کاش تم امام حسینؓ کا سر کاٹ کر نہ لاتے۔ مکمل کالم
اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد سے میں اِس بات پر غور کر رہا ہوں کہ اگر حماس نے یہ حملہ نہ کیا ہوتا تو کیا فلسطینی آج بھی ویسے ہی مر رہے ہوتے؟ کیا انہیں امن کی مہلت خرید کر اپنی تعمیر و ترقی کا کام نہیں کرنا چاہیے تھا؟ کیا اپنے بچوں کو تعلیم دلوا کر اِس قابل نہیں بنانا چاہیے تھا کہ جس سے اُن کا مستقبل محفوظ ہوجاتا؟ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ فلسطینی چاہے جتنے بھی مظلوم ہوں انہیں اسرائیل جیسی خوفناک اور طاقتور فوج کے خلاف مزاحمت نہیں کرنی چاہیے، اِس میں سراسر اُن کا نقصان ہے، انہوں نے مسلح جد و جہد کر کے دیکھ لیا، نتیجے میں ہزاروں ہلاکتیں اُن کے حصے میں آئیں، لہذا اِس صورتحال میں انہیں صبر سے کام لینا چاہیے، وگرنہ تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی طاقتور اور منظم فوج کے سامنے کوئی بغاوت ٹھہر سکی ہو، ٹیپو سلطان سے لے کر سید احمد شہید تک، یہی داستان ہے جو ہر طرف پھیلی ہے۔ سو، ہمیں تاریخ سے سبق سیکھنا چاہیے، اگر سبق نہیں سیکھیں گے تو یونہی مرتے رہیں گے جیسے فلسطینی مر رہے ہیں۔ اِس نقطہ نظر کے مطابق مظلوم کو ظالم سے براہ راست ٹکر لینے کی بجائے امن کے لیے وقت حاصل کرنا چاہیے اور خواہ مخواہ اپنے کسی اقدام سے دشمن کو اشتعال میں آنے کا موقع نہیں دینا چاہیے، یہی واحد طریقہ ہے جس سے مظلوم کے حق میں فضا ہموار ہوگی اور بالآخر اسے ظلم سے نجات ملے گی۔
یہ باتیں بے حد مسحور کُن ہیں، کوئی بھی شخص جسے تقریر اور گفتگو کا فن آتا ہو وہ اِن دلائل کی بنیاد پر کسی کو بھی اِس بات پر قائل کر سکتا ہے کہ چونکہ عالمی سیاست میں انصاف کا حصول ایک بے حد مشکل کام ہے لہذا مظلوم کو چاہیے کہ وہ اپنے صبر کی طاقت سے ظالم کو رام کرے اور پھر نتیجہ اللہ پر چھوڑ دے۔ میں نے پورے خلوص کے ساتھ کوشش کی کہ اِس نظریے کا حامی بن جاؤں مگر نہ بن سکا۔ اسرائیل اور فلسطین کے معاملے کو ہی لے لیں، اگر اسرائیلی حکومت عرب دنیا میں کسی کو اپنا وکیل مقرر کرے جس کا کام غیر محسوس طریقے سے اسرائیل کے حق میں بیانیہ بنانا ہو تو وہ یہی صبر کا بیانیہ ہو گا کیونکہ اسرائیل کو اِس سے زیادہ کوئی بات ’سُوٹ‘ ہی نہیں کرتی کہ فلسطینی صبر کر لیں تاکہ اسرائیل انہیں جب چاہے، جہاں سے چاہے، بے دخل کردے، اُن کے علاقوں پر قبضہ بڑھاتا چلا جائے اور جب کوئی فلسطینی اِن مظالم کے خلاف پُر امن طریقے سے احتجاج کرے تو اسے ’حق دفاع‘ کی آڑ میں خاموشی سے وہیں گولیوں سے بھُون دے۔ آپ میں سے جو یہ سمجھتا ہے کہ ایسا نہیں ہو گا، اسے چاہیے کہ گزشتہ پچھہتر برس کے اعداد و شمار نکال کر دیکھ لے کہ اسرائیل نے فلسطینی علاقوں میں کِس موقع پر کتنے پُرامن فلسطینی بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کو قتل کیا جنہوں نے اسرائیل کو کسی قسم کا اشتعال بھی نہیں دلایا تھا۔ پچھہتر برس سے صبر کی طاقت آزما کر دیکھ لی، اب کیا کریں؟
یہ بات بھی خاصی پُر اثر ہے کہ مظلوم اپنے لیے امن کی مہلت حاصل کر کے تعمیر کا کام کرے یعنی اپنے بچوں کی پڑھائی لکھائی پر توجہ دے، انہیں بی اے، ایم کروائے تاکہ انہیں اچھی نوکری مل سکے، وہ خوشحال ہو سکیں اور یوں اُن کی زندگی میں گولہ بارود کی جگہ ہی نہ رہے۔ اگر یہ منطق درست مان لی جائے تو پھر آج امریکہ سے لے کر آسٹریلیا تک مقامی لوگوں کو اپنی زمین پر حکمران ہونا چاہیے تھا کیونکہ اِن مقامی لوگوں نے تو تعلیم حاصل کی تھی، اسکولوں کالجوں میں پڑھے تھے، ڈگریاں لی تھیں، مگر اُن کے ساتھ کیا ہوا، اپنے ہی وطن میں اُن پر زمین تنگ کر دی گئی، کسی قابض طاقت کو اُن پر رحم نہیں آیا۔ کیا تاریخ میں کبھی یہ ہوا ہے کہ محض بی اے، ایم اے کرنے سے کسی قوم کو آزادی مل گئی ہو؟
رہی یہ بات کہ گزشتہ دو سو سال میں ہر اُس شخص کو شکست سے دوچار ہونا پڑا جس نے اپنے سے زیادہ طاقتور فوج کے ساتھ ٹکر لی تو گزارش ہے کہ جن لوگوں نے طاقتور فوج سے ٹکر نہیں لی کیا اُن کا انجام مختلف ہوا؟ ٹیپو سلطان کو انگریزوں نے شکست دے کر شہید کر دیا تو کیا یہ سمجھا جائے کہ ٹیپو سلطان نے حماقت کی؟ کیا سلطان کو بھی نواب واجد علی شاہ کی طرح لڑائی کرنے کی بجائے شعر و شاعری اور رقص و سرود کی محفلیں سجا کر انگریزوں کو رام کرنا چاہیے تھا؟ واجد علی شاہ نے تو یہ بھی کر کے دیکھ لیا، کیا لارڈ ڈلہوزی نے اُس کی ریاست بخش دی؟ ایک طرف تو ہم مغل نوابوں اور مہاراجوں کو اُن کے عیاش طرز زندگی پر مطعون کرتے ہیں اور دوسری طرف اگر کوئی قابض فوج کے خلاف تلوار اٹھا لے تو کہتے ہیں کہ اسے صبر سے کام لینا چاہیے تھا، میں سمجھنے سے قاصر ہوں کہ یہ کیسی دلیل ہے!
اگر ناجائز حکمرانوں اور قابض افواج کے خلاف جد و جہد حماقت ہے تو پھر آئیے اُس دن کا انتظار کرتے ہیں جس دن یزید کا دل پسیج جائے گا اور وہ شمر کو کہے گا کہ کاش تم امام حسینؓ کا سر کاٹ کر نہ لاتے۔ جو لوگ ’صبر سے کام لو‘ کا درس دے رہے ہیں اُن کی نیت پر کوئی شک نہیں مگر اُن کی حکمت عملی کا خلاصہ یہ ہے کہ ’میں خلوص نیت سے آپ کی آزادی کا حامی ہوں مگر جو طریقہ کار آپ نے اپنایا ہے اُس سے اتفاق نہیں کرتا۔‘ گویا کسی مظلوم کی آزادی کے وقت کا تعین کوئی اور کرے گا، مظلوم کو یہ حق حاصل نہیں، مظلوم بس صبر کرے اور اُس وقت تک کرتا رہے جب تک حالات موافق نہ ہو جائیں۔ کم از کم فلسطین کے معاملے میں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ حالات کبھی اتنے موافق نہیں ہوں گے کہ اسرائیلی فوج فلسطینیوں کے پُر امن احتجاج کرنے پر گولیاں نہیں چلائے گی۔
یہاں ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ آخر پوری مغربی دنیا اسرائیل کی بربریت پر خاموش کیوں ہے؟ اِس سوال کا جواب حماس کے حملے میں پوشیدہ ہے، حماس نے نہ صرف عام شہریوں کے گھروں میں گھُس کر انہیں ہلاک کیا بلکہ اُن کی ویڈیوز بھی جاری کیں، گویا اپنے اقدام کی تشہیر کی۔ حماس اگر اسرائیل کی فوجی تنصیبات کو نشانہ بناتا یا اسرائیلی فوج پر حملے کرتا اور جواب میں اسرائیلی فوج غزہ کے شہریوں کو نشانہ بناتی تو اُس صورت میں بھی امریکہ اور مغرب نے ڈھٹائی کے ساتھ اسرائیل کی حمایت ہی کرنی تھی مگر میرا حسن ظن یہ ہے کہ پھر یہ حمایت یوں برہنہ اور غیر مشروط نہ ہوتی۔ دوسری طرف اسرائیل ہسپتالوں اور اسکولوں پر بم تو برسا رہا ہے مگر صاف مکر بھی رہا ہے جس کی وجہ سے مغربی طاقتوں کو اسرائیل کی حمایت کا، منافقانہ ہی سہی، مگر جواز تو مل رہا ہے۔ لیکن اِس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ اگر حماس ایسا نہ کرتا تو اسرائیل فلسطینیوں کو اُن کے صبر کے پھل کے طور پر ایک آزاد ریاست تحفے میں دے دیتا، ایسا نہ کبھی تاریخ میں ہوا اور نہ ہو گا!
دنیا کا ہر مسئلہ ایسا نہیں جس کا پائیدار اور پُر امن حل بھی نکل سکے، اسرائیل فلسطین کا مسئلہ بھی انہی مسئلوں میں سے ایک ہے، یہ مسئلہ اسی صورت میں حل ہو سکتا ہے اگر فلسطینیوں کو اُن کے بچے کھچے علاقوں سے بھی نکال باہر کیا جائے یا انہیں صفحہ ہستی سے ہی مٹا دیا جائے۔ خدا نہ کرے کہ ایسا ہو، لیکن اگر ایسا ہوا تو پھر یہودیوں کے بعد یہ فلسطینیوں کا ہولوکاسٹ ہو گا۔ لیکن کیا ہولو کاسٹ سے بھی مسئلہ حل ہو جائے گا؟ مغربی دنیا کو اِس سوال کا جواب تلاش کرنا چاہیے!


