بلونت سنگھ کا ناول: رات چور اور چاند
پنجاب کی دھرتی نے ایسے کئی نامور ادیب اور شعرا پیدا کیے ہیں کہ جنہوں نے ادب کی دنیا میں سخن فہمی کو جلا بخشی۔ انہیں میں سے ایک بلونت سنگھ ہیں جنہوں نے اردو ادب کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں ہیں۔ وہ ایک بہترین ناول نگار، افسانہ نگار اور ڈرامہ نویس ہیں۔ انہوں نے اپنے فکشن میں پنجاب کی دیہی زندگی کی ایسی بہترین عکاسی کی ہے کہ جیسے مصور کینوس پر کوئی ایسا شاہکار تخلیق کرے جس میں ہر رنگ نمایاں بھی رہے اور گداز بھی نہ ہو۔
بلونت سنگھ کا قلم صحیح معنوں میں پنجاب کے دیہات کی سادگی، شرافت اور بھولے پن کے ساتھ ساتھ تند مزاجی کو بھی بیان کرتا ہے۔ رات چور اور چاند کے علاوہ انہوں نے اپنے دیگر ناولوں کالے کوس، چک پیران کا جیسا، عورت اور آب شار اور ایک معمولی لڑکی کے ذریعے پنجابی معاشرت کو اردو زبان کے ذریعے ایسے قارئین تک رسائی دی ہے جو پنجاب کی ثقافت سے نابلد ہیں۔ اردو کے ساتھ ساتھ ان کے ہندی میں بھی کئی افسانوی مجموعے شائع ہوئے۔
یہ ناول پہلی بار 1950 میں شائع ہوا۔ اس وقت میرے ہاتھوں میں جو ایڈیشن ہے وہ 2020 میں چھپا۔ یہ 308 صفحات اور 18 ابواب پر مشتمل ہے۔ رات چور اور چاند رومان نگاری پر مبنی ہے جس کا پلاٹ انسانی جبلت کے گرد گھومتا ہے۔ اس میں انسانی سرشت کی ادق کیفیات کو بیان کیا گیا ہے۔
آئیے ناول کی کہانی کا خلاصہ پیش کرتے ہیں۔ یہ کہانی ڈنگا گاؤں سے شروع ہوتی ہے۔ ڈنگا کا مطلب ٹیڑھا کے ہیں۔ یہ گاؤں جرائم پیشہ افراد کی آماجگاہ ہے اور چوری ڈکیتی ہی ان کا ذریعہ معاش ہے۔ ناول کا مرکزی کردار پالا سنگھ ہے جس کا باپ ڈاکو سنتا سنگھ ہے جو علاقہ بھر میں اپنی بدمعاش کاریوں کی وجہ بدنام ہے۔ پالا سنگھ عرف پالی جب ڈھائی سال کی عمر کو پہنچتا ہے تو سرکار اس کے باپ کو سنگین جرائم کی پاداش میں پھانسی دے دیتی ہے۔ پالی جب کچھ ہوش سنبھالتا ہے تو وہ گاؤں سے فرار ہو کر کلکتہ پہنچ جاتا ہے۔ پھر کئی سالوں بعد جب وہ لوٹتا ہے تو گبھرو جوان ہو چکا ہوتا ہے۔ اس کی واپسی کا بہانہ تو ماں کی ممتا ہے لیکن اصل وجہ سرنوں تھی جس سے وہ بچپن سے ہی محبت کرتا ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ وہ کھرانٹ ہو جاتا ہے۔ وہ جلد ہی گاؤں کے نوجوانوں اور بزرگوں میں گھل مل بھی جاتا ہے۔ لیکن وہ سرنوں اور اس کے والدین کو متاثر کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ سرنوں ہمسایہ گاؤں کے پرتھی پال سنگھ سے محبت کرتی ہے لیکن وہ سرنوں کو دھوکا دے جاتا ہے۔ سرنوں کے والدین اسے شہر میں بیاہ دیتے ہیں اور پالی اپنی محبت کو پانے میں ناکام ہو جاتا ہے۔ جب پالی ڈیڑھ سال بعد سرنوں سے ملنے شہر جاتا ہے تو وہ بچپن کے دوست کو احسن طریقے سے خوش آمدید کہتی ہے۔ اس دوران پالی کی نظریں اس کے خوبصورت بدن سے ٹکی رہتی ہیں۔ وہ بے ایمان ہو جاتا ہے اور موقع تاڑ کر سرنوں پر جھپٹ پڑتا ہے۔ سرنوں اس کی طاقت کے سامنے بے بس ہو جاتی ہے۔ سرنوں اسے محبت کے لائق ہی نہیں سمجھتی اور اس حرکت کے بعد تو وہ اس سے نفرت بھی کرنے لگتی ہے۔ وہ اس سے مثبت جذبے کی امید نہیں رکھتی۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ پالی جب گاؤں واپس لوٹا تھا تو اس نے اپنے آپ کو بدلنے کی کوشش بھی کی تھی تا کہ سرنوں کے والدین کو قائل کر سکے۔ اس نے شرافت اختیار کرتے ہوئے تمام غلط کاموں کو خیرباد کہہ دیا تھا لیکن وہ اپنی اصلاح کے باوجود اپنی جبلت پر قائم رہا، وہ بدمعاشی کرتا ہے اور ڈاکے بھی ڈالتا ہے۔
ناول سے اقتباس: ”وہ پلکیں جھپکے بغیر ٹکٹکی باندھے اس کی جانب دیکھ رہی تھی۔ اس کے چہرے سے اب کسی جذبے کا بھی اظہار نہیں ہوتا تھا۔ اس نے بدن ڈھانپنے کی ضرورت نہیں سمجھی۔ جو ہونا تھا ہو چکا۔ پالی عجب گومگو کی سی حالت میں کھڑا تھا۔ پھر سرنوں کے لب ہلے اور سرد مہری سے بے کیف آواز میں بولی: ’کیوں! منہ کالا کر چکے اپنا۔‘ پالی نے کچھ کہنا چاہا۔ لیکن بیشتر اس کے کہ وہ کچھ کہہ پاتا، سرنوں اٹھ کر بیٹھ گئی۔ اس نے اپنے بدن کی عریانی کی اب کوئی پروا نہ کی۔ اس کے جسم کو اس حالت میں دیکھ کر پالی کو کراہت سی محسوس ہونے لگی: ’تم محبت کرنے کے اہل نہیں ہو۔ تم صرف گھٹیا سی انسانی خواہشات کے پتلے ہو۔“
انسانی جبلت پر اقتباس: ”سرنوں سر کے تیز جھٹکے سے زلفیں پیچھے کی جانب پھینکتے ہوئے بولی: ’تم زانی اور لٹیرے باپ کے زانی اور لٹیرے بیٹے ہو۔ تم سے کسی بہتر جذبے کی امید کرنا حماقت ہے۔“
مشرف عالم ذوقی کے اس ناول کے بارے میں تاثرات: ”رات چور اور چاند پنجاب کی عکاسی کرنے میں مکمل طور پر کامیاب ہے، جس پنجاب میں بلونت سنگھ نے ایک مسکراتے ہوئے پنجاب کا تصور پیش کیا تھا۔ ہیمنگ وے کی طرح بلونت سنگھ بھی انسان کی قوت برداشت، اس کے ضبط و تحمل، صبرو استقلال اور عزم و حوصلے کے قائل تھے۔“
اشفاق احمد کی نظر میں : ”عام خیال یہ ہے کہ بلونت سنگھ کا نام ذہن میں آتے ہی پنجاب کے دیہات اور گاؤں کا ماحول نگاہوں کے سامنے گھوم جاتا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ بلونت سنگھ کسی مخصوص فضا کا انسان نہیں، کہانی کا بندہ ہے۔ اس کی کہانیاں ایسے کوزے ہیں جو بڑی چابکدستی کے ساتھ تیار کر کے بڑے پریم سے سجاتا ہے۔“
چہ جائے کہ بلونت سنگھ اور ان کے کام کو نظر انداز کیا جاتا رہا لیکن وہ اپنے مقصد پر عمل پیرا رہے اور اپنی تخلیقات کو منظر عام پر لاتے رہے۔ یہ ناول بھی ان کی اسی کاوش کا نتیجہ ہے۔ ان کے پنجاب کی دیہی زندگی پر مطالعے اور گہرے مشاہدے کا اثر اس ناول پر عیاں ہے۔ بہر صورت بلونت سنگھ کا قلم رواں ہے اور وہ بڑی آسانی سے واقعات کو فکشن میں ڈھال کر پیش کر دیتا ہے۔ رات چور اور چاند کی کہانی بظاہر غیر متنوع ہے اور اس کا آغاز بڑی سادگی سے ہوتا ہے جو آگے بڑھتے بڑھتے مختلف کرداروں سے بھر جاتی ہے لیکن کہانی میں کوئی ہیر پھر یا جھول موجود نہیں کہ جس سے محسوس کیا جا سکے کہ مصنف کی گرفت کمزور پڑ رہی ہے۔
ناول کا مرکزی خیال بانو قدسیہ کے ناول ”راجہ گدھ“ اور گیبریل گارشیا مارکیز کے ناول ”تنہائی کے سو سال“ کی طرح سرشت پر مبنی ہے۔ بلونت سنگھ نے اس ناول میں بھی یہی پیغام دیا ہے کہ انسان اپنی سرشت کے ہاتھوں مجبور ہے، وہ جتنا مرضی سنور جائے اور اصلاح پسند ہو جائے لیکن جب اسے کوئی موقع میسر آتا ہے تو اس کی جبلت سبقت لے جاتی ہے۔


