بھارت کی عالمی رسوائی: لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا


پاکستان میں دہشتگرد جاسوس کمانڈر کلبھوشن یادیو کے پکڑے جانے سے قطر میں 8 اہلکاروں کی سزائے موت تک، بھارتی بحریہ دنیا بھر میں دہشتگردی و جاسوسی نیٹ ورک کی علامت بن گئی ہے۔ بھارت کے جاسوسی و دہشتگردی کے نیٹ ورکس دنیا بھر میں ایک عرصے سے فعال ہیں۔ پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے پر بھارت کے بارے میں بین الاقوامی برادری کو بار بار متوجہ کیا گیا مگر اس نے کان نہیں دھرے۔ کینیڈا، برطانیہ جیسے مغربی ممالک میں بھارت کی دہشتگردانہ کارروائیاں دنیا کے سامنے آشکار ہو چکی ہیں، انڈین انٹیلیجنس ایجنسیز کے کرائے کے قاتل سکھ لیڈرز کو قتل کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑے جا چکے ہیں، اب قطر میں بھارتی بحریہ کے افسروں کی سزائے موت نے اس پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے گویا:

لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا

26 اکتوبر 2023 کو قطر کی عدالت نے بھارتی بحریہ کے آٹھ سابق افسران کو جاسوسی کے سنگین الزامات پر سزائے موت سنائی تو معاملے کی نوعیت کے متعلق ہر فرد جاننے کا خواہش مند تھا کہ ان افسران کو قطر میں یہ سزا کیوں سنائی گئی۔

چند ماہ قبل کینیڈا میں ہونے والے سکھ رہنما ہر دیپ سنگھ نجار، سربراہ خالصتان ٹائیگر فورس کے قتل کا قضیہ ابھی ٹھنڈا نہیں ہوا تھا کہ بھارتی حکومت کو بین الاقوامی سطح پر نئی شرمندگی اٹھانی پڑی۔

قطر کی عدالت نے جن بھارتی بحریہ کے افسران کو سزائے موت سنائی، انہیں قطر کے انٹیلی جنس ادارے نے 30 اگست 2022 کو جاسوسی کے سنگین الزامات میں گرفتار کیا تھا۔ قطر نے سرکاری طور پر الزامات کی تفصیل بیان نہیں کی لیکن مقامی اور بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق گرفتار انڈینز پر الزام ہے کہ انھوں نے قطر کے انتہائی خفیہ آبدوز منصوبے سے متعلق حساس معلومات اسرائیل کے ساتھ شیئر کیں۔ ان افسران کا رابطہ بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ سے بھی تھا جس کے ٹھوس الیکٹرانک ثبوت قطر کے پاس موجود تھے۔

یہ اہلکار قطر بحریہ کے لیے کام کرنے والی ایک کمپنی ’الظاہرہ العالمی کنسلٹینسی اینڈ سروسز‘ میں اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے، جو ایک عمانی شہری خمیص العجمی کی ملکیت تھی۔ وہ عمانی فضائیہ کا ریٹائرڈ سکواڈرن لیڈر تھا۔ یہ کمپنی قطر کی بحریہ کو تربیت اور ساز و سامان فراہم کرنے کے ساتھ دفاعی آلات چلانے اور ان کی مرمت اور دیکھ بھال کرتی تھی۔ کمپنی کے اعلیٰ عہدیداروں میں 75 بھارتی شہری تھے جن میں سے بہت سے بھارتی بحریہ کی آبدوزوں کے منصوبوں پر کام کرچکے تھے۔

بھارت اور قطر کے درمیان ایک معاہدے کے تحت ان اہلکاروں کو ملازمت دی گئی تھی۔ اس واقعے کے بعد کمپنی نے اپنے تمام بھارتی شہریت والے ملازمین کی ملازمت ختم کردی جبکہ ان کی مدت ملازمت 2029 ء تک تھی۔ مئی 2023 ء میں قطر نے اس کمپنی کو بھی بند کر دیا اور اس کے تمام اثاثے ایک فرانسیسی کمپنی کی تحویل میں دے دیے، جو اب تربیت اور دیکھ بھال کی یہی ذمے داری سنبھالے گی۔ سزا یافتہ اہل کاروں میں انڈین نیوی کے تین ریٹائرڈ کپتان، چار کمانڈر اور ایک ملاح (سیلر) شامل تھے، جن کے نام یہ ہیں۔ بحریہ کے سابق کمانڈر پورنیندو تیواری ( مینیجنگ ڈائریکٹر ) ، بیریندر کمار ورما (نیول اکیڈمی ڈائریکٹر) ، امیت ناگپال، سوگوناکر پاکالا (ایف سی این ڈائریکٹر) ، نوتیج سنگھ گل ( ٹریننگ ڈائریکٹر) ، سورب وشسٹ، سنجیو گپتا اور راجیش گوپا کمار۔

یہ بھارتی اہلکار قطر میں چھوٹی آبدوزیں بنانے کے ایک انتہائی حساس منصوبے پر کام کر رہے تھے جس کی معلومات اسرائیل کو فراہم کرنے میں ملوث پائے گئے۔ قطر کے اس عدالتی فیصلے کا پس منظر یہ ہے کہ قطر ان دنوں اٹلی سے ایک جدید ترین آبدوز کے حصول کے خفیہ منصوبے پر کام کر رہا ہے، جو ایسے میٹریل سے بنی ہوگی جسے تلاش کرنا ممکن نہیں ہو گا۔ جیسے سٹیلتھ ( stealth) جنگی طیارہ ریڈار پر دکھائی نہیں دیتا اسی طرح یہ سٹیلتھ آبدوز آلات پر دکھائی نہیں دے گی۔

سوال یہ ہے کہ اسرائیل کو قطر کی اس جدید ترین آبدوز سے کیا دلچسپی ہے۔ چونکہ قطر ایران کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں، اسرائیل کو شبہ تھا کہ ایران اس آبدوز میں دلچسپی رکھتا ہے ’اس لیے اس کی معلومات اسرائیل حاصل کرنے کا خواہاں تھا۔ قطر کے اسرائیل کے ساتھ باضابطہ تعلقات نہیں ہیں جس کی وجہ سے اسرائیل براہ راست قطر میں جاسوسی مشکل تھی اس لیے اس نے بھارتی اہلکاروں کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا۔ اس عدالتی فیصلے سے بھارت کو شدید دھچکا لگا ہے‘ جو یہ سمجھ رہا تھا کہ قطر بھارت سے تعلقات اور مفادات کا خیال کرتے ہوئے ان بھارتی افسران کو رہا کردے گا۔

اس اہم معاملہ میں قطر نے مصلحتوں کی پروا نہ کرتے ہوئے قومی سلامتی کے معاملے پر مضبوط موقف اختیار کیا۔ اگرچہ قطر اور بھارت دونوں حکومتیں اس معاملے میں محتاط طرز عمل اختیار کیے ہوئے ہیں تاہم قطر نے گزشتہ دہائیوں میں اپنی شناخت ایک طاقتور، اصولی موقف رکھنے اور نہ ڈرنے والے ملک کی حیثیت سے بنائی ہے۔ سعودی عرب جیسے طاقتور ملک سے ٹکر لینا آسان کام نہیں تھا لیکن قطر نے یہ بھی کر دکھایا۔ فیفا ورلڈ کپ کا انعقاد ہو ’یا طالبان اور امریکہ کے مابین مذاکرات‘ حماس کا ہیڈ کوارٹر ہو یا ”الجزیرہ“ کی آزاد صحافتی پالیسی، قطر نے اپنی طرف عالمی توجہ مبذول کروائی ہے۔

بی جے پی کی رہنما نوپور شرما کے پیغمبر اسلامﷺ کے بارے شرمناک بیان پر بھی قطر کی آواز، مذمت کرنے والوں میں سب سے بلند تھی۔ موجودہ فلسطینی قضیے کے معاملے میں بھی قطر اسرائیل کی کھلی مذمت کر رہا ہے۔ اس وجہ سے بھارتی سوشل میڈیا میں یہ بے بنیاد پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ قطر نے مودی حکومت کو اسرائیلی موقف کی تائید کی سزا دی ہے۔

قطر اور بھارت کو تجارتی حوالوں سے دیکھیں تو دونوں ملکوں کی باہمی تجارت 17.2 ارب ڈالر سے زیادہ ہے، بھارت گیس سے مالامال خلیجی ریاست کا دوسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ بھارت اپنی گیس کا 40 فیصد قطر سے درآمد کرتا ہے ’آٹھ لاکھ بھارتی قطر میں ملازمت کرتے ہیں۔ اب یہ بھی امکان ہے کہ ان میں سے جو اہم اور حساس عہدوں پر ہیں انہیں برطرف کر دیا جائے۔ معاملے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ عرب ممالک میں جہاں بھارتی باشندے بہت بڑی تعداد میں ہیں، کیا وہ بھی اس معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اپنے قومی اور خفیہ رازوں کے لیے فکر مند ہوں گے؟ ایسا ہوا تو عرب ممالک میں بھارتی عہدیداروں کا کوئی مستقبل نہیں۔ کینیڈا کے واقعے کی ہلچل ابھی تھمی نہیں تھی کہ قطر کا یہ تازہ معاملہ بھارتی رسوائی کا سبب بنا ہے۔

بھارت پچھلے کچھ عرصے سے دنیا میں ان ملکوں کے ساتھ سٹریٹجک تعلقات استوار کر رہا ہے جو انسانیت سوز جرائم میں ملوث ہیں۔ خود بھارت کا ریکارڈ بھی انتہائی شرمناک ہے۔ بھارتی خفیہ ایجنسی را کے اہلکاروں کی طرف سے کینیڈا میں خالصتان کے حامی سکھ رہنما کا قتل ہو یا قطر میں جاسوسی پر، بھارتی بحریہ کے افسران کی سزائے موت ہو یہ واقعات واضح ثبوت ہیں کہ بھارت اپنے ریاستی عناصر کے ذریعے دنیا بھر میں تشدد اور دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہے اور وہ ہر اس ملک کی سلامتی و تحفظ کے لئے خطرہ بن رہا ہے جہاں اس کے شہری موجود ہیں۔

بھارت ایک ایسے ایجنڈے پر کارفرما ہے جو جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور کینیڈا میں بد امنی کو ہوا دے رہا ہے۔ اس کے دفاعی اور خفیہ ادارے دوسرے ملکوں میں جاسوسی اور گڑ بڑ پھیلانے کے منصوبوں میں ملوث ہیں۔ سات سال پہلے پاکستان میں بلوچستان میں گڑ بڑ پھیلانے کے لئے بھارتی نیوی کے ایک افسر کلبھوشن یادیو گرفتاری کے بعد اعتراف کر چکے ہیں کہ وہ بلوچستان میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے ماسٹر مائنڈ رہے۔

بھارت نے پچھلی چند دہائیوں سے اپنی دلچسپی کو مغرب سے چلنے والے جدیدیت کے ایجنڈے کے ساتھ جوڑ دیا ہے جس کے لیے اس نے اپنی بہت سی ثقافتی اقدار کو مغرب میں مقبولیت کے لیے تبدیل کر دیا ہے، جیسے ہم جنس شادیوں کو قانونی حیثیت دینا۔ بھارت بار بار اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے یکجہتی کا اظہار کرتا رہا ہے اب غزہ پر درندگی کا مظاہرہ کرنے پر نریندر مودی اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں۔ بھارت کی بطور ریاست دہشت گردی کی سرپرستی اور اس کی امن دشمن سرگرمیوں کو روکا نہ گیا تو انتہا پسندی و عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی ایک نئی شکل دنیا کا امن تباہ کردے گی۔

جاسوسی کے واقعے کے متعلق کچھ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ قطر میں شاذ و نادر ہی سزائے موت دی جاتی ہے۔ قطر میں ایک پھانسی 2003 میں اور آخری پھانسی 2020 میں ہوئی تھی۔ اس لیے ہو سکتا ہے کہ حکومتوں کی سطح پر بات چیت میں بھارتی اہلکار سزائے موت سے بچ جائیں۔ جب کہ دوسری جانب قطر کی حکومت کے مضبوط موقف کو دیکھیں تو زیادہ امکان ہے کہ سزائے موت کے حکم پر عمل درآمد کیا جائے، اگر ایسے ہوا تو یہ بھارت میں ایک نئے کہرام کا سبب ہو سکتا ہے۔

Facebook Comments HS