ڈبلیو ڈبلیو ای اور پاکستانی طرزِ حکومت و سیاست


ورلڈ وائڈ ریسلنگ انٹرٹینمنٹ (ڈبلیو ڈبلیو ای) امریکہ میں قائم شدہ ایک کمپنی ہے جو کہ دنیا بھر میں فری اسٹائل کشتیوں کے مقابلے منعقد کراتی ہے۔

اس کمپنی کے زیر اہتمام کشتیوں کو ساری دنیا بالخصوص امریکہ میں بہت ذوق و شوق سے دیکھا جاتا ہے جہاں ہزاروں کی تعداد میں شائقین جن کی اکثریت نوجوان اور کم عمر لوگوں پر مشتمل ہوتی ہے مہنگے ٹکٹ خرید کر ان مقابلوں کو دیکھتے اور لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ڈبلیو ڈبلیو ای کے زیر اہتمام کشتیاں دنیا بھر میں ٹیلی ویژن سکرین کے ذریعے بھی دیکھی جاتی ہیں جہاں اس کے دیکھنے والوں کی تعداد یقیناً کروڑوں میں جا پہنچتی ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ای کے زیر انتظام کشتیاں بہرحال محض نمائشی ہوتی ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اسی لیے ان کو نورا کشتیوں کے نام سے پکارا اور جانا جاتا ہے۔ ان مقابلوں میں کسی ضابطہ اخلاق کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ یہ مقابلے پہلے سے طے شدہ ہوتے ہیں جن کے تحت انتہائی بھاری بھرکم پہلوان بظاہر ایک دوسرے پر شدید ترین حملے کرتے نظر آتے ہیں لیکن دراصل یہ سب کچھ ایک پہلے سے مرتب کردہ حکمت عملی کے تحت ہوتا ہے جس میں ریفری کا کردار محض نمائشی ہوتا ہے۔

مقابلوں کے دوران کوئی بھی دوسرا پہلوان رنگ میں غیر قانونی طریقے سے گھس کر جیتے ہوئے پہلوان کو شکست سے دوچار کر سکتا ہے۔ اس دوران اگر ریفری غلطی سے بھی اسے روکنے کی کوشش کرے تو وہ اسے بھی بآسانی رنگ سے باہر پھینک سکتا ہے۔ بعد ازاں مقابلوں کی انتظامیہ اس زور زبردستی اور دھاندلی پر مبنی جیت کو حق بجانب قرار دینے میں کسی پس و پیش سے کام نہیں لیتی۔

ڈبلیو ڈبلیو ای کی انتظامیہ بہرحال ان مقابلوں کو محض نمائشی قرار دینے میں کسی تامل سے کام نہیں لیتی اور اپنے تمام شائقین اور دیکھنے والوں کو اس بات سے متنبہ بھی کرتی ہے کہ وہ گھر پر یا کسی اور جگہ ان کشتیوں میں استعمال شدہ داؤ پیچ سے دور رہیں کیوں کہ یہ ان کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

قارئین کرام مندرجہ بالا منظر نامے کو پیش کرنے کا واحد مقصد آپ کی توجہ ڈبلیو ڈبلیو ای اور پاکستان میں جاری حکومتی و سیاسی صورتحال میں پائے جانے والی گہری مماثلت کی طرف مبذول کرانا مقصود ہے۔ جہاں بد قسمتی سے حکومتی و سیاسی طرز عمل کسی بھی ضابطہ اخلاق، قانونی اور آئینی قدغنوں سے مکمل طور پر عاری نظر آ رہا ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ای کے اصولوں پر مبنی پاکستانی حکومتی اور سیاسی نظام درحقیقت 1950 کی دہائی سے آج تک جاری و ساری ہے۔ یاد رہے کہ ڈبلیو ڈبلیو ای کا آغاز بھی 1950 میں ہوا تھا چنانچہ یہ بات کہنے میں کوئی تامل نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستانی حکومتی اور سیاسی نظام درحقیقت شروع دن سے ہی ڈبلیو ڈبلیو ای کے وضع کردہ اصولوں پر کاربند ہے۔ جس طرز عمل کو مزید تقویت 9 اپریل 2022 کو سابق وزیراعظم عمران خان کی ایک انتہائی متنازع تحریک عدم اعتماد کے ذریعے حکومت سے بے دخلی سے حاصل ہوئی۔

بعد ازاں ”کہاں کی اینٹ کہاں کا روڑا بھان متی نے کنبہ جوڑا“ کہ عین مطابق ملک پر 14 مختلف الخیال جماعتوں کے غیر فطری اتحاد کو مسلط کر دیا گیا۔ اس اتحادی حکومت کی بد انتظامیوں، بد اعمالیوں اور ذاتی منفعت پر مبنی قانون سازی، اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں اور آئین سے روح گردانیوں کی قیمت پاکستان کے غریب عوام آج تک ادا کر رہے ہیں۔ بد قسمتی سے ملک میں اس وقت قائم انتہائی جانبدار عبوری حکومتوں کی جانب سے اختیار کردہ متعصب پالیسیاں بھی عوام کے مسائل میں مزید اضافہ کر رہی ہیں۔

اس تمام تر تکلیف دہ صورتحال میں عدلیہ بالخصوص ماتحت عدلیہ کی جانب سے دیے جانے والے حالیہ فیصلوں نے بھی اس بات کو مزید تقویت بخشی ہے کہ پاکستان کا موجودہ نظام حکومت اور سیاسی طرز عمل دراصل ڈبلیو ڈبلیو ای کے زیر انتظام مقابلوں اور اس کے وضع کردہ اصولوں کی پیروی کرنے میں کسی تامل سے کام نہیں لے رہا ہے۔

اس تمام تر پس منظر میں سزا یافتہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی وطن واپسی، حفاظتی ضمانت کی حکومتی اداروں کی آشیر باد سے منظوری، حکومت پنجاب کی طرف سے ان کی سزا کی معطلی، سرکاری میڈیا پر ان کی بے پناہ تشہیر اور مقتدر حلقوں کی مکمل پشت پناہی سے باپ پارٹی سے اتحاد اس بات کی بھرپور غمازی کر رہا ہے کہ ڈبلیو ڈبلیو ای کے اصولوں پر مبنی نظام سیاست نواز شریف کو چوتھی مرتبہ وزیراعظم بنانے کے لئے ہر طرح سے تیار ہے۔

اس بے پناہ سیاسی گھٹن اور ریاستی جبر کے ماحول میں ملک کی سب سے بڑی اور مقبول سیاسی جماعت پی۔ ٹی۔ ای پر غیر علانیہ پابندی لگانے کے علاوہ اس کے سینکڑوں سیاسی کارکنوں بشمول پارٹی چیئرمین کو گزشتہ کئی ماہ سے جیل میں بند کر دیا گیا ہے۔ مزید برآں آئے دن اس کی بچی کھچی قیادت اپنے دیگر ساتھیوں کی پیروی میں اپنی پارٹی سے لا تعلقی کا اعلان کر رہی ہے۔ اس پس منظر میں حکومت وقت، الیکشن کمیشن اور مقتدر حلقوں کی جانب سے ایک آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا دعوی ملک میں پائے جانے والے زمینی حقائق سے کوسوں میل دور نظر آ رہا ہے۔

قارئین کرام دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈبلیو ڈبلیو ای کے منتظمین تو ببانگ دہل اس حقیقت کا اظہار کرنے میں کسی تامل سے کام نہیں لیتے کہ ان کے زیر انتظام کشتیوں کے مقابلے محض نمائشی ہوتے ہیں لیکن ملک عزیز میں ڈبلیو ڈبلیو ای کے اصولوں کے تحت مرتب کردہ حکومتی، عدالتی اور سیاسی نظام کو چلانے والے اہلکار اور ان کی پشت پناہی میں مصروف نادیدہ طاقتیں اس اخلاقی جرات سے مکمل طور پر عاری نظر آرہے ہیں جس کے نتیجے میں ملک میں ہونے والے آئندہ انتخابات انتہائی متنازعہ اور کسی بھی عوامی اور بین الاقوامی پذیرائی سے عاری ہوں گے۔

پاکستان کے غریب اور لاچار عوام جو آج بھی مہنگائی کے پہاڑ کے نیچے دبے ہوئے ہیں کو 8 فروری 2024 کے بعد کے منظر نامے میں سنگین سیاسی، اقتصادی اور قانونی دشواریوں کے لیے ابھی سے ذہنی طور پر تیار رہنا ہو گا۔

Facebook Comments HS