عاصم جمیل کی خودکشی۔ اب سوچ بدلنا ہو گی

کہتے ہیں کہ دنیا کا سب سے بڑا بوجھ بوڑھے باپ کے کاندھوں پر جوان بیٹے کے جنازے کا ہوتا ہے۔ ہر کسی کی یہ دعا ہوتی ہے کہ اللہ یہ دن کسی بوڑھے باپ پر نا لائے مگر اللہ اپنے بندوں کو یہ غم دے کر آزماتا ہے کہ کون اس کی رضا میں راضی رہتا ہے اور کون نہیں۔ ہم سب کے لیے قابل احترام مولانا طارق جمیل کے صاحب زادے عاصم جمیل کی اندوہناک موت نے ناصرف مولانا صاحب کے گھرانے کو سوگوار کیا ہے بلکہ پوری قوم ان کے غم میں برابر کی شریک ہے۔
جوان بیٹے کی موت وہ غم ہے کہ جس کا مداوا کوئی نہیں ہے اور یہ غم والدین کے ساتھ قبر تک جاتا ہے۔ اللہ کی مرضی کے سامنے انسان بے بس ہے۔ جانا سبھی نے ہے مگر والدین کی دعا یہی ہوتی ہے کہ انہیں بیٹے کاندھا دیں وہ اپنی اولاد کا مرا چہرہ نا دیکھیں مگر ہونی کو کون ٹال سکتا ہے بہرحال اللہ سے یہی دعا کی جا سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ مولانا صاحب اور ان کے خاندان کو عاصم جمیل کی ناگہانی وفات پر صبر جمیل عطا کرے۔
مولانا صاحب ایک مدت سے لوگوں کو صراط مستقیم کی طرف بلا رہے ہیں۔ یقیناً وہ خود بھی اللہ کے محبوب بندوں میں شامل ہوں گے تبھی تو اللہ نے انہیں اتنا بڑا غم دے کر آزمایا ہے۔ انہوں نے اپنے بیٹے کا جنازہ خود پڑھایا۔ نماز جنازہ سے پہلے مولانا صاحب نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کا بیٹا ذہنی مریض تھا اس کا علاج بھی۔ چل رہا تھا اور خیال بھی رکھا جاتا تھا۔ ان کے بیٹے کو اللہ سے بہت محبت تھی۔ وہ اپنے اللہ کے پاس جانا چاہتا تھا۔ اللہ اسے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔
یہ وہ باتیں ہیں جو ہم نے کبھی کسی خودکشی کرنے والے فرد کے لواحقین سے نہیں سنیں۔ بلکہ یہ باتیں تو ہمارے علمائے کرام کو کرنی چاہیے تھیں۔ لیکن علماء اور خطیبوں کی مجبوری تو یہ ہے کہ وہ چودہ سو سال پرانی الجھنوں کو مزید الجھانے میں مصروف ہیں انہیں اتنی فرصت کہاں کہ دور حاضر کے مسائل پر توجہ دیں۔ انہوں نے یہ ڈراوا دے کر اپنی جان چھڑائی ہوئی ہے کہ خودکشی حرام ہے۔ خود کشی کرنے والے کا کوئی جنازہ نہیں پڑھائے گا۔
یہ کوئی نہیں پوچھتا کہ ایک انسان کو ایسے کیا مسائل درپیش تھے کہ وہ اپنی جان لینے پر مجبور ہو گیا۔ کس نے خودکشی کرنے والے پر زندگی کے دروازے بند کیے؟ عاصم جمیل کی طرح ہر انسان ہی اپنے اللہ سے بہت پیار کرتا ہے۔ زندگی بھی سبھی کو پیاری ہوتی ہے۔ ہر شخص اپنے اہل و عیال کے ساتھ خوشگوار زندگی بسر کرنا چاہتا ہے۔ مگر کچھ لوگوں کے لئے انہی کے لواحقین کی طرف سے عرصہ حیات اتنا تنگ کر دیا جاتا ہے کہ زندگی گزارنا ان کے لیے مشکل سے مشکل تر ہوتا جاتا ہے۔
ایسے افراد ذہنی اور نفسیاتی امراض کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کچھ مریضوں کا علاج ڈاکٹرز سے کرایا جاتا ہے تو کچھ کو پیروں فقیروں کے آستانوں پر لے جایا جاتا ہے۔ کسی کی قسمت میں ہوا تو ٹھیک ہو گیا ورنہ اکثریت کے پاس یہی چارہ رہ جاتا ہے کہ دنیا سے تنگ آ کر وہ اپنے پیارے اللہ میاں کے پاس پہنچ جائیں۔ کیونکہ مرنے والے کو یقین ہوتا ہے کہ دنیا میں اس کا کوئی نہیں لیکن اللہ ضرور اس کا ہے۔ اب جانے والا تو گیا پیچھے رہ جانے والے اپنی صفائی اور وضاحتیں دیتے رہتے ہیں۔
کسی نے گولی مارکر خودکشی کی تو کہا جاتا ہے کہ پستول کی صفائی کر رہے تھے اتفاقیہ گولی چل گئی۔ کسی نے زہر سے زندگی کا خاتمہ کیا تو کہہ دیا جاتا ہے کہ فوڈ پوائزنگ ہو گئی تھی یا غلطی سے کھانسی کا شربت سمجھ کر کیڑے مار دوا پی لی تھی۔ کوئی پھندا لگا کر پنکھے سے جھول گیا تو کہا کہ سیڑھیوں سے گرے ہیں۔ کچھ سمجھ نا آیا تو یہ قصہ گھڑ لیا کہ رات کو اچھے بھلے سوئے تھے صبح اٹھے نہیں۔ غرض گھر والے موت کی مناسبت سے بہانا بنا لیتے ہیں۔
صرف اس لیے کہ اگر یہ پتا چل گیا کہ مرنے والے نے خودکشی کی ہے تو لوگ ہزار باتیں کریں گے۔ پولیس کیس الگ بنے گا کوئی جنازہ نہیں پڑھے گا۔ ساری زندگی مفت خدا کی بدنامی گلے پڑی رہے گی کہ ان کے گھر میں کسی نے خودکشی کی ہے۔ یہ کوئی نہیں سوچے گا کہ اللہ کے کسی بندے کو اتنا تنگ کیا گیا کہ وہ اپنی جان سے گیا۔ یہاں سلام پیش کرنا چاہیے مولانا طارق جمیل کی ہمت اور حوصلے کو کہ انہوں نے نا صرف اپنے بیٹے کی خودکشی کو قبول کیا اس کی نماز جنازہ خود پڑھائی اور اس کے اعلیٰ درجات کے لئے دعا کی۔
بے شک مولانا صاحب اور ان کے اہل خانہ کے لیے یہ وقت بہت کٹھن ہے لیکن یہ وقت ہی ہے جو اپنے گزرنے کے ساتھ ساتھ ہر زخم بھر دیتا ہے۔ مولانا اور ان کا گھرانا بھی اس صدمے سے نکل ہی جائیں گے۔ مولانا صاحب عرصے سے اس قوم کی اصلاح کی کوشش میں مصروف ہیں۔ اللہ کے ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے۔ اللہ نے مولانا صاحب کی یہ آزمائش کی ہے۔ وہ خود اس صدمے سے گزر رہے ہیں کچھ وقت گزرے تو اب انہیں اس مسلے کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے اب وقت آ گیا ہے کہ خودکشی سے متعلق ہمارے معاشرے میں جو منفی انداز فکر پایا جاتا ہے اسے تبدیل کیا جائے۔
خودکشی کرنے والے پر لعن طعن نا کی جائے اس بات کو سمجھا جائے کہ مرنے والا بیمار تھا اس کے ہوش و حواس ختم ہو چکے تھے جبھی تو اس نے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا وہ ذرا بھی نارمل ہوتا تو اپنی جان نا لیتا۔ اس لیے اب تو اس کی خطا معاف کر دی جائے۔ جنازے میں شریک ہونے والے سب سمجھ ہی جاتے ہیں کہ مرنے والا کیسے مرا اس لیے لواحقین سے سوالات اور تفتیش کر کے انہیں اذیت میں مبتلا نا کیا جائے کہ وہ پہلے ہی اپنے پیارے کی موت کے صدمے سے گزر رہے ہوتے ہیں لوگوں کی باتیں انہیں مزید تکلیف دیتی ہیں۔
ہم بھی کتنے عجیب لوگ ہیں۔ حرام مال کھا کر زندہ رہنے والوں کو سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں اور حرام موت مرنے والوں کے لواحقین کے لیے بھی زندگی دشوار کر دیتے ہیں۔ آج تک کسی نے اس سوچ کو بدلنے کی کوشش نہیں کی جانے والا تو اپنے اللہ کے حضور پیش ہو کر فکر و غم سے آزاد ہو گیا جو پیچھے رہ گئے ہیں ان کو بھی سکون سے جینا کا حق دیا جائے ہو سکتا ہے کہ یہ کام مولانا طارق جمیل کے ذریعے ہو اور اس کا ثواب عاصم جمیل کو پہنچے۔

