ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں
9 مئی بلاشبہ ایک تلخ حقیقت ہے۔ جو کالم نگار ”لیول پلیئنگ فیلڈ“ کی اصطلاح کا سہارا لے کر عمران خان اور ان کی پارٹی کو برابری کی سطح پر انتخابات میں حصہ لینے کی وکالت کر رہے ہیں ان کا دھیان اس طرف بھی جانا چاہیے کہ خان صاحب اپنے اور اپنی جماعت کے لیے یہ حق حاصل کرنے کے لیے کہاں تک کوالیفائی کرتے ہیں۔ یہ اصطلاح جسے آج کل ہر دوسرا کالم نگار استعمال کرتا نظر آ رہا ہے کا صاف مطلب یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے بانی اور سربراہ عمران خان کو رہا کیا جائے اور انہیں اور ان کی پارٹی کو اگلے عام انتخابات میں بھرپور حصہ لینے کے لیے آزادی دی جائے، جیسا کہ نون لیگ اور پیپلز پارٹی یا دیگر سیاسی جماعتوں کو برابری کی سطح پر الیکشن میں حصہ لینے کا حق دیا جا رہا ہے۔
المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں جمہوریت اور انتخابات ایک بہت بڑا ڈھونگ ہیں۔ جس طرح 2018 کے انتخابات اگر محض ایک رسمی کارروائی تھے تو 2024 کے انتخابات میں بھی ایسا ہی ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔
سیاستدانوں نے اصولوں اور قواعد و ضوابط کی بجائے جمہوریت کو ووٹوں اور الیکشن تک محدود کر دیا ہے اور وہ اس کے لئے کسی قسم کی بھی سودے بازی کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سول بالادستی کی بجائے بڑے سیاست دان عموماً اسٹیبلشمنٹ کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پہلے عمران خان لاڈلا تھا آج نواز شریف لاڈلا ہے، یعنی جو نون لیگ اپنے اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیے میں عمران خان پروجیکٹ کی کامیابی سے خفا تھی آج خود اسی طرز کے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔
اس سے تو یہی تصدیق ہوتی ہے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتیں اس وقت تک اسٹیبلشمنٹ ہی کی محتاج رہیں گی جب تک وہ جمہوریت کی روح کے مطابق سیاست نہیں کرتی ہیں۔ جمہوریت اور آئین کی بات کرنے والوں کو صرف انتخابات اور کرسی کے بارے میں سوچنے کی بجائے جمہوریت کے اصل مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے مل کر کام کرنا چاہیے ۔ جمہوریت اور آئین کے نام پر نون لیگ اور پیپلز پارٹی کی طرح موروثی اور بادشاہ نما جمہوریت قائم کرنے کی کوشش کی جاتی رہے گی (جو پچھلے 40 سال سے ہو رہی ہے ) تو کبھی بھی کوئی سیاسی جماعت یا اس کا سربراہ وطن عزیز کو حقیقی جمہوریت کا نظام فراہم نہیں کر سکے گا جس کا منطقی نتیجہ یہ نکلے گا ملک میں کبھی بھی کوئی حقیقی تبدیلی نہیں آ سکے گی۔
احقر نے میاں صاحب کی وطن واپسی پر اپنے ایک کالم بعنوان ”جہاں انصاف کا قتل ہو“ میں لکھا تھا کہ نواز شریف چاہتے تو ایک دن جیل جا کر اگلے روز ضمانت پر بھی رہا ہو سکتے تھے مگر انہوں نے عدالت اور نادرا کو ائر پورٹ بلا کر انصاف کا جنازہ نکالنے کو ترجیح دی۔ اس طرح کا گیم پلان ”پاور پالیٹکس“ ، ”بیک ڈور پالیسی“ یا ”ڈیل کی سیاست“ کے زمرے میں آتا ہے جو ایک ایسی اعانت ہے کہ جس کے نتائج انصاف اور قواعد و ضوابط کی پابندی کی صورت میں نہیں نکل سکتے ہیں۔
اگر ملک میں جمہوریت کو پروان چڑھانا ہے تو پھر جمہوری اصولوں کی پاسداری لازم ہے۔ لیکن ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمیں ایسے مخلص سیاست دان میسر نہیں ہیں جو جمہوری روایات کو قائم کر سکیں۔ جب سیاست دان لالچی، مفاد پرست اور اقتدار کے بھوکے ہیں تو اسٹیبلشمنٹ انہیں آسانی سے ہڈی ڈال لیتی ہے اور پھر وہ اس کی مرضی کے مطابق ان کے پاؤں میں دم ہلاتے رہتے ہیں۔
قارئین کرام، آپ دیکھ لیں کہ لاہور کے جلسے میں ہما میاں صاحب کے سر پر آ کر بیٹھا۔ میاں صاحب نے بلوچستان کا اپنا پہلا سیاسی دورہ کیا تو 30 الیکٹیبلز ان کی جھولی میں آ گرے۔ سیاست دانوں اور اسٹبلشمنٹ کے گٹھ جوڑ سے پاکستانی سیاست کا یہ ایسا مفاد پرستانہ بہروپ ہے جس کو لیول فیلڈ کی اصطلاح کی روشنی میں سمجھنا تقریباً ناممکن ہے۔ سیاست دانوں کے لئے قسمت کا حما ہمیشہ سے اسٹیبلشمنٹ ہی اڑاتی چلی آ رہی ہے جو صرف انہی سیاست دانوں کے کندھے اور ہاتھ پر آ بیٹھتا ہے جو اقتدار کے گھٹیا لالچ میں قوم کی امنگوں کا سودا کرتے ہیں۔ تب کیسی جمہوریت، کیسے الیکشن اور کیسی خوشحالی اور ترقی؟ ہمارا نظام نظام حکومت ہاتھی کا پاؤں ہے جس میں ہم سب کا پاؤں ہے۔
میاں صاحب نے بلوچستان سے واپسی پر ڈائری اٹھاتے ہوئے ٹھیک ہی پوچھا تھا کہ، ”کوئی رہ تو نہیں گیا جس نے شامل ہونا ہے“ ۔


