تو مرا ’ڈاکٹر‘ بگو


مائیکل کنتات جب سارتر سے احساس جرم پر باتیں کر رہے تھے تو ایسے لگا کہ جیسے وہ سارتر کو چھیڑ رہے ہوں، مگر اس پر سارتر کا جواب بہت نپا تلا سا تھا۔ وہ بتانے لگے کہ Ecole میں جب وہ ٹیوشن دینے لگے تو پڑھانے کے بدلے میں جو معاوضہ ملتا وہ ویٹروں میں تقسیم کر دیتے۔ کیوں کہ ان کا موقف تھا کہ انھیں پڑھانے میں مسرت حاصل ہوتی تھی، اس کے بعد معاوضہ بے معنی ہو جاتا تھا اور کبھی اس میں کہیں احساس جرم بھی جھلکتا تھا کہ جس کا معاوضہ خوشی کی شکل میں حاصل کر چکا ہوں، اس کا معاوضہ دوبارہ کیسے وصولا جائے۔

اسی لیے تو سمجھ آتی ہے کہ انھوں نے ادب کا نوبل انعام لینے سے انکار کر دیا تھا۔ اور یہ بھی کہا تھا کہ وہ پابلو نرودا کو اس کا زیادہ حق دار سمجھتے ہیں، یہ انعام ان کو ملنا چاہیے۔ اس عمل میں دیکھا جائے تو سارتر نے ایک سچے انسان سے ملاقات کرائی ہے جسے اپنے ادیب ہونے کا محنتانہ شہرت اور قبولیت کی صورت میں وصول ہو چکا ہے، اس کے علاوہ یہ عمل لبیڈو کی ڈومین میں آتی ان تمام اشتہاؤں، ہوس اور بھوکے پن کی نفی کے طور پر سامنے آتا ہے جہاں صرف شہرت اور واہ واہ کے مقصد تلے اصل مقصد قربان کر دیا جاتا ہے۔

اس تمہید کا بھی ایک مقصد ہے۔ جس میں مقصود ہے پی ایچ۔ ڈی کی اعزازی ڈگریوں کی تقسیم۔ اس سے پہلے یہ قطعہ پڑھا تھا کہ:

نسل نو کو درس کیا دیں گے یہ نقلی ڈاکٹر
کس کو فرصت ہے جو اس نکتے پہ ڈالے اک نظر
کس نے تحقیقی مقالہ لکھا کس کے نام سے
کون دلی جا کے پوچھے گا یہ مالک رام سے

مگر رضا واہی نقوی کو بتاؤ کہ اب تو بات اس سے آگے بڑھ گئی ہے۔ اب کسی محنت کی ضرورت بھی نہیں ہے نہ مقالے کی تیاری کی۔ جس طرح باکونن کے نزدیک ہر منظم حکومت عوام کے خلاف ایک سازش ہے، اسی طرح اب ہر تعلیمی ادارہ تعلیم اور تعلم کے خلاف بھی ایک سازش ہے۔ اولا یہ کہ سبھی تجربے تعلیمی اداروں پہ کیے جا رہے ہیں، سوائے تعلیمی ماحول کے۔ عموماً ہر صاحب اقتدار کو ایک زعم ہے کہ وہ جو کرتا ہے ؛ وہی درست ہوتا ہے اور یہ وہم بھی ساتھ پل رہا ہے کہ وہ حرف آخر ہے اور تمام سماجی، تہذیبی، سیاسی، معاشی اور علمی امور کا ماہر بھی۔

جب تک یہ کج علمی سے نمو پایا ہوا زعم ختم نہیں ہوتا، ہمیں اس قسم کے مذاق سننے کو ملتے ہی رہیں گے کہ اب فلاں یونی ورسٹی نے فلاں شخص کو اعزازی ڈاکٹریٹ سے نوازنے کا اعلان کر دیا ہے۔ علامہ اقبال کو پنجاب یونی ورسٹی، مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ، ڈھاکا یونی ورسٹی، الہ آباد یونیورسٹی، عثمانیہ یونیورسٹی اور تاؤ یونی ورسٹی جاپان نے ڈی لٹ کی ڈگریاں دیں (ایک ہی کام پہ ایک ہی فرد کو بار بار اعزازی ڈگریاں دینا ایک بحث طلب سوال ہے ) ۔

اسی کے ساتھ ہی ہم نے دیکھا کہ جگر مراد آبادی کو بہ طور شاعر اعزازی ڈگری مسلم یونی ورسٹی نے دی۔ اس کے بعد مجھے نہیں معلوم کہ کسی شاعر کو برصغیر میں بہ طور شاعر اعزازی ڈگری دی گئی ہو۔ اب یہ عمل سیاست دانوں کے لیے کیا جانے لگا تھا۔ اس کے نام گنوانا اتنا ضروری نہیں سمجھتا کہ وہ ایک الگ مذاق ہے مگر میرا خود کلامی میں ایک سوال ضرور بنتا ہے کہ میری مادر علمی نے بھی دو لوگوں کو اعزازی ڈاکٹریٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں ایک نام ”جاوید چودھری“ ایسے صحافی کا ہے اور دوسرا نام ”شاکر شجاع آبادی“ ایسے شاعر کا۔

ان کے نام سنتے ہی آپ کے ذہن میں ایک ہیولا سے ابھرے گا، جس میں ان کی شہرت ہی ان کی وجہ شہرت ہے۔ ان کے کارہائے نمایاں بھی ہمارے سامنے ہیں، اور ان لوگوں کو خود بھی معلوم ہیں کہ وہ کس کس بڑے کے عہد میں جی رہے ہیں مگر زعم خویش میں خود ستائی سے خود ترسی تک آتے آتے بھول گئے کہ اونچائی پہ بیٹھ کر نیچے دیکھیں تو دریا بھی نہر لگتے ہیں، مگر یہ صرف ان کی اپنی نظر کا فریب ہوتا ہے، جو تاریخ میں ان کا ہمیشہ پیچھا کرتا رہتا ہے۔

خیر تو ہم سارتر کی پوچیانی سے ملاقات کا احوال پڑھ رہے ہیں۔ پوچیانی ایک ڈرامے میں (جس میں بھائی سے ناجائز تعلق کا شکار لینی، اس کا بھائی فرانتز اور ان کا صنعت کار باپ گرلاش اہم کردار ہیں، جو دونوں باپ بیٹے خود کشیاں کر لیتے ہیں۔ ) فرانتز کے کردار کے اس منظر کو ہٹا دینے پر استفسار کرتے ہیں جس میں فرانتز ملنے والے تمغے کھا جاتا ہے، کہ اس منظر پہ تو لوگ خوب ہنستے تھے، اسے کیوں ہٹا دیا۔ سارتر گویا ہوئے :

”تجربے نے مجھے سکھایا ہے کہ اگر آپ دیکھنے والوں کو ہنسنے کا کوئی موقع فراہم نہیں کریں گے تو پھر وہ کسی ایسے مقام پہ ہنس پڑیں گے جہاں آپ ہنسی نہیں چاہتے۔

Facebook Comments HS