ہومیو پیتھی کیا ہے؟


یہ 1790 ء کا ذکر ہے کہ جرمنی میں ایکM۔ D، ڈاکٹر ہانیمین نے دریافت کیا کہ کوئی شے جو کسی مرض کا علاج کرتی ہے، دراصل اس میں وہ مرض پیدا کرنے کے اثرات ہوتے ہیں۔ اس اصول کو عبرانی زبان میں Similia similibus curantur اور انگلش میں like cures like کہا گیا۔ اسے علاج بالمثل یعنی ہومیو پیتھی کا نام دیا گیا۔

واضح ہو کہ ہومیو پیتھک علاج اور دوائی پر کئی سوال اٹھتے ہیں۔ اس کے بعض ایسے ٹھوس حقائق ہیں، جو بظاہر معمہ اور افسانہ لگتے ہیں۔ جیسا کہ

” ماسوائے مدر ٹنکچر کے ہومیو پیتھک دوائی کا کوئی رنگ، بو اور ذائقہ نہیں ہوتا۔ جس مادے سے ہومیو دوائی بنی ہو، دیکھ، سونگھ یا چکھ کر اس کی پہچان نہیں ہوتی۔ جملہ ہومیو پیتھک ادویات بظاہر الکوحل، ملک شوگر یا عام چینی کی گولیاں ہوتی ہیں۔ کسی طرح بھی ہومیو دوائی کی پوٹنسی یعنی طاقت معلوم نہیں ہوتی۔ ہومیو دوائی کی ایک چھوٹی سی گولی کی طاقت (Potancy) ایک لاکھ بھی ہو سکتی ہے۔ ہومیو دوائی کی اکٹھی ایک گولی کھائیں یا سو گولیاں ایک ہی خوراک ہوتی ہے۔

اگر وہی سو گولیاں وقفے سے ایک ایک کر کے کھائیں تو یہ سو خوراکیں ہوتی ہیں۔ دیگر طریقہ ہائے علاج کے بالکل برعکس ہومیو دوائی میں اسی طاقت کی دوائی کی مقدار بڑھائیں تو پوٹنسی نہیں بڑھتی۔ ہومیو ادویات کا کوئی منفی رد عمل (Reaction) نہیں ہوتا۔ نا حل پذیر اشیا ء جیسے تانبا، سونا اور چاندی وغیرہ سے دوائی بنائیں تو ان اشیاء کا وزن کم نہیں ہوتا، جبکہ اس سے بنی دوائی میں ادویاتی اثرات ہوتے ہیں۔ ہو میو دوائی میں مستعمل مواد کی مقدار جیسے جیسے کم ہوتی ہے، اس کی طاقت (Potancy) بڑھتی جاتی ہے۔ بعض اوقات ہو میو دوائی دن، ہفتہ، مہینہ، سال یا زندگی بھر میں ایک خوراک کافی ہوتی ہے، آخر کیوں؟“

ہومیو علاج اور دوائی کے ایسے ہی پوشیدہ حقائق ہیں جس کی وجہ سے ایک طبقہ ہومیو پیتھی کو تسلیم نہیں کرتا۔ وہ ایسا کرنے پر حق بجانب ہے کیونکہ انہیں مذکورہ بالا معموں کی بنیادی حقیقت اور ان پر اٹھنے والے سوالوں کا تسلی بخش جواب نہیں ملتا۔ ڈاکٹر ہانیمین کے مطابق ہو میو دوائی روحانی اور غیر مادی شے ہے، اس کی سائنسی توجیہہ نہیں کی جا سکتی۔ بس مشاہدہ ہے کہ یہ کام کرتی ہیں ( آرگنن آف میڈیسن، دفعہ 28 ) ۔ لیکن معترض طبقہ اس غیر سائنسی تشریح کو قبول نہیں کرتا۔

میرے نزدیک ہومیو پیتھی بھی دیگر طبی نظاموں کی طرح مادے کے ادویاتی خواص استعمال کرتی ہے۔ دوائی کے لئے استعمال شدہ مواد خواہ وہ نباتاتی ہو یا کیمیائی اسے ڈرگ کہا جاتا ہے۔ ڈرگز کی مقدار ہر طبی نظام میں مختلف ہوتی ہے۔ لو پوٹنسی ہومیو دوائی میں بھی ڈرگز معمولی مقدار میں ہوتی ہے، البتہ ہائی پوٹنسی میں یہ بالکل نہیں ہوتی، تو پھر یہ ادویاتی خواص کیوں رکھتی ہے؟ اس راز کو پانے کے لئے ہمیں مادی خواص کی حقیقت کو سمجھنا ہو گا۔

واضح ہو کہ مادے کے خواص نہ نظر آتے ہیں، نہ جگہ گھیرتے اور وزن رکھتے ہیں۔ اس کے باوجود یہ دوسری اشیاء پہ عمل پذیر ہو کر ان میں تبدیلی پیدا کرتے ہیں۔ دوسری اشیاء میں تبدیلی پیدا کرنا توانائی کی صفت ہے۔ جس کی تعریف ہے کہ توانائی وہ عامل ایجنٹ ہوتا ہے جو معمول میں تبدیلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ میرے نزدیک مادے کے خواص در اصل توانائی ہوتے ہیں۔ مادے کی ذات اور صفات (توانائی) کا وجود پہلے سے تسلیم شدہ ہے۔

صدیوں سے یہ سوال پریشان کن تھا کہ عمل تقلیل یعنی دوائی کی مقدار کم کرنے سے اس کی طاقت کیوں بڑھتی ہے؟ اب معلوم ہوا کہ تقلیل ڈرگ کی نہیں، بلکہ اس کے خواص کی ہوتی ہے، جو مثبت سے منفی بن رہے ہوتے ہیں۔ جیسے درجہ حرا رت مثبت سے منفی ہو تو سردی بڑھتی ہے۔ اسی طرح عمل تقلیل سے ادویاتی اثرات بڑھتے ہیں۔ ہومیو دوائی کے توانائی ہونے کا یہی ثبوت کافی ہے کہ اس کی بیک وقت ایک گولی استعمال کریں یا سو گولیاں، صلاحیت کار ( Out put) تبدیل نہیں ہوتی۔ جیسے برقی تاروں کے جس گچھے میں 220 وولٹ ہوں، چارج گچھے سے لیں یا ایک تار سے 220 وولٹ ہی ملتے ہیں۔ قبل ازیں عمل تقلیل سے ادویاتی اثرات بڑھنے کو دوائی کی روحانی طاقت بڑھنا سمجھا جاتا تھا۔

قصہ کوتاہ لو پوٹنسی ہومیو دوائی میں ڈرگ معمولی مقدار میں ہوتی ہے اور یہ ویکسی نیشن کے اصول پر کام کرتی ہے۔ ہائی پوٹنسی ہو میو دوائی میں ڈرگ کے منفی ادویاتی خواص توانائی کی صورت میں ہوتے ہیں۔ اک غیر مادی شے ہونے کے باعث ان کا کوئی رنگ، بو یا ذائقہ نہیں ہوتا۔ یہ مجوزہ علامات پر اینٹی باڈیز کی طرح کام کرتے ہیں، کیونکہ یہ جسمانی دشمنوں (Antigins) کا قلع قمع کرتے ہیں۔ جیسے ٹھوس جسمانی عوارض (Antigins) پتھریاں، پانی کی تھیلیاں اور گلٹیاں ختم کرتے ہیں۔

یہ روز زمرہ زندگی کا حسی مشاہدہ ہے۔ دراصل یہ مدافعتی نظام کے بیدار ہو نے کا ثبوت ہوتا ہے۔ اسی لئے دوائی کے عمل پذیر ہونے پر بند کر دی جاتی ہے، باقی کام قوت مدافعت پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ہومیو دوائی کی ایک خوراک لمبے عرصہ کے لئے کا فی ہوتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ یہی دریافت مذکورہ بالا سبھی معموں اور سوالوں کے جواب دیتی ہے۔ خوف طوالت سے تجرباتی نتائج یہاں بیان نہیں کیے جا سکتے۔ بہر حال یہ ثقہ حقیقت ہے کہ ڈاکٹر ہانیمن نے ہومیوپیتھک سسٹم آف میڈیسن دریافت کر کے نسل انسانی پر عظیم احسان کیا ہے۔

۔
ہو میو دوائی کے فزیکل اثرات

بلا شبہ سرجری (Surgery) ایلو پیتھی کا عظیم کارنامہ ہے، جو کئی مرضوں سے انسان کو نجات دلاتی ہے۔ البتہ جن امراض کا سرجری کے بغیر علاج ناممکن سمجھا جاتا ہے، ہو میو پیتھی میں ان کا بھی علاج ہو رہا ہے۔ یہ مریض کی صوابدید ہے کہ وہ اپنا علاج چھری چا قو سے کرانا چاہتا ہے یا میٹھی گولیوں سے۔ ، مثلاً گردے اور پتے کی پتھریاں (Stones) ، پانی کی تھیلیاں (Cysts) ، موہکے ( Warts) ، فسچولہ (Fistula) ، عام گلٹیاں (Lymphs) ، چنڈیاں ( Corns) اور ریڑھ کے مہروں (Vertibrates) میں سوزش اور ہر تبدیلی جو عرق النساء tica) (Sciaکا باعث بنتی ہے۔ یاد رہے کہ یہ فزیکل نتائج ہیں، جو واضح نظر آ تے ہیں۔ ہومیو دوائی کے جوڑوں پر بھی حیران کن اثرات ہیں۔ مثلاً گھٹنوں کی تبدیلی (Knee Replacement) کے کیسوں میں ہومیو علاج کے بعد تبدیلی کی ضرورت نہیں رہتی۔ ہومیو علاج کو محض نفسیاتی اثرات سمجھنے والے حضرات ان فزیکل تبدیلیوں پر توجہ فرمائیں۔

Facebook Comments HS