لوگ کیا کہیں گے


لوگ آخر کیا کہیں گے؟

لوگ کیا کہیں گے جاننے کا مجھے ہمیشہ سے شوق رہا ہے۔ اسی لیے جب بھی میں سنتی ہوں لوگ کیا کہیں گے تو میں پوری کوشش کرتی ہوں کہ اس کی کچھ تفصیلات حاصل کر سکوں لیکن لوگ اکثر مجھے بال کی کھال اتارنے کا الزام دے کر چپ کرا دیتے ہیں۔ ورنہ ایک سخت سی نظر مجھ پر ڈال کر کہتے ہیں۔ ”یہ کیسا احمقانہ سوال ہے۔ آپ کو خود نہیں معلوم کیا؟“ مجھے معلوم تو نہیں لیکن میں لوگوں کی طرف سے کچھ نہ کچھ اچھا برا سوچ کر خود کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتی رہتی ہوں۔ اور یہی لوگوں کی باتوں کے خوف کا پہلا مسئلہ ہے۔

یعنی ہمارے سب سے پہلے تنقید نگار ہم ہی ہیں۔ اور اس تنقیدی جائزے میں ہم خود کو واقعاتی نظر سے دیکھنے کی بجائے اوروں کی نظر سے دیکھنا پسند کرتے ہیں۔ اسی حقیقت کے پیش نظر فیس بک نے فیڈ کو ویو ایز۔ دوسروں کی نظر سے خود کو دیکھیں۔ کے آپشن کا اجرا کیا تھا۔ لیکن ہم خود کو ایسی تنقیدی نگاہوں سے کیوں دیکھنا پسند کرتے ہیں؟ ہم خود پر تنقید کرتے ہی کیوں ہیں۔ کیا ہم خود کو ایسے ہی برداشت نہیں کر سکتے؟ آخر دوسروں سے بھی ہماری یہی ڈیمانڈ ہوتی ہے کہ میں جو ہوں وہ ہوں۔

ایک سبب تو یہ ہو سکتا ہے کہ وقت کے ساتھ ہمارے پیاروں کی سخت مزاجی اور تلخ تنقید نے اس کی بنا ڈالی ہو۔ یا شاید ہمارے استاد، کوچ اور دوسرے بڑے اس کے ذمہ دار ہوں جو ہمیں ایک خاص سانچے میں دیکھنا چاہتے تھے۔ لیکن ہم ویسے نہیں تھے۔ یا نہیں بن سکے یا بننا ہی نہیں چاہتے۔ اور اب وہ چاہے ساتھ نہ بھی ہوں ہم ان کی جگہ لے لیتے ہیں۔ کبھی کبھار تو ہماری اپنی دماغی تنقید ان کی کہی باتوں سے بھی زیادہ تند و تیز ہوتی ہے۔ ہماری آواز ہمارے بدترین دشمن کی آواز بن جاتی ہے اور ہمارے کچھ بھی کرنے میں حارج ہو جاتی ہے۔ اور ہم حیران ہو کر سوچتے ہیں ہماری تو کسی سے دشمنی بھی نہیں ہے۔

یہ ہمارے دماغ کا وقت کے ساتھ سیکھا ہوا ہنر ہوتا جہاں وہ کہیں بھی باہر سے ہمیں جذباتی زخم کھانے سے بچانے کے لیے خود حفاظتی کے تحت خود پر ہی تنقید شروع کر دیتا ہے۔ ہم چونکہ اپنے دماغوں پر بھروسا کرتے ہیں تو اکثر بلاچون و چرا ان تمام باتوں کو قبول کرلیتے ہیں۔ ہم خود ہی سب سے پہلے اپنے آپ کو نا اہل، نامکمل، نالائق اور کمزور بے چارا قرار دیتے رہتے ہیں۔ ہر تقریب کے بعد ہمارے پاس خود کو شرمندہ کرنے کے لیے اپنی حماقتوں اور غلطیوں کی لمبی فہرست ہوتی ہے اور ہم اسے کسی صورت معاف کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔

ہم سب کے ذہن میں پرفیکشن کا ایک ناقابل حصول معیار موجود ہوتا ہے ہم ہمہ وقت اپنا ذہنی موازنہ اس سے کرتے رہتے ہیں۔ پھر یا تو خود کو اپنے معیار پر شکست یافتہ قرار دے کر مقابلے سے باہر کر دیتے ہیں یا پھر ہمیشہ کے لیے اس اندھی دوڑ میں خود کو دوڑاتے رہتے ہیں۔ شکست بے وجہ اداسی اور غم و الم پر منتج ہوتی ہے اور اندھی دوڑ کی منزل نہ ختم ہونے والی بے چینی ہے۔ اور اب تو آج کے نوجوانوں کو جس آئیڈیل پرفیکشن کا ناقابل حصول تصور سوشل میڈیا نے دیا ہے وہ ان کی بڑھتی ہوئی سوشل انگزائیٹی کی شکل میں ظاہر ہو رہا ہے۔

خود کا جائزہ لینا ایسی کوئی غلط بات بھی نہیں ہے۔ لیکن میں خواتینی ڈائجسٹوں والے : ”نکلتے نکلتے اس نے دیوار گیر آئینے میں اپنے عکس پر ایک تنقیدی نظر ڈالی، سرخ لباس نے اس کے حسن کو اور بھی نکھار دیا تھا۔“ والے جائزے کی بات نہیں کر رہی۔ بلکہ ہمارے جذباتی رویوں، ہمارے خیالات، احساسات توقعات یا ہم کسی صورتحال میں کیسے پیش ہوتے ہیں، اس صورتحال سے کیسے نمٹتے ہیں اس کا جائزہ لینا بلا شبہ بہت اہم ہے۔ ہماری خود سے توقعات واضح اور حقیقی ہوجاتی ہیں تو پھر ہماری تنقید بھی تخریبی کی بجائے تعمیری ہو جاتی ہے۔ اور یہ بھی سوچیں اگر ہم ویو ایز پر مالک کی نظر سیٹ کر لیں تو پرفیکشن کے کون سے پہلو غیر ضروری ہو جائیں گے۔ اپنے آپ کو بہتر دیکھنے اور بہتر بنانے کے معیار کہاں کہاں بدل جائیں گے۔

لوگوں کا کام ہے کہنا۔

کچھ لوگ اپنے تصورات یا اپنے ڈراؤنے خوابوں میں اب بھی لوگوں کو دروازوں کی آڑ میں کھڑے ہو تاکنے۔ آنکھوں آنکھوں میں اشاروں سے یا سرگوشیوں میں اپنے بارے میں باتیں کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ بظاہر ان کے تصورات کا سافٹویئر اپڈیٹ ہوئے کافی روز ہو چکے ہیں۔ اتنے مصروف دور میں کس کے پاس یہ سب کرنے کا وقت ہوتا ہے؟

اب تو شاید وہ کھڑکی سے فوٹو لے لیتے ہیں۔ مسئلے پر ہماری جذباتی تقریر ابھی پوری طرح شروع بھی نہیں ہوئی ہوتی کہ وہ ٹیکسٹ پر ہمارے بارے میں سب کچھ کہ کر باہم ہنس بھی چکے ہوتے ہیں۔ اگر لوگوں کا کہنا آپ کا بھی مسئلہ ہے تو بلا تخصیص تمام واٹس ایپ گروپ جوائن کر لیں۔ کیونکہ باتیں اب وہیں ہوتی ہیں۔ لیکن کیا یہ باتیں واقعی ہوتی ہیں؟ اور ہمارا ان سے کیا لینا دینا ہے؟

منطقی طور پر تو دو ہی قسم کی باتیں ہو سکتی ہیں۔ یا ہمارے حق میں یا پھر ہمارے خلاف۔ ہمارے حق میں ہونے والی گفتگو عموماً ہمیں اچھی لگتی ہے ہمیں لگتا ہے ہم اہم ہیں، قبول کیے جا رہے ہیں، مقبول ہیں۔ ہمارے خلاف ہونے والی باتیں حوصلہ شکن ہوتی ہیں۔ ہم ریجیکٹڈ محسوس کرتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے ہمیں تنہا کر دیا گیا ہے۔ ہم تعریف تو پسند کرتے ہیں خواہ جھوٹ ہی ہو کیونکہ اس میں ہمارے کسی پہلو کو ویلڈیٹ کیا جاتا ہے۔ ہماری کسی خوبی اور قابلیت کا علی الاعلان اقرار کیا جاتا ہے۔ لیکن ہم تنقید پسند نہیں کرتے خواہ وہ سچ ہی ہو کیونکہ اس میں ہماری کسی کمی کا اشارہ ہوتا ہے۔ تنقید ہماری نا اہلیت اور خامیوں کی برسرعام گواہی لگتی ہے۔

یہ سچ ہے کہ ہمارے یاداشت میں تنقید کے اثرات تعریف سے کہیں زیادہ دیر پا ہوتے ہیں۔ ہزار تعریفیں ایک طرف اور دوسری طرف کوئی سی ایک تنقیدی آواز جو ہماری دکھتی رگ پر رکھ دیتی ہے۔ پانچ سات برس کی عمر سے ہی ہم تعریفوں اور تنقیدی تبصروں میں فرق کرنا سیکھ لیتے ہیں۔ تبھی سے ہمیں منفی تبصروں میں پنہاں طاقتور خطرے کا بھی ادراک ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ جیسے اپنی پتنگ کٹنے پر کوئی دور چھت سے للکارتا ہے تو ایک دفعہ باہر آ۔ یونہی یہ تنقید ہماری اپنی جذباتی پناہ گاہ سے باہر آنے کا گویا انتظار کر رہی ہو۔ ہمارا دماغ ہمیں خطرے سے بچانے کے لیے کبھی دوبارہ اس سمت نہیں جاتے دیتا۔ ہم کبھی دوبارہ وہ کام کرنے کے بارے میں سوچتے بھی نہیں جس پر لوگ کچھ کہ سکتے ہیں۔ کیا اب ہم محفوظ ہیں؟ یا درحقیقت اب ہم محصور ہیں؟

لیکن آپ کہیں گے یہ کوئی غیر حقیقی خوف تو نہیں ہے۔ کئی بار روزانہ کا کوئی عمومی برا تجربہ ہمارے پورے دن کا بیڑہ غرق کر سکتا ہے۔ اس بات سے مجھے بھی ایک حد تک اتفاق ہے۔ شاید اسی مشکل سے نپٹنے کے لیے کسی نے مزاح ایجاد کیا تھا۔ تاہم حیرت مجھے اس بات پر ہے کہ اتنے نازک انسانی احساسات کے ساتھ ہم نے پہلے تو سوشل میڈیا ایجاد کر لیا ہے اور اب اس پر لوگوں کو بلاک کرتے رہتے ہیں۔ لیکن آخر ہم کس کس کو بلاک کریں گے۔ اکاؤنٹ ہی بند کرنا پڑتا ہے۔ زبان خدا کو نقارہ خدا سمجھیں۔ کرئیٹ۔ ڈیلیٹ۔ ریپیٹ۔

لیکن نہیں کوئی چیز نکمی جہاں میں۔ ہمارا دماغ لوگوں کی تنقید کا جو خوف ہمارے اندر پیدا کرتا ہے اس سے قدرتی طور پر ایک تحریک بھی پیدا ہوتی ہے جو ہمیں مقابلہ کرنے پر اکساتی ہے۔ اور جب ہم دوسروں کو غلط ثابت کرنے کے لیے یا اپنی اصلاح کی خاطر اس تنقید کو ٹھنڈے دماغ سے سوچتے ہیں تو زیادہ منطقی طور پر چیزوں کا جائزہ لینے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ تنقید کے کچھ اور بھی فوائد ہیں اور تعریف کے کچھ نقصانات بھی ہیں۔ تنقید سے فائدہ اٹھانے اور تعریف کے نقصانات سے بچنے کے لیے کچھ شعوری کاوش درکار ہے جس پر آگے تفصیل سے بات کرتے ہیں۔

غیروں کی باتیں۔ اپنوں کی باتیں

یوں تو لوگوں کی رائے کی کئی قسمیں ہو سکتی ہیں۔ جیسے عوام کی رائے، قانون کی رائے، ماہرین کی رائے۔ غیروں کی رائے۔ اپنوں کی رائے۔ ذہنی طور پر ہم قانون اور ماہرین وغیرہ کی رائے کو ماننے میں زیادہ پس و پیش نہیں کرتے کیونکہ سب ہی مان رہے ہوتے ہیں اور نہ ماننے کے نتائج و عواقب بھی پیش نظر ہوتے ہیں۔ لیکن ہمارے اپنے (جیسے گھر خاندان والے دوست احباب) اور غیر (جیسے اگلے محلے والے دفتر و کاروبار والے، دوسرے جاننے والے، کزن کا سسرال) جب کوئی رائے دیتے ہیں تو اس کی اہمیت ہمارے دماغ میں مختلف طریقے سے رجسٹر ہوتی ہے۔

غیروں کی باتیں ہم سنتے ضرور ہیں کیونکہ وہ ہمیں اور ہم انہیں کسی نہ کسی حد تک جانتے ہیں۔ دراصل ہماری ان کے بارے میں رائے متعین کرتی ہے کہ ہم ان کی بات کو کتنا وزن دینا ہے اور اسی لحاظ سے ہم اس سے متاثر بھی ہوتے ہیں۔ بیشتر اوقات یہ رائے عموماً ہمارے ظاہر کے بارے ہی میں ہوتی ہے اور ہم اسے ویو ایز کے طور پر لیتے ہیں۔ ہمارے پبلک پر سونا کی تعمیر اور سیلفی سیلیکشن میں اس رائے کا کافی ہاتھ ہوتا ہے۔

اس کے برعکس اپنوں کی رائے پر ہماری زندگیوں کا بیشتر فوکس ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ رائے صرف ہمارے ظاہر کے متعلق نہیں ہوتی بلکہ یہ ہمارے داخلی معاملات۔ ہمارے جذبات و احساسات کے متعلق ہوتی ہے۔ ہماری کامیابی اور ناکامی۔ ہمارے ارادے اور عزائم۔ ہماری پسند نا پسند۔ ہمارے اپنوں کی رائے اس سب کو متاثر کرنے کی گہری صلاحیت رکھتی ہے۔ ان کے کہے ہوئے چند الفاظ ہماری زندگی کو بنا یا بگاڑ سکتے ہیں۔ کیونکہ عموماً ہم ان باتوں کو بآسانی دل پر لے لیتے ہیں۔

یہ اپنوں کی باتیں ہی ہوتی ہیں جو بچپن سے ہمارے جذباتی میک اپ کی بنیاد ڈالتی ہے۔ غیر مشروط محبت ایک بچے کو پراعتماد طور پر پروان چڑھاتی ہے لیکن بے وجہ کی تنقید اور روک ٹوک، کسی کمی یا غلطی پر ضرورت سے زیادہ فوکس بچے کو اس سے کہیں زیادہ خوفزدہ و بے چین کر سکتی ہے جتنی ہم بڑوں کو کر سکتی ہے۔ یہ خوف اور بے چینی بعد میں ان کے مستقل کے تمام رویوں کو متاثر کرتی ہے۔

جب ہمارے پیارے کسی بھی درجے پر بھی ہمیں مسترد کرتے ہیں تو ہم فوراً اپنے دفاع پر اتر آتے ہیں۔ ہم ان کی نظر میں کسی طرح بھی کم تر نہیں دکھنا چاہتے۔ اور خود ہم اپنے لیے بھی اس ہی ویلیڈیشن و قبولیت پر انحصار کر رہے ہوتے ہیں تبھی اکثر یہ تنقید کسی ایٹمی دھماکے سے کم نہیں ہوتی۔ میرا خیال ہے اگر ہم اپنی بے دھیانی سے دی ہوئے مزاحیہ تنقید کو

اپنے اوپر لاگو کر کے دیکھیں اور پھر دوسروں کے جذبات خصوصاً بچوں کی حساسیت کے پس منظر میں سوچنا شروع کر دیں تو شاید ہماری گفتگو کا انداز بالکل ہی بدل جائے۔

خودکار حفاظتی اقدامات

ہم سب جانتے ہیں کیسے ہمارا دماغ بزعم خود بہتر انسانی صحت کے لیے خود حفاظتی و مدافعاتی تراکیب میں ہمہ وقت مشغول رہتا ہے۔ سو لوگوں کی باتوں کے ضمن میں بھی تمام تر تنقید اور اپنوں کی نظر میں ناکام و نالائق قرار پانے سے بچانے کے لیے وقت کے ساتھ ہم شعوری لا شعوری طور پر مختلف قسم کے طریقہ کار سیکھ جاتے ہیں۔ مثلاً ہم کچھ بھی نیا نہیں کریں گے۔ نئے کام ہمارے لیے ایسے خطرات کی مانند ہیں جن میں ہمارا دوسروں کی توقعات پر پورے نہ اترنے اور انہیں مایوس کرنے۔ اور نتیجتاً ان کی غیر مشروط قبولیت پانے میں ناکام ہونے کے چانس ہیں۔ کیوں نہ ہم اپنی اور ان کی توقعات کو امتحان میں ڈالنے سے جتنا ممکن ہو گریز کریں؟

یا اس کے برعکس بعض اوقات ہم قربانی کی مثال بن جاتے ہیں۔ اپنی ضروریات، خواہشات ترجیحات و جذبات کو مکمل طور پر پس پشت ڈال کر ہر لمحہ دوسروں کی خوشنودی کے لیے پیش پیش ہیں۔ ہم کبھی پسند ناپسند یا ضرورت و احتیاج رکھنے والے ایک جیتے جاگتے فرد کے طور پیش نہیں ہوں گے۔ نتیجتاً اب ہم ایک ناموجود غیر حقیقی فرد ہیں۔ اور یہ عدم وجودی صرف جذباتی بنیادوں پر ہی نہیں بلکہ نظریاتی بنیادوں پر بھی لاگو ہے۔

کیونکہ اس دماغی ماڈل میں ہر شخص کو ہر وقت خوش رکھنا ہماری ذمہ داری ہے اس لیے اختلاف سے گریز کرنا نہایت ضروری ہے۔ جب کوئی اختلاف نہیں ہو گا تو کوئی کس بات سے ناراض ہو گا؟ اب دنیا کے کسی معاملے میں ہماری کوئی رائے نہیں ہے۔ سیاست میں بھی ہم غیر جانبدار ہیں اور ریستوران میں بھی ہم وہی کھا لیں گے جو آپ آرڈر کر رہے ہیں۔ لیکن مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آخر میں پیپل پلیزنگ کے اس مشکل مہم میں ہمارا اوج کمال سب لوگوں کی ( غیر مشروط؟ ) پسندیدگی اور محبت نہیں بلکہ ہمارا شخصی استحصال ہی ہے۔

اس ہی طرح پرفیکشن کی خواہش بھی ہماری ایک مدافعاتی تکنیک ہے۔ ہم خود کو ہر کام کو درجہ کمال تک پہنچانے کے ذمہ دار سمجھ لیتے ہیں۔ لوگوں کی واہ واہ ہمارے کمال کی سند ہے اور یہاں اب آپ کہیں گے۔ ”لیکن اس سے اگر کام میں بہتری آ رہی ہے تو کیا حرج ہے؟“ حرج تو اس کے سوا کوئی نہیں کہ ہماری نیت تو کام کی بہتری ہے ہی نہیں۔ بلکہ دوسروں کی منظوری ہے۔ ہم پراجیکٹ کو نہیں اپنی ذات کو اپروو کرانے کے لیے پچھلے تین دن سے سوئے بغیر۔ ایک پاؤں پر ۔ یا سر کے بل کھڑے ہیں۔ یا کم ایکسٹریم صورتحال میں ان دوپٹوں کے ڈھیر پر کناری ٹانک رہے ہیں۔ اوکے مجھے ٹھیک سے نہیں معلوم کہ ہم کس کام کو پرفیکٹ کرنے میں مشغول ہیں۔ لیکن یہ یقین ضرور ہے کہ ہماری غلط وجوہات اس سے ہمیں کبھی بھی صحیح خوشی یا سکون اخذ نہیں کرنے دیں گی۔

لوگوں کی شدید تنقید کا ایک عجیب اثر یہ بھی ہوتا ہے کہ ہم ان کی باتوں سے بچنے کے لیے ان کے ناپسندیدہ کاموں کی بجائے خود ان لوگوں سے دور ہو جاتے ہیں۔ ہم نہ صرف اپنے پیاروں سے خود کو دور کر لیتے ہیں بلکہ تمام ہی لوگوں کو ایک محفوظ فاصلے پر رکھنا پسند کرتے ہیں۔ اس چیز کی بنا بھی عموماً بچپن ہی میں پڑتی ہے۔ بچوں کو اس قبولیت کی بہت ضرورت ہوتی ہے۔ والدین کے تمام رویے اور دوسرے قریبی عزیزوں کی مثبت رائے کا ان کی جسمانی جذباتی و روحانی ہر قسم کی تشکیل میں نہایت اہم کردار ہے۔

عموماً وہ خود کو ملنے والی جذباتی لاتعلقی اور سخت تنقید کی بنا پر وہ اپنے آپ کو اس ضرورت سے الگ تھلگ کر نے کا فیصلہ کرلیتے ہیں۔ بیشتر الاوقات ایسا کرنے سے وقتی طور پر ان کی جذباتی خود انحصاری بڑھ جاتی ہے۔ لیکن لونگ رن میں ان کے لیے دوسروں پر اعتبار کرنا، گہرے رشتے استوار کرنا اور اپنے جذباتی دکھ کے لمحات میں اپنے پیاروں کو شریک کرنا قریبا ناممکن ہو جاتا ہے۔

لوگوں کی باتیں۔ چاہے وہ غیر ہوں یا اپنے۔ ہمارے اختیار کے دائرہ کار سے باہر ہیں۔ لیکن ایک بالغ فرد کے طور پر اسے کیسے قبول کیا جائے یہ کلی طور پر ہمارے اختیار میں ہے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم شعوری فیصلہ کے تحت خود کو باور کرائیں کہ لوگوں کیا کہیں گے یہ لوگوں کا مسئلہ ہے۔ ہمیں دی گئی ہر رائے صرف ایک رائے ہی ہے۔ وہ صحیح ہو سکتی ہے لیکن وہ غلط بھی ہو سکتی ہے۔ وہ ضروری ہو سکتی ہے لیکن وہ غیر اہم و غیر ضروری بھی ہو سکتی ہے۔

سب سے ضروری شے جو اس شعوری فیصلہ کرنے کے لیے اہم ہے وہ یہ ہے کہ ہم اپنے آپ سے واقف ہوں، خود کو اچھی طرح سے جانتے ہوں۔ اپنی کمیوں کوتاہیوں اور صلاحیتوں کا جائزہ خود بھی لیتے کے اہل ہوں۔ تبھی ہم دوسروں کے الفاظ کے آئینے میں خود کو بہتر دیکھنے کے اہل ہوں گے۔ گو خود آگہی اور خود شعوری ایک لمبی ریاضت ہے۔ لیکن زندگی کا کوئی بھی لمحہ اس پہچان کا نکتہ آغاز بن سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے وہ لمحہ آج ہو۔ ہو سکتا ہے وہ لمحہ ابھی ہو۔ جاری ہے۔

تنقید کا تحفہ

کچھ سوشل میڈیا ایپ اپنے فوٹو فلٹر کے ساتھ آتی ہیں، لیکن زیادہ تر لوگ فون فوٹو ایپ ہی سے تصاویر کو فلٹر اور ایڈٹ کر لیتے ہیں۔ اگر بہت ہی زیادہ شوق ہو تو یورکیم یا فن کیم وغیرہ۔ اصل مقصد یہ ہوتا کہ تصویر سے غیر ضروری حصے نکال کر اس کو بہترین طریقے سے پیش کیا جائے تاکہ زیادہ پسندیدہ ہو۔ میرے خیال میں گفتگو کا بھی ایک فلٹر ہونا چاہیے جو باتوں سے غیر ضروری فقرے حذف کردے اور صرف پسندیدہ حصے باقی رہ جائیں۔

لیکن فلٹر ہے تو سہی۔ ہم خود ہر گفتگو کے فلٹر ہیں۔ ہم لہجوں اور باتوں کو من پسند رنگ دیتے ہیں۔ ہم دوسروں کی باتوں کو اپنی مرضی کے مقام سے کاٹ دیتے ہیں۔ ہم نا پسندیدہ حصوں کو میوٹ کر دیتے ہیں اور کسی کو ہمارے سین میں زیادہ ابھرنے کا موقع نہیں دیتے۔ ہم خود بتاتے ہیں کہ جو بات ہم کہ یا سن رہے ہیں اس کو کس تناظر میں سمجھا جانا چاہیے۔ ہمارے شعوری اور لاشعوری تعصبات بھی ہمارے فلٹر ہیں جو سچائی کو بگاڑنے اور حقائق کو مسخ کرنے کا سبب بن جاتے ہیں۔ لیکن کیا سچائی کو ابھارنے اور حقیقت کو مثبت روشنی میں پیش کرنے کا بھی کوئی فلٹر ہے؟

دراصل یہ سب ہمارے نقطہ نظر پر منحصر ہے کہ ہم کس بات کو کس رنگ میں پیش یا قبول کرنا چاہتے ہیں۔ اصل میں لوگوں کی رائے اور خیالات جاننا ایک طرح سے ہماری سماجی ذہنی اور جذباتی ضرورت ہے۔ اسی ضرورت کے تحت ہم مثبت منفی ہر قسم کی باتیں سننے کے خود کو تیار بھی کرتے رہتے ہیں۔ ہماری رائے دوسروں پر تعمیری اور تخریبی دونوں قسم کے اثرات مرتب کرتی ہے۔ اکثر اوقات جب ہم اس رائے کو اپنے حالات یا شخصیت کے لحاظ سے خود ہی تعمیری یا تخریبی رول اسائن کر دیتے ہیں۔

تخریبی یا تنقید برائے تنقید اور تعمیری تنقید (اس کو ہم فیڈ بیک کہ لیتے ہیں ) میں واضح فرق ہوتا ہے۔ تنقید میں ہم غلطیوں کا قضیہ ماضی بعید سے شروع کرتے ہیں پھر مختلف کمزوریاں یا خامیوں پر فوکس کر کے اپنی بھرپور ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے خود کو یا دوسروں کو تمام مسائل کی جڑ سمجھتے ہوئے دماغی میں بھرپور تخریب کاری سرانجام دیتے ہیں۔ اس کے برعکس فیڈ بیک میں ہمارا سارا فوکس ہوتا ہے کہ اس مسئلہ کو سلجھانا کیسے ہے۔ ہم کمیوں کی بجائے موجود صلاحیت کے نکھار اور نئی صلاحیت کے حصول پر دھیان دیتے ہیں تاکہ ایک بہتر مستقبل کی طرف بڑھا جائے۔ تعمیری تنقید لوگوں کی حوصلہ شکنی کے لیے نہیں حوصلہ افزائی کے لیے استعمال ہوتی ہے اسی لیے اس میں تعمیر کی توانائی ہوتی ہے۔

کچھ دیر کے لیے ہم سوچ لیتے ہیں کہ تخریبی تنقید ایک غیر ضروری چیز ہے۔ لیکن تعمیری تنقید کے بغیر ہماری شخصی بہتری کا تصور شاید ادھورا ہی رہے گا۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ہر وقت کی تعریف ہمیں کبھی بھی اپنی کمیوں کو دور کرنا نہیں سکھا سکتی۔ پھر ہم خود سے جھوٹ بھی بول جاتے ہیں۔ جیسے کہ سب ٹھیک ہے اور کسی بہتری کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ پھر جیسے ہم کسی آئینے کے بغیر پوری طرح اپنے پیچھے نہیں دیکھ سکتے اسی طرح ہم اپنی شخصیت کے بلائنڈ سپاٹ کو بھی خود سے نہیں جانچ سکتے۔ لوگوں کی رائے ہمارا آئینہ ہوتی ہے۔ کبھی کبھی ہمیں اس میں اپنی شکل نہیں پسند آتی جس کے بارے میں آپ نے بہت سے شعر بھی سنے ہوں گے۔ اگر ابھی کوئی یاد آ رہا ہے تو کمنٹ میں لکھیں۔

بہرحال دوسروں کے لفظوں میں اپنی شکل کو دیکھنا اور اس میں سے اپنی بہتری کی تجاویز چھاننا ہماری ذمہ داری ہوتی ہے۔ یوں کہ ہم ہر رائے کو سنیں، اس کو اپنی ضرورت اور سیچوئیشن کے مطابق پوائنٹ نکالیں۔ اس بات کو قبول کریں کہ بات کہنے والے نے اپنی صلاحیت اور استعداد کے تحت یہ رائے دی ہے۔ ان کے دیکھنے کے لحاظ سے یہ ایک سچ ہی ہے۔ ان کا سچ۔ ضروری نہیں کہ یہ حرف بہ حرف ہمارا بھی سچ یا ضرورت ہو۔ اس کو جانچیں۔ اور جہاں اگر وہ اصل موضوع سے ادھر ادھر بھٹکنے لگیں تو انہیں بے شک یاد بھی دلا دیں کہ بات کیا ہو رہی تھی۔ اور شکریہ بھی ادا کریں کہ ان کی باتوں نے ہمیں ہماری ذات یا بات کے نئے پہلو سے متعارف کروایا۔

یہ لوگ کیا کہیں گے؟ کے سلسلہ کا آخری مضمون ہے۔ ہم سب واقف ہیں کہ ہمارے معاشروں کی سماجی و ثقافتی روایت میں منہ پر تعریف کو اچھی اخلاقیات یا پولائٹ مینرز اور پیٹھ پیچھے برائی کرنے کو گوسپ اور فن کا نام دیا جاتا ہے۔ بلکہ کچھ لوگ تو کہتے ہیں کہ یہ برائی تو وہ اگلے کے سامنے پر بھی کر سکتے ہیں۔ ڈرتے تھوڑا ہی ہیں۔ حالانکہ وہ سامنے کرتے نہیں ہیں بس سوچتے ہیں کہ شاید کریں گے۔ تاہم نظریاتی طور پر ہم ایسے نظام کا حصہ ہیں جو منہ پر تعریف اور پیٹھ پیچھے برائی کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ اس سے یقیناً یہ مراد ہے کہ منہ پر ہم دوسروں کی کمیوں کو سدھارنے کے لیے بہترین الفاظ میں سیدھی سچی بات کریں اور غیر موجودگی میں ایک دوسرے کو اچھے لفظوں سے یاد رکھیں۔

تو پھر میرا سوال ہے کہ کیا کریں کہ ہمیں کھلے دل سے اچھی اور تعمیری تنقید کا تحفہ قبول کرنا اور اچھے رنگوں میں ملفوف یہ تحفہ دوسروں کو دینا آ جائے؟

Facebook Comments HS