سردیوں میں ہمارا وزن کیوں بڑھ جاتا ہے؟


سیزنل افیکٹو ڈس آرڈر اس کیفیت کو کہتے ہیں جس میں ہم سردیوں میں اداسی محسوس کرتے ہیں۔ کچھ سائنسدانوں نے اس کا تعلق وٹامن ڈی کی کمی سے جوڑا ہے کیونکہ سردیوں میں دن کا دورانیہ مختصر ہونے کے باعث سورج کی دھوپ کی کمی سے ہماری جلد میں وٹامن ڈی بنانے میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔ سیزنل افیکٹو ڈس آرڈر میں ہمیں بھوک زیادہ لگتی ہے، تھکن بڑھ جاتی ہے اور نیند زیادہ آنے لگتی ہے۔

نئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہمارے اندر نہ صرف ایک روزانہ کے دورانیے کی بایولوجیکل کلاک موجود ہے بلکہ ایک موسموں کے ساتھ چلنے والی گھڑی بھی پائی جاتی ہے۔ جس طرح روزانہ کے دورانیے والی گھڑی ہمیں سونے اور جاگنے کے شیڈول کا پتا دیتی ہے بالکل اسی طرح موسمی گھڑی غذا کی مقدار، کھانے کی رفتار، بھوک اور کیلوریوں کی ضرورت پر اثرانداز ہوتی ہے۔

جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ سردیوں کی تیاری کے لیے کچھ جانور ہائبرنیٹ کرتے ہیں یعنی ساری سردیاں سو کر گزارتے ہیں۔ ایسا کرنے کے لیے ان کو خزاں کے موسم میں خوب کھا پی کر موٹا ہو جانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ تمام میمل جانوروں میں جن میں انسان بھی شامل ہیں یہی ہائبرنیشن کے جین پائے گئے ہیں جن سے یہ بات سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ ہم بھی ایسا ہی رویہ کیوں رکھتے ہیں؟ بہار کے موسم کے مقابلے میں خزاں کے موسم میں انسانوں میں تقریباً 222 کیلوریوں فی روز کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ یہ صرف سردی کی وجہ سے نہیں ہوتا کہ ہم اپنے گرم بستر میں گھس کر ٹی وی دیکھ رہے ہوں اور ساتھ میں مونگ پھلیاں کھا رہے ہوں۔ تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے اندر یہ جینیاتی پروگرام موجود ہے جس کی وجہ سے ہم ایسا کرتے ہیں تاکہ سردیوں کے موسم میں پیدا ہو جانے والی غذائی قلت کے لیے اپنے جسم میں چربی جمع کریں۔ ظاہر ہے کہ آج کل کے ماڈرن زمانے میں جب کہ سردیوں یا گرمیوں میں کھانے پینے کی چیزوں کے مہیا ہونے پر موسم کا کچھ اثر نہیں پڑتا لیکن یہ جینیاتی تبدیلیاں بہت پرانی ہیں اور وہ اس طرح محض چند دہائیوں میں تبدیل نہیں ہو سکتی ہیں۔ حالانکہ آج کل نقلی روشنی بھی موجود ہے لیکن پھر بھی ہمارے اندر موجود گھڑی بیرونی وقت اور موسم کا حساب رکھتی ہے۔ پچھلے سو سالوں میں زندگی میں سہولیات بڑھی ہیں اور جسمانی نقل و حرکت میں کمی واقع ہوئی ہے۔ دنیا میں مٹاپے کی شرح بڑھنے کی یہ ایک اہم وجہ ہے۔

جیسا کہ ہم نے دیکھا کہ ایسے علاقوں میں جہاں دن انتہائی چھوٹے ہوتے ہیں وہاں الٹراوایولیٹ روشنی سے وٹامن ڈی کی کمی کا علاج کیا جاتا ہے۔ اس مثال سے ہم یہ سبق لے سکتے ہیں کہ خزاں کے موسم میں باہر نکلیں اور چہل قدمی کریں جس سے ہمیں آنے والی سردیوں میں وزن بڑھ جانے سے بچت حاصل ہو۔ ایک کتا پالیں جس کو ہر صبح باہر چہل قدمی کروائیں۔ کتا انسان کا سب سے بہترین دوست ہے۔ جو لوگ کتے پالتے ہیں، ان کی صحت بہتر ہوتی ہے اور ان میں دل کی بیماری کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

سوچنے کی بات ہے کہ دنیا کے مختلف قدیم معاشروں نے انسانی تاریخ میں سردیوں کے دنوں کو کھانے پینے کے تہوار کے لیے کیوں چنا ہے؟ اکثر لوگ کہتے ہیں کہ سردیوں میں کرسمس اور دیگر تہواروں کی چھٹیوں میں زیادہ کھانے پینے سے ان کا وزن بڑھ جاتا ہے۔ جو کہ میں بھی اپنے کلینک میں دیکھتی ہوں کہ سردیوں کے بعد میرے مریضوں کا وزن بھی زیادہ ہو جاتا ہے اور ان کی ذیابیطس کا کنٹرول بگڑ جاتا ہے۔ کرسمس کا تہوار 25 دسمبر کے دن منایا جاتا ہے۔ یہ یسوع مسیح کی تاریخ پیدائش تھی یا نہیں، تاریخ دانوں کے مطابق اس بات کا حتمی طور پر تعین مشکل ہے لیکن 25 دسمبر کی تاریخ قدیم زمانے کی کم از کم تیرہ دیویوں اور دیوتاؤں کی تاریخ پیدائش مانی جاتی تھی اور یہ دن انسانی تاریخ میں تہواروں کے لیے مقبول رہا ہے۔

اس بات کو ہم اب نئی معلومات کی روشنی میں مزید گہرائی سے سمجھ رہے ہیں کہ خزاں اور سردیوں میں انسان کے اندر موجود جینیائی معلومات کے مطابق خوراک کا ذخیرہ جمع کرنے کے لیے مختلف معاشروں نے اس موسم کو کھانے پینے کے تہواروں سے جوڑا۔ یہ بات کافی دلچسپ ہے کہ تمام دنیا کے مقامی اور قبائلی نظام انسانی فطرت، زمین اور اس کے ماحول سے جڑے ہوتے ہیں۔

آج ہمارے سامنے جو بھی معلومات موجود ہیں ان کے مطابق رات کو دس سے گیارہ بجے کے دوران سو جانا، رات میں مصنوعی روشنی سے پرہیز کرنا، صبح کی روشنی کے ساتھ اٹھنا، کم از کم سات سے آٹھ گھنٹے کی نیند لینا اہم ہیں۔ اس کے علاوہ کھانے میں پھل، سبزیوں اور دالوں کا استعمال زیادہ کرنا اور جانوروں سے حاصل ہونے والے پروٹین سے گریز کرنا اہم ہیں۔ صبح کا ناشتہ اور دوپہر کا کھانا رات کے کھانے کی بنسبت بڑا ہونا چاہیے اور سونے کے وقت زیادہ کھانا اور ورزش کرنا مناسب نہیں ہے کیونکہ اس سے نیند کی کوالٹی پر منفی اثر مرتب ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ سب سے بہترین مشروب پانی ہے۔

Facebook Comments HS