ذہنی امراض اور معاشرتی رویہ
ایک معروف عالم دین اور مبلغ کے بیٹے نے خودکشی کر لی۔ خبر کے پھیلتے ہی ایک طوفان امڈ آیا، کہیں شخصیت پر طنز ہوا، دقیق فقرے کسے گئے اور کہیں متنازعہ سازشی نظریات کے تانے بانے بنے جانے لگے۔ سوشل میڈیا پر اس معاملے میں تیقن سے اپنی رائے کا اظہار کرنے والوں میں سے کوئی بھی حقائق سے آگاہ نہیں تھا لیکن تعصب، ناپسندیدگی اور امتیاز پر مبنی ذہنوں نے اس واقعہ کے متعلق ایک فیصلہ کن نقطہ نظر کو راسخ کر دیا۔ نوبت یہاں تک آن پہنچی کہ اس اندوہناک دکھ کی گھڑی میں بھی غمزدہ خاندان کی طرف سے وضاحت پیش کرنا پڑی۔
اسی طرح چند روز پہلے ایک معروف کاروباری خاندان کے فرد نے معمولی بیماری کے ہاتھوں پریشان ہو کر اپنے ہی ہاتھوں اپنی جان لے لی اور اس واقعے پر عمومی عوامی ردعمل بھی کم و بیش ایسا ہی تھا۔ کسی نے یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کی کہ ایسی کون سی ذہنی و نفسیاتی الجھنیں تھیں جن کے باعث انتہائی مذہبی پس منظر سے تعلق کے ساتھ ساتھ معاشی طور پر مستحکم اور پر آسائش زندگیاں گزارنے والے افراد اس انتہائی اقدام تک جا پہنچے۔
زندگی دکھ سکھ کا ایک کھیل ہے اور اس کھیل کو ہر کوئی اپنے انداز میں جاری رکھے ہوئے ہے۔ اکثر ہمیں اپنی زندگی مشکل اور دوسروں کی آسان اور پرسکون لگتی ہے۔ دور سے سب اچھا اور پر کشش نظر آتا ہے لیکن مسکراتے ہوئے چہروں کے پیچھے کون کس کرب اور دکھ سے دوچار ہے، کس تکلیف میں مبتلا ہے یہ وہی جانتا ہے جس پر گزر رہی ہے۔ یہ منفی معاشرتی ردعمل کا خوف ہی ہے کہ جیون کی دھارا سے گزرتے لوگ اپنے متعلق صرف اچھا دکھانا چاہتے ہیں۔
اپنی شخصیات کے صرف مثبت پہلوؤں اور کامیابیوں کا تذکرہ کرتے ہیں اور کریں بھی تو کیا؟ دوستوں عزیزوں کے ہجوم میں بھی کوئی اس قدر تنہا ہو سکتا ہے کہ اپنے اندر کے اضطراب اور گھٹن کی کیفیت کسی سے کہہ نہ سکے۔ بظاہر ہمدردی کی اداکاری کرنے والے تو کیا ہنسی اڑانے والے بے شمار ملیں گے۔ طنز، طعنوں اور جج کیے جانے کے ڈر سے بے شمار لوگ اپنے ذہنی مسائل کا ذکر نہیں کرتے ہیں۔
ہمارے اردگرد بے شمار لوگ ذہنی دباؤ اور اضطراب کا شکار ہیں جسے انگزائٹی کہا جاتا ہے۔ کچھ لوگوں کی انگزائٹی کی وجوہات وقتی ہوتی ہیں جبکہ کچھ کی مستقل ہوتی ہیں۔ کچھ اس پر قابو پا لیتے ہیں جبکہ کچھ اس کے ساتھ نبرد آزما رہتے ہیں۔ حساس طبع لوگ اکثر انگزائٹی کا شکار ہوتے ہیں۔ میں نے سالوں اس کیفیت کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلی ہے۔ جنوری 2017 میں میں اس مرض میں مبتلا ہوئی اور اس وقت کی کیفیت کے متعلق سوچ کر اب بھی میں دہل جاتی ہوں۔
طبیعت بے چین رہنا، ہر وقت پریشانی اور تشویش میں مبتلا رہنا، مستقل گھبراہٹ اور ہاتھوں میں پسینہ آنا، اپنی ذات پر اعتماد کا تو ذکر ہی کیا، اپنے اردگرد کے لوگوں سے بھی ایک انجانا سا خوف، ماضی کی پشیمانی اور مستقبل کا خوف جیسے ابھی کچھ انہونی ہونے ہی والی ہے، لوگوں کے درمیان بھی اکیلا پن محسوس ہونا، معمولی باتوں پر غصہ آنا، بیزاری اور چڑچڑا پن ہونا، روزمرہ کے کاموں میں عدم دلچسپی، دل کی دھڑکن بے ترتیب اور ہمہ وقت اداسی اور وحشت کا طاری رہنا کہ زندگی بالکل بے معنی محسوس ہونے لگی۔
انگزائٹی اور ڈپریشن صرف ذہن کو متاثر نہیں کرتے بلکہ جسم بھی ان سے متاثر ہوتا ہے۔ نیند کا ختم ہو جانا، تھکان، بے ہمتی، جسم میں درد، بھوک کا تقریباً ختم ہوجانا اور جسم کے افعال میں بے ترتیبی وغیرہ۔ لوگوں کی نظر میں یہ خود کا پیدا کیا ہوا دماغی خلل ہوتا ہے۔ ان کے نزدیک جب کھانے، پہننے اوڑھنے اور رہنے کو بہترین سہولیات میسر ہوں تو ڈپریشن اور انگزائٹی کی کوئی منطقی توجیح نہیں ہوتی ہے۔ یہاں میرا مقصد اس مرض کی وجوہات پر بات کرنا نہیں ہے۔ وجوہات جو بھی ہوں لیکن اس کا علاج دم درود، وظیفے، مسنون دعائیں یا عبادات نہیں ہوتا ہے۔ اس کے لئے کسی مستند سائیکاٹرسٹ سے مدد لینا اور ادویات کا باقاعدگی سے استعمال ہے۔
نفسیاتی مسائل اور بیماریوں کو بہت سنجیدہ لینے کی ضرورت ہے۔ تھراپی اور ادویات کے ذریعے ڈپریشن کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔ بعض لوگوں میں یہ مرض مکمل ختم نہیں ہوتا اور بار بار عود کر آتا ہے۔ ورزش اور متحرک طرز زندگی سے ذہنی صحت بہتر ہوتی ہے۔ جیسے دل کے مریض کو زندہ رہنے اور صحت مند زندگی گزارنے کے لیے ڈاکٹر، ادویات اور احتیاطی تدابیر کی ضرورت ہوتی ہے ویسے ہی ڈپریشن کے مریض کو اس مرض سے چھٹکارا پانے کے لئے ایک باقاعدہ علاج کے ساتھ ساتھ ایک مددگار ماحول کی ضرورت ہوتی ہے جو اس کے دوستوں اور خاندان کے افراد کی مدد کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
لوگوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس ذہنی عارضے کی وجوہات دین سے دوری، گناہوں کی سزا یا معاشی مسائل نہیں ہیں۔ یہ امراض بھی عام جسمانی بیماریوں کی طرح ہیں جن کی لپیٹ میں کوئی بھی آ سکتا ہے۔ اس امر کا ادراک ضروری ہے کہ ہر ذہنی بیماری پاگل پن نہیں ہوتی ہے۔ ایسے مریض آپ کی محبت، توجہ اور تھوڑی سی مدد چاہتے ہیں۔ خدارا انہیں نظر انداز مت کیجئے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے اردگرد بظاہر کسی ہنستے بولتے انسان کے لئے زندگی اس قدر مشکل ہو جائے کہ اسے موت آسان لگنے لگے۔ ہمارے اردگرد گھٹ گھٹ کر جیتے یہ لوگ ہمدردی نہیں بلکہ پیار اور حوصلہ افزائی کے مستحق ہوتے ہیں۔ اگر ہم اپنے ان عزیزوں اور دوستوں کی طاقت نہیں بن سکتے اور انھیں صحت مند زندگی کی راہ نہیں دکھا سکتے تو اپنے منفی رویوں اور کلمات سے ان کی زندگی مزید دشوار نہ کریں۔


