ناصر آباد ہنزہ کی بہادر سکیم بانو کا عظیم مشن


سکیم بانو ایک بہادر اور عظیم خاتون ہیں۔ جس مشن پر وہ کاربند ہیں وہ کم لوگوں کے نصیب میں آتا ہے۔ وہ تہمینہ ویلفیئر فاونڈیشن کی سربراہ ہیں۔ اپنے گاؤں ہنی (ناصر آباد ) ضلع ہنزہ میں انہوں نے افراد باہم معذوری کے لئے اپنی مدد آپ کے تحت تہمینہ ویلفیئر ری ہیبلٹیشن اینڈ ووکیشنل سینٹر قائم کیا ہے۔ جہاں وہ ان افراد کو سلائی کڑھائی اور کوکنگ سمیت کئی ہنر سکھاتی ہیں۔ وہ ان افراد کو مختلف کھیلوں کی تربیت دینے کے علاوہ ان کی ذہنی و جسمانی صحت کے لئے ورزش اور تھراپیز کا انعقاد کرتی ہیں اور سپیشل بچوں کی تعلیم و تربیت پر بھی کام کرتی ہیں۔

ان کے سروے کے مطابق صرف ان کے ایک گاؤں یعنی ہنی میں ستر سے زائد افراد بحالت معذوری رہتے ہیں۔ جبکہ ضلع ہنزہ میں رجسٹرڈ معذور افراد کی کل تعداد تین سو سے زائد ہے۔ جو رجسٹرڈ نہیں ہیں ان کی تعداد اس سے کئی زیادہ ہے۔ سکیم بانو نے اپنے دو بچوں کے ساتھ دیگر سات سپیشل افراد کو بھی اپنے گھر میں رکھا ہے۔ جہاں وہ ان کی کفالت کرتی ہیں۔ کل پندرہ افراد کی وہ براہ راست کفالت کرتی ہیں اور ان کو مختلف ہنر سکھاتی ہیں جبکہ کل چالیس سے زائد افراد ان کے سینٹر سے مختلف اوقات میں مستفید ہوتے ہیں۔

سکیم بانو کی اپنی زندگی جبر، مصائب، تنگ دستی اور مشکلات کا شکار رہی ہے۔ مگر وہ اپنے بلند حوصلہ اور عزم سے ان مشکلات کو شکست فاش دے چکی ہیں۔ ان کے اپنے دو ہی بچے ہیں اور وہ دونوں بچے سپیشل ہیں۔ جن کی دیکھ بھال وہ گزشتہ تیس سالوں سے زائد عرصے تک اکیلی کرتی رہی ہیں۔ ان کے شوہر نے ان کا کبھی ساتھ نہیں دیا بلکہ شوہر نے دوسری شادی کر کے ان کو گھر سے بے دخل کر دیا تھا۔ سکیم بانو نے سلائی کڑھائی کا کام کر کے اپنے دونوں بچوں کی نہ صرف کفالت کی بلکہ ان کو مختلف ہنر اور کھیل سکھائے۔

سکیم بانو کی جہد مسلسل اور سخت محنت کے بعد ان کے دونوں بچے انٹرنیشنل سپیشل گیمز چیمپیئن شپ میں حصہ لینے میں کامیاب ہو گئے۔ نہ صرف یہ بلکہ دونوں بچوں نے ان بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلوں میں کئی مڈلز لئے اور نام کمایا۔ ان کی بیٹی اور بیٹا اب باقاعدگی سے بین الاقوامی سپیشل کھیلوں کے مقابلوں میں حصہ لیتے ہیں۔ اب وہ اپنے دونوں بچوں کی مدد سے اپنا سینٹر چلاتی ہیں۔ جس کے لئے وہ خود بھی محنت کرتی اور بعض دفعہ کچھ لوگ ان کے کام سے متاثر ہو کر ان کو چندہ بھی دیتے ہیں۔ تہمینہ ان کی سپیشل بچی ہے۔ جن کے نام پر انہوں نے فاونڈیشن اور سینٹر بنایا ہے۔ ان کا بیٹا اور بیٹی ان کے سینٹر میں ان کے اپنے گاؤں اور بالائی ہنزہ کے سپیشل اور غریب افراد کو ہنر سکھاتے ہیں۔

سکیم بانو کو دولت یا شہرت کا لالچ نہیں ہے اس لئے وہ گزشتہ بیس سالوں سے اپنی مدد آپ کے تحت بہت محدود وسائل میں نہ صرف سپیشل بلکہ عام غریب افراد کی مدد بھی کرتی ہیں۔ وہ افراد باہم معذوری کے حقوق کی جدوجہد میں بھی شامل ہیں اور ہر فورم پر ان افراد کے حقوق کے لئے آواز اٹھاتی ہیں۔ وہ گلگت بلتستان میں افراد باہم معذوری کے حقوق کی صورتحال سے متعلق بہت فکر مند ہے۔ گلگت بلتستان اور خصوصاً ہنزہ میں معذور افراد  کی فلاح و بہبود کے لئے حکومتی سطح پر کوئی ادارہ یا محکمہ کام نہیں کرتا ہے۔ اس لئے ایسے افراد اپنے خاندانوں اور معاشرے کی ستم ظریفی کا شکار ہیں۔ ان افراد کو کبھی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا، کبھی سردی اور گرمی میں گھر سے بے دخل کیا جاتا، کبھی گھروں میں بند کیا جاتا اور کبھی زنجیروں میں باندھ کر رکھا جاتا ہے۔

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ایک سروے کے مطابق گلگت بلتستان میں معذور افراد کی تعداد اسی ہزار کے لگ بھگ ہے۔ جن میں سے سولہ ہزار افراد رجسٹرڈ ہیں باقی رجسٹرڈ نہیں ہیں۔ حکومت کی طرف سے ان افراد کے حقوق کے تحفظ کے لئے ایک قانون بنایا گیا ہے مگر اس پر تاحال عملدرآمد نہیں ہوسکا ہے۔ ان افراد کے حقوق کے لئے کچھ درد دل رکھنے والے افراد ذاتی حیثیت میں کوششیں کرتے ہیں جن میں ارشاد کاظمی، تسنیم عباس، امجد ندیم، حسن بلتی اور دیگر نام شامل ہیں۔ سکیم بانو بھی ان میں سے ایک ہیں۔

سکیم بانو ان تمام بے سہارا افراد کا سہارا بننا چاہتی ہیں مگر ان کے پاس وسائل کی کمی ہے۔ اگر حکومت اور غیر سرکاری ادارے سکیم بانو کے اس عظیم مشن کی تکمیل کے لئے ان کی مدد کریں تو یہ اکیلی اپنے گاؤں اور ضلع میں وہ کارنامہ سرانجام دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں جو حکومت ستر سالوں میں نہیں کر سکی ہے۔

ان کی کوئی مدد کرنا چاہیں تو وہ ان کے سینٹر کا دورہ کر سکتے ہیں یا ان سے براہ راست رابطہ کر کے ان کی مدد کر سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS