منٹو کا خط
جھوٹی دنیا کے جھوٹے لوگوں! آپ کو ایک سچے شخص سعادت حسن منٹو کا سلام!
کاشف! مجھے تمہارا خط موصول ہوا، جس میں تم نے لکھا تھا کہ ”میں تمہیں اپنے بارے میں بتاؤں“ یعنی میں کون تھا، کیا تھا، کیوں تھا اور کیسا تھا۔ میرے خیال میں تم ایک نادان اور کم فہم لڑکے ہو کیونکہ تم معاشرے پر سوال اٹھانا چاہتے ہو۔
سنو!
تم نے ابھی اپنے سماج کا مکروہ چہرہ نہیں دیکھا۔ خیر سنو! میں تمہاری جھوٹی دنیا کا ایک سچا افسانہ نگار تھا، ہماری زندگی ایک دیوار تھی۔ جس کا پلستر میں ناخنوں سے کھرچتا رہتا، کبھی چاہتا تھا کہ اس کی تمام اینٹیں پر گندا کر دوں۔ کبھی جی میں اتا کہ اس ملبے کے ڈھیر پر ایک نئی عمارت کھڑی کر دوں۔
میری زندگی میرے افسانوں کی طرح مختصر تھی محض 42 سال 8 ماہ 4 دن، گھنٹے، منٹ اور سیکنڈ مجھے یاد نہیں۔ یہ چھوٹی سی زندگی کا بڑا حصہ میں نے اپنی زندگی کو ایک بازی کی طرح کھیلا۔ جس میں میں ہار کر بھی جیت گیا۔ غیر اردو دان طبقہ اردو شاعری کو اگر غالب کے حوالے سے جانتے ہیں تو فکشن کے لیے حوالہ میں ہوں، یعنی ”سعادت حسن منٹو“ ۔
میں نے اپنی 20 سالہ ادبی زندگی میں 270 افسانے، سو سے زائد ڈرامے کتنی ہی فلموں کی کہانیاں اور مکالمے، ڈھیروں نامور اور گمنام شخصیات کے خاکے لکھ ڈالے۔ مجھ پر فحش نگاری کے مقدمات چلائے گئے۔ جب بھی میں نے کوئی معقول افسانہ لکھا مجھے جیل جانا پڑا۔ سچ بولنے کی سزا تو ہر معاشرہ دیتا ہے۔
کاشف! تم جس معاشرے میں رہ رہے ہو اسے سچ سننے کی عادت نہیں۔ کیونکہ ”سب سے دور اپنا گریبان پڑتا ہے“ کوے نے طوطے سے پوچھا کہ ”تم پابند سلاسل ہو اور میں کھلی ہواؤں میں اڑتا ہوں“ تو طوطا بولا ”ہم دونوں ہیں تو ایک ہی فضا کے بس فرق صرف اتنا ہے کہ تو بے معنی بولتا ہے اور میں بامعنی“ مجھے جاننے کی کوشش کرنے والے نادان لڑکے! تم اپنے معاشرے کی منافقت تو دیکھو، جب میں زندہ تھا تو میرا جینا دو بھر گیا ہوا تھا اور مرنے کے بعد اسی سماج نے ملک کے سب سے بڑے سویلین ایوارڈ ”نشان حیدر“ سے مجھے نوازا۔ تمہارا معاشرہ بہت اچھا ہے اتنا اچھا کہ یہ زندہ لوگوں کی قدر نہیں کرتا اور نہ ہی ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کرتا ہے۔
میں نے بے شمار عقائد مسلمات اور تصورات کو توڑا اور ہمیشہ شعلہ حیات کو برہنہ انگلیوں سے چھونے کی کوشش کی۔ میں نے خیالی کرداروں کی بجائے سماج کے ہر طبقے اور ہر طرح کے انسانوں کی رنگا رنگ زندگی کو نفسیاتی اور جذباتی تہہ داریوں کے ساتھ اپنے افسانوں میں منتقل کر کے معاشرے کا مکروہ چہرہ بے نقاب کیا ہے۔
مجھ پر الزام لگایا گیا کہ میں فحش لکھتا ہوں۔ تم ہی بتاؤ نادان لڑکے! میں اس تہذیب کے کپڑے کس طرح اتاروں جو پہلے سے ہی ننگی ہے میں معاشرے میں بکھری ہوئی غلاظت پہ سفیدی کرنے کی بجائے غلاظت کو دیکھتا تھا اور لکھ دیتا تھا۔
میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا اور تمہارے ہاں کوئی سچ نہیں بولتا۔ میرا معاشرہ عورت کو کوٹھا چلانے کی اجازت تو دیتا تھا مگر تانگہ چلانے کی نہیں۔ تم لوگوں نے خیر ترقی کر لی اور تانگے سے گاڑی میں آ گئے اور تمہارے معاشرے نے عورت کو کوٹھا اور گاڑی دونوں چلانے کی اجازت دے دی۔ آخر میں صرف یہی کہوں گا کہ ”سعادت حسن منٹو کا نام لوہے جہاں پر حرف مقرر نہیں تھا“
سچ پر مرنے والا منٹو
والسلام!



کمال است
ان شاءاللہ بہت جلد دورِ حاضر کے افسانہ نگاروں میں شامل ہوں گے جو افسانہ نگاری کا شعور رکھتے ہیں اور اس کے تحت افسانہ لکھتے ہیں ۔
آپ کا اسلوب لاجواب ہے ۔فنی لحاظ سے تو افسانہ اچھا ہے ہی مگر اس میں فکر بھی پنہاں ہے۔۔۔۔