گھر سے گھر تک


دنیا میں رہنے کے بہت سے اصول ہیں۔ اور ان اصولوں پر عمل بھی کرنا پڑتا ہے۔ ان اصولوں پر چلنے والی ایک بھاری تعداد لڑکیوں کی ہے۔ انہیں جیسے کہا جائے، ویسے چلتی ہیں، اٹھتی ہیں، بیٹھتی ہیں (ما سوائے چند ایک کے ) ۔ سب کچھ کرتی ہیں۔ اس کے باوجود پچھلے کئی دنوں سے مجھے اس بات کا شدت سے احساس ہو رہا ہے کہ لڑکیوں، عورتوں، بچیوں کو معاشرے میں نسبتاً کم جگہ دی گئی ہے۔ جذبات کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو لڑکیاں زیادہ کمزور ہوتی ہیں۔

حال ہی میں، میرے بہت قریب کا واقعہ ہے کہ ایک مثالی جوڑے کی علیحدگی ہو گئی۔ وجہ صرف نظر کا لگنا نہیں تھی۔ شوہر وہی آزادی چاہتا تھا جو معاشرے نے اسے دی اور سکھائی ہے۔ وہ جس سے چاہے رابطہ رکھے، تعلق رکھے۔ مگر بیوی نہ پوچھے کچھ! بحث ہوتے ہوتے وہ اپنی بیٹی کو لے کر گھر آ گئی۔ خاندان والوں نے منت سماجت سے، سمجھا کر اور بالآخر غصے سے مسئلے کو حل کر نے کی کوشش کی۔ خیر لڑکی واپس چلی گئی اور کچھ دن بعد روتی دھوتی گھر آ گئی۔

مسئلے کا حل وہی نکلا جو نہیں نکلنا چاہیے تھا۔ اسے طلاق ہو گئی اور وہ اپنے گھر آ گئی۔ وہ بھی کہاں اس کا گھر تھا؟ اور اس کی بیٹی؟ بیٹی کا گھر کون سا ہے؟ وہ تو خود ایک ایسے ماحول میں پل رہی ہے جہاں لڑکی کو ان ڈیپینڈنٹ ہونا نہیں سکھایا جاتا۔ اسے شکر گزار رہنا سکھایا جاتا ہے۔ باپ کے گھر عزت سے رہنا اور پھر شوہر کے گھر کو جوڑنا سکھایا جاتا ہے۔ یہ کوئی غلط تعلیم نہیں، نہ میں اس کے خلاف ہوں۔ مگر ذرا اندازہ کیجئے اس صورت حال کا۔

کہ ایک لڑکی اپنی بیٹی کو لے کر گھر آ بیٹھی ہے۔ وہ کس پہ اعتبار کرے گی اب؟ کسی پہ نہیں۔ وہ اپنی زندگی میں آگے بڑھنا بھی چاہے تو اسے ہزار شرطوں اور طعنوں کے ساتھ قبول کیا جائے گا۔ اور وہ ننھی بچی جب بھی بابا کے گھر جانے کی ضد کرے گی تو اسے چپ کروا دیا جائے گا۔ اس کی تعلیم اور دیگر خرچے کسی اور کی آ مدن سے نکلیں گے۔ اور بڑے ہوتے ہی وہ بھی اپنی ماں کی طرح اس دائرے میں گھومنے لگے گی۔ اپنے گھر سے اپنے گھر تک!

بچیوں کو صبر کا درس ضرور دیجیے۔ اٹھنا بیٹھنا، شرم و حیا، سب سکھائیے۔ مگر خدارا انہیں مظلوم اور بے چاری بننا مت سکھائیے۔ انہیں رشتے نبھانے والا بنائیں، نہ کہ منت سماجت سے رشتے بچانے والا۔ انہیں اس حد تک انڈیپینڈنٹ بنائیں کہ خدانخواستہ برے حالات آئیں تو وہ خود کو سنبھال سکیں۔ بوجھ نہ بنیں کسی پر۔ اپنے ایشوز کو خود سوچ سکیں اور مثبت حل نکال سکیں۔ اپنے حق کے لیے آواز اٹھا سکیں۔ اور جہاں مسئلہ حل ہو سکتا ہو، معاملہ فہمی سے کام لے سکیں۔ خدارا انہیں مضبوط بنائیں۔

Facebook Comments HS