ایران اسرائیل و امریکہ کا سب سے بڑا اتحادی و سہولت کار


2002 میں حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے اسرائیل کے ساتھ ”مذاکرات“ کیے اور قیدیوں کے تبادلے کا ایک بڑا اور حیرت انگیز معاہدہ کیا جس کے دوران 400 سے زیادہ لبنان، فلسطین اور دیگر عرب ملکوں کے اسرائیل کی قید میں موجود شہریوں کو رہا کیا گیا۔

اس ”معاہدے“ سے حسن نصراللہ ایک طاقتور لیڈر بن کر ابھرے۔

تاہم حالات واقعات کی عرق ریزی سے حقائق تلاشنے والے مبصرین اور با خبروں کے مطابق یہ ”معاہدہ“ دراصل حسن نصراللہ کی امیج بلڈنگ کے لیے کچھ ”مہربان طاقتوں“ نے کروایا تھا کہ اہل اسلام میں خصوصاً عرب دنیا میں ان کا قد بڑھے اور وہی ہوا کہ اس کے بعد حسن نصراللہ تیزی سے مقبول ہوتے چلے گئے اور لبنان میں حریری خاندان کو انہوں نے بہت ٹف ٹائم دیا جو کہ سعودیہ کے بہت نزدیک جانے جاتے تھے اور جب رفیق حریری قتل ہوئے تو عوام میں حزب اللہ اور شام کے لیے نفرت اور غصے کے واضح آثار بھی دیکھے گئے تھے

اور

یاد رہے کہ جس طرح ایران کی مکمل آشیرباد سے 7 اکتوبر 2023 کو حماس نے حماقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے وحشی سانڈ اسرائیل پر یلغار کر کے اسے مشتعل کیا اور اہل فلسطین کا بہت سا جانی و مالی نقصان کروا رہا ہے، بالکل اسی طرح کی حماقت حسن نصراللہ حزب اللہ سے 2005 میں کروا چکے ہیں کہ اپنے جنگجو اسرائیل میں داخل کروائے اور اس کے صرف ایک فوجی کو جان سے مارا اور کچھ کو یرغمال بنایا جس پر درندہ صفت اسرائیل دندناتا ہوا لبنان پر چڑھ دوڑا تھا اور حزب اللہ کے احمقانہ ایڈونچر کی بدولت 1200 معصوم لبنانی جان کی بازی ہار بیٹھے تھے اور یہ جنگ 34، 33 روز تک جاری رہی تھی۔

اور اب حماس کی حماقت کا خمیازہ فلسطینی بھگت رہے ہیں لیکن یاد رہے کہ ان دونوں تنظیموں کے پیچھے ایران ہے جس کی قیادت کے اسرائیل کے ساتھ گہرے تعلقات کا پول وکی لیکس کے ذریعے دنیا جان چکی ہے کہ ایران مسلمان ملک عراق سے اپنی 11 سالہ جنگ کے دوران اس اسرائیل سے اسلحہ لیتا رہا تھا جس کے خلاف وہ عوام میں آتش فشاں بنا رہتا ہے اور ”مرگ بر اسرائیل“ کے منافقانہ نعرے بھی لگاتا ہوا نظر آتا ہے اور حقائق یہ ہیں کہ اسے جنگ جیسے اہم، سنجیدہ اور اسٹریٹجک ایشو کے دوران بھی اسرائیل ہی ”قابل بھروسا“ نظر آتا ہے، کیا دنیا میں کبھی ایسا ہوا ہے؟

بہرحال یہاں یہ نکتہ بھی ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ حماس اور اسرائیل کہیں امریکی و اسرائیل ہی کے بڑھائے مہرے نہ ہوں کہ تھوڑے عرصہ بعد 7 اکتوبر جیسی حماقت کر کے اسرائیل کو لبنان اور فلسطین پر حملے کا جواز پیدا کر کے اسرائیل کے ردعمل کے بعد اس کی طاقت کا زبردست خوف اردگرد کے ممالک میں اور عرب عوام میں پیدا کر کے ان کا مورال ڈاؤن کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہوں؟ اور پھر منہ زور اسرائیل اور اس کے بے شرم حواری یہ بھی باور کرانے میں کامیاب رہتے ہوں کہ اسرائیل تنہا اور لاوارث بالکل بھی نہیں ہے اور یہ اس بار بھی امریکہ نے 2 بحری بیڑے اور اسلحے سے بھرے متعدد ہوائی جہاز اسرائیل بھیج کر دھڑلے سے دنیا خاص کر مسلمانوں اور عربوں کو بتا دیا ہے اور یہی کام برطانیہ نے بھی کیا کہ اسلحے سے لیس جہاز بھیج دیا اور فرانس کا فاشسٹ صدر میکرون بھی ڈھٹائی سے نیتن یاہو کے ساتھ کھڑا ہے، یورپی یونین اور نیٹو بھی اسرائیل کی حمایت میں پالیسی بیانات دے چکے ہیں اور سلامتی کونسل میں بے شرمی سے امریکہ مسلسل وحشی اسرائیل کے خلاف روس و چین کی قراردادیں ویٹو کیے جا رہا ہے

اور مسلم دنیا کا حال کیا ہے؟

مصر نے غزہ بارڈر بند کر کے فلسطینیوں کے مصر داخلے پر پابندی عائد کردی ہے، ترکیہ اور اردن جو اسرائیل کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں کرتے ہیں، نے اب تک یہ اعلان کرنے کی جرات بھی نہیں کی ہے کہ

”ہم مستقبل میں اسرائیل کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں نہیں کریں گے“
اور ایران جو حماس اور حزب اللہ کا سرپرست اعلی ہے، کم از کم اسی پر معافی مانگ لے کہ

” 11 سالہ عراق سے جنگ کے دوران اسرائیل سے اسلحہ لینے پر ہم پوری مسلم دنیا خاص کر فلسطینیوں سے معذرت خواہ ہیں“

بہرحال لڑائی کے دوران جو آپ کو لہولہان ہوتا دیکھ کر بھی آپ کو بچانے کے لیے عملی قدم نہیں اٹھاتا ہے وہ آپ کا حقیقی خیرخواہ کبھی بھی نہیں ہو سکتا ہے۔ اور لبنانیوں اور فلسطینیوں کو یہ بات جتنی جلد سمجھ آ جائے بہتر ہو گا۔ ایران کے اپنے سیاسی مفادات ہیں اور اس کے لیے اس نے فلسطین اور لبنان کی سرزمین کو غیروں کی چراگاہ بنانے کا سفاکانہ کھیل نہایت ڈھٹائی سے شروع کیا ہوا ہے اور اس سے وہ اپنے مفادات پوری طرح سے حاصل کر رہا ہے کہ ابھی حال ہی میں امریکہ نے ایران کے اربوں ڈالرز کے منجمد اکاؤنٹس بحال کر دیے ہیں اور ایک عقل کے اندھے کو بھی آسانی سے یہ نظر آ رہا ہو گا کہ ایران کو کس ”سہولت کاری“ کی وجہ سے یہ ”پیکج“ ملا ہو گا؟ اور پھر حزب اللہ جسے امریکہ بہادر نے عالمی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا ہوا ہے کو امریکہ نے ”ڈھیل“ کیوں دی ہوئی ہے؟ اور اس کے ساتھ اسامہ بن لادن، طالبان اور القاعدہ والا سلوک کیوں نہیں کر رہا ہے؟

بہرحال سفاکانہ کھیل جاری ہے اور پیچھے موجود بے حس اور گھناؤنے چہرے بھی آسانی سے پہچانے جا سکتے ہیں لیکن المیہ ہے کہ سوشل میڈیا اور میڈیا کے ذریعے ان چہروں کو ”نجات دہندے“ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے اور معصوم عوام ہیں کہ گاجر مولی کی طرح کٹ رہے ہیں اور غزہ کی میلوں لمبی پٹی اب کسی مرہم پٹی کے انتظار میں ہے جو کہ کسی دردمند دل رکھنے والے اصلی مسیحا کے ہاتھوں میں ہے جو نجانے کب سامنے آئے گا؟ آئے گا بھی یا نہیں؟ یہ سوال بھی بہت اہمیت کا حامل ہے۔

Facebook Comments HS