باپ کا باپ

بروز ہفتہ عیدالفطر کے دن 15 فروری 1964 کو پاکستان میں ایک اردو فلم ریلز ہوئی جس کا نام تھا ”باپ کا باپ“ یہ ایک فارمولا ٹائپ لڑائی مار کٹائی سے بھر پور ایکشن فلم تھی۔ اس فلم کی ایک عجیب بات یہ تھی کہ اس میں آٹھ گانے تھے اور وہ سب کے سب مغنیہ آئیرن پروین نے گائے تھے اس میں صرف ایک دو گانا تھا، جس میں آئیرن پروین کے ہمنوا احمد رشدی تھے۔ ہمارے والد صاحب ”آئیرن پروین“ کو ”لوہا پروین“ کہا کرتے تھے۔ میں نے اس فلم کا ذکر اس لئے کیا کہ یہ ہماری زندگی کی پہلی اردو فلم تھی اور 1964 میں ہماری عمر نو سال تھی۔
آج اس فلم کی یاد ہم کو یوں آئی کے پچھلے دنوں جناب نواز شریف صاحب بلوچستان کے دورے پر گئے اور بلوچستان کی موجودہ سب سے ”کامیاب“ لیکن ”نو عمر“ سیاسی پارٹی جس کا نام ”بلوچستان عوامی پارٹی“ ہے، لیکن وہ عرف عام میں ”باپ“ کہلاتی ہے۔ یہ پوری کی پوری پارٹی نواز شریف کے چرنوں میں بیٹھ گئی۔ اس کا مطلب یہ کہ ”باپ کا باپ“ نواز شریف کو دوبارہ اپنی ”فرزندی“ میں لینے کو تیار ہو گیا حالانکہ 2018 میں ”باپ کا باپ“ نواز شریف سے ناراض ہو گیا تھا اور اس نے نواز شریف کو عاق کر کے عمران خان کو گود لے لیا تھا۔ لیکن باپ کا باپ، مرتا کیا نہ کرتا، عمران خان ہی ناخلف بلکہ ناہنجار بھی ثابت ہوئے۔
سن 2004 سے پہلے پاکستانی پاسپورٹ مشین ریڈ ایبل نہیں ہوتے تھے۔ جن لوگوں کے پاسپورٹ پر امریکی یا یورپی ویزا لگے ہوتے تھے ان کو اپنے پاسپورٹ کی خاص حفاظت کرنی پڑتی تھی کیونکہ پاسپورٹ چوری ہونے کا ہمہ وقت خطرہ موجود رہتا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ پاسپورٹ خاصہ مہنگا بکتا تھا۔ جس آدمی کو یہ پاسپورٹ بیچا جاتا تھا۔ اصلی آدمی کی جگہ اس کی تصویر چسپاں کر دی جاتی تھی اور وہ باآسانی اس پاسپورٹ پر لگے ہوئے ویزوں کے مزے لے سکتا تھا۔
اس عمل کو ”پی۔ سی“ یعنی ”فوٹوگراف چینج“ کہتے تھے۔ ”باپ کے باپ“ نے وہی ایک پرانا پاسپورٹ رکھا ہوا ہے۔ جس میں تمام ویزے لگے ہوئے ہیں بس پاسپورٹ پر حسب ضرورت تصویر بدل دی جاتی ہے۔ 2018 میں اس پاسپورٹ پر عمران خان کی تصویر چسپاں کر دی گئی تھی اور وہ چار سال تک ہیلی کاپٹروں میں بیٹھ کر پورے ملک میں دندناتے پھرے۔ اب وہ تصویر ہٹا کر نواز شریف کی تصویر چسپاں کر دی گئی ہے اور اب پچیس کروڑ پاکستانی نواز شریف صاحب کی آنیاں جانیاں دیکھیں گے۔
تقسیم سے قبل متحدہ ہندوستان میں ایک ادارہ ہوتا تھا جو پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ کہلاتا تھا اور عام طور پر پی ڈبلیو ڈی کے نام سے جانا جاتا تھا۔ پاکستان بننے کے بعد یہ پاک پی۔ ڈبلیو۔ ڈی ہو گیا۔ اس ادارے کی بنیادی ذمہ داری سرکاری عمارات اور تنصیبات کی تعمیر اور بحالی ہے۔ اس ادارے کے پاس اسکول، کالج اسپتال، پل، سیوریج لائنز وغیرہ کی ڈرائنگز موجود رہتی ہیں۔ اس لیے اس ادارے کی تعمیر کردہ عمارتیں اور تنصیبات ہمیشہ ایک جیسی ہوتی ہیں۔
اس طرح ”باپ کے باپ کے“ پاس بھی اقتدار کا کھیل کھیلنے کا طریقہ کار ہمیشہ ایک ہی جیسا ہوتا ہے۔ ”باپ کے باپ“ کو صرف پی۔ سی کرنا ہوتی ہے یعنی صرف فوٹوگراف چینج کرنا پڑتا ہے۔ اب بھی یہ ہی بندوبست کیا جا رہا ہے کہ گانے آئیرن پروین ہی گاتی رہیں گی۔ ایک آدھ گانے میں انتخابات کے نتیجے میں وارد ہونے والا گلوکار ہمنوا کے طور پر شامل کر لیا جائے گا۔ ”باپ کا باپ“ جس وقت چاہے گا فلم میں لڑائی مار کٹائی کے مناظر شامل کردے گا۔ باقی عوام کے پاس ”آوے آوے“ ، ”جاوے جاوے“ ، مردہ باد اور زندہ باد کے کھوکھلے نعرے ہی رہ جائیں گے۔

