غزہ کی لیلیٰ


’میری ماں کہاں ہے، میری امی! ‘
لیلیٰ کے آنسو خشک ہو چکے تھے، حلق کانٹا بن چکا تھا
پھر اس نے اپنی دائیں ٹانگ کو دیکھا اور چیخ مار دی
’میرا پیر کہاں گیا، یہ ٹانگ اتنی درد کیوں کر رہی ہے؟

امی امی تم کہاں ہو۔ آتی کیوں نہیں میرے پاس
میرے پاس آ کر میری ٹانگ کو دیکھو
مجھے بتاؤ میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا ہے
یہ سب لوگ کراہ رہے ہیں کچھ دھاڑ دھاڑ کے رو رہے ہیں
ایک خوفناک دھماکے کے ساتھ کچھ آسمان سے آیا تھا
اس کے بعد مجھے کچھ یاد نہیں

میری ماں کو ڈھونڈ کر لاؤ
وہ کیوں مجھ سے ناراض ہے
اب میں فٹبال کیسے کھیلوں گی؟ میں نے تو قومی ٹیم میں کھیلنا تھا
میں اپنے گول کو کیسے پھرتی سے بچاتی ہوں۔ ’
ایک نرس نے اسے پانی لا کر دیا لیکن لیلیٰ نے پینے سے انکار کر دیا
’پہلے مجھے میری ماں کو لا کر دو۔ اماں مجھے پیار کرو
میں صرف تمہارے ہاتھوں سے پانی پیوں گی۔ ’
سوکھے حلق کو کھانسی کا دورہ پڑا
لیلیٰ اب بلک رہی تھی، اس کا سانس اکھڑ رہا تھا

پیچھے سے ایک عورت اٹھی، اس کا جسم تھر تھر کانپ رہا تھا
اس کے جسم پہ جا بجا پٹیاں بندھی ہوئی تھیں
اس نے لیلی کو اپنے سینے سے لگا لیا
ایک لمحے کے لئے دنیا تھم گئی
اس زخمی عورت نے لیلیٰ کے ماتھے کو چوما
’آج سے میں بھی تمہاری ماں ہوں۔ ‘
وہ گلاس کو لیلیٰ کے ہونٹوں کے قریب لے گئی
لیلیٰ نے پانی کا ایک گھونٹ لیا اور آنکھیں بند کر لیں۔

Facebook Comments HS