کھیلوں میں بھی زوال!


کسی سیانے نے بالکل درست کہا ہے کہ جب زوال آتا ہے تو وہ کسی ایک مقام یا شعبے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ ہمہ گیر ہوتا ہے۔ اپنی طرف ہی دیکھ لیجیے۔ ہماری قومی معیشت زوال کا شکار ہے۔ شعبہ تعلیم زوال کا شکار ہے۔ سیاسی اور سماجی اقدار زوال پذیر ہیں۔ قومی ائر لائن، سرکاری ٹی۔ وی، ریڈیو، سمیت بیسیوں قومی ادارے زوال کا شکار ہیں۔ ہمارا پاسپورٹ، ہماری کرنسی بدترین حالت میں ہیں۔ کھیلوں کی صورتحال بھی مختلف نہیں ہے۔

جس کھیل پر نگاہ ڈالیں، وہ رو بہ زوال ہے۔ آج کل ہم قومی کرکٹ ٹیم کا نوحہ پڑھ رہے ہیں۔ کرکٹ شائقین نہایت دکھی ہیں اور غم و غصے کا شکار ہیں۔ ورلڈ کپ میں ہونے والی بدترین شکست اور شرمناک کارکردگی نے انہیں رنجیدہ کر رکھا ہے۔ اگرچہ ہماری ٹیم بطور فیورٹ ٹیم عالمی کپ میں شریک تھی۔ لیکن اسے 9 میں سے 5 میچوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ انگلینڈ سے ہارنے کے بعد یہ سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر ہو گئی۔ غالباً یہ تیسری بار ہے کہ پاکستانی ٹیم ون ڈے کرکٹ ورلڈ کپ کے سیمی فائنل تک نہیں پہنچ سکی ہے۔

اخباری تجزیوں کے مطابق میگا ایونٹس کی 48 سالہ تاریخ میں یہ پاکستان کرکٹ ٹیم کی بدترین کارکردگی ہے۔ اندازہ کیجئے کہ ہم افغانستان جیسی عام سی ٹیم سے بھی میچ ہار گئے۔ کہا جاتا ہے کہ کھیل اور جنگ میں ہار جیت سے زیادہ اہمیت اس بات کی ہوتی ہے کہ آپ نے کتنی جواں مردی سے مخالف ٹیم کا مقابلہ کیا۔ مخالف کو کتنا ٹف ٹائم دیا۔ اور آخری وقت تک کس طرح ڈٹے رہے۔ افسوس کہ ہماری کرکٹ ٹیم اور کھلاڑی مخالف ٹیموں کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئے۔

اسے المیہ کہنا چاہیے کہ ہمارے ہاں جواب طلبی اور احتساب کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔ ہم سے بہتر تو سری لنکا ہے، جس نے اپنی ٹیم کی بری کارکردگی کے بعد اپنے کرکٹ بورڈ کو برخاست کر کے ایک عبوری کمیٹی قائم کر دی ہے۔ 2015 میں بھی ہماری ٹیم بنگلہ دیش میں ایک روزہ بین الاقوامی میچوں کی سیریز میں بنگلہ دیشی ٹیم سے تینوں میچوں میں ہار گئی تھی۔ تب بھی بہت لے دے ہوئی تھی۔ اس وقت بورڈ کے اعلیٰ عہدیداروں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ طویل المدت منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ اس منصوبہ بندی کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔

کرکٹ کے بارے میں ہماری قوم نہایت جذباتی ہے۔ کھلاڑیوں کو اپنا قومی ہیرو مانتی ہے۔ انہیں سر آنکھوں پر بٹھاتی ہے۔ ان کی ایک جھلک دیکھنے، ان کے ساتھ تصویر لینے، ان کا آٹوگراف لینے کے لئے شائقین بے تاب رہتے ہیں۔ یہ معاملہ شائقین تک محدود نہیں۔ حکومتی سطح پر بھی کرکٹ ٹیم کی بھرپور سرپرستی کی جاتی ہے۔ بورڈ کو کروڑوں، اربوں روپے کے فنڈز فراہم ہوتے ہیں۔ اچھی کارکردگی پر کھلاڑیوں کی آؤ بھگت کی جاتی ہے۔ انہیں انعام و اکرام اور اعزازات سے نوازا جاتا ہے۔ اکثر و بیشتر کرکٹ کے کھلاڑیوں کے ناز نخرے اٹھانے کی وجہ سے قومی کھیل ہاکی سمیت دیگر کھیل نظر انداز ہو جاتے ہیں۔ سو کرکٹ ٹیم سے عمدہ کارکردگی کی توقعات رکھنا نہایت قابل جواز امر ہے۔

حسب معمول اب کرکٹ کے زوال اور ورلڈ کپ میں کھلاڑیوں کی بدترین کارکردگی کی مختلف توجیہات پیش کی جا رہی ہیں۔ عمومی طور پر کہا جاتا ہے کہ کھلاڑیوں کی توجہ محنت سے پریکٹس کرنے کے بجائے ماڈلنگ اور دیگر سرگرمیوں پر مرکوز رہتی ہے۔ اس مرتبہ بھی میچ سے پہلے کھلاڑی ساڑھیاں خریدنے، شاپنگ کرنے اور گھومنے پھرنے میں مصروف رہے۔ کرکٹ بورڈ میں سفارش پر ہونے والی تعیناتیوں کو بھی ٹیم کی بری کارکردگی کی وجہ بتایا جاتا ہے۔

کرکٹ بورڈ کی سربراہی کے لئے بھی ہر بار لابنگ ہوتی ہے۔ بھاری بھرکم سفارشیں کروائی جاتی ہیں۔ ایک سیاسی جماعت کو نجم سیٹھی پسند آ جاتے ہیں تو وہ سربراہ بن جاتے ہیں۔ دوسری جماعت ذکاء اشرف کو چیئرمین بنانے کے لئے زور لگاتی ہے اور نہیں سربراہ بنا کر دم لیتی ہے۔ دیگر عہدوں کے لئے بھی یہی کھیل تماشا ہوتا ہے۔ اکثر اوقات بورڈ تنازعات میں گھرا رہتا ہے۔ آج کل انضمام الحق اور کرکٹ بورڈ کے مابین ایک بڑا تنازع زیر بحث ہے۔

کرکٹ بورڈ نے سابق چیف سلیکٹر انضمام الحق کے ایک کمپنی کا شیئر ہولڈر ہونے اور مفادات کے ٹکراؤ کے معاملے کی نشاندہی کی تھی۔ جوابی ردعمل کے طور پر انضمام الحق نے ذکا اشرف پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی۔ کہا کہ وہ اپنی ایکس ٹینشن کی فکر میں سرگرداں ہیں۔ انہیں کرکٹ کی الف بے بھی نہیں معلوم۔ اس طرح کی باتوں سے ہمارے کرکٹ بورڈ کا، اس کے عہدیداروں کا کیا تاثر دنیا میں جاتا ہو گا۔ یقیناً دنیا ہمارا تمسخر اڑاتی ہو گی۔

دیگر تمام کھیلوں کا بھی برا حال ہے۔ باقی کھیلوں کی حالت زار اس سے بھی زیادہ بد تر ہے۔ انہیں فنڈز دستیاب ہیں، نہ حکومتی سرپرستی۔ ہاکی کا حال دیکھ لیں۔ کہنے کو یہ ہمارا قومی کھیل ہے۔ لیکن یہاں بھی زوال کی داستاں رقم ہے۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ ہاکی میں ہمارا ایک نام ہوا کرتا تھا۔ دوسرے ممالک کی ٹیموں پر پاکستان نے اپنی دھاک بٹھا رکھی تھی۔ ایک زمانے میں ہاکی کا ڈنکا بجتا تھا۔ ہمیں ہاکی کے تین اولمپک گولڈ میڈل، چار عالمی کپ، تین چیمپیئنز ٹرافیاں جیتنے کا اعزاز حاصل ہے۔

1994 میں ورلڈ کپ جیتنے کے بعد یہ کھیل زوال پذیر ہو گیا۔ سنتے ہیں کہ ہمارے ہاکی ماہرین نے جن ایشیائی ممالک کی ٹیموں کو ہاکی کی تربیت دی ہے۔ آج وہ ٹیمیں پاکستان سے کہیں آگے ہیں۔ جبکہ ہماری حالت یہ ہے کہ حکومتی سرپرستی نہ ہونے کی وجہ سے آج ہاکی کو کوئی پوچھتا تک نہیں۔ ہاکی میں دولت کے انبار ہیں، نہ نوکری، نہ شہرت وغیرہ۔ ایسے میں نوجوان کیونکر اس طرف راغب ہوں گے۔ کبھی خبر آتی ہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن ختم کر دی گئی ہے۔

کبھی خبر آتی ہے کہ اسے بحال کر دیا گیا ہے۔ کبھی کروڑوں روپے کی کرپشن کی خبریں آتی ہیں۔ ہاکی بھارت کا بھی قومی کھیل ہے۔ وہاں اس کی ترویج کی کوششیں ہوتی ہیں۔ اپنے قومی کھیل کے فروغ کے لئے وہاں فلمیں بنائی جاتی ہیں۔ شاہ رخ خان جیسے ہیر وان فلموں میں کام کرتے ہیں۔ یہاں ہمیں نیوز میڈیا میں بھی ہاکی سے متعلق کوئی چھوٹی موٹی خبر دکھائی نہیں دیتی۔

ایک زمانے میں سکواش میں پاکستان کا ڈنکا بجا کرتا تھا۔ جہانگیر خان اور جان شیر خان جیسے ہیرو بلکہ لیجنڈ ہوا کرتے تھے۔ آج سکواش فیڈریشن کا کوئی اتا پتہ ہی نہیں ہے۔ سکواش کے ضمن میں بدترین کارکردگی کے ریکارڈ قائم ہوتے رہتے ہیں۔ پھر سنوکر کے چیمپیئن یوسف خان ہوا کرتے تھے۔ کسی زمانے میں سرکاری ٹی وی گھنٹوں انہیں سنوکر کھیلتے دکھایا کرتا تھا۔ یہ گیم بھی کہیں گم ہو گئی ہے۔ ان حالات میں علاقائی کھیلوں جیسے کبڈی، کشتی، وغیرہ و کو کون پوچھے گا۔ ان کا بھی اللہ ہی حافظ ہے۔ ایشین گیمز ہوں، کامن ویلتھ گیمز، یا دیگر ہر جگہ ہم بدترین کارکردگی کے ریکارڈ قائم کرتے نظر آتے ہیں۔

ایک بڑی مصیبت یہ ہے کہ ہر جگہ سیاست گھس آئی ہے۔ جس طرح پاکستان کرکٹ بورڈ کا چیئرمین لگنے کے لئے پاپڑ بیلے جاتے ہیں۔ خوب کھینچا تانی ہوتی ہے۔ بڑی بڑی سفارشیں بیچ میں پڑتی ہیں۔ اس کے بعد کہیں جا کر کام بنتا ہے۔ دیگر کھیلوں کے بورڈز میں بھی یہی صورتحال ہے۔ جن لوگوں کا کھیل سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں انہیں بڑے بڑے عہدوں پر لا کر مسلط کر دیا جاتا ہے۔ کسی زمانے میں کھیلوں کی علیحدہ وزارت ہوا کرتی تھی۔ پھر بین الصوبائی رابطے کی وزارت میں اسے ضم کر دیا گیا۔

اب بھی قومی اور صوبائی سپورٹس بورڈز قائم ہیں۔ انہیں فنڈز بھی ملتے ہیں۔ انتظامی ڈھانچہ بھی موجود ہے۔ لیکن ان کارکردگی ہمارے سامنے ہے۔ چند سال پہلے تک مختلف کھیلوں کے نوجوان کھلاڑیوں کو مختلف اداروں میں نوکریاں دی جاتی تھیں۔ اس طرح لوگ ان کھیلوں کی طرف راغب ہوتے اور مختلف اداروں کی طرف سے کھیلتے تھے۔ عمران خان دور حکومت میں نوکریاں دینے کا یہ سلسلہ بند کر دیا گیا۔ اس وجہ سے بھی کھلاڑی کھیلوں سے بد دل ہونے لگے۔

ہمارے ارباب اختیار کو کھیلوں کے زوال کی اس صورتحال کا نوٹس لینا چاہیے۔ لیکن نوٹس بھی کون لے گا؟ نوٹس لینے والوں نے تو خود کسی نہ کسی کو، کہیں نہ کہیں کھپانا ہوتا ہے۔ اس سیاست کے چکر میں کھیلوں کا بیڑا غرق ہو رہا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔

Facebook Comments HS