ہمارے لبرل کرکٹ ایکسپرٹس
انتہا پسندی کی تعریف محض مذہبی طور پر شدت پسند ہونا ہی نہیں بلکہ کسی بھی شعبے میں اپنے خیالات اور نظریات کو زبردستی دوسروں پر مسلط کرنا بھی انتہاپسندی کے زمرے میں شمار ہوتا ہے۔ اسی طرح کھیل اور مذہبی رجحانات بھی بالکل الگ الگ چیزیں ہیں لیکن آج کل ہمارے معاشرے کے کچھ نام نہاد روشن خیال لوگ قومی کرکٹ ٹیم کی ناقص کارکردگی کو مذہب کے ساتھ جوڑ کر بلاوجہ تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
حالانکہ دیگر کئی عوامل ہیں جن کے سبب کرکٹ ٹیم کی کارکردگی زوال پذیر نظر آ رہی ہے۔
قومی ٹیم کے مصروف شیڈول کے دوران کھلاڑیوں کا ٹی ٹوئنٹی لیگز بھی کھیلتے رہنا فٹنس مسائل کا سبب بنا۔
آنے والے ٹورنامنٹس کے لیے دستیاب کھلاڑیوں کے بیک اپ تیار کرنے کے بجائے کپتان بابر اعظم خود سے قریب کھلاڑیوں کو ناقص کارکردگی کے سبب مسلسل کھلاتے رہے۔ پاکستانی ٹیم نے گزشتہ دو سال میں جن ٹورنامنٹس میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا وہ ٹی ٹوئنٹی کے تھے۔ اس کے ساتھ ون ڈے میں جن ٹیموں کو شکست دی وہ زیادہ تر بی اور سی ٹیمز تھیں۔ جب کے ٹیسٹ کرکٹ میں بھی پچھلے برس قومی ٹیم کی کارکردگی خاصی خراب رہی۔ خود کپتان بابر اعظم کپتانی کے پریشر کو لے کر ایشیاء کپ اور ورلڈ کپ میں اپنی کلاس کے حساب سے کارکردگی نہیں دکھا سکے۔ اس کے علاوہ بورڈ کی مس مینجمنٹ، کپتان سے اختلافات اور بابر اعظم کی چیٹ لیک کرنے جیسے عوامل بھی پاکستان کی جگ ہنسائی کا باعث بنے۔
یہاں نقادوں کو یہ بات بھی مدنظر رکھنی چاہیے کہ اس بار عالمی کپ کا انعقاد خود ایک ہندوتوا کے شکار ملک بھارت میں ہوا جہاں بی جے پی جیسی انتہا پسند جماعت برسراقتدار ہے۔ بھارتی نیوز میڈیا جو سارا دن اپنی جنتا کا دھیان پاکستان بھارت اور ہندو مسلمان سیاست پر لگائے رکھتا ہے آج کل ساری انسانیت کو بلائے طاق رکھتے ہوئے فلسطینی بچوں کی شہادت کو حماس کا ڈھونگ اور ڈرامہ قرار دے کر اسرائیل کی مظلومیت کے نوحے گا رہا ہے۔ ایسے میں پاکستانی وکٹ کیپر محمد رضوان سری لنکا کے خلاف اپنی میچ وننگ کارکردگی کو جب غزہ کے مظلوم مسلمانوں کے نام کرتا ہے تو بھارتی انتہا پسند حلقوں میں اک آگ لگنا کوئی اچھوتی بات نہیں رہ جانی تھی۔
اس کے بعد بھارتی لابی کی جانب سے رضوان کی نماز یا کھلاڑیوں کے سجدوں کے خلاف میڈیا مہم چلا کر آئی سی سی سے پاکستانی کھلاڑیوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جائے لگا۔ حالانکہ میچ کے دوران وقفے میں نماز پڑھنے سے کھیل سے منسلک کچھ بھی متاثر ہوتا تو آئی سی سی نے پہلے ہی اس پر ایکشن لے لینا تھا۔ یہی نہیں بلکہ پاک بھارت میچ میں آؤٹ ہو کر اسٹینڈ سے گزرتے ہوئے رضوان کو بھارتی تماشائیوں کی جانب سے انتہا پسند رویے کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ حالانکہ رضوان نے تو ان میچز میں بھی نماز پڑھی تھی جب پاکستانی ٹیم نے پچھلے دو سالوں میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت کے خلاف بھی کامیابیاں حاصل کی تھیں۔
دوسری طرف اگر مذہب ہی ٹیم کی خراب کارکردگی کا باعث بنا تو کیا سری لنکن اور انگلینڈ کی ٹیمیں بھی ورلڈ کپ میں مذہب کی بدولت پرفارم نہیں کر پائیں یا ویسٹ انڈیز کی کر کٹ ٹیم جو اس بار ورلڈ کپ کے لیے ہی کوالیفائی نہیں کر پائی اس کے کھلاڑیوں نے بھی کیا تبلیغ شروع کردی؟ کیونکہ ہمارے سابق کرکٹر دانش کنیر یا کی قومی ٹیم پر تنقید سنیں تو کچھ ایسا ہی معلوم ہوتا ہے۔ وہ خود تو میچ فکسنگ میں ملوث ہو کر رسوا ہوئے لیکن اپنی کوتاہی کا ذمہ دار پی سی بی اور پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی کو ٹھہرا رہے ہیں۔
اپنا آخری ٹیسٹ کھیلنے کے تیرہ سالوں بعد انہیں یاد آ رہا ہے کہ قومی ٹیم میں کھیلنے کے لیے انہیں ہندو ہونے کی بناء پر شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ حیرت ہے یہ بات وہ کھلاڑی کہہ رہا ہے جس نے پاکستان کے لیے دس سال کرکٹ کھیل کر 61 ٹیسٹ میچز میں 261 وکٹیں حاصل کر رکھی ہیں اور ان کا نام سب سے زیادہ ٹیسٹ وکٹیں حاصل کرنے والے پاکستانی باؤلرز میں چوتھے نمبر پر آتا ہے۔
یہ باتیں کر کے دانش آج کل بھارتی میڈیا کی تو خوب رونق بنے ہوئے ہیں لیکن انہیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے صرف وہ ہی نہیں ماضی میں سلیم ملک، سلمان بٹ اور محمد آصف کی کرکٹ بھی فکسنگ کی نظر ہو کر برباد ہوئی جس سے ان کی شہرت اور نجی زندگی کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔


