فیصل موورز اور ادائیگی نماز


الحمدللہ پاکستان بننے والوں سے بڑھ کر کوئی ویژنری نہیں تھا، بابائے قوم نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ پاکستان اسلام کی لیبارٹری ہو گا۔ اسی لئے ہر اگلا دن لنچنگ ہو یا نماز کی ادائیگی، مومنین کے جذبہ ایمانی کی ایک الگ، مگر نئی تعبیر پیش کرتا ہے جس کی تجلیاں پچھلی تمام باتیں بھلا دیتی ہیں۔

اب فیصل موورز والے معاملے ہی کو دیکھ لیں یار لوگوں کا اعتراض ہے کہ مالکان مسافروں کو نماز کی ادائیگی جیسی نعمت سے محروم رکھتے ہیں۔ لوگوں نے اپنے اپنے کام پر جانا ہوتا، کسی کی کوئی طے شدہ ملاقات ہوتی جس کے وقت کی پابندی ضروری ہے۔ کسی کا ایمبیسی، یا جاب انٹرویو ہوتا، کسی نے علاج کی غرض سے ہسپتال پہنچنا ہوتا۔ کسی نے کام سے چھتی کے بعد اپنے گھر والوں، ماں باپ، بیوی بچوں سے ملنا، اب وقت کی پابندی کے نام پر فیصل موورز والے ان دنیاوی کاموں کو تو اہمیت دیتے ہیں مگر دین کے بنیادی تقاضے یعنی باجماعت نماز سے صرف نظر برت جاتے ہیں۔ آخر انہیں ایسا کرنے کی جرات کیسے ہوتی ہے۔

عنقریب وہ وقت آئے گا جب اہل تشیعہ، وہابی، بریلوی اور دیوبندی اپنے اپنے وقت کے مطابق نماز ادا کرنے کے لئے سڑک کنارے گاڑیاں رکوائیں گے۔ تاہم چوبیس کروڑ کے ملک میں جب ہر سو کلو میٹر کے دائرے میں ہر طرف کوئی نا کوئی گاڑی رکی ہوں گی، لوگ پائنچے اور کف ٹانگے سڑک کے کنارے وضو کریں گے، کیچڑ ہو گا، بلغم اور لعاب کی بہاریں ہوں گی، ناک سنکنے اور خلق کخ گہرائی سے اکھ اکھ کی آوازیں نکلیں گی، کوئی استنجے کے بعد روڑے ڈھونڈے گا اور کوئی مال غنیمت لوٹنے کی یاد تازہ کرنے کے لئے پاس بنے ہوٹلوں، دکانوں اور گھروں کے دروازے کھٹکھٹا کر پانی مانگے گا، پھر پاکستان کرکٹر ٹیم کے کھلاڑیوں کی طرح جو مغربی ممالک کی گراؤنڈز میں سجدہ کر کے غیر مسلموں کی زمین کو اپنے سلام اور سجود کا گواہ بنتے ہیں، ہم اسلام کے نام پر بنے پاک وطن کے ایک ایک انچ کو اپنے سفر کے دوران نماز باجماعت اداء کر کے روحانیت کی روشنی سے منور کریں گے۔

درجنوں موٹیویشنل سپیکر جو دعوی کرتے ہیں کہ پاکستان ایک نور ہے یہ اللہ کا ایک راز ہے۔ ہم راستے روک کر، ٹریفک کا نظام تباہ و برباد کر کے موٹیویشنل سپیکرز کے ارادوں اور ویژن کا پردہ فاش کریں گے۔ وہ لوگ جو اقلیت میں ہوں گے اپنا الگ امام بنا کر محمود و ایاز کی طرح آگے پیچھے الگ الگ جماعت کروائیں گے، پیچھے رکھی جوتیوں سے وہ گاڑیاں گزریں گی جن کے مسافروں کی نماز کا وقت آگے، ایک، یا دو گھنٹے بعد ہو گا۔ کیا سین ہو گا، کیا منظر ہو گا۔

جس دن کے لئے پاکستان بنا تھا فیصل مووورز کے حاسدین کی کاوش سے وہ دن جلد دیکھنا نصیب ہو گا۔ جس پر شور مچانے اور لوگوں کو یہ یاد دلانے کی ضرورت نہیں کہ کسی کا بھی راستہ روکنے کی دیں میں کوئی گنجائش نہیں۔ نا ہی کسی کو تکلیف دے کر عبادت کا کوئی مقصد ہے اور نا ہی قصر نماز جیسی سہولت کے ہوتے اس شوروغل کی کوئی لاجک۔ ایسی بات کرنے والے کو یاد دلانے کی ضرورت ہے کہ تمام مسالک کے علامہ اور مقتدی اس نکتے پر متفق ہیں کہ ان کے مسلک کے جلوس، محافل اور تقریبات کے لئے سڑکیں بند کرنا بالکل جائز ہے۔

جب یہ گنجائش ہر مسلک میں پہلے سے موجود ہے جس پر اس مسلک کے تمام جید علما، نمائندہ حضرات متفق ہیں تو ایسی باتیں ایسے نکتے اٹھانے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ جو لوگ فیصل مووزر کی کامیابی کے حسد میں مبتلا ہیں، انہیں بھی لعن طعن کرنے کی ضرورت نہیں۔ فیصل موووز والے معاملے کو غیب کا اشارہ سمجھ کر حکومت وقت کو فوراً یہ قانون بنانا چاہیے کہ جیسے ہی کوئی مسافر اعلان کرے کہ اس نے نماز ادا کرنی ہے جس بھی سواری میں وہ سوار ہو چاہے ٹرین، بس، ویگن، لاری یا جہاز، اسے فوراً روک کر وہیں سڑک کنارے نماز ادا کی جائے۔ فتنے سے بچنے کا یہی ایک طریقہ ہے۔ جہاں تک بات رہی قصر نماز یا دین کے احکامات کی تو آج تک کس نے سنجیدہ بات سنی ہے جو اب سنے گا۔

Facebook Comments HS