نواز شریف نے الیکشن سے پہلے ہی کشتی کو عزت دلا دی


کالم کے عنوان کی وضاحت کرتا جاؤں کیونکہ کمپیوٹر پر اردو ٹائپنگ میں اعراب یعنی زیر، زبر اور پیش لگانا مشکل ہے۔ یہ لفظ ”کشتی“ جو عنوان میں استعمال ہوا ہے یہ وہ ”کشتی“ نہیں ہے جس کے لیے انگریزی کا لفظ ریسلنگ استعمال ہوتا ہے۔ بلکہ یہ وہ ”کشتی“ ہے جسے انگریزی میں ”بوٹ“ کہتے ہیں۔ اب میں بوٹ کی مزید وضاحت نہیں کر پاؤں گا۔ آپ سب کو بخوبی علم ہے کہ پاکستانی سیاست میں بوٹ کی خاص اہمیت ہے کیونکہ ہمارے سیاست دان ووٹ کو عزت اسی بوٹ کے سہارے سے دے پاتے ہیں۔ ”شاباش“ ہو ان سب پر۔

نواز شریف اتنے بڑے انقلابی ہیں کہ وہ شہباز شریف کے بھی بڑے بھائی ہیں۔ نواز شریف ایک آزمودہ کار انقلابی ہونے کا اعزاز بھی رکھتے ہیں۔ ان کی سیاسی زندگی میں وہ چوتھی مرتبہ ننگے پاؤں لیکن پھر بھی بوٹ کے مضبوط سہارے پر انقلاب کی راہ پر گامزن ہیں۔ کشتی یعنی بوٹ کے سہارے ہی الیکشن کا دریا عبور ہو سکے گا اور دریا کے دوسرے کنارے بوٹ، معافی چاہتا ہوں، ووٹ کو عزت دے دی جائے گی۔

اس وقت 2018 والا مشہور ”ایک پیج“ کا دور دہرایا جا رہا ہے۔ جمہوریت پسند باجوہ کپتان کا محبت بھرا پیج بہت لمبا چلا۔ پونے چار سال۔ مطلب اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی حکومت کی اتنی لمبی شادی تو ضیا الحق اور محمد خان جونیجو کی بھی نہیں چلی تھی۔ مرد مومن مرد حق جنرل ضیا الحق کی موت کے بعد نواز شریف کو کبھی اتنا لمبا پیج نصیب نہیں ہوا جتنا کپتان نے انجوائے کر لیا۔

باجوہ کپتان دور بہت شاندار ترقی کا دور تھا۔ یقین نہیں آتا تو باجوہ، کپتان اور ان دونوں کے دوستوں کی دولت میں ہوش ربا اضافے دیکھ لیں، آپ کو پاکستان کی ترقی کا یقین آ جائے گا۔ اس کے بعد باجوہ شہباز دور میں ترقی کی وہی رفتار برقرار رکھی گئی۔ مقاصد بھی وہی رہے۔ ہر ہفتے پاکستان کے دیوالیہ ہونے سے بچ جانے کی خوش خبری سنائی دیتی تھی اور آدھی قوم خوش ہو جاتی تھی۔

باجوہ شہباز اور پھر مزید نئے ڈاکٹرائن والی حکومت میں دوسری خوش خبری عدالتوں سے مقدمات کے خاتمے کی ہوتی تھی۔ جن مقدمات میں شہباز اور ان کے بچوں پر فرد جرم عائد ہونے والی تھی انہی سے وہ باعزت بری ہوتے گئے۔

ہماری عدالتیں بھی کمال کی نگاہ رکھتی ہیں، اسٹیبلشمنٹ کی نبض پر۔ ادھر کرسی بدلتی ہے تو ادھر مقدمات کی تفتیش کی سمت بدل جاتی ہے۔ جو تھوک کی ضمانتیں کپتان کو مل رہی تھیں وہ یک دم رک گئیں اور کپتان کی جگہ نواز شریف کا نام بولنے لگا۔ واہ! انصاف ہو تو ایسا۔ وہ کہتے ہے ناں کہ انصاف نظر بھی آنا چاہیے تو یقین کریں کہ انصاف صاف نظر آ رہا ہے۔

اب انقلاب بھی ہماری نگاہوں کے سامنے نظر آ رہا ہے۔ راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ سب پتھر اور کانٹے چن دیے گئے ہیں۔ اگر کوئی باقی بچا ہے تو وہ بھی اگلے چند دنوں میں کسی نہ کسی ٹی وی پر آ کر اپنا انٹرویو دے گا اور نو مئی پر اپنا پرسہ ریکارڈ کرا دے گا۔

ہمارے ملک میں کوئی نہ کوئی پارٹی الیکشن سے پہلے ہی جیت جاتی ہے۔ اس دفعہ پھر نون لیگ کی باری ہے۔ پچھلی دفعہ اسٹیبلشمنٹ کا اعتماد پی ٹی آئی نے جیت لیا تھا۔

پاکستان کا ہر انقلاب ایسا ہوتا ہے کہ اس کے اختتام پر لوگ مٹھائیاں بانٹتے ہیں۔ اصل میں پاکستان میں حکومت کبھی تبدیل ہی نہیں ہوئی۔ صرف نام اور چہرے راحیل شریف سے لے کر حافظ صاحب تک بدل جاتے ہیں۔ نواز شریف، عمران خان اور شہباز شریف گڈھ کے ساتھ چل رہے ہوتے ہیں اور ظاہر کرتے ہیں کہ گڈھ وہی کھینچ رہے ہیں جب کہ اصل میں کھینچ کوئی اور رہا ہوتا ہے۔

ٹیل پیس: ووٹ پر ”شاباش“ ہو۔ مجھ پر بھی۔ تم سب پر بھی۔ تم سب پر جو یہاں میرے سامنے کھڑے ہو اور ان سب پر بھی جو اس دن سے کوئی بھی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ مجھے تمہاری نا سمجھی پر خوش ہونے کا پورا حق ہے۔ میں نے تم سے تمہاری سوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھیننے والوں کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔ میں ایک دفعہ پھر اسی بند لتر سے پھوٹنے والے طاقت کے چشمے کا پانی پینے آیا ہوں جو تمہارے سروں پر تلوار کی طرح جھولتا ہے۔ تمہارے بچوں کے حصے کا دودھ پی جاتا ہے اور ماؤں کی دہائی کی آواز بھی نکلنے نہیں دیتا۔ تمہارے بیماروں اور بوڑھوں تک دوائی اور خوراک پہنچنے نہیں دیتا۔ جو ہر وقت حالت جنگ میں رہنے کا ڈرامہ کرتا ہے تاکہ تم خوف زدہ رہو اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے تمہارا تعارف ہی نہ ہو سکے۔

Facebook Comments HS

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 366 posts and counting.See all posts by salim-malik