ودرنگ ہائیٹس: نفرت اور انتقام کی داستان
انگریزی کلاسیکی ادب کی نامور ادیبہ ’ایملی جین برانٹے‘ شارلٹ برانٹے کی چھوٹی بہن تھیں۔ برانٹے سسٹرز میں اس کا نمبر دوسرا تھا جب کہ تیسرے نمبر پر این برانٹے تھیں۔ ایملی برانٹے وکٹورین دور حکومت میں یارک شائر شمالی انگلستان میں پیدا ہوئیں۔ ماں کا انتقال بچپن میں ہی ہو گیا جب کہ والد ایک پادری تھے جن کی آمدن سے گھر کا گزارہ بمشکل ہی ہوتا تھا۔
ایملی کا ناول ’ودرنگ ہائیٹس‘ پہلی بار 1847 میں ایلس بیل کے قلمی نام سے شائع ہوا لیکن 1850 میں شائع ہونے والا ایڈیشن ان کے حقیقی نام سے چھاپا گیا۔ یہ ناول گوتھک فکشن ہے جس میں رومانس تو موجود ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ ایسے خوف ناک واقعات بھی کہانی کا حصہ ہیں جو پراسرار قدرتی طاقتوں کے زیر اثر ہیں۔ یہ ناول دو ایسے خاندانوں کی کہانی ہے جو پڑوسی جاگیروں ودرنگ ہائیٹس اور تھرش کراش گرینج کے درمیان پیچیدہ اور ہنگامہ خیز تعلقات کو بیان کرتی ہے۔ ایملی برانٹے نے محبت، جنون، نفرت اور انتقام جیسے موضوعات کی مدد سے ایسی خوف ناک کہانی خلق کی ہے کہ جو ڈیڑھ صدی گزرنے کے باوجود بھی کلاسیکی ادب کے قارئین کو محصور کیے ہوئے ہے۔
اس ناول کا اردو ترجمہ 1985 میں سیف الدین حسام نے کیا۔ لیکن اس سے پہلے اس ناول کا ترجمہ ’عشق بلا خیز‘ کے نام سے سید قاسم محمود نے 1961 میں کیا جسے 1963 میں شمع بک ڈپو دہلی سے دہلی پبلک لائبریری کے تعاون سے شائع کیا گیا۔
ناول کو سمجھنے کے لیے اس کے نام کی توضیح ضروری ہے کیوں کہ اس کا ناول کے کرداروں سے براہ راست تعلق ہے۔ ودرنگ ہائیٹس ایسے مقام کو کہتے ہیں جو زیادہ اونچائی پر ہوتا ہے اور ہر وقت تیز ہواوں کے نرغے میں رہتا ہے۔ جس طرح یہ جگہ طوفانی ہواوں کے زیر اثر ہے اسی نسبت سے یہاں کے افراد کے رویے اور جذبات بھی تیکھے اور فتنہ انگیز ہیں، وہ جوشیلے ہیں اور غضب ناک بھی۔
ودرنگ ہائیٹس میں ارنشا خاندان آباد ہے۔ مرکزی کردار ہتھ کلف ایک یتیم لڑکا ہے جسے مسٹر ارنشا نے ترس کھا کر اپنی سرپرستی میں لے لیا ہے۔ اس کے بال کالے ہیں، رنگت سانولی اور نین نقش بھی عام ہیں۔ مسٹر ارنشا کے پہلے سے بھی دو بچے ہیں۔ بڑا لڑکا ہے جس کا نام ہنڈلے ارنشا ہے اور چھوٹی بیٹی ہے جس کا نام کیتھرین ارنشا ہے۔ ناول کے دوسرے اہم مقام گرینج میں لنٹن خاندان سکونت اختیار کیے ہوئے ہے۔ یہاں مسٹر لنٹن ان کی بیگم، ان کا بیٹا ایڈگر لنٹن اور بیٹی ازابیل لنٹن رہتے ہیں۔
نئی نسل کے اہم کرداروں میں ہیرٹن ارنشا، کیتھرین لنٹن اور لنٹن ہتھ کلف شامل ہیں۔ ناول میں دو مزید اہم کردار بھی موجود ہیں۔ ان میں سے ایک نیلی ہے جو کہ ایک بوڑھی نوکرانی ہے اور دوسرا مسٹر لاک وڈ جو کہ ایک کرایہ دار ہے۔ یہ ناول اس لیے بھی پیچیدہ ہے کہ نیلی (نوکرانی) مسٹر لاک وڈ (کرایہ دار) کو دونوں خاندانوں کی کہانی بیان کرتی ہے اور مسٹرلاک وڈ اس کہانی کو قارئین کے سامنے پیش کرتا ہے۔ وہ تین مرتبہ خود بھی کہانی میں شامل ہو کر اس کا حصہ بنتا ہے۔ ایک مرتبہ ناول کے آغاز میں جب وہ کرایہ دار کی حیثیت سے گرینج میں وارد ہوتا ہے، دوسری مرتبہ جب وہ نیلی سے کہانی سنتا ہے اور تیسری مرتبہ اختتام پر جب وہ دوبارہ اس قصبے میں پہنچ جاتا ہے۔
ناول کی کہانی کچھ یوں ہے کہ لے پالک ہیتھ کلف اور کیتھرین ارنشا بچپن میں ہی ایک دوسرے کے قریب ہو جاتے ہیں اور لڑکپن میں وہ ایک دوسرے کی طرف مائل ہو کر محبت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ مسٹر ارنشا یتیم اور لاوارث ہونے کی وجہ سے ہتھ کلف کا اپنے سگے بیٹھے ہنڈلے ارنشا سے بھی زیادہ خیال رکھتا ہے جس کی وجہ ہنڈلے ہتھ کلف سے نفرت کرنے لگتا ہے۔ جب مسٹر ارنشا انتقال پا جاتا ہے تو معاملات سنگینی اختیار کر جاتے ہیں۔ لیکن اس وقت ہیتھ کلف اور کیتھرین محبت کی حدوں کو چھو رہے ہوتے ہیں۔
ایک شدید ٹکراؤ کے بعد ہنڈلے ارنشا ہیتھ کلف کو گھر بدر کر دیتا ہے۔ ہیتھ کلف بے عزت ہو کر گھر سے نکلتا ہے تو پھر کئی سالوں بعد واپس لوٹتا ہے، تب وہ امیر ہو چکا ہوتا ہے۔ ہیتھ کلف کے لوٹنے سے پہلے کیتھرین کی شادی لنٹن خاندان کے سپوت ایڈگر سے کر دی جاتی ہے۔ ایڈگر بھی بچپن سے ہی کیتھرین سے محبت کرتا ہے لیکن ہید کلف کی غیر موجودگی میں وہ کیتھیرین کو پا لیتا ہے۔ کیتھرین بیاہی تو جاتی ہے لیکن اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود وہ ہتھ کلف سے ہی محبت کرتی ہے۔
جب ہیتھ کلف واپس لوٹ آتا ہے تو وہ پھر سے اس کی طرف مائل ہو جاتی ہے لیکن رہنا پھر بھی وہ اپنے خاوند کے ساتھ ہی چاہتی ہے۔ ہتھ کلف چونکہ خود پر ہونے والے ظلم و ستم کا انتقام لینے کی غرض سے ہی لوٹتا ہے تو وہ ان تمام کو تکلیف میں مبتلا کرنے کی غرض سے کیتھریں کی نند ازابیل لنٹن کو محبت کا جھانسہ دے کر گھر سے بھگا لے جاتا ہے۔ وہ ازابیل سے شادی کرتا ہے لیکن اس کے وجود سے شدید نفرت کرتا ہے کیونکہ اس کے دل میں صرف ایک ہی عورت ہے جسے وہ دل جان سے چاہتا ہے۔
وہ کامیاب منصوبہ بندی سے ودرنگ ہائیٹس پر قابض ہو جاتا ہے اور پھر ناول کے اختتام پر وہ گرینج کا بھی مالک بن جاتا ہے۔ لیکن کیتھرین کو پانے کے تمام حربے ناکام رہتے ہیں یہاں تک کہ کیتھرین اس کی محبت میں وفات پا جاتی ہے اور اس طرح نفرت اور بدلے کی آگ اگلی نسل میں منتقل ہو جاتی ہے۔ وہ مستقل مزاجی اور منصوبہ بندی سے ہر معاملے میں کامیاب ہو جاتا ہے لیکن وہ اپنی محبت حاصل کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ پھر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب وہ ضد چھوڑ دیتا ہے اور بچوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔
وہ کیتھرین کی محبت میں دیوانہ ہو کر کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے اور سسک سسک کر اپنی جان دے دیتا ہے۔ وصیت کے مطابق اسے کیتھرین کی قبر کے ساتھ دفنایا جاتا ہے۔ لیکن اہل علاقہ اکثر یہ دعوی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ انہوں نے کئی بار ہیتھ کلف اور کیتھرین کے بھوتوں کو ان سبزہ زاروں میں گھومتے دیکھا ہے جہاں وہ بچپن میں کھیلا کودا کرتے تھے۔
اس ناول کے ذریعے مصنفہ نے جنون کی ایسی بے لگام طاقت کی کھوج کی ہے جو اعتدال سے عاری ہے۔ اسی وجہ سے ہیتھ کلف اپنے انتقام کی پیاس بجھانے کے لیے ہر وہ قدم اٹھاتا ہے جسے وہ ضروری سمجھتا ہے پھر چاہے وہ جائز ہو یا ناجائز۔ جنون کی یہی تباہ کن طاقت ہیتھ کلف کے زوال کا سبب بھی بنتی ہے۔ ودرنگ ہائیٹس میں محبت کی وجہ سے قائم ہونے والے سنجیدہ تعلقات کو دقیق بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ پیچیدگیاں محبت کے اثرات کو زائل کر کے معاملات کو اس دھارے میں دھکیلنے کی کوشش کرتی ہیں جن سے شدید بگاڑ جنم لیتا ہے اور وہ بگاڑ وقت گزرنے کے ساتھ تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے۔ ہیتھ کلف اور کیتھرین میں انتہا کی محبت ہے اس میں حسد، ہیرا پھیری اور طاقت کے حصول کے لیے کی گئی جدوجہد بھی نمایاں ہے۔
انتقام اس ناول کا خیال مرکز ہے۔ ہیتھ کلف کی ان لوگوں سے بدلہ لینے کی جستجو جنہوں نے ماضی میں اس پر ظلم ڈھائے ہوتے ہیں وقت آنے پر مزید مظالم کو جنم دیتی ہے جس کی وجہ سے لوگ اس کے عتاب کا نشانہ بنتے ہیں۔ اس طرح انتقام کی یہ آگ اگلی نسل تک منتقل ہو جاتی ہے۔ مصنفہ نے کیا ہی خوب صورت انداز میں باور کروایا ہے کہ بدلہ کوئی اطمینان بخش عمل نہیں اور نہ ہی مسائل کا حل ہے بلکہ یہ نفرت میں اضافہ کا باعث بنتا ہے جس کی وجہ سے معاملات میں مزید شدت انگیزی پیدا ہوتی ہے۔
ودرنگ ہائیٹس انسان کے ذاتی تعلقات اور ان پر سماجی طبقات کے اثرات کی نشان دہی کرتا ہے۔ یہ امیر اور غریب کے فرق کو زیر بحث لاتا ہے اور اس سے پیدا ہونے والے مسائل کی طرف توجہ مبذول کرواتا ہے۔ ناول میں ایسی سماجی رکاوٹوں کی بات کی گئی ہے جن کی وجہ سے محنت کشوں اور امیر طبقے کے معاملات کی مبہم صورت حال واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
ایملی برانٹے نے اس ناول میں یہ باور کروانے کی کوشش بھی کی ہے کہ دستیاب ماحول کس طرح انسانی فطرت پر اپنا اثر چھوڑتا ہے۔ یہ ناول جس علاقے پر لکھا گیا ہے وہاں موسم شدید ہے جس کی وجہ سے وہاں برف باری کا موسم بھی طویل ہے۔ یہاں برفانی جھکڑ چلتے ہیں اور ہر وقت تیز ہوائیں چلتی ہیں۔ جس طرح یہ جگہ طوفانی ہے ویسے ہی یہاں کے باسی ہیں جن کے مزاج تیکھے اور جذبات شتر بے مہار ہیں۔
ودرنگ ہائیٹس کے مرکزی کرداروں کی بالغ زندگیوں پر ان کے بچپن کے تجربات اور یادوں کے گہرے اثرات ہیں۔ ہیتھ کلف اور کیتھرین کے درمیان قائم ہونے والا محبت کا مضبوط رشتہ ان کی مشترکہ پرورش کا نتیجہ ہے جو ان کے مستقبل پر ان مٹ نشان چھوڑتا ہے۔ بچپن کے صدمے اور ماضی کے رشتے کرداروں کی موجودہ زندگیوں پر اثر انداز بھی ہوتے ہیں اور انہیں شدید پریشان بھی کرتے ہیں۔
الغرض ودرنگ ہائیٹس ایملی برانٹے کا واحد مگر بہترین شاہکار ہے۔ مجموعی طور پر یہ ناول انسان کی متذبذب نفسیات اور جذبات کی گہرائیوں سے پیدا ہونے والے خوف ناک ردعمل کا عکاس ہے۔ مصنفہ نے محبت میں ناکامی اور بچپن کے واقعات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی انتقامی صورت حال اور انسانی فطرت کی پیچیدگیوں کو نئے ڈھنگ سے پیش کیا ہے۔ سب سے اہم اور خطرناک پہلو جذبات کی شدت پسندی ہے جس کی وجہ سے سب کچھ زوال پذیر ہو جاتا ہے۔


