آپ یونیورسٹیوں اور پروفیسروں کو انڈر ایسٹیمیٹ کرنا بند کر دیں


دنیا میں جو علمی اور عملی انقلاب آیا ہے۔ اس کی منصوبہ بندی، شیرازہ بندی اور عملی تکمیل دنیا کی یونیورسٹیوں میں ہوئی پھر تحقیق یا تبدیلی کو انڈسٹری کے حوالے کیا گیا تاکہ عوام اس سے مستفید ہو سکیں۔ معاشرتی زندگی سے لے کر طب، ٹیکنالوجی سے لے کر خلانوردی سب کچھ دنیا کی یونیورسٹیوں کے بدولت ممکن ہوسکا ہے۔ یہ سب وہ کام ہیں جو ہمیں نظر آتے ہیں لیکن کچھ ایسے کام بھی دنیا میں یونیورسٹیاں کرتی ہیں جو ہمیں نظر نہیں آتے مگر اس کا اثر نظر آنے والے کاموں سے کہیں بڑھ کر ہوتا ہے۔

اگر آج کوئی دعوی کرے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد شروع ہونے والی سرد جنگ کو یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے ختم کیا تو کون یقین کرے گا۔ امریکہ اور روس میں یہ سرد جنگ کئی دہائیوں تک سیاست و تجارت کے میدان میں لڑی گئی۔ اس سرد جنگ سے دنیا میں انسانی جانوں کا بھی زیاں ہوا اور معاشی وسائل بھی اس کے نذر ہوئے۔ انسانوں کی فلاح و بہبود کی جگہ جنگی ہتھیاروں پر زیادہ پیسہ اور وسائل خرچ کیے گئے۔ دنیا کو دو بلاکوں میں تقسیم کر کے تیسری عالمی جنگ کی تلوار سب کے سروں پر لٹکائی گئی۔

پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں ہی امریکہ کی معیشت کے لیے یہ سب سے بڑا بوجھ بنتی چلی گئی۔ عملی جنگ کی صورت میں دنیا کی تباہی لازمی تھی اس لیے اس سے گریز کیا گیا اور مفادات کی جنگیں کوریا، ویتنام اور دیگر ممالک میں لڑی گئیں۔ لیکن اس عرصے میں امریکہ کی یونیورسٹیوں نے اس مسئلہ کے کئی ایک حل تلاش کیے۔ مگر جب ان کا جائزہ لیا گیا تو اس میں نقصان اتنے تھے کہ ان کو عملی جامہ پہنانا عملاً ممکن نہیں تھا۔ ایک امریکی پروفیسر تھامس گوئیٹر نے آخر کار ایک ایسا منصوبہ پیش کیا جس پر اتفاق کیا گیا۔

یہ منصوبہ کیا تھا؟ منصوبہ یہ تھا کہ افغانستان صدیوں سے جنگوں کا خطہ رہا ہے۔ افغانیوں کی اجتماعی لاشعور میں جنگوں کا اتنا مواد موجود ہے کہ اگر اس کو کسی طرح باہر نکالا جائے تو روس کو ایک گوریلا جنگ میں افغانستان کے سنگلاخ پہاڑوں میں ایک دہائی تک مصروف رکھا جاسکتا ہے۔ اور اسی عرصے میں اقتصادی طور پر اس کا محاصرہ کیا جائے تو روس اتنا کمزور ہو جائے گا کہ جن ریاستوں پر پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں اس نے قبضہ کیا ہے۔

وہ اس کی تسلط سے آزاد ہوجائیں گی۔ اور اس کی عسکری قوت تقریباً نصف سے بھی کم رہ جائے گی۔ جس کو دیکھ کر اس کے بلاک میں شامل ممالک اس کا ساتھ چھوڑ دیں گے۔ Thomas E Gouttierre اوماہا کی نیبراسکا یونیورسٹی میں انٹرنیشنل اسٹڈیز اور پروگرامز کے طویل عرصے تک ڈین اور سنٹر فار افغانستان اسٹڈیز کے بانی ڈائریکٹر رہے، 1974 سے لے کر 2015 تک اپنی ریٹائرمنٹ تک وہ اسی سینٹر میں کام کرتے رہے۔ 1987 میں پروفیسر گوٹیر کو یو این او کا چانسلر میڈل بھی دیا گیا۔

وہ افغانستان اور امریکہ۔ افغان تعلقات کا سب سے بڑا ماہر سمجھا جاتا ہے۔ 1974 میں یونیورسٹی میں عہدہ سنبھالنے سے پہلے، پروفیسر نے افغانستان میں تقریباً 10 سال قیام کیا اور کام کیا۔ وہ پیس کور کے رضاکار، ایک فلبرائٹ فیلو، فل برائٹ فاؤنڈیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، اور افغان قومی باسکٹ بال ٹیم کے ہیڈ کوچ بھی رہے۔ انہیں یو ایس اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے افغانستان میں اقوام متحدہ کے امن مشن میں سینئر سیاسی امور کے افسر کے طور پر کام کرنے کے لیے بھی بھیجا۔

وہ، فارسی اور تاجکستانی فارسی بولتے، پڑھتے اور لکھتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں افغانستان کے معاشرے، ثقافت اور سیاست کے بارے میں متعدد مضامین شامل ہیں۔ انھوں نے دو جلدوں پر مشتمل دری زبان کی نصابی کتاب، دری فار فارنرز اور ایک فارسی انگریزی لغت بھی ترتیب دی ہے۔ وہ دری میں شاعری بھی کرتے رہے ہیں اور وسطی ایشیا کی ثقافتوں اور تنازعات پر بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ اتھارٹی کے طور پر بھی وہ کام کرتے رہے ہیں، انہوں نے افغانستان کی قبائلی زندگی کو جاننے کے لیے نام، بھیس اور مذہب بدل کر برسوں وہاں قیام کیا۔

جس کے بعد انہوں نے امریکہ واپس جاکر امریکہ حکومت کو روس سے جان چھڑانے کا حل بتایا ہے۔ یہ منصوبہ بنانے سے پہلے پروفیسر تھامس گوئیٹر کئی مرتبہ افغانستان گیا اور اس نے اپنی یونیورسٹی یعنی یونیورسٹی اف نبراسکا میں ایک سینٹر کی بنیاد رکھی جس کام ”سینٹر فار افغانستان سٹڈی“ رکھا۔ اس مقصد کے لیے امریکی حکومت نے شروع میں اس سینٹر کے لیے 6.5 ملین امریکی ڈالر دیے۔ اس سینٹر نے افغانوں کی نفسیات و عادات کا مطالعہ شروع کیا۔

افغانستان میں موجود مختلف قبائل کا جائزہ لیا، پاکستان کے شمال مغربی سرحدوں پر بسنے والے پشتونوں کی تاریخ اور ان کی نفسیات پر بھی کام کیا گیا۔ افغانستان جو روسی بلاک کا ایک اہم ملک تھا جس میں اس وقت عملاً کوئی شورش نہیں تھی۔ وہاں کے نظام میں خلل ڈالنے کے لیے تراکئی کا قتل کرا دیا گیا اور ساتھ ہی افغان اور دیگر قبائل کو غیر محسوس طریقے سے اسلامی جہاد کی ترغیب دینے کا سلسلہ شروع کیا۔ یہ جہادی ترغیب وہ نہیں تھی جو گزشتہ کچھ صدیوں سے مسلمانوں میں رائج تھی۔

یعنی مسلمان شخصی اور مسلکی اور گروہی جہاد کرتے تھے۔ مگر پہلی مرتبہ ان کو ایک نئے جہاد کی طرف راغب کیا گیا۔ یہ نیا جہاد وہ تھا جو پروفیسر تھامس گوئیٹر نے ترتیب دیا تھا۔ اس جہاد کا مقصد اللہ کی خوشنودی نہیں بلکہ روس کی تباہی تھا۔ افغانستان کے قبائل پڑھنے لکھنے کو کار زیاں سمجھتے تھے۔ اس لیے ان میں پڑھنے کا رواج نہیں تھا۔ نئی افغان نسل بہت ماڈرن تھی اور ان کی ذہنی اور عملی تربیت روسی کلچر اور ماحول میں ہو رہی تھی، کابل اس دور میں دنیا کی عیاشی کے مراکز میں سے ایک اہم مرکز تھا۔

جہاں نائٹ کلبوں کی بھرمار تھی اور مغربی لباس عام پہناوا تھا۔ شراب کی دکانیں ہر گلی میں تھیں۔ لیکن کابل کے علاوہ دیگر دیہی علاقوں میں قدیم قبائلی زندگی کا نظام ہی رائج تھا۔ پروفیسر گوئیٹر نے اسی قبائلی نظام پر اپنی توجہ مرکوز رکھی۔ ساتھ ہی پاکستان پر توجہ دی اس لیے کہ افغانستان پاکستان کو کسی صورت دل سے ماننے کو تیار نہیں تھا مگر افغانستان اور پاکستان کی سرحدوں پر آباد قبائل دونوں ملکوں کی اس رسہ کشی میں حصہ دار نہیں بنے تھے۔

اور ایک دوسرے سے تجارتی اور ثقافتی مراسم بحال رکھے ہوئے تھے۔ اس منصوبہ میں پاکستان کی کلیدی حیثیت تھی۔ اس لیے کہ افغانستان تک امریکی جہاد کی رسائی کا واحد راستہ پاکستان ہی تھا۔ اس مقصد کے لیے پاکستان میں جہادی سرمایہ کاری کی گئی اور حکومت اور دائیں بازو کی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو یکجا کیا گیا۔ پاکستان کے مختلف شہروں اور قصبوں میں جہادی سوچ بیدار کرنے کے لیے مدرسوں کے قیام کے لیے خفیہ فنڈنگ شروع کردی گئی۔

یوں دو تین برسوں میں ہر شہر اور قصبے میں ایک مدرسہ کھلنے لگا اور دور دراز کے دیہاتوں سے بچوں کو راغب کر کے ان مدارس میں بھیجا جانے لگا۔ یہ کام صرف مدارس کی مدد سے ممکن نہیں تھا۔ اس لیے ملک کی بڑی یونیورسٹیوں کو بھی جہادی عمل میں شریک کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ اس مقصد کے لیے پاکستان میں جماعت اسلامی کا انتخاب کیا گیا تھا۔ جس نے کئی ایک ذیلی تنظیمیں بنا کر اس کام میں ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ پشاور کو اس مقصد کے لیے آپریشنل مرکز بنایا گیا اور ذیلی مراکز کے طور پر کوئٹہ اور کچھ دیگر شہروں کو چنا گیا۔

عملی تربیت کے لیے مانسہرہ، بالاکوٹ اور چند دیگر علاقوں کا انتخاب کیا گیا۔ جہاں ان جہادیوں کو عملی تربیت فراہم کی جاتی تھی۔ ان مدرسوں میں جہادی ترغیب کے لیے امریکی حکومت نے 51 ملیں امریکی ڈالرز صرف درسی کتابوں کے لیے دیے۔ یہ درسی کتابیں یونیورسٹی اف نبراسکا امریکہ میں تیار ہوتی تھیں اور ان کو افغانستان اور پاکستان کے ان علاقوں میں جہاں کے لوگوں کو اس منصوبے کے لیے چنا گیا تھا وہاں پہنچا دیا جاتا تھا۔

اور ان کے اساتذہ کو اس کام میں باقاعدہ تربیت دی جاتی تھی۔ پہلی مرتبہ ایک جہادی قاعدہ بنایا گیا جسے ”امریکن ABC اف جہاد“ کا نام دیا گیا۔ جس میں ہر حرف سے کسی نہ کسی جنگ میں استعمال ہونے والے چیز یا عمل کا نام بچوں کو دیا گیا تھا اور اس کی تصویر بھی دی گئی تھی۔ یہ وہ پہلا موقع تھا جب اس خطے کے بچے پہلی جماعت کے قاعدے میں، بم، بارود، ٹینک، کلاشنکوف، میزائل، مجاہد، غازی، جنت غرض ہر لفظ کو جہاد سے منسوب کرنے اور ہر لفظ کی تشریح جہادی تناظر میں سیکھتے تھے۔

اور دشمن کے خانے میں روسیوں کا نام لکھا جاتا تھا، یوں بچوں کی عملی ذہن سازی کا کام شروع کیا گیا۔ روسیوں کے خلاف جو لٹریچر تیار کیا گیا اس میں انہیں لادین اور جنسی طور پر رشتوں کے تقدس کو پائمال کرنے والوں کے طور پر پیش کیا گیا۔ اس مقصد کے لیے روسی شکل و صورت و زبان بولنے والوں کی انسسٹ پورن کی ویڈیوز فلوریڈا کے سٹوڈیوز میں بنا کر ان علاقوں میں مفت وی سی آر تقسیم کر کے ان کو دکھائی گئیں، روسیوں کی برہنہ تصاویر تاش کے پتوں پر پرنٹ کر کے پھیلائی گئیں، ان کی جنسی بے راہ روی کے قصے گھڑ گھڑ کر مدرسوں کے اساتذہ اور مسجدوں کے ممبروں سے ان کو روز سنائی جاتی تھیں، انہیں ”شوروی“ کہہ کر مخاطب کیا جاتا تھا۔

انہیں اسلام اور مذہب دشمن بنا کر پیش کیا جاتا تھا۔ یوں چند برسوں میں ایک امریکی پروفیسر نے لاکھوں مجاہدین پیدا کیے جو ان کے سکھائے ہوئے مقاصد کے حصول کے لیے جہاد پر جانے کے لیے تیار ہوئے۔ اور مسلسل یہ جہاد دس برسوں تک کرتے رہے۔ روس اس امریکی پروفیسر کے ٹریپ میں آ گیا اور افغانستان جو کہ ایک سیکولر ریاست تھی اس کو جہادی ریاست بنا دیا گیا۔ پاکستان کے شمال مغربی علاقے بھی اس مقصد کے لیے استعمال کیے گئے۔

اس لیے افغانستان اور پاکستان کے ان علاقوں کو عملی ترقی سے دور رکھا گیا، ان علاقے کے لوگوں کو منشیات اور اسلحے کے کاروبار کے لیے کھلا چھوڑ دیا گیا، سمگلنگ کو ان کے لیے جائز بنا دیا گیا۔ جس کے نتیجے میں پروفیسر تھامس گوئیٹر کا پلان کامیاب ہو گیا۔ یوں ایک پروفیسر نے اپنے چند کمروں کے ایک سینٹر میں بیٹھ کر روس کی عظیم ریاست کی طاقت توڑ دی اور طاقت کا توازن اپنی حکومت کی طرف موڑ دیا۔ ہم یونیورسٹیوں اور پروفیسروں کو انڈر ایسٹیمیٹ کرتے ہیں۔

دنیا نے اس لیے ترقی کی کہ انہوں نے یونیورسٹیوں پر سرمایہ کاری کی ان کو وسائل فراہم کیے۔ اس لیے اس کا نتیجہ بھی آپ کے سامنے ہے۔ جو کام سالانہ ایک ٹریلین ڈالر سے زیادہ خرچ کر کے امریکہ اور اس کے حلیف نہیں کر سکتے تھے۔ وہ ایک پروفیسر نے 5.6 ملین ڈالر خرچ کر کے کر دیا۔ پھر جب امریکہ نے دیکھا کہ ان کے پیدا کردہ جہادی اب ان کے گلے پڑ رہے ہیں۔ تو انہوں نے پھر اس سینٹر سے رجوع کیا۔ اور اس بار انہوں نے پاکستان کے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے نصابوں سے جہاد کی ترغیب دینے والے مضامین، جملوں، تصاویر اور مثالوں کو ختم کرنے کا کام پرویز مشرف کے دور میں کیا۔

اس لیے اب ہمارے نصابوں اور کتابوں میں آپ کو وہ سب کچھ نظر نہیں آتا جو اسی کی دہائی میں ہوتا تھا۔ مگر اس اجتماعی لاشعور کا کوئی بندوبست نہیں کیا گیا۔ جو ان چار دہائیوں میں پروان چڑھا اور جس کو اب بھی جنت اسی قتال میں نظر آتی ہے۔ اب چونکہ روس تک رسائی نہیں رہی اور امریکی ترغیب بھی ختم ہو گئی ہے۔ اس لیے وہ جہادی ذہن وہ ساری خرابیاں ہمارے معاشرے میں ڈھونڈ رہے ہیں جو ان کو ازبر کرائی گئی تھیں کہ ان کے خلاف جہاد کرنا فرض ہے۔

اس لیے ہمیں سنجیدگی سے اس پر کام کرنا ہو گا اور حکومت کو اپنی پالیسی بنانی ہوگی کہ اس غلطی کو درست کیا جائے۔ ان علاقوں کو بھی ترقی اور تعلیم کے مواقع دیے جائیں جن کو جان بوجھ کر اس عمل سے دور رکھا گیا تھا۔ ان جنوں کو پھر بوتل میں بند کیا جائے جنہیں روس کو شکست دینے کے لیے بوتل سے نکالا گیا تھا۔ اس لیے کہ عنقریب امریکہ پھر سے چین کے ساتھ معاشی حساب برابر کرنے کے لیے پھر سے افغانستان کا رخ کرے گا۔ اس مرتبہ وہ خود شاید نہ آئے اور وہی پرانا طریقہ اپنائے جو اسی کی دہائی میں اس نے اپنایا تھا۔

یعنی ہمیں استعمال کیا تھا۔ اس لیے ارباب اختیار کو ان کے نئی چال سمجھنے کے لیے تاریخ اور ان کی حکمت عملی کو سمجھنے کے لیے یونیورسٹیوں کے پاس جانا چاہیے۔ اور اگر اس مقصد کے لیے کچھ پیسے خرچ کریں تو ان کی بہت زیادہ بچت ہو سکتی ہے۔ ورنہ یہ چین امریکہ معاشی جنگ ہماری رہی سہی شناخت بھی بدل دے گی۔ اس لیے کہ اس وقت اس سینٹر میں چین کی واخان کے ذریعہ تجارتی راستے کو روکنے پر دن رات کام ہو رہا ہے۔

Facebook Comments HS