں میں ہزاروں سالوں سے پھیلا ہوا، وہ سم ہلاہل تھا، جو ان کی نسلوں کی شریانوں میں لہو کی طرح سرایت کر چکا تھا۔ وہ کسی رنگ، بے رنگ، وجودی یا غیر وجودی بت کو تراش کر اس کی پراسرار انداز میں پوجا شروع کر دیتے۔ کچھ دیر بعد انہیں احساس ہوتا کہ یہ تو خود ان کے ہاتھوں سے تراشا ہوا ہے، تو اسے پاش پاش کر دیتے۔ مگر پرانے بت کے ٹکڑوں کو پاؤں تلے روندنے اور نیا بت تراشنے کے درمیان بس ایک مختصر سا وقفہ ہوتا تھا۔
00000000000000000000000
آخری باب
بت ٹوٹتے ہیں، بت بنتے ہیں
0000000000000000000000000000000000000000000000
باقاعدہ ہوش میں آنے سے پہلے بھی فضل داد سب کچھ سن اور سمجھ رہا تھا۔ عروسہ فضل جو روز صبح شام اسے خبر دیتی تھی، اس سے ہر لمحہ فضل داد کی ذہنی اذیت میں اضافہ ہوتا چلا آ رہا تھا۔ یہ اسی اذیت کا وفور تھا کہ آخرکار وہ چیخ پڑا۔ قوت گویائی واپس آ گئی اور اب وہ وہیل چیئر پر بیٹھ کر اپنے کمرے سے باہر تک بھی آ سکتا تھا۔ بے شک اس کے لئے اسے مددگاروں کی ضرورت پڑتی تھی۔
فضل داد کے ہوش میں آنے کی خبر سنتے ہی سب سے پہلے اس کی بہنیں جمیلہ جان اور ثریا جان ”ملک ہاؤس“ پہنچیں۔ پھر ملک نیاز احمد اور ملک فیاض احمد بھی آ گئے۔ عروسہ فضل سب سے ملنے کے بعد اپنی ڈیوٹی پر روانہ ہو گئیں۔
فضل داد نے جب ملک نیاز احمد اور ملک فیاض احمد سے ان کے انتخابی میں حالات بگڑنے کے بارے میں پوچھا تو نیاز احمد بولا
”ہمارے تمام انتخابی حلقوں میں سیاسی معاملات تو آپ ہی دیکھتے تھے۔ ہم تو وہاں جو کچھ بھی کرتے وہ آپ کی ہدایت کے مطابق ہی ہوتا تھا۔ ہم دونوں کی تو تعلیم، تربیت اور عملی تجربہ، سب بزنس کے بارے میں ہی ہے۔ بزنس تو سارے کا سارا ہر لحاظ سے ابھی تک، پوری طرح ہماری گرفت میں ہے۔ پھر سیاسی معاملات کی ذمہ داری تو سب نے مل کر روشن داد کے سپرد کر دی تھی۔ اس معاملے میں اچھا یا برا جو کچھ بھی بھی ہوا ہے وہ سب روشن داد نے ہی کیا ہے“ ۔
روشن دادصبح سویرے ایک بار باپ سے ملنے آیا تھا اور کافی دیر وہاں بیٹھا بھی رہا مگر تب ان دونوں کے درمیان فضل داد کی صحت کے بارے میں مزید ضروری اقدامات کے علاوہ کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔
ابھی فضل داد کی اپنی دونوں بہنوں اور بہنوئیوں سے بات چیت چل رہی تھی کہ فضل داد کی دونوں بیٹیاں اور داماد بھی وہاں پہنچ گئے۔ اس وقت سب بضد تھے کہ پہلے فضل داد کا جشن صحت منایا جائے لیکن فضل داد پہلی اہمیت اپنے سیاسی معاملات کو درست کرنے کو دے رہا تھا۔ اس لئے روشن داد کو بھی بلا لیا گیا۔
روشن داد نے آتے ہی اعتراف کر لیا کہ وہ الماس کی محبت میں اتنا جذباتی ہو گیا تھا کہ دیگر تمام معاملات کو نظرانداز کر بیٹھا۔ اس کی اس لاپرواہی سے یہ باہر کے کچھ لوگ ’ملک پور‘ اور پھر دوسرے علاقوں میں آ کر بسنے لگے اور انہوں نے وہاں کے باسیوں کا باہمی اتفاق پارہ پارہ کر دیا۔ مگر وہ ابھی تک یہ ماننے کے لئے تیار نہیں تھا کہ یہ سب کچھ الماس کا کیا دھرا ہے۔
اس کا کہنا تھا کہ الماس ایک معصوم لڑکی ہے جو اس نوع کی منصوبہ بندی کر ہی نہیں سکتی۔ وہ تو صرف اس کی محبت میں ملک پور کی حویلی میں پڑی ہے ورنہ وہ اپنے ماں باپ کے گھر میں نہایت عیش و آرام کی زندگی بسر کر رہی تھی۔
فضل داد نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس لڑکی کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کرنا اشد ضروری ہے۔ ملک پور سمیت ہمارے تمام انتخابی حلقوں میں، جہاں اب تک کسی کی ہمت نہیں ہوتی تھی کہ ہمارے سامنے الیکشن لڑنے کے لئے کاغذات بھی جمع کرائے، وہاں اب ہمارے خلاف باقاعدہ آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ اور یہ سب کچھ اس لڑکی کے ملک پور والی حویلی میں آنے کے بعد شروع ہوا ہے۔ اس کا صاف مطلب ہے کہ اس خرابی کے پیچھے اگر براہ راست نہیں تو بالواسطہ اسی کا ہاتھ ہے۔
اگر تمہارے پاس ایسے ذرائع نہیں ہیں کہ تم اس لڑکی کے بارے میں درست معلومات حاصل کر سکو یا تمہارا دل تمہیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دے رہا تو میرا مشورہ ہے کہ تم پلوشہ پاشا سے ملو۔ وہ خود یا اس کی ماں اس بارے میں ضرور کچھ بہتر جانتی ہو گی۔ ان کا پیشہ جو بھی ہو لیکن وہ اپنی بات کے کھرے لوگ ہیں۔
ہاں! اور تم وہاں ایک امیر زادے کی بجائے ایک سوالی بن کر جانا۔ دوسری صورت میں تمہیں وہاں سے کچھ نہیں ملے گا۔ وہ بہت انا والے لوگ ہیں۔ اگر تمہاری باتوں سے ذرا بھی حکم کی بو آئی تو تمہیں خالی ہاتھ لوٹنا پڑے گا۔
تمہیں ہرگز ہرگز اس امر کو نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ سب بگاڑ تمہاری غلطی کی وجہ سے ہوا ہے۔ تمہارے اجداد نے سالہا سال کی محنت اور سخت کوشش سے اس علاقے کو ترقی کے راستے پر ڈالا۔ اسی وجہ سے لوگ ہماری عزت کرتے تھے، جو لگتا ہے اب ملیا میٹ ہونے جا رہی ہے۔ یہ سب معاملات جو تمہاری لاپرواہی سے بگڑے ہیں اب تمہیں ہی سنوارنے پڑیں گے۔ البتہ جہاں جہاں ممکن ہو سکے گا میں تمہاری مدد کرنے کی کوشش کروں گا۔
روشن داد نے باپ سے وعدہ کر لیا کہ وہ حالات کو سدھارنے کے لئے اپنی پوری کوشش کرے گا۔ پھراسی وعدہ کے مطابق اس نے پلوشہ سے رابطہ کر کے اسے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ پلوشہ نے بغیر کسی سوال جواب کے اس کو آنے کا وقت دے دیا۔
روشن داد جب پلوشہ پاشا کے گھر پہنچا تو وہاں اسے خوش آمدید کہا گیا۔ پہلے چائے آئی۔ پھر کھانا پیش کیا گیا۔ چائے کے وقت پلوشہ کی نانی نے بھی شرکت کی اور کھانے کے دوران پلوشہ کی ماں ان کے ساتھ شامل ہو گئی۔ دوران گفتگو سب نے روشن داد کی ان کے گھر آمد پر خوشی کا اظہار کیا اور ساتھ ہی فضل داد کے ان احسانات کا ذکر بھی بار بار ہوا، جن کی وجہ سے پلوشہ کا سارا خاندان خود کو فضل داد کا احسان مند سمجھتا تھا۔
روشن داد کافی دیر انتظار کرتا رہاکہ کوئی اس سے یہاں آنے کی وجہ پوچھے مگر کسی نے بھی کوئی ایسا سوال نہ کیا۔ پلوشہ کی ماں اور نانی ایک ایک کر کے دوسرے کمرے میں چلی گئیں تو روشن داد نے خود ہی ابتدا کرنے کی کوشش کی۔
”مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہے پلوشہ“
”میری مدد؟ وہ کس ضمن میں؟“
”الماس کے بارے میں“
”کیوں؟ اسے کیا ہوا؟“
”اسے کچھ نہیں ہوا، مگر اس کی وجہ سے میں بہت سے مسائل کا شکار ہو گیا ہوں“
”یہ تو پھر آپ دونوں کا آپسی معاملہ ہے۔ میرا اس سے کیا لینا دینا؟“
”نہیں، دراصل حالات نے کچھ ایسا رخ اختیار کیا کہ میں اس کے اتنا قریب ہونے کے باوجود یہ کبھی نہ جان سکا کہ وہ دراصل ہے کون؟ کہاں سے آئی ہے اور اس کے ماں باپ کون ہیں؟ مجھے کبھی ہمت ہی نہ ہوئی اس سے ایسا سوال کرنے کی۔ مجھے تو جو بھی پیر علیم الدین شاہ ساحب نے بتایا، میں نے اس پر یقین کر لیا“
”تو بھی ملک صاحب! یہ آپ دونوں کا اپنا معاملہ ہے، میں اس ضمن میں آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتی“
”دیکھو پلوشہ! میں اس وقت وہ روشن داد نہیں ہوں، جسے تم پہلی بار ملک پور والی حویلی کی پارٹی میں ملی تھی۔ یہ جو اس وقت تمہارے سامنے بیٹھا ہے، ایک سوالی ہے اور تمہاری مدد کی التجا لے کر آیا ہے۔ مجھے یہ مدد صرف اپنی ذات کے لئے نہیں چاہیے۔ مجھے تو اگر اپنے باپ کی دولت میں سے ایک چھوٹا سا ٹکڑا بھی مل جائے تو میری باقی زندگی آرام سے گزر سکتی ہے“
”تو پھر اصل مسئلہ کس کا ہے؟“
”مسئلہ میرے باپ دادا کے نام کا بن گیا ہے۔ اس وقت ان کی عزت داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ یہ سب تباہی الماس کے ہماری حویلی میں آنے کے بعد شروع ہوئی ہے۔ مگر ابھی تک یہ گرہ نہیں کھل سکی کہ یہ ہوا کیسے؟“
”بات ملک فضل داد کے نام پر آ گئی ہے اور ان کے بزرگوں کی قربانیوں کے ضائع ہونے کی بھی، تو میں جس قدر ممکن ہوا تمہاری مدد کروں گی۔ البتہ یہ مت بھولنا کہ تم میرے نزدیک ہر گز ایسے انسان نہیں ہو، جس کے میں کسی بھی مصیبت میں کام آنا چاہوں۔ میں تمہیں پسند کرتی تھی اور ایک رات تمہارے ساتھ بھی گزاری، مگر تم نہ تو عورت کو سمجھتے ہو اور ناہی اس کی محبت کو۔ تم نے الماس کو بھی کسی محبت کی بنیاد پر نہیں اپنایا تھا“
”میں نے اس کی محبت کو عزت دی تھی“
”بالکل غلط! تم نے دراصل خود کو یہ سمجھانے کے لئے الماس کا ہاتھ پکڑا تھا کہ اگر ایک کرسٹینا تمہاری بات ماننے کو تیار نہیں ہے تو یہاں کئی الماس تم پر مرتی ہیں۔ تم نہ کرسٹینا کی محبت کو سمجھ سکے اور نہ اس جال کو جو تمہیں پھانسنے کے لئے بچھایا گیا تھا“
”کیا کہہ رہی ہو تم؟“
”میں بالکل ٹھیک کہہ رہی ہوں۔ اور اب تمہارے خاندان کو اس گرداب سے نکالنے کے لئے تمہیں کچھ حقائق سے روشناس کرا دیتی ہوں۔ تم پہلے اپنے ذرائع سے میری دی ہوئی خبروں کے بارے میں تحقیق کرو۔ پھر جب وہ سب سچ نکلیں تو وہ کرو جو کسی عقل مند آدمی کو کرنا چاہیے ”۔
0000000000000000
فضل داد کو زہر دیے جانے کی خبر کے ساتھ ہی، وفاقی حکومت میں اس کی جگہ وزارت منصوبہ بندی کے کئی امیدوار پیدا ہو گئے تھے۔ وزیر اعظم کو کئی بار قریبی ساتھیوں نے بھی زور دے کر وزارت کا یہ قلمدان کسی اور کے حوالے کرنے کی تجویز دی تھی، وزیر اعظم نے ان سب کی بات سنی لیکن وزارت کسی اور کو نہیں دی۔ یوں اب تک فضل داد، کام نہ کر سکنے کے باوجود اپنی وزارت پر قائم تھا۔
قانون نافذ کرنے والے ادارے اور خفیہ ایجنسیاں، سب ابھی تک مجرم کی تلاش میں پوری طاقت استعمال کر رہے تھے مگر تاحال انہیں کوئی کامیابی نہیں ملی تھی۔ کچھ شبہات پیر علیم الدین شاہ اور اس کے بھائیوں کی طرف ضرور جاتے تھے مگر کوئی ایسا ٹھوس ثبوت ابھی تک ان کے ہاتھ نہیں آیا تھا کہ وہ انہیں شامل تفتیش کر سکیں۔
وفاق میں جب ایسی خبریں پہنچیں کہ ملک فضل داد کے اپنے علاقوں میں بھی اس کی مخالفت زور پکڑ رہی ہے تو وہاں اس کے مخالفوں اور اس کی وزارت کے امیدواروں کو ایک بار پھر شہ مل گئی کہ وہ اس سے وزارت کا قلمدان چھیننے کی کوشش کریں۔
ملک فضل داد حالات کا جائزہ لینے کے لئے سب سے پہلے ملک پور پہنچا۔ بے شک اس کی آمد کی خبر ہر کسی کو مل چکی تھی مگر پھر بھی اسے ملنے کے لئے بہت کم لوگ آئے۔ ان کم لوگوں میں بھی زیادہ تعداد اس کے مخالفین کی تھی۔ اگرچہ ان میں سے زیادہ تر پلانٹڈ ہی تھے مگر وہ بھی تھے جو ملک فضل داد کے احسانات سے فائدہ اٹھانے کے باوجود اب پراپیگنڈے کا شکار ہو کر اس کے مخالف ہو گئے تھے۔
اس چھوٹے سے جلسے سے فضل داد نے وہیل چیئر پر بیٹھے بیٹھے خطاب کیا۔ اس نے جب جب حاضرین کو اپنے کیے گئے اچھے کاموں کی طرف توجہ دلانے کی کوشش کی تو حاضرین میں سے کئی لوگ اسے ہوٹ کرتے اور جھوٹ جھوٹ کی آوازیں نکالتے رہے۔ اس نے علاقے کے باسیوں میں مذہبی نفاق پیدا ہو جانے کی طرف اشارہ کیا تو کئی حاضرین نے اسے غلط قرار دیتے ہوئے واضح کرنے کی کوشش کی کہ خدا کے شکر سے وہ اب اپنے اصلی مسلک پر آزادی سے عمل کر رہے ہیں۔ پہلے تو کبھی بھی انہیں یہ آزادی حاصل نہ تھی۔
جلسے کا ماحول بہت تلخ ہو چکا تھا اور خطرہ تھا کہ کہیں کوئی باقاعدہ دنگا فساد نہ ہو جائے کہ فضل داد نے اپنی حکمت سے اسے سنبھال لیا۔ اس نے تمام اعتراض کرنے والوں سے علیحدہ علیحدہ بات کر کے ان کا ہر جائز حق انہیں دلانے کا وعدہ کیا۔
مگر یہ بات یہاں رکی نہیں۔ وہ جہاں جہاں بھی لوگوں سے ملنے کے لئے گیا اس کے ساتھ یہی سلوک ہوا۔ وہ حیران تھا کہ ایسی کیا بڑی وجہ ہوئی ہے کہ یہی لوگ جو کل تک اسے سر آنکھوں پر بٹھاتے تھے، آج اسے دھتکارنے اور للکارنے پر آمادہ ہو گئے ہیں۔
منشی چراغ دین بے شک اپنی بیماریوں کی وجہ سے اس قابل نہیں رہ گیا تھا کہ وہ کوئی عملی قدم اٹھا سکے لیکن پھر بھی اس نے اپنے سب قریبی لوگوں کو اکٹھا کر کے انہیں فضل داد کی مدد کرنے کے لئے آمادہ کر لیا۔ وہ نور بانو کے گھر بھی گیا اور اسے مجبور کیا کہ وہ اسلام آباد میں اپنے بیٹے راشد عمیر کے پاس جائے اور پوچھے کہ وہ فضل داد کے بیشمار احسانات کے بدلے میں اس وقت کیا کر سکتا ہے؟
ادھر روشن داد نے احمد دین، نیاز علی اور فراز علی کے ساتھ مل کر جب پلوشہ پاشا کے بتائے ہوئے طریقے سے الماس کے بارے میں معلومات کی پڑتال شروع کی تو پیر علیم الدین شاہ اور اس کے بھائیوں کو خبر مل گئی۔ انہوں نے فوراًوہ سب رابطے منقطع کر دیے جو انہوں نے ملک پور اور منسلک علاقوں میں اپنے لوگوں سے بنا رکھے تھے۔ انہیں ڈر تھا کہ اگرفضل داد کو ان کے ایسے رابطوں کا کوئی ٹھوس ثبوت مل گیا تو ان کی جان عذاب میں آ جائے گی۔
وہ تو فضل داد کے ہوش میں آ جانے کا سن کر ہی پریشان بیٹھے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ اگرفضل دادوہیل چیئر پر بھی ہوش میں بیٹھا ہو گا تو وہ ان کے لئے بہت خطرناک ثابت ہو سکے گا۔ ان کا یہ خواب کہ فضل داد کی بے ہوشی کے دوران ہی وہ روشن داد سے کوئی بڑا کام لینے میں کامیاب ہو جائیں، اب انہیں چکنا چور ہوتا دکھائی دے رہا تھا۔
احمد دین، نیاز علی اور فراز علی کی مدد سے جب روشن داد نے پلوشہ کی دی ہوئی خبروں کی پڑتال کی تو وہ سب کی سب سچ نکلیں۔ الماس بھی بالکل بے خبر نہیں بیٹھی ہوئی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ جلد یا بدیر اس کا بھانڈا پھوٹنے والا ہے۔ اس لئے وہ ملک پور کی حویلی سے نکلنے کے منصوبے بنا رہی تھی۔ اس کی بدقسمتی کہ کہ روشن داد کو پہلے ہی ثبوت مل گئے کہ وہ کسی زمیندار کی اکلوتی اولاد نہیں بلکہ پیر علیم الدین شاہ کی پلانٹ کی ہوئی ایک جسم فروش لڑکی ہے۔ اسے اس کام کے لئے بہت دور سے اور بہت بڑے معاوضے پر بلایا گیا تھا۔ روشن داد نے اسے، حویلی میں بنائی ہوئی ایک کال کوٹھری میں بند کرا دیا۔
پلوشہ کی بتائی ہوئی یہ بات بھی سچ نکلی کہ الماس جب پہلی بار روشن داد کے بستر کی زینت بنی تو وہ کنواری نہیں تھی۔ وہ کم از کم تین سال سے باقاعدہ جنسی عمل سے گزر رہی تھی۔ آخر وہ لیڈی ڈاکٹر بھی پکڑی گئی جس نے الماس کو ایک آپریشن کے ذریعے کنواری ظاہر کرنے میں مدد کی تھی۔
پیر علیم الدین شاہ اور اس کے بھائیوں نے ملک پور اور منسلک علاقوں میں اپنے لوگوں سے رابطہ قطع کیا تو ان کو روٹی کے لالے پڑ گئے۔ روپے پیسے کی تمام کمک تو انہیں پیر برادران سے ہی مل رہی تھی۔ ایسے میں جب احمد دین، نیاز علی اور فراز علی نے اپنے خاص لوگوں کے ساتھ مل کر انہیں باری باری پکڑ کر ان کی پٹائی شروع کی تو انہوں نے سب اگلنے میں ہی نجات سمجھی۔
جب ہر طرف سے ناطقے بند ہوتے نظر آئے تو پیر برادران کے ان لوگوں نے تھوڑے تھوڑے پیسے لے کر، وہاں کے باسیوں سے خریدے ہوئے مکان وغیرہ واپس کر دیے۔ لیکن احمد دین نے سب کو آسانی سے بھاگنے نہیں دیا۔ جس جس پر اسے اہم کارندہ ہونے کا شک تھا اسے بھی اپنی پرائیویٹ جیل میں بند کرا دیا۔
پیر برادران نے جب دیکھا کہ پھندا ان کے گلے کی طرف بڑھ رہا ہے تو انہوں نے کسی اجنبی آدمی کے ذریعے فضل داد اور اس کے بہنوئیوں کے کاروبار کے بارے میں انکم ٹیکس کے ادارے میں مقدمہ دائر کر دیا۔ اس کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے اپنے کاروبار میں بہت سے کروڑوں روپے کا ٹیکس چوری کیا ہے۔ ثبوت کے طور پر اس نے وہ تمام ڈیٹا پیش کر دیا جو پیر علیم الدین کے پریشر میں آ کر عطا محمد نے اسے مہیا کیا تھا۔
الزام بڑا سنگین تھا اور ثبوت بہت ٹھوس نظر آ رہے تھے۔ فضل داد پر، جو ابھی اپنے سیاسی حلقوں کی جنگ سے ہی فارغ نہ ہو پایا تھا، یہ افتاد بھی آن پڑی۔ سب سے زیادہ دکھ اسے یہ جان کر ہوا کہ یہ تمام ڈیٹا کسی اور نے نہیں بلکہ ان کے چیف اکاؤنٹنٹ عطا محمد نے انہیں مہیا کیا ہے۔
ثمینہ بی بی اور شاہ محمد نے تو خبر ملتے ہی عطا محمد کا گھر چھوڑنے کا اعلان کر دیا تھا مگر عطا محمد نے ان کی منت کی کہ وہ جلد بازی سے کام نہ لیں۔ جو کچھ نظر آ رہا ہے حقیقت اس سے کہیں مختلف ہے۔ انہیں بس تھوڑا انتظار کرنا ہو گا۔ فضل داد نے بھی عطا محمد کو فوراً جاب سے فارغ کرنے کا پروگرام طے کر لیا تھا مگر وہ بھی عطا محمد کی کسی یقین دہانی پر کچھ دیر کے لئے ملتوی کر دیا گیا۔ البتہ معاملات کے صاف ہونے تک اسے دفتر آنے سے منع کر دیا گیا۔
جب مقدمہ عدالت میں پہنچا تو عطا محمد نے ایک بار پھر فضل داد کی منت سماجت کی اور ان کے وکیل کے ہمراہ عدالت میں پیش ہونے کی اجازت حاصل کر لی۔
عدالت میں تیسری پیشی پر ہی فضل داد کے وکیل نے عطا محمد کی مدد سے ثابت کر دیا کہ ان کے خلاف جو ڈیٹا پیش کیا گیا ہے، وہ سب جعلی ہے۔ فضل داد کی کچھ کمپنیوں کے نام اور اکاؤنٹ نمبر ضرور درست ہیں لیکن باقی ہر دعویٰ غلط ہے۔ عدالت نے محکمہ انکم ٹیکس کے افسران کو دو ہفتے کا وقت دیا کہ وہ تمام اکاؤنٹس کی پڑتال کر کے عدالت میں پیش ہوں۔
دو ہفتوں کے بعد انکم ٹیکس کے افران نے فضل داد کے وکیل اور عطا محمد کے ہر دعویٰ کو درست قرار دیا تو عدالت نے درخواست گزار کو بھاری جرمانہ اور تین سال کی قید کی سزا سنا دی۔
پیر برادران کو ہر محاذ پر شکست ہو رہی تھی مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا کہ فضل داد کو پہلی سی عزت ملنے لگی تھی۔ وہ جہاں جہاں بھی جاتا، سوالات کا نشانہ ضرور بنتا۔ البتہ اب وہ ایسے کسی مقام پر بھی اکیلا نہیں ہوتا تھا۔ روشن داد کسی بھی عوامی مقام پر کبھی اسے اکیلا نہ چھوڑتا۔ بے شک روشن داد پر بھی الزامات کی بوچھاڑ ہوتی تھی مگر اس نے بہت تھوڑے عرصہ میں ہر سوال کا جواب دینا سیکھ لیا تھا۔
ادھر نور بانو اپنے بیٹے راشد عمیرکے پاس اسلام آباد پہنچی اور اسے ملک فضل داد کے بارے میں تمام حالات سے آگاہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وہ فوراً پیربرادران کے خلاف فضل داد کی مدد کرے، ورنہ یہ سمجھ لے کہ ماں کی شکل بس آخری بار دیکھ رہا ہے۔ راشد عمیر اور اس کے بچے بھی کافی دیر سے نوربانو کو ملنے کے لئے ترس رہے تھے۔ راشد نے پرانی کوتاہیوں کی معافی مانگی اور فضل داد کی ہر ممکنہ مدد کا وعدہ کر لیا۔
پیر برادران ابھی پچھلی ناکامیوں کے زخم ہی سہلا رہے تھے کہ ان پر ایک نئی افتاد آن پڑی۔ محکمۂ انکم ٹیکس کی مختلف ٹیموں نے ان کے تمام دفاتر اور ایسے مقامات جہاں کہیں ان کے کاروبار سے متعلق کاغذات موجود ہو سکتے تھے، ایک ساتھ صبح چھ بجے چھاپہ مارا۔ سارے موبائل فون اپنے قبضے میں لے لئے اور دیگر تمام مواصلاتی ذرائع بھی منقطع کر دیے۔ اندر والوں کو باہر جانے سے منع کر دیا اور باہر سے اندر کوئی آ نہیں سکتا تھا۔
زیادہ تر لوگ تو سو رہے تھے مگر جو جاگ رہے تھے، ان کی حرکت بھی محدود کر دی گئی تھی۔ کاروبار سے متعلق ہر نوع کا ریکارڈ قبضہ میں لے لیا۔ چھ سات گھنٹے کی اس کارروائی میں پیر برادران کے ایک ایک ملازم سے علیحدہ علیحدہ بیانات بھی لے لئے۔
جیسے ہی محکمہ ء انکم ٹیکس کے افسران اور کارندے وہاں سے نکلے، پیر علیم الدین شاہ اور اس کے دونوں بھائیوں نے وکیلوں کی ایک بڑی ٹیم کے ہمراہ عدالت پہنچ کر ضمانت قبل از گرفتاری کا انتظام کیا۔
پیر علیم الدین شاہ نے بہت ہوشیاری دکھاتے ہوئے عطا محمد سے وہ یو ایس بی بھی چھین لی تھی، جو وہ اپنے ساتھ لے کر آیا تھا۔ اسے کیا خبر تھی کہ خالی ہاتھ جانے والے عطا محمد نے گوگل کلاؤڈ اور دوسرے ایسے پلیٹ فارمز پر، پیر برادران کا سارا ڈیٹا آن لائن ٹرانسفر کر دیا تھا۔ اسی ڈیٹا کی بنیاد پر ہی انکم ٹیکس والوں نے یہ چھاپہ مارا تھا۔
روشن داد نے طے کر لیا تھا کہ اب وہ اس وقت تک بیرون ملک نہیں جائے گا، جب تک کہ وہ اپنے باپ کی کھوئی ہوئی عزت بحال نہیں کر لیتا۔ وہ فضل دادکے انتخابی حلقوں کے چھوٹے چھوٹے علاقوں کے بھی دورے کر رہا تھا۔ ہر جگہ باپ کو بھی وہیل چیئر پر بٹھا کر ساتھ لے جاتا۔ وہاں جا کر اپنے باپ دادا کے وہ کام بھی گنواتا، جو انہوں نے ان علاقوں کی ترقی کے لئے کیے تھے اور ساتھ ہی ساتھ اپنے وہ پروگرام بھی بتاتا جو وہ کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ جہاں ضرورت ہوتی اپنی غلطیوں کی معافی بھی مانگتا۔
پیسوں کی تو کوئی کمی نہ تھی اس لئے وہ جن سائنسی بنیادوں پر اپنے ارادوں کو عملی جامہ پہنانا چاہتا تھا، ان کے نمونے بھی ساتھ لے جاتا۔ بہت سے نوجوان جو ان علاقوں میں اپنے مستقبل کے بارے میں مایوس ہو رہے تھے، انہیں امید دلا کر اپنے ساتھ ملا لیا۔ اب اس کے ساتھیوں میں نوجوانوں کی اچھی خاصی تعداد شامل ہو چکی تھی۔
نور بانو سے وعدہ کے باوجود بھی راشد عمیرغیر قانونی کام نہیں کرنا چاہتا تھا اور نہ اس نے کیا۔ لیکن اس نے ایک بہت بڑا معرکہ سرکر دکھایا۔ وہ اس وقت خفیہ کے ایک ڈیپارٹمنٹ میں اعلیٰ عہدے پر کام کر رہا تھا۔ وہ سخت کوشش کر کے ’گجو‘ کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اس کی گرفتاری کے ساتھ ہی تمام سازش بے نقاب ہو گئی اور پیربرادران کو فوراً حراست میں لے لیا گیا۔ مقدمہ چلا اور قتل کی منصوبہ بندی کے الزام میں تینوں پیربرادران کو بھی سزائیں ہو گئیں۔
اگلا الیکشن ملک فضل داد کی سیٹ سے خود روشن داد نے لڑا۔ بے شک مخالفین نے تگڑا اتحاد بنایا تھا مگر وہ روشن داد کو ہرانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ کامیابیاں تو روشن داد کو بعد میں بھی ملتی رہیں لیکن وہ کبھی نہ بھولا کہ اس علاقے کے لوگوں کی رگوں میں ہزاروں سال سے بت پرستی کا زہر سرایت کر چکا ہے۔ اس لئے اس نے اپنی باقی زندگی اس زہر کا تریاق ڈھونڈنے میں صرف کر دی۔

