اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے

آج شاعر مشرق کے جنم دن پر حسب روایت ملک بھر میں بڑی عقیدت و احترام اور اہتمام و انصرام کے ساتھ چھٹی منائی گئی۔ چھٹی کا دن معمولات زندگی سے فرصت اور فراغت کا دن ہوتا ہے اس لیے ہمارے ہاں اکثریت آرام کرتی ہے جب کہ اقلیت تفریح طبع کا اہتمام کرتی ہے۔
قوم مصور پاکستان کے ارشاد گرامی کے برعکس ایسے دن جہاد زندگانی میں اپنی دو شمشیروں ؛ جہد مسلسل اور عمل پیہم کو نیام میں جب کہ محبت کی شمشیر بے نیام کو اقبال ہی کے نام کرتی چلی آئی ہے۔
شاعر اور فلسفی کے میدان کارزار اپنے اپنے ہوتے ہیں۔ اول الذکر کی جولان گاہ جذبات انسانی ہیں جن کا مرکز دل ہے جب کہ موخر الذکر کا سابقہ نظام فکر سے ہے جس کی آماجگاہ عقل و خرد ہیں۔ شعور انسانی کے سوتے یہیں سے پھوٹتے ہیں۔ اقبال کی ذات یکتا میں شاعر اور فلسفی ہونا ایک انوکھا مگر حسین امتزاج ہے۔ ان کے ہاں بعضے فکری تفاوت کا پایا جانا اس لحاظ سے فطری ہے۔
حضرت اقبال سے تصور پاکستان منسوب ہے یوں وہ مصور ہونے کی حیثیت میں قومی شاعر قرار دیے جانے کا صلہ پا چکے ہیں۔ قوم اور ملت (جو اقبال کے ہاں ہم معنی تراکیب ہیں ) کب فکر اقبال کی عملی تصویر بنتی ہے، یہ دیکھنا ابھی باقی ہے!
اقبال حرکت کو زندگی اور جمود کو موت قرار دے چکے ہیں جب کہ اقبال کے چاہنے والے جمود میں زندگی کی حرکات و حرکیات کے طالب دکھائی دیتے ہیں۔
اقبال نوجوانان قوم و ملت کو درس خودی و خود داری دیتے ہیں، انہیں فضائے نیلگوں میں کرگس کے جہاں سے نکالتے ہوئے شاہین کا جہاں دکھاتے ہیں جو بلند پروازی کے ساتھ ساتھ بلند خیالی، مثالی خودی، لازوال حمیت و خود داری کا استعارہ ہے۔ آشیاں بندی کی حاجت سے بے نیازی شاہین کی آزادی کو صیاد کی پہنچ سے دور اور قفس کی قید سے محفوظ رکھے ہوئے ہے۔
اقبال جوانوں سے اپنی محبت کو ستاروں پہ کمند ڈالنے سے مشروط کرتے ہیں، مسلمانوں کو ان کی منزل چرخ نیلی فام سے پرے بتاتے ہیں۔ اسی لیے شاید کسی کو ہمت نہیں جو پرواز میں کوتاہی لانے کا سبب بن سکے! فضائی مخلوق خلائی مخلوق کا روپ دھارے ہوئے ہے۔ قوم کے جری سپاہی شاہین کے جیسی پھرتیاں اور فن پرواز کے گونا گوں کرتب دکھاتے ہیں۔ اہل ایماں ہیں جو اقبال کے بقول یہاں مثل مہر جیتے ہیں ؛ ادھر ڈوبے ادھر نکلے، ادھر ڈوبے ادھر نکلے!
امت مسلمہ کو عموماً اور اسلامیان ہند کو خصوصاً اقبال نے جھنجھوڑنے کی خوب تگ و دو کی۔ تاریخ کی جھلکیاں دکھاتے ہوئے انہیں جہانگیری، جہانداری، جہاں بانی اور جہاں آرائی کی تعلیم دی۔ قوم پر ان کی تعلیمات کا اثر برصغیر کی تقسیم پر منتج ہوا اور غالباً اختتام پذیر بھی ہو گیا۔ البتہ، جہاں بانی کی خواہش ابھی باقی ہے جس کی مثالیں گاہے گاہے مختلف تحریکوں کی صورت میں دکھائی دیتی چلی آئی ہیں۔
حکیم الامت نے صرف پاکستان کا خواب ہی نہیں دیکھا، امت واحدہ کی صورت مسلمانوں کی عالمی خلافت کا قیام بھی اقبال کا خواب ہے جسے شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے امت باہم معرکہ آراء چلی آ رہی ہے۔ قومی یکجہتی کے قضیے سے جان چھوٹ پائی تو اتحاد امت کا خواب بھی شاید حقیقت کا روپ دھارنے کے قابل ہو جائے۔
فلسفی شاعر حضرت انساں کے زندہ ہونے کی شہادت اس کی تخلیقی صلاحیتوں اور ان کے مثبت استعمال سے منسوب کرتے ہیں۔ تخلیقیت میں انسیت و اجنبیت کے پہلوؤں کی نشاندہی کے لیے آدمی کو حضرت آدم کی تخلیق کن فکاں کا سربستہ راز بتاتے ہیں۔ ان کے ہاں اگر آدمی زندگی کا استحقاق چاہتا ہے تو اس ”کن“ کی باز گشت ہو جائے۔
ہر دور میں کرتا ہے طواف اس کا زمانہ
جو عالم ایجاد میں ہو صاحب ایجاد
اقبال کے خطاب میں مسلمان کے لیے تخلیق، ایجاد، دریافت اور تسخیر کائنات کا پیغام موجزن ہے۔ تخلیق کا مفہوم اقبال کی فکر میں وسیع معنی رکھتا ہے جس میں نئے خیالات، نئی سوچ، نیا علم، اور نئے جہاں دریافت کرنا ہے۔
جہان تازہ کی افکار تازہ سے ہے نمود
کہ سنگ و خشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا
اقبال آدمی کو خدائے لم یزل کے کار ’کن‘ اور عمل فیکون میں شریک دیکھنا چاہتے ہیں۔ اسی پس منظر میں وہ آدمی کو اپنی دنیا آپ پیدا کرنے کی تلقین اور تخلیق ایزدی کی یاد دلاتے ہیں۔
اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے
سر آدم ہے ضمیر کن فکاں ہے زندگی
تاریخ کا سبق یہ ہے کہ ”شاعر اقبال“ کی ملک و ملت کو ضرورت پڑتی رہی ہے، ان کی شاعری کو ہر ایک نے اپنی اپنی غرض و غایت اور مختلف مقاصد کے لیے برتا ہے لیکن فلسفی اقبال کی نہ ضرورت پڑی، نہ ضرورت سمجھی گئی اور نہ ہی ان کے فلسفیانہ افکار کی تفہیم ہو پائی۔ تعمیل کے مراحل آگے کے ہیں۔

