چقو ہے میرے پاس

یوں تو کسی کے بھی انتقال پر یہ کہا جاتا ہے کہ ان کا خلاء پر نہیں ہو سکتا لیکن پی ٹی وی کے سنہرے دور کے ڈراموں کے فنکاروں کے بارے میں یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے۔ ان ہی فنکاروں میں جمشید انصاری بھی شامل ہیں۔
جمشید انصاری ایک ورسٹائل اداکار تھے۔ انہوں نے اداکاری کی مزاح کی صنف کو اختیار کیا۔ وہ مزاح پر پوری گرفت رکھتے تھے۔ ان کی اداکاری واقعی میں دیکھنے اور سننے کی چیز تھی۔ وہ اپنے روپ میں ڈھل جاتے تھے۔ اگر منظر میں کہیں غصہ دکھانا ہوتا تو واقعی ان کے چہرے پر غصے کے تاثرات نمایاں نظر تے اور آواز میں بھی غصہ ہوتا، اسی طرح اگر کہیں خوشی کے تاثرات پیدا کرنا ہوتے تو وہ بھی پوری طرح نظر آتے۔ وہ منظرنامے کے مطابق چہرے کے تاثرات اور آواز کے جذبات دینے پر قادر تھے۔
جمشید انصاری 31 دسمبر 1942 کو سہارن پور، اترپردیش کے ایک کاروباری گھرانے میں ضمیر حسن انصاری کے ہاں پیدا ہوئے۔ تقسیم کے بعد سنہ 1948 ء میں ان کا خاندان پاکستان منتقل ہو گیا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم پاکستان میں حاصل کی اور سنہ 1964 میں بیچلر آف آرٹس کی ڈگری حاصل کی پھر وہ اسی سال لندن چلے گئے جہاں اگلے چار سالوں یعنی سنہ 1968 تک انہوں نے ٹیلیویژن پروڈکشن اور اداکاری کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی۔ تھیٹر اور بی بی سی میں بھی کام کیا۔ پھر وطن واپسی پر ریڈیو پاکستان کے ڈرامے ”حامد میاں کے ہاں“ میں صداکاری کی۔ یہ ڈرامہ ریڈیو پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ لمبے عرصے یعنی چالیس سال سے بھی زیادہ نشر ہوتا رہا۔
پھر سنہ 1968 ء میں انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن لاہور مرکز کے ڈرامے ”جھروکے“ سے ٹیلی ویژن پر اداکاری کا باقاعدہ آغاز کیا۔ کراچی مرکز سے ان کا پہلا ڈرامہ ”گھوڑا گھاس کھاتا ہے“ تھا۔ جسے آغا ناصر نے تحریر کیا تھا۔ ان کے مشہور ترین ڈراموں میں ”انکل عرفی“ ، ”ان کہی“ ، ”تنہائیاں“ ”ہاف پلیٹ“ ، ”زیر زبر پیش“ ، ”کرن کہانی“ ، ”کہر“ ، ”شدت“ ، ”جھروکے“ اور ”گھوڑا گھاس کھاتا ہے“ شامل ہیں۔
اپنے ایک انٹرویو میں انہوں نے انکل عرفی میں اپنے مشہور زمانہ کردار کرنے کے بارے میں تفصیل بتائی تھی کہ یہ کردار ملنے سے ایک دو دن پہلے وہ ایک دکان پر جلیبیاں لینے گئے تھے کہ ایک اور صاحب وہاں آئے اور انہوں نے جس انداز میں جلیبیوں کی تعریف کی اور جلیبیاں لیتے ہوئے باتیں کی، وہ انداز ان کے ذہن پر نقش ہو گیا۔ چنانچہ انکل عرفی میں اپنے کردار کے لیے آڈیشن دیتے وقت انہوں نے ان صاحب کے لہجے اور انداز میں اپنے کردار کے جملے اور مشہور زمانہ تکیہ کلام ”چقو ہے میرے پاس“ کہا جو اسی وقت منظور کر لیا گیا اور انہیں یہ کردار مل گیا۔ ان کی اداکاری بہت پسند کی گئی۔
ان کہی ڈرامہ میں جب سب مریم کو ہنسانے کی کوشش میں ناکام ہوتے ہیں تو جمشید کہتے ہیں کہ تم کو تو ہنسانا ہی نہیں آتا۔ بھئی مریم یہ بتاؤ کہ لطیفہ کسے کہتے ہیں۔ اور مریم جواب میں کہتی ہے کہ لطیف کی بہن کو کہتے ہیں۔ اس پر جمشید بھنا کر کہتے ہیں کہ بس بھاڑ میں جاؤ۔ اس پر مریم بڑی حیرت اور معصومیت سے پوچھتی ہے کہ بھائی آپ مجھے ڈانٹ کیوں رہے ہیں۔ تبسم فاروقی کی مریم کے روپ میں اداکاری بھی خوب تھی۔ آخر میں بہروز سبز واری کے گھوڑے سے گرنے کا منظر اور پھر پٹیوں میں جکڑا ہوا دیکھ کر وہ کھل کھلا کر ہنس دیتی ہے۔
ان کہی ڈرامہ میں شہناز شیخ اور جمشید انصاری چھائے رہے۔ جب ان کی خالہ (بدر خلیل) اپنے بیٹے (بہروز سبزواری) کے ہمراہ امریکا سے واپس آتی ہے تو غریب ہونے کے باوجود سب ان پر امیر ہونے کا رعب جھاڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے لیے وہ اپنے پڑوسی تمیز الدین عرف ٹمی (جمشید انصاری) کو اپنا بٹلر بننے کے لیے تیار کر لیتے ہیں۔ خالہ ایک چمچہ سالن کا لیتی ہیں تو سلیم ناصر ایک بوند تھالی میں ڈالتے ہیں۔ بدر خلیل کے کھانا کھا کر جانے کے بعد سب خوب سالن روٹی کھاتے ہیں۔
ایک بار بدر خلیل جب کھانا کھانے کے بعد کسی وجہ سے واپس آتی ہیں تو سب کو سالن روٹی پر ہنگامہ کرتے دیکھ کر حیران ہوتی ہیں۔ اس پر سب انہیں قائل کرتے ہیں کہ آپ خواب دیکھ رہی ہیں۔ مزید بیوقوف بنانے کے لیے جمشید انصاری کہتے ہیں کہ آپ نے تکیے کی بجائے سٹیل کا ٹرے تکیہ کے طور پر رکھا ہوا ہے۔ اور پھر وہ واقعی انہیں ٹرے بطور تکیہ رکھ دیتے ہیں۔
عمر شریف مرحوم کے ایک سٹیج شو میں عمر شریف کی کزن کا رشتہ لینے کے لیے ایک نواب صاحب آ جاتے ہیں۔ نواب کے سیکرٹری کا کردار جمشید انصاری نے ادا کیا تھا۔ وہ نواب کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے ہیں۔ نواب کی امارت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ نواب صاحب کے ہاں اتنی بڑی پیسٹریاں بنتی ہیں کہ جسے بیلچوں سے کاٹ کر کھایا جاتا ہے۔ کل اتنی پیسٹریاں بنیں کہ بچ گئیں تو رات کو تکیے سرہانے نہیں رکھے، پیسٹریاں ہی تکیے کے طور پر رکھ کر سو گئے۔
ایک موقع پر جمشید انصاری، نواب کی سخاوت کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ ”ایک صاحب نے آ کر کہا نواب صاحب میرا بیٹا نہیں ہے، مجھے بیٹا چاہیے۔ نواب صاحب نے مجھے حکم دیا۔ سیکرٹری اپنا بیٹا دے دو ، میں نے اپنا بیٹا دے دیا۔“ اس پر عمر شریف کہتے ہیں ”نواب صاحب میری بیوی نہیں ہے۔“ نواب صاحب کہتے ہیں۔ ”سیکرٹری اپنی بیوی دے دو ۔“ جمشید انصاری جھجکتے ہوئے کہتے ہیں ”بھئی میری بیوی میکے گئی ہوئی ہے۔“ اس پر عمر شریف کہتے ہیں ”کوئی بات نہیں، آپ پرچی (رسید) دے دیں، میں بعد میں وصول کر لوں گا“ ۔ ان جملوں میں دونوں نے ان لوگوں پر طنز کیا تھا جو دوسروں کے بل بوتے پر سخاوت دکھاتے ہیں۔
انہوں نے دو سو سے زائد ٹیلی ویژن ڈراموں، تین فلموں اور لاتعداد ریڈیو ڈراموں اور سٹیج شوز پر اداکاری کی۔ انہوں نے قائداعظم ایوارڈ اور گریجوئیٹ ایوارڈ سمیت پچپن قومی اور دو بین الاقوامی اعزازات حاصل کیے۔
ان کا انتقال 24 اگست سنہ 2005 کو دماغ کے سرطان کے باعث ہوا۔ ان کے پسماندگان میں بیوہ، دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہیں۔
افسوس کہ ان کے تمام اہم کلاسک ڈرامے ہماری پیدائش سے پہلے نشر ہو چکے تھے۔ ان کہی، تنہائیاں، انکل عرفی، یہ سب ہم نے بعد میں نشر مکرر پر دیکھے۔

