وہ اک تارا قسط نمبر: 13
کوئی ڈیڑھ ماہ بعد کی بات ہے۔ اینا نے شام کو کام سے واپسی پر اپنے فلیٹ کا دروازہ کھولا۔ اسے امید تھی کہ ہیثم آ چکا ہو گا۔ صبح اس نے کہا تھا۔ ہیثم مجھے ڈاکٹر کے پاس جانا ہے۔ ذرا وقت سے آجانا۔
گھر میں اندھیرا تھا اور سناٹا بھی۔ اس نے پورے گھر کی بتیاں جلائیں اور ہیثم کو کال کیا۔ اس کا موبائل بند تھا۔ چند لمحے وہ موبائل کو گھورتی رہی۔
ہیثم کبھی لا پروائی نہیں کرتا تھا۔ وہ البتہ ایسی ضرور تھی۔ شام کے بعد اگر اس کی کوئی مصروفیت ہوتی تو وہ ہمیشہ اسے مطلع کرتا۔
وہ کچن میں گئی۔ فرج کھولا۔ فش نکالی۔ سینڈوچ بنائے۔ کافی کا مگ بنا کر وہ میز پر آ گئی۔ ایک بار پھر اس نے نمبر ملایا۔ کوئی جواب نہیں تھا۔ کافی پیتے اور سینڈوچ کھاتے ہوئے وہ سوچوں میں ڈوبی رہی۔
اس نے ماسکو نیوز کے آفس فون کیا۔ معلوم ہوا کہ وہ تو سات بجے چلا گیا تھا۔
وہ کرسی پر بیٹھ گئی۔ ہیثم نہ صرف اپنے کام سے متعلقہ معاملات بلکہ گھر اور دیگر سبھی امور میں انتہائی ذمہ دار اور فرض شناس تھا۔ اتنے سالوں کی ازدواجی زندگی میں شاذونادر ہی ایسا ہوا ہے۔
کیا بات ہے؟ اس نے خود سے کہتے ہوئے سر پشت سے ٹکایا تو جیسے تھکاوٹ آنکھوں میں نیند کی صورت اتر آئی۔
کوئی دو بجے آنکھ کھلی۔ ہیثم کہیں نہیں تھا۔ اس وقت جیسے خطرے کی گھنٹی بجی۔ اس نے اپنے بے تکلف دوستوں سے رابطہ کیا۔ انہیں اس افتاد سے مطلع کیا۔ ان کا خیال تھا کہ تھوڑا سا انتظار کیا جائے۔
اگلے دن شام تک صورت واضح ہو چکی تھی۔ پریس کانفرنس میں اس نے کھلم کھلا حکومت پر الزام لگایا کہ اس کے شوہر کو اغوا کرنے میں حکومت کا ہاتھ ہے۔ اس کے دلیر مارکسی ساتھیوں نے بڈھا، کھوسٹ، بیمار، پاگل یلسن کہتے ہوئے اس کی پالیسیوں خاص طور پر یوکرائن، جارجیا، مالداویا اور چیچنیا پر زبردست تنقید کی۔
نعرے بھی بڑے بڑے تھے۔ روسی فوج کی ذلت آمیز شکست کا باعث کون؟ یلسن۔ چیچنیا کے مظلوم لوگوں کی ہلاکت کا باعث کون؟ یلسن جمہوریاؤں میں گڑ بڑ کروانے اور انہیں ذلت آمیز معاہدوں پر مجبور کرنے والا کون؟ یلسن۔
جلوس نکلتے رہے، شور مچتا رہا۔ دن گزرتے رہے۔ مگر ہیثم کہاں تھا؟ کسی جیل کے خفیہ تہہ خانے میں، کسی قلعے کی تنگ وتاریک کوٹھری میں، سائبیریا کے بر ف زاروں میں یا آسمانوں پر ۔ کچھ بھی واضح نہیں تھا۔ اس کا سچا، کھرا، محبت کرنے والا، بے لوث ساتھی، اس سے بچھڑ چکا تھا۔
مجھے کبھی اندازہ نہیں تھا کہ میں اس سے اتنا پیار کرتی ہوں۔ وہ اپنی عزیز دوست نینا خروشیف سے کہتی۔
یہی وہ وقت تھا جب اسے احساس ہوا کہ وہ بچے کے لئے کتنا متمنی تھا۔ کبھی جو میں نے اس کی اس خواہش کو ذرا سی بھی اہمیت دی ہو۔ گھسیٹ کر ڈاکٹر کے پاس لے گیا تب بھی کوئی خاص پرواہ نہیں کی۔ اور ستم ظریفی دیکھو کہ جب توجہ کی تو وہ نہیں تھا۔
کاش آج میرا بچہ ہوتا تو یوں میں اس تنہائی کے جنگل میں کھڑی نہ ہوتی۔ کہیں زندگی سے بھری ہوئی اس کی مسکراہٹ، اس کی معصومیت، اس کی دوسراتھ مجھے اس کرب سے نکال لیا کرتی جس میں اس وقت میں گھری ہوئی ہوں۔
ایسے ہی پریشان کن اور مضطرب دنوں میں ایک دن اس نے اپنا بریف کیس پکڑا اور چیچنیا جانے کے لئے گاڑی میں سوار ہو گئی۔
وہ تو دنگ رہ گئی تھی ہزاروں میل دور بیٹھ کر تو تصویر کا صحیح رخ سامنے ہی نہیں آتا۔
جنگ کے دنوں میں ہیثم یہاں آیا تھا اور اس نے بتایا بھی تھا۔ پر یہ سب جو وہ اب دیکھ رہی تھی کس قدر ہولناک تھا۔ یوں بھی دل چھالوں سے زخمی تھا۔ اوپر سے فطرت کی گو دمیں پلنے اور سانس لینے والا علاقہ جنگ کی ہولناکیوں کے ہاتھوں تباہ ہوا پڑا تھا۔
جلی ہوئی عمارتیں، ٹوٹے ہوئے پل، ادھڑی پدھڑی سڑکیں، بموں کے چرکے سہنے والے سکول۔
اس کی آنکھوں سے ڈھیروں ڈھیر آنسو نکلتے رہے اور رخساروں پر بہتے گئے۔
وہ جگہیں جہاں کبھی زندگی ہنستی مسکراتی تھی۔ اب ویران تھیں۔ سر سبز چراگاہوں میں مست خرامیاں کرتے بھیڑ بکریوں کے ریوڑ، جانوروں کے گلے، آسمان پر اڑتے پرندوں کی ڈاریں، سب جانے کن دیسوں کی طرف فرار ہو گئے تھے۔ وہ پہاڑی لوگ جن کے بارے میں کوئی اسے بتاتا تھا۔ یہ کا رچائی ہیں، چرکسی ہیں؟ بشکیری ہیں۔ وہ جو بڑا محبت کرنے والا، اپنے ماحول سے بہت مختلف، دلبر سا ساتھی تھا۔ وہ بھی جانے کن دیسوں کی طرف اڑ پڑ گیا تھا۔ کیسے اس کی آنکھیں بار بار بھیگتیں۔
پھر وہ چیچنیو اینگوش گئی۔ اس گھر میں جہاں اس نے چند دن گزارے تھے۔ وہ گھر جو اس کا سسرال تھا۔ یہاں کیا تھا؟ اس گھر کا بڑا سا لکڑی کا دروازہ ٹوٹا پڑا تھا۔ انگوروں کی بیلیں سوکھی ہوئی تھیں۔ ملحقہ باغیچہ ویران تھا۔ بڑا سا صحن بھائیں بھائیں کرتا تھا۔
پھر وہ آگے بڑھی۔ اندر بڑے کمرے میں ایک پچاس پچپن سال کا مرد آگ کے سامنے بیٹھا تھا۔ یہ ہیثم کے باپ کا عزیز تھا۔ ہیثم کا خاندان اپنے عزیزوں کے پاس داغستان چلا گیا تھا۔
وہ بے آواز قدموں سے ان کمروں میں پھرتی رہی۔ جہاں کبھی اس نے زندگی کو کلبل کلبل کرتے دیکھا تھا۔ جنگ کے المیے۔ اس نے لمبی سانس بھری تھی۔
اس نے قہوے کی پیالی پکڑی۔ گھونٹ بھرا اور اس بوڑھے کو سنا جو اسے بتاتا تھا کہ روس نے بہت ظلم کیا ہے۔ وہ ہمیشہ سے ظلم کرتا آیا ہے۔ سوویت کے زمانوں سے اب تک۔ اس نے پوچھا تھا کہ وہ کون ہے؟ اس نے ”جرنلسٹ“ کہہ کر بات ختم کردی۔ اس کے رشتے کی پہچان والا تو کوئی تھا ہی نہیں وہاں۔
اور جب وہ واپس آر ہی تھی وہ انتہائی دل شکستہ تھی۔ روس کو کیوں زوال آیا؟ اس نے خود سے کہا۔
”یہاں انصاف نہیں۔ سپریم کورٹ کیوں نہیں اس کا کھوج کر سکی۔“
وہ دنیا میں نہیں۔ اسے ختم کر دیا گیا ہے۔
زمانوں بعد وہ چرچ گئی تھی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہتے تھے جب اس نے اس کے لئے کینڈل جلائی۔ رات کو وہ میرا پراسپیکٹ کی مسجد میں گئی جہاں اس کا نکاح ہوا تھا۔ نماز کے بعد وہ نمازیوں کے درمیان بیٹھی زار زار روتی رہی۔ اس نے دعا کی استدعا کی اور جب گھر واپس آتی تھی اس نے کہا تھا۔
”چلو اچھا ہی ہے بچہ نہیں۔ وگرنہ تو اسے بھی گولی کا نشانہ بنا دینا تھا۔“
اس نے ہیثم والے باب کو بند کیا۔ انصاف کی سر بلندی اور قانون کی عملداری والے باب کو کھولا۔ اور قلم کو مزید تیز کر لیا۔
وہ پہلے کیا کم تھی۔ پر اس سانحے نے بھڑکتی اور چنگاریاں چھوڑتی آگ بنا ڈالا تھا۔ قلم زہریلے ناگ جیسی پھنکاریں مارنے لگا تھا۔ اس دوران اس پر ایک اور انکشاف بھی ہوا تھا کہ اس کی ضرورت سے زیادہ حق گوئی و سچائی نے اس کے دشمن زیادہ پیدا کیے ہوئے ہیں۔
اس نے سر جھٹکا تھا اور اپنے آپ سے کہا تھا۔
اب اگر میں کہیں مزدوروں کی زیادتی محسوس کرتی ہوں تو اس پر قلم نہ اٹھاؤں تو یہ کہاں کا انصاف ہوا؟ کم ازکم اینا پولٹکو سکایا سے تو یہ ممکن ہی نہیں۔

