سوار خان۔ گوشہ نشین جرنیل


سابق گورنر پنجاب، صوبائی چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور وائس چیف آف آرمی سٹاف جنرل سوار خان 99 سال کی عمر میں 8 نومبر 2023 کو راولپنڈی کے فوجی ہسپتال (سی ایم ایچ) میں انتقال کر گئے، اسی روز شام چار بجے نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد راولپنڈی کے ہی فوجی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

جنرل سوار خان مندرہ چکوال روڈ پر تحصیل گوجر خان کے ایک قدیمی گاؤں راماں سے تعلق رکھنے والے چوہدری خدا بخش نمبردار کے گھر یکم دسمبر 1924 کو پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم نیشنل خالصہ ہائی سکول سید (موجودہ گورنمنٹ کاظمیہ ہائی سکول سید) سے حاصل کی، 1945 میں رائل انڈین آرمی میں کمیشن حاصل کیا، 15 دسمبر 1946 ء میں افسر ٹریننگ سکول بنگلور (انڈیا) سے پاس آؤٹ ہوئے اور قیام پاکستان کے بعد کور آف آرٹلری میں شمولیت اختیار کی۔

دوران سروس آپ نے فرسٹ ایس پی رجمنٹ آرٹلری اور 34 ہیوی رجمنٹ میں عسکری خدمات سرانجام دیں، انہیں 34 آرٹلری رجمنٹ کی کمانڈ کرنے کا بھی اعزاز حاصل تھا، بریگیڈیرز کے رینک پر ترقی پانے کے بعد انہوں نے کمانڈر 15 ڈویژن آرٹلری، کمانڈر 101 بریگیڈ اور چیف آف سٹاف ون کور کے فرائض سرانجام دیے۔ بحیثیت میجر جنرل انہیں 11 انفنٹری ڈویژن کی کمانڈ کرنے کا بھی موقع ملا، 1976 میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی پانے کے بعد ایڈجوٹنٹ جنرل، پشاور ( 11 کور) اور لاہور ( 4 ) کور کے کمانڈر تعینات ہوئے، ستمبر 1978 سے مارچ 1980 تک مارشل لاء کے دوران آپ لاہور کور کو کمانڈ کرنے کے ساتھ ساتھ گورنر پنجاب کے عہدے پر بھی فائز ہوئے، 1980 ء میں آپ کو فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی ملی اور وائس چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے کے لئے منتخب ہوئے، 1965 اور 1971 کی جنگوں میں حصہ لیا اور شاندار جنگی خدمات پر ستارہ بسالت، ہلال امتیاز (ملٹری) اور نشان امتیاز (ملٹری) کے اعزازات سے نوازا گیا، 38 سال نوکری کے بعد 22 مارچ 1984 کو ریٹائر ہوئے۔

پسماندگان میں ڈاکٹر عمر سوار مرحوم (بیٹا) ڈاکٹر جمیل سوار (بیٹا) ، ڈاکٹر اسد سوار (بیٹا) ، بریگیڈیئر (ر) عطیہ سوار (بیٹی) ، سابق پرو ریکٹر ناردرن یونیورسٹی نوشہرہ سلمیٰ سوار اشرف (بیٹی) شامل ہیں۔ جنرل سوار خان کا شمار جنرل ضیاء الحق کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا، پیشہ ورانہ امور کے علاوہ دونوں صاحبان میں دوستانہ تعلقات کا آغاز 1955 ء میں ہی ہو گیا تھا، 80 کی دہائی میں خطے میں تیزی سے اہم تبدیلیاں رونما ہو رہی تھیں، روس کی افغانستان آمد کے ساتھ ہی امریکہ و دیگر مغربی ممالک کی نظر میں پاکستان کی اہمیت کئی گنا بڑھ گئی تھی، پاکستان کا ایٹمی پروگرام انہی سالوں میں ہی ترقی اور تکمیل کے مراحل سے گزر رہا تھا، جنرل سوار خان مارشل لاء دور کے کئی اہم سیاسی و فوجی واقعات کے چشم دید گواہ تھے اور جنرل ضیاء الحق کے با اعتماد جرنیلوں میں ان کا شمار ہوتا تھا لیکن 1984 ء میں ریٹائرمنٹ کے بعد جڑواں شہروں راولپنڈی اسلام آباد کے متعدد اخبار نویسوں نے کئی بار انٹرویو کرنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے ہمیشہ انکار کیا اور اپنے انتقال تک کبھی بھی سیاسی یا پیشہ ورانہ موضوعات پر لب کشائی نہ کی۔

2002 ء میں ناردرن یونیورسٹی نوشہرہ قائم کی اور تادم مرگ اس کے صدر رہے، ضلع راولپنڈی اور تحصیل گوجر خان کے حوالے سے بات کریں تو بطور گورنر پنجاب 23 جولائی 1979 ء میں شمس آباد مری روڈ پر بارانی زراعتی کالج راولپنڈی کا سنگ بنیاد رکھا جس نے بعد ازاں بارانی زرعی یونیورسٹی کا درجہ حاصل کیا، موجودہ ڈبل روڈ کی تعمیر سے قبل مندرہ چکوال روڈ کی تعمیر نو کے حوالے سے بھی انہی کا نام زیر گردش رہتا ہے، اپنی مادر علمی گورنمنٹ کاظمیہ ہائی سکول سید کسراں کی چھتیں تبدیل کروائیں، سید اور کسراں گاؤں میں بجلی پہنچائی، سیداڈہ سے گاؤں تک لنک روڈ تعمیر کرائی، روحانی حوالے سے بات کریں تو جنرل سوار خان بھنگالی شریف والے پیر سید عبداللہ شاہ ہمدانی اور سید کسراں میں بابا شاہ نذر دیوان سے گہری عقیدت رکھتے تھے۔

بطور گورنر پنجاب پیر سید عبداللہ شاہ ہمدانی سے ملاقات کے لئے آتے رہتے، منشی عنایت علی کے بقول بھنگالی گوجر میں بجلی کی فراہمی اور دربار موڑ سے گاؤں تک لنک روڈ کی تعمیر انہی کی مرہون منت تھی۔ اس زمانے میں چونکہ اہم مسائل میں بجلی کی عدم فراہمی شامل تھی اس لیے تحصیل کے متعدد دیہات میں بجلی کی تنصیب کرائی، گلیاں اور لنک روڈز بنوائیں۔

Facebook Comments HS

فیصل عرفان

فیصل عرفان پوٹھوہاری شاعر، محقق، چار کتابوں کے مولف اور روزنامہ نوائے وقت اسلام آباد میں سب ایڈیٹر ہیں

faisal-irfan-chohan has 16 posts and counting.See all posts by faisal-irfan-chohan