طالبانی سفیر ملا ضعیف کی پاکستان میں گرفتاری کا قانونی پہلو
قانونی کاغذات کے بغیر پاکستان میں مقیم غیرملکیوں کے نکالے جانے کی آج کل دھوم ہے۔ اسی میں ایک جگہ بحث ہو گئی کہ 911 کے بعد مشرف دور میں افغان سفیر ملا ضعیف کو گرفتار کر کے افغان حکومت یا یوں کہہ لیں امریکی حکومت کے حوالے کرنا ایک گناہ یا ناقابل معافی سفارتی خلاف ورزی تھی۔ بیس بائیس سال بعد اس واقعہ کو دہراتے ہیں اور فیصلہ قاری پر چھوڑتے ہیں۔ کیوں کہ افغانی بالخصوص طالبان کبھی اپنی غلطی نہیں مانتے اور اسلام کے نام پر ٹکا کر جھوٹ نا سہی غلط بیانی کرتے ہیں۔
33 سالہ پرائمری پاس ملا عبدالسلام ضعیف، امارات اسلامی افغانستان کی طرف سے پاکستان میں سفیر تعینات تھے۔ اس وقت ساری دنیا میں صرف تین ملک پاکستان، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب۔ امارات اسلامی افغانستان کی حکومت کو تسلیم کرتے تھے۔ اقوام متحدہ بھی ان کو عالمی فورم پر افغان نمائندہ قبول نہیں کرتا تھا۔
ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی ستمبر 2001 میں تباہی کے بعد سے عالمی حالات تیزی سے بدلے۔ طالبان حکومت کے کئی غلط اقدام کی وجہ سے پاکستان پر دباؤ پہلے ہی بہت بڑھ چکا تھا۔ بالآخر ملا عمر (سربراہ افغانستان ) کی طرف سے کسی قسم کی لچک نہ دکھانے پر پاکستان نے ان کی حمایت سے ہاتھ اٹھا لیے۔
واضح رہے 15 اکتوبر 99 کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے طالبان اور القاعدہ کے گتھ جوڑ کو دہشت گرد قرار دیا تھا۔ اور ان پر متعدد پابندیاں عائد کردی تھیں۔ ان کے سفر، فنڈنگ اور اسلحہ کی ترسیل پر مکمل پابندی تھی۔
ورلڈ ٹریڈ کی تباہی 11 ستمبر کو ہوئی اور اس سے محض دو دن پہلے طالبان کے سب سے بڑے افغان مخالف وار لارڈ اور شمالی اتحاد کے سربراہ احمد شاہ مسعود کو قاتلانہ حملے میں مار دیا گیا تھا۔
18 ستمبر کو امریکی کانگریس نے عالمی دہشت گردی کے تناظر میں اہم اقدامات کی منظوری دی۔ جس کی بنیاد پر سات اکتوبر 2001 کو امریکہ نے افغانستان کی امارات اسلامی کی حکومت کے دارالحکومت پر حملہ کر کے انہیں وہاں سے چلتا کر دیا۔
فضائی حملے ایک طرف لگ بھگ ایک ہزار امریکی اور برطانوی فوجی، شمالی اتحاد کے لوگ اور طالبان مخالف پشتون امریکہ کے ساتھ زمین پر پیش قدمی کر رہے تھے۔
اس اثنا میں پاکستان پر مزید دباؤ بڑھتا گیا۔ وہ مشرف جس پر الزام لگتا ہے کہ وہ ایک فون پر ڈھیر ہو گیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکی حملوں کے باوجود مشرف حکومت چھ ہفتوں تک دونوں پارٹیوں کو سنبھالتی رہی اور بالآخر اقوام متحدہ کی طرف سے پاکستان پر مزید سخت ممکنہ پابندیوں کی وجہ سے (جبکہ باقی دو ممالک طالبان حکومت سے پہلے ہی کنارہ کرچکے تھے ) افغانستان پر امریکی قبضے کے چھ ہفتے بعد 20 نومبر 2001 کو پاکستان نے کابل پر قبضہ کرنے والی نئی نگراں حکومت کو تسلیم کر لیا ساتھ طالبان کی اسلامی امارات افغانستان کی حکومت کو تسلیم کرنے سے ہاتھ اٹھالیا۔
ملا ضعیف کو 20 نومبر 2001 کو آگاہ کر دیا گیا تھا کہ ہزایکسی لینسی اب آپ سفیر یعنی ہزایکسی لینسی نہیں رہے۔ کیونکہ وہ جس حکومت کی نمائندگی کر رہے تھے پاکستان اب اس کو تسلیم نہیں کرتا۔ کابل میں اب ایک امریکی آشیر باد سے نئی نگراں افغان حکومت نے اقتدار سنبھال لیا تھا۔ اور انہوں نے اپنا ایک نمائندہ پاکستان میں عارضی سفیر تعینات کر دیا۔
ملا صاحب نے 20 نومبر کو کچھ دن پاکستان میں رکنے کی درخواست کی جو قبول کرلی گئی۔ اب ان کی حیثیت سفیر نہیں بلکہ مہمان سمجھی جا سکتی ہے۔ ملا ضعیف کو ان کے پاکستانی ساتھیوں نے آگاہ کیا کہ وہ لو پروفائل رہیں۔ اس اثنا میں پہلے ملا ضعیف نے اقوام متحدہ کی مہاجرین اور پناہ گزینوں کے لئے تنظیم کو درخواست دی کے ان کے ملک میں ایمرجنسی ہے اور وہ اس وقت کسی ملک میں نہیں جا سکتے اس لئے انہیں پناہ گزین کا درجہ دیا جائے۔
اقوام متحدہ کی تنظیم نے 1999 میں طالبان پر لگی پابندیوں کے تناظر میں صاف انکار کر دیا۔ سوال یہ ہے کہ اگر وہ پاکستان میں خود کو جنیوا کنونشن کے تحت سفیر سمجھتے تھے تو درخواست کیوں دی؟ اس ناکامی کے بعد ملا صاحب نے حکومت پاکستان کو سیاسی پناہ کی درخواست دی۔ پھر وہی سوال ملا صاحب اور پاکستان میں آج تک ان کی گرفتاری پر اپنی پاکستانی حکومت کو گالیاں دینے والوں سے سوال کہ اگر وہ پاکستان میں خود کو جنیوا کنونشن کے تحت سفیر سمجھتے تھے تو سیاسی پناہ کی درخواست کیوں دی؟
حکومت پاکستان اور مسائل میں الجھی ہوئی تھی۔ اس اثنا میں طالبان سے ہمدردی رکھنے والے پاکستانیوں نے ملا ضعیف کو ایک بار پھر پاکستان میں ہی غائب ہونے اور لو پروفائل ہونے کا کہا۔ لیکن وہ اپنے ساتھ اپنے دسیوں رشتے داروں کو بھی پاکستان لاکر اپنے ساتھ رکھے ہوئے تھے۔ مزید یہ کہ ان کو کسی عقلمند نے یہ مشورہ دے دیا تھا کہ پاکستان میں رہ کر افغانستان پر ہونے والے حملے کی تباہی پر پریس ریلیز جاری کرتے رہو۔ 20 نومبر 2001 کے بعد کے اخبارات آج بھی اس کے گواہ ہیں۔ ایک تنظیم طالبان جسے پاکستان اور اس سے بھی پہلے اقوام متحدہ بھی دہشت گرد قبول کرچکا تھا۔ اس کے نمائندے کے طور پر اس وقت صرف ایک ملا ضعیف صاحب کی آواز سنائی دے رہی تھی وہ بھی پاکستان سے۔
ملا کے پاکستانی ساتھیوں نے اتنا تک کیا کہ ایف بی آئی نے جن بیس تیس القاعدہ اور طالبان کے راہ نماؤں کے نام۔ موسٹ وانٹڈ میں رکھ کر ان کی گرفتاری پر ان کے سر کی قیمت لگا رکھی تھی۔ ملا کا نام نہیں آنے دیا۔ لیکن وہ اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے۔ یوں وہ 20 نومبر کے بعد مہمان نوازی میں بغیر ویزا ڈیڑھ مہینہ اور کھینچ گئے بیچ میں ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ان کو پھر بتایا گیا چند گھنٹوں میں آپ یا افغانستان چلے جائیں یا غائب ہوجائیں کیونکہ آپ کی بیان بازی نے آپ کے لئے معاملات خراب کر دیے ہیں۔ لیکن وہ بدستور اپنے آپ کو امارات اسلامی کے ہزایکسی لینسی سمجھتے رہے۔
یکم جنوری 2002 کو ان کا ایک پھڑکتا بیان منظر عام پر آیا جس سے لگتا تھا کہ وہ پاکستان میں رہ کر اسامہ بن لادن اور ملا عمر کے جائے وقوع کے بارے میں آگاہ ہیں۔ یعنی آ بیل مجھے مار۔
حکومت پاکستان نے چپ چاپ ان کی سیاسی پناہ کی درخواست مسترد کی اور منع کرنے کے باوجود خلاف ورزیوں پر افغانستان بدر کر دیا۔ یعنی وہاں کی نگراں افغان حکومت یا اس کے نمائندوں کے حوالہ کر دیا۔
2 جنوری 2002 کو ملا عبدالسلام ضعیف پاکستان میں سابق سفیر ضرور تھے۔ لیکن عالمی دہشت گردوں کے نمائندہ بن کر بھی سامنے آچکے تھے۔ جن کو بارہا اپنی حرکتوں سے باز رہنے کا کہا گیا تھا۔
بہرحال 2 جنوری 2002 کو امارات اسلامی کے پاکستان میں سابق سفیر کو پاکستانی اور اقوام متحدہ کی قرارداد کی روشنی میں اسلام آباد میں حفاظتی تحویل میں لے کر پاکستان بدر کر دیا گیا۔ یاد رہے کہ ان کی سفارت 20 نومبر 2001 کو ختم ہو چکی تھی۔ ملا ضعیف کو پہلے پشاور لے جایا گیا اور پھر طورخم کے پاس ایک آرمی علاقے سے ہیلی کاپٹر یا زمینی راستے سے افغانستان کی مقامی حکومت کے نمائندوں کے حوالے کر دیا گیا۔ (جو ممکنہ امریکی یا ناٹو اہل کار بھی ہوسکتے تھے ) ۔
ملا صاحب پہلے بگرام اور پھر قندھار میں قید رہے کیونکہ ان کا خود یہ دعوی تھا کہ وہ ملا عمر اور اسامہ بن لادن کی موجودگی کے بارے میں جانتے ہیں۔ بعد ازاں یہاں سے انہیں گوانتانامو بے منتقل کر دیا گیا۔ کیوبا سے ملا ضعیف کو ستمبر 2005 میں رہا کر دیا گیا۔ ایک سال بعد ملا ضعیف نے قید میں ہونے والے مظالم پر پشتو میں ایک کتاب لکھی جس کے انگریزی ترجمے نے ملا کو مالی مستحکم کر دیا۔ رہائی کے بعد دنیا بھر کے اخبار جرائد اور ٹی وی چینل ملا ضعیف سے انٹرویو لیتے رہے اور ان کو مالی فائدہ پہنچتا رہا۔
رہائی سے دو ڈھائی سال گزرنے اور مشرف کے اقتدار سے ہٹنے کے بعد 2008 میں ملا ضعیف نے حکومت پاکستان پر مقدمہ کونے کی کوشش کی کہ انہیں سفیر ہونے کے باوجود پاکستان نے گرفتار کیا۔ لطف یہ ہے کہ پاکستان اور ساری دنیا میں انہیں ایک وکیل بھی اپنا مقدمہ لڑنے کے لئے نہیں ملا۔ البتہ یہ چورن ان کے چاہنے والے آج بھی حکومت پاکستان پر لعن طعن کرنے میں استعمال کرتے پائے جاتے ہیں۔ واضح رہے اس وقت بھی ملا ضعیف کا نام اقوام متحدہ کی عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل تھا جس سے اقوام متحدہ نے ملا کا نام جولائی 2010 میں نکال دیا تھا کیونکہ ان کا سافٹ ویئر اس وقت تک اپ ڈیٹ ہو چکا تھا۔


