مسئلہ فلسطین اور حرم کی پاسبانی
میڈیا اطلاعات کے مطابق غزہ پر اسرائیلی فضائی اور زمینی حملوں میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ساڑھے نو ہزار فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں نصف تعداد بچوں کی ہے اور تقریباً دو لاکھ مکانات کچرے کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ اسرائیل نے غزہ کے لوگوں کو تباہ کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا ہے، جس میں پانی، بجلی، انٹرنیٹ وغیرہ کی بندش کے ساتھ ساتھ اشیائے خورد و نوش کی دستیابی میں رکاوٹ اور ادویات کی دستیابی کو غیر یقینی بنانا شامل ہے۔
حرم کی پاسبانی، نیل کے ساحل سے ہوتی ہوئی کاشغر کی وسعتوں کو تخیل میں پاٹ گئی مگر جب وقت شہادت آیا کہ مجھ سا تنگ نظر بھی اس امید سحر کی لو خود دیکھ پائے تو عیاں ہوا کے یہ آرزو تو محض آرزو ہی رہے گی۔
فلسطین کا نوحہ قریب ستر سال سے ہر زبان اور ہر مقام سے دہرایا جا رہا ہے۔ یہ مسئلہ محض مذہبی یگانگت کا ہی نہیں بلکہ دنیا کے ہر مذہب، رنگ و نسل سے تعلق رکھنے والے اور درد دل رکھنے والے ہر انسان نے مشرق وسطیٰ میں جاری تباہ کاریوں پر ماتم کیا۔ بین الاقوامی سطح پر بھی فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف غم و غصہ دیکھا گیا۔ گویا اپنی اپنی بساط کے مطابق کسی نے اسرائیل جارحیت کو دل میں برا جانا، کسی نے زبان سے ظلم کی مذمت کی، کسی قلم کار نے قلم اٹھایا اور فلسطینیوں کی صدا میں صدا ملائی۔ مگر اسلامی ممالک کے سربراہ جو اس مسئلے کے حل کے لئے عملاً اقدامات کرنے کے اہل تھے، کی بے حسی دیکھ کر دل نا امید اس غم کی نہ ختم ہونے والی شام کے خوف سے دہل گیا۔
مسلمان جسد واحد کی طرح ہیں کے اگر جسم کے کسی ایک حصے پر کانٹا چبھے تو باقی ماندہ جسم لرز اٹھتا ہے، یہ بات تقریری مقابلوں میں تو سنتے آئے ہیں مگر فلسطینی بچوں اور بڑوں کے لاشے تک دیکھ کر اسلامی ممالک کی جانب سے کیے گئے اقدامات تو کچھ اور ہی پتہ دیتے ہیں۔ یہ اقدامات زبانی جمع خرچ کے سوا کچھ نہیں تھے اور نہ ہیں۔ ایک طرف اسرائیلی جارحیت کے شکار فلسطینی زندگی اور موت کی کشمکش میں جھول رہے ہیں تو دوسری طرف سعودی عرب دنیا کا سب سے بڑا میوزک فیسٹول ( MDLBEAST Soundstorm) کا انعقاد کر رہا ہے۔
یہ بات تو اپنی جگہ معقول ہے کہ مر جانے والوں کے ساتھ یقیناً مرا نہیں جاتا، نظام دنیا چلتا ہی رہتا ہے مگر ابھی تڑپنے والوں کے سامنے، جو اجل کی آمد کے منتظر ہیں، جن کی رواں سانس بھی ان کو یہ دھڑکا دیتی ہو کے یہ سانس آخری تو نہیں، کیا ان کے سامنے اور ایسے حالات میں عالمی سطح کا میوزک فیسٹول حرم کی پاسبانی کرنے والوں کے لیے زیادہ اہم ہے۔ کیا ہماری انہی مصلحتوں نے دراز دستی قاتل کو بھڑایا ہے؟ جو دین خوشی کے موقع پر بھی بیمار ہمسائے کی کراہت کو ملحوظ رکھنے کا درس دیتا ہے اسی دین کے داعی لاشوں کے ہجوم کو یکسر بھلا کر ڈھول کی تھاپ پر رقص کیسے کر سکتے ہیں؟
غزہ کی پٹی پر صہیونی جارحیت کے آغاز کے بعد سے اسرائیل نے مختلف قسم کے تباہ کن ہتھیاروں کا استعمال تاحال بند نہیں کیا۔ اسرائیل بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ہے۔ ایک طرف مغربی طاقتوں کی حمایت اسرائیل کو مشرق وسطٰی کا چودھری بنا رہی ہے تو دوسری طرف اسلامی ممالک کی پن ڈراپ سائلنس جابر کو جبر کا حوصلہ دے رہی ہے۔
ترکی نے ایک طرف اسرائیل سے اپنا سفیر واپس بلا لیا تو دوسری طرف دونوں ممالک کے مابین تجارت کا حجم سات بلین ڈالر کو چھو رہا ہے جس میں تازہ واقعات کے بعد بھی کوئی کمی نہیں ہوئی۔ متحدہ عرب امارات ایک طرف اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں پر جاری مظالم پر تشویش تو ظاہر کرتا ہے مگر ساتھ ہی ساتھ دونوں ممالک کی باہمی تجارت جو کہ تقریباً ڈھائی ارب ڈالر تک کی ہے جوں کی توں ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کے ہر ریاست کو اپنا ذاتی مفاد عزیز تر ہوتا ہے، کسی ملک کے ساتھ تجارتی معاملات رکھنا کوئی بری بات نہیں مگر جب امریکہ، روس اور یوکرین تنازعے پر دیگر ممالک کو روس سے تجارتی سرگرمیوں پر غور کرنے کی تلقین کر سکتا ہے تو اسلامی ممالک ایسا کیوں نہیں کر سکتے۔ اسرائیل غزہ میں پانی، بجلی جیسی بنیادی سہولیات کو روک لگا سکتا ہے تو تمام اسلامی ممالک کس نام نہاد حسن ظن کے پرچارک بنے بیٹھے ہیں۔ ذاتی مفادات کی آڑ میں اسلامی ممالک کی خاموشی فلسطینیوں کی زندگیوں کے صفایا کا ایندھن بن رہی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ تمام اسلامی ممالک مسئلہ فلسطین پر اقوام متحدہ کے جانب دار اور غیر موثر ہونے پر ماتم کناں تو ہیں مگر اسلامی تعاون کی تنظیم کو موثر بنانے، ایک آواز اٹھانے اور اخوت کو پروان چڑھانے کے لیے سنجیدہ نظر نہیں آتے۔ بلکہ اب اسلامی تعاون کی تنظیم کا اجلاس رکن ممالک کے شرکاء کے لیے پانی کی بوتلیں آگے رکھ کر ہائی کوالٹی پروفائل فوٹوز بنوانے کا ایک سٹوڈیو بن چکا ہے۔ زبانی جمع خرچ سے آگے کوئی عملی اقدام اور مشرق وسطی میں جاری بد امنی کے حل کے لیے کوئی خاطر خواہ اقدام نظر نہیں آتا۔ ایک ماہ سے زائد جاری اسرائیلی جارحیت کے بعد 12 نومبر کو او آئی سی اجلاس متوقع ہے دیکھیے اس کے کی ثمرات آتے ہیں۔
اسرائیل نے اپنے قومی مفاد کے تحفظ کے لیے اپنی خارجہ پالیسی اس طراری سے ترتیب دی کے تمام عرب ممالک اسرائیل کو تسلیم کرنے کے خواہاں ہو گئے۔ پچھتر برس بعد اسرائیل اپنے دیرینہ خواب کے تعاقب میں رہا، جس میں تمام عرب ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کا فروغ، فلسطینیوں کو منظر سے ہٹا کر عرب دنیا کے ساتھ تجارت کے ذریعے مفادات کو جوڑنا شامل تھا لیکن حماس نے اسرائیل کا یہ خواب کسی حد تک چکنا چور کر دیا۔ موجودہ وقت میں سوائے ایران کے کوئی بھی اسلامی ملک اسرائیل کی اس جارحیت پر للکارنے سے قاصر نظر آتا ہے۔ اگر اسرائیل کے خلاف ایران کی جانب سے مزاحمت بھی نہ ہوتی تو پورا مشرق وسطی اسرائیل کے لیے تر نوالہ ہو سکتا تھا۔ تاہم اگر ایران، اسرائیل کے ساتھ براہ راست جنگ میں شریک ہو گیا تو اس کا نتیجہ ایٹمی جنگ کی صورت میں نکلے گا جس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں گے


