خود کشی، خواب اور محترم مولانا


دنیا میں بے شمار حادثاتی اموات ہوتی ہیں۔ ان میں ایک حادثاتی موت خود کشی بھی شامل ہے۔ بلاشبہ اس موت کے کئی اسباب ہوتے ہیں اور دنیا میں ہر خود کشی کے اسباب میں جہاں مختلف مسائل، وجوہات شامل ہیں وہاں سب سے اہم نا امیدی کی بنیاد پر پیدا ہونے والی کمزور قوت فیصلہ، منفی طرز فکر پر مبنی ہیں اور ان عوامل کی وجہ سے متاثرہ شخص اس بات پر یقین کرنا شروع کر دیتا ہے کہ زندگی کے مسائل اور مشکلات کا واحد حل زندگی کا ہی خاتمہ کر دینے میں ہے۔

تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں روزانہ تین ہزار افراد خودکشی کے نتیجے میں لقمہ اجل ہو رہے ہیں۔ اعداد و شمار کی روشنی میں ہمارے ملک میں ہر ایک لاکھ افراد میں سے 36 افراد خودکشی کر لیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق خودکشی کے ذریعے اپنی زندگی کو ختم کرنے کا رجحان پندرہ سے چوبیس سال کی عمر یعنی نوجوان نسل کے افراد میں زیادہ دیکھنے میں آیا ہے۔

یہ بات واضح ہے کہ انسان جب اپنے کسی عمل کے نتائج میں مایوس ہونا شروع ہوجاتا ہے تو زندگی سے بیزار ہو کر موت کی تمنا کرنے لگتا ہے کہ کاش مجھے ان نتائج سے قبل ہی موت آجاتی۔ تاریخی طور پر حضرت مریم علیہا السلام جب، عیسٰی علیہ السلام کی پیدائش کے بعد ، حالات کے بارے ممکنہ اندیشوں میں مبتلا تھیں کہ اب میں اس بچے کا کیا کروں گی؟ لوگوں کو کیا منہ دکھاوں گی؟ دنیا کیا کہے گی؟ اس وقت فرمایا۔ یٰلیتنی مت قبل ہٰذا و کنت نسیاً منسیاً۔ (سورۃ مریم 23 ) ”کاش اس وقت کے آنے سے پہلے میں مر چکی ہوتی، اور ایک بھولی بسری ہوتی“ ذرا غور کیجیے کہ یہ فقرہ ان کے اندرونی احساسات کی تعبیر کو پیش کر رہا ہے۔ جس میں موت کو یاد کیا جا رہا ہے۔

کون سی خود کشی درست ہے یا کون سی حرام؟ اس کا فوری طور پر تعین کرنا بھی ایک مشکل ترین مسئلہ ہے۔ گھریلو مسائل، روزگار کے مسائل، طبی مسائل، ذہنی مسائل، عقیدت و محبت کے مسائل، تنقید و تنقیص، عدم برداشت کی مختلف وجوہات، عزت و غیرت کے مسائل اور بے شمار ایسے مسائل ہوتے ہیں جن کا فوری ادراک ممکن نہیں ہوتا ہے اور بالآخر متاثرہ شخص نتائج کے خوف میں مبتلا ہو کریا پھر نتائج کی نا امیدی کے احساس سے موت کی تمنا کر کے اسے زندگی کی جنگ سے ہار کر موت کو گلے لگا لیتے ہیں۔

ایسے حادثاتی واقعات میں لواحقین و متاثرین کے لیے سب سے بڑی آزمائش یہی ہوتی ہے کہ اپنے اس دکھ اور غم کو دوسروں کے سامنے کیسے ظاہر کریں؟ اس موت کو کیا نام دیں؟ اس طرح کی موت جو کہ باعث شرمندگی ہے اس کا اظہار کرنا بھی چاہیے یا نہیں؟ دوسری جانب ماہر نفسیات کے مطابق اس بات کا امکان موجود رہتا ہے کہ خصوصاً مذہبی شناخت کے حامل لوگ، متاثرہ شخص کے لواحقین ظاہری شہادتوں کے باوجود ایسے حادثات کو فوری طور پر تسلیم کرنے میں شرمندگی محسوس کریں گے، معلوم ہونے کے باوجود اصل حقائق پوشیدہ رکھیں گے یا پھر شہادتوں کے باوجود قبول کرنے میں کسی تردد کا اظہار یا اطمینان قلب کے لیے لوگوں کے سامنے معقول عذر کا جواز تراشیں گے کہ یہ موت خود کشی نہیں بلکہ ایک قدرتی حادثہ تھا اور یہ بھی ممکن ہے کہ لواحقین رب کی رضا میں راضی ہو جائیں تاکہ دل کو اطمینان حاصل ہو سکے۔ بہرحال اصل حقیقت حال تو رب ہی جانے۔

پاکستان کے معروف مبلغ و داعی محترم مولانا طارق جمیل صاحب جو کہ لوگوں کے غم بانٹنے، انہیں راہ ہدایت کی جانب رہنمائی فراہم کرنے، سماج میں نفرتوں کے خاتمے اور محبتوں کو پروان چڑھانے میں ہمیشہ اہم کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں۔ جن کی خدمات لائق تحسین ہیں۔ کچھ روز قبل بدقسمتی سے ان کے جواں سال صاحبزادہ عاصم جمیل کے ساتھ خود کشی کا افسوس ناک واقعہ پیش آ جاتا ہے۔ جس پر ہر کسی کو دکھ اور افسوس ہوتا ہے۔ یقیناً حضرت محترم مولانا اور ان کے اہل خانہ کا موجودہ دکھ، کرب اور غم کی کیفیت میں ہے اور یہ حقیقت میں ایک ایسا صدمہ ہے کہ تمام اولاد والے بھی اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کرتے ہیں۔ لہذا ہمیں چاہیے کہ مولانا محترم کے اس غم اور دکھ کی گھڑی میں ان کا غم بانٹنے کی کوشش کریں اور ان سے تعزیت پیش کریں۔

لیکن دوسری جانب چند دنوں سے سوشل میڈیا پر جو کچھ ہو رہا ہے، وہ طوفان بن کر ان دکھوں پر نمک پاشی کے مترادف اور کرب ناک صورتحال اختیار کرتا جا رہا ہے۔ کوئی وکیل بن کر ان کے بیان کے خلاف شہادتیں دے رہا ہے۔ تو کوئی قاضی امام ابو یوسف بن کر مولانا کو کٹہرے میں کھڑا کر کے سوالات کی بوچھاڑ کر کر رہا ہے۔ کوئی ملا علی قاری، امام ابن تیمیہ، امام اعظم بن کر فتوے دے کر علمی معروضات قائم کر رہا ہے، تو کوئی ریاضی دان محمد بن موسی الخوارزمی بن کر دن رات کا حساب لگا کر پیش کر رہا ہے اور کوئی علامہ ابن سیرین بن کر خواب کی تشریح و تعبیر پر تنقید کے نشتر نچھاور کر رہا ہے۔

سوال یہ ہے کہ ایک حادثہ ہو گیا۔ لیکن دوسری جانب اچانک یہ کیا ہوا کہ کچھ لوگوں کی جانب سے مولانا کے بیان پر تنقید و تحقیر کا بازار گرم ہو گیا۔ ایسی صورتحال کیوں سامنے آئی؟ کیا وجہ ہو سکتی ہے؟

میرے ناقص ذہن میں جو بات گردش کر رہی ہے، ممکن ہے میرے سوچنے کا زاویہ درست نہ ہو، ہم ایک ایسے معاشرے میں جی رہے ہیں جہاں عمومی طور پر سوچنے سمجھنے اور غور فکر کے دروازے بند ہیں۔ اخلاقی تربیت کا کثرت سے فقدان ہے، علمی شعور ناپید ہے، عدم برداشت کی شدت ہے اور مکالمہ کی آزادی خوف موجود ہے۔ ایسے میں مولانا محترم نے اولاد کی فطری محبت سے سرشار ہو کر، ممکنہ غیر ارادی طور پر خود کشی جیسی تہمت کو دھونے کی کوشش میں جو بیان پیش فرمایا ہے، اس کے باعث معترضین کو سوالات اٹھانے اور تنقید کرنے کا موقع خود ہی فراہم کر دیا ہے، اور بے لگام سوشل میڈیا میں بھی چند عدم برداشت لوگ اپنی لائیکس بڑھانے کی خاطر اپنے کردار واضح کر رہے ہیں۔

ہونا کیا چاہیے تھا؟

ہونا یہ چاہیے تھا کہ مولانا محترم اپنے اس دکھ کی گھڑی پر کچھ عرصہ خاموشی اختیار فرماتے اور اپنے غم کو ہلکا کرنے کے لیے صرف لوگوں سے تعزیت وصول فرماتے۔ بچے کی مغفرت کی دعا کرواتے۔ لیکن انتہائی معذرت اور ادب کے ساتھ چونکہ محترم مولانا ایک معروف مبلغ حیثیت رکھتے ہیں۔ ممکن ہے کہ ایسے دکھ بھرے ماحول میں جس طرح انہوں نے اپنے جذبات کا اظہار پیش کیا، اسے بے شمار لوگ نے قبول کرنے کے بجائے شدید تنقید کا نشانہ بنا ڈالا۔ میرا تو خیال ہے کہ خواب والے معاملے کو عوام کے سامنے بیان کرنا کسی بھی طور پر مناسب عمل نہیں تھا۔ محترم مولانا صاحب کو اگر کسی صاحب خیر نے اپنا خواب بیان کر ہی دیا تھا تو اسے اپنی ہی حد تک محدود فرما لیتے تو شاید زیادہ بہتر عمل ہوتا۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے جو خواب اپنے والد محترم یعقوب علیہ السلام کو سنایا کہ میں نے خواب دیکھا ہے کہ گیارہ ستارے، چاند اور سورج مجھے سجدہ کر رہے تو یعقوب علیہ السلام نے فرمایا کہ ”قال یٰبنی لا تقصص رئیاک علٰۤى اخوتک فیکیدوا لک کیداً“ (سورۃ یوسف 5 ) ”کہا اے میرے بچے، اپنا خواب اپنے بھائیوں سے نہ کہنا کہ وہ تیرے ساتھ کوئی چال چلیں گے“ لہذا خوابوں کے بارے میں یہ تعلیم ملتی ہے کہ خواب اچھا ہویا برا، ہر کسی کے سامنے بیان نہیں کرنا چاہیے اور پھر ایسا معاشرہ جہاں منتشر الخیال کے لوگ موجود ہوں تو ایسے میں اس طرح کے خواب عوام میں بیان کرنا کسی بھی طور پر دانشمندی والا عمل نہیں کہلایا جاسکتا ہے، گویا آپ نے وہ خواب بیان فرما کر بچے کو شہید قرار دے کر خود ہی لوگوں میں ایک محاذ قائم کرنے کا موقع فراہم کر دیا ہے۔ جس نے مسئلہ کی نوعیت کو اس قدر الجھا کر رکھ دیا کہ لوگ آپ سے تعزیت پیش کرنے کے بجائے اعتراضات کی ٹوکری اٹھائے پھر رہے ہیں۔ یعنی آپ کا ایسے موقع پر بیان کردہ خواب رحمت بننے کے بجائے زحمت بن گیا ہے۔

میرے گمان کے مطابق کسی بھی داعی، مبلغ، حکیم، عالم دین، مجتہد کی فراستی تربیت کا یہ ظہور ہونا چاہیے کہ وہ بات کرتے وقت اپنے ارد گرد ماحول اور حالات کو دیکھے، دور اندیش ہو، لوگوں کی علمی بصیرت سے آشنا ہو، متفرق مزاج سے واقف رکھتا ہو، اور ایسی کسی بات کو بیان کرنے سے گریز کرتا ہو، جس سے تنقید و تحقیر کے پہلو نکلتے ہوں، اور خصوصی طور پر ایسے موقع پر جذبات پر قابو رکھنا ہی بہترین حکمت و دانش کی بات ہو سکتی ہے۔ عربی کا مقولہ ہے کہ کلموالناس علیٰ قدر عقولھم ”لوگوں کے ساتھ ان کی عقلوں کے مطابق بات کرو“

ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مولانا محترم کے اس غم کے بوجھ کو ہلکا فرمائے اور تمام لواحقین کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی ہمت اور صبر عطا ہو۔

Facebook Comments HS