طاقت کا برہنہ رقص: شہر خوباں شہر مقتل بن گیا ہے
لاہور ڈیفنس میں پیش آنے والے اندوہناک واقعہ نے ملک کی فضا کو نہ صرف سوگوار کر دیا بلکہ تشویش کی لہر بھی دوڑا دی۔ ایک نو عمر لڑکے نے ایک ہی خاندان کے چھ افراد کو اپنی انا کی بھینٹ چڑھا دیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق دو گاڑیوں میں سوار ایک خاندان کے افراد شادی سے واپس آرہے تھے۔ 14 سالہ افنان نے پہلے خواتین سے بدتمیزی کی اور گاڑی میں ہاتھ ڈال کر ان کا دوپٹے کھینچنے کی کوشش کی، جس پر متاثرہ گاڑی کے ڈرائیور نے گاڑی روک کر افنان کو ایسی حرکتوں سے باز آنے کا کہا، مقتول حسنین کے والد نے بھی اسے سمجھایا لیکن ملزم نے دھمکیاں اور گالیاں دیتے ہوئے کہا کہ میں دیکھتا ہوں تم لوگ ڈیفنس میں گاڑی کیسے چلاتے ہو۔ اس کے بعد افنان نے پیچھا کر کے 160 کی سپیڈ سے قصداً ٹکر ماری جس سے کار میں سوار 6 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ حادثہ نہیں، ٹارگٹ کلنگ اور طاقت کا برہنہ رقص تھا۔
سڑکوں پر بگڑے ہوئے کم عمر امیر زادے گاڑیاں اور لاپروا والدین کے بچے موٹرسائیکلیں دوڑاتے ہیں، رکشے، چنگ چی اور موٹر سائیکل ڈرائیورز کی اکثریت کم عمر لڑ کوں کی ہے۔ یہ نہ صرف اپنی جانوں بلکہ دوسروں کے لیے بھی خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ اس مسئلے پر ارباب اختیار نے کبھی توجہ دی اور نہ ہی ٹریفک پولیس کو اپنی ذمہ داریوں کا خیال آیا۔ ہمارے ’فرض شناس‘ ٹریفک اہلکار صرف چالان کا ٹارگٹ پورا کرتے ہیں۔ قانون پر عملدرآمد ان کی ترجیح نہیں جس کا ثبوت چیف ٹریفک افسر کا یہ انکشاف ہے کہ لاہور میں 73 لاکھ گاڑیوں میں سے صرف 13 لاکھ کے لائسنس ہیں، ایسے میں حادثات کا ہونا لازمی امر ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سالانہ 35 سے 40 ہزار افراد ٹریفک حادثات کی بھینٹ چڑھتے اور لاکھوں معذور ہو جاتے ہیں۔ صرف پنجاب میں روزانہ 750 ٹریفک حادثات میں، اوسطاً 9 افراد جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ اس المناک حادثے کے بعد بھی پولیس اور انتظامیہ ازخود متحرک نہ ہوئی بلکہ ہائی کورٹ کے حکم پر چارو ناچار ملزم کو جیل بھیجا گیا۔
پنجاب کے وزیراعلیٰ محسن نقوی نے نوٹس لیا اور ملزم کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا۔ سوشل میڈیا پر یہ واقعہ ٹاپ ٹرینڈ بن گیا اور ہزاروں افراد نے اس کی ذمہ داری ان والدین پر بھی ڈالی جنہوں نے اپنے کم عمر بیٹے کو گاڑی چلانے کی اجازت دی اور یہ سوال اٹھایا کہ مہذب ممالک میں اگر کتا کسی کو کاٹ لے تو اس کا مقدمہ مالک پر درج ہوتا ہے اور اسے سزا دی جاتی ہے تو یہاں کم عمر ڈرائیوروں کے لئے ایسی قانون سازی کیوں نہیں کی جاتی؟
مقدمہ میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 322 ’279 اور 427 شامل ہیں۔ دفعہ 279 کے مطابق اگر کوئی شخص غفلت سے گاڑی چلاتے ہوئے انسانی زندگی کو خطرے میں ڈالے یا کسی کو زخمی کرے اور نقصان پہنچائے تو اس کی تین سال سزا ہے۔ سیکشن 322 قتل بالسبب اور دیت سے متعلق ہے۔ البتہ سیکشن 320 نہیں لگائی گئی جو غفلت سے گاڑی چلاتے ہوئے قتل خطا سے متعلق ہے‘ جس کی سزا دیت کے علاوہ زیادہ سے زیادہ دس سال تک قید ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کے احکامات کے نتیجے میں ملزم کے خلاف دفعہ 302 قتل اور انسداد دہشت گردی کی دفعات کو بھی شامل کر دیا گیا۔ ملزم کے وکیل نے اس عمل کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ کہ ملزم نابالغ ہے لہٰذا اس کا معاملہ جووئنائل ( کم عمر ملزمان کی ) عدالت میں پیش ہونا چاہیے۔
ماضی میں اس سے ملتے جلتے واقعات میں مقدمات عدالت تک گئے لیکن شنوائی نہ ہونے پر مدعیان مقدمات سے دستبرداری پر مجبور ہو گئے کہ جب انصاف نہیں ملنا تو عدالت آنے کا کیا فائدہ؟ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں سے ہے جہاں سب سے زیادہ ٹریفک قواعد کی خلاف ورزی کی جاتی ہے۔ دنیا بھر میں موٹرویز پر سفر کو محفوظ سمجھا جاتا ہے، کیونکہ وہاں لائن اور لین کی پابندی ہوتی ہے، مگر ہمارے ہاں سب سے زیادہ سنگین حادثات موٹروے پر ہوتے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ ملکوں کے رہن سہن کا اندازہ ان کی ٹریفک دیکھ کر ہو جاتا ہے کہ ان میں کتنا ڈسپلن اور تہذیب ہے۔ جب معاشرہ با اثر اور بے اثر میں تقسیم ہو جائے تو قانون بھی خانوں میں بٹ جاتا ہے۔ بچوں کی ڈرائیونگ کا مسئلہ ایک معاشرتی روگ ہے، جن کے پاس دولت کی فراوانی ہے وہ بھلا دو چار ہزار روپے جرمانہ کی خاطر اپنے بچوں کو ڈرائیونگ اور سڑکوں پر دندنانے سے کیوں روکیں گے؟ جب تک انہیں مجرمانہ غفلت کا مرتکب قرار دے کر بچوں کے ساتھ شریک جرم نہیں سمجھا جائے گا لاقانونیت کے مظاہرے ہوتے رہیں گے۔ بچوں کی ڈرائیونگ کا مسئلہ دیرینہ ہے تاہم ایک نو عمر ڈرائیور کی وجہ سے اتنا سنگین واقعہ پہلی بار ہوا ہے۔ اللہ کی آخری کتاب کا اعلان ہے کہ جس نے ایک انسان کی جان لی اس نے پوری انسانیت کو مار ڈالا۔
وکلاء بھاری فیسیں لے کر عدالت میں، منصف کو سمجھائیں گے کہ یہ قتل عمد نہیں اور کم عمر کو سزا نہیں دی جا سکتی۔ سول سوسائٹی کم عمری کی سزا کو بنیادی انسانی حقوق کے خلاف قرار دے گی۔ یہ کاوشیں کامیاب ہو گئیں تو ملزم باعزت بری ہو جائے گا۔ اور ”یہ خون خاک نشیناں تھا رزق خاک ہوا“ کا مصداق بن جائے گا۔ کیا اس سے انسانی حقوق ”محفوظ“ ہو جائیں گے اور تباہ حال خاندان کو ”قرار“ آ جائے گا۔ قانون کا مقصد انسانی جان کا تحفظ ہے۔
کیا ایسے ملزم کو کم عمری کا عذر تحفظ دے سکتا ہے۔ جو گاڑی چلانے کے ساتھ، مقتولوں کو ہراساں بھی کرتا ہے۔ اس قتل میں ڈرائیور کے باپ نے بھی دو جرم کیے۔ ایک بچے کی غلط تربیت اور دوسرا قانونی استحقاق (لائسنس ) کے بغیر گاڑی بیٹے کے حوالے کرنا۔ اس جرم میں ٹریفک پولیس بھی شریک ہے جو ایسے ڈرائیوروں سے صرف نظر کرتی ہے۔ پاکستان میں ٹریفک حادثات میں مرنے والوں کی تعداد دہشت گردی میں مرنے والوں سے کہیں زیادہ ہے۔ زندگی کا حق سب حقوق پر مقدم ہے۔
اس لیے سول سوسائٹی کو بھی اس حوالے سے درست شعور کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ جن والدین کی غفلت سے کم سن بچے جرائم میں ملوث ہوتے ہیں، ان کے لیے یہ قانون بنا دینا چاہیے کہ ایسے جرم میں والد یا سرپرست شریک سمجھے جائیں گے۔ معاشرے کو انسانی جان کی حرمت کے بارے میں حساس بنانا ضروری ہے۔ جو کمسن بچے گاڑیاں چلاتے ہیں ان میں زیادہ تر ان با اثر اور با اختیار افسران یا سیاستدانوں کے بچے ہوتے ہیں جنہوں نے اس مسئلے کا تدارک کرنا ہے۔
جو افسران خود اپنے بچوں کو فخر سے غیر قانونی ڈرائیونگ کی اجازت دیتے اور انہیں گاڑی دوڑاتے دیکھ کر خوش ہوتے ہیں ’وہ دوسروں پر کیسے پابندیاں لگائیں گے۔ حکومت اور پنجاب پولیس کے لیے یہ ایک ٹیسٹ کیس ہے۔ اس واقعہ کو ایک مثال اور نمونۂ عبرت بنانا چاہیے تاکہ آئندہ منہ زور افراد اپنے کم عمر بچوں کو ڈرائیونگ سیٹ پر بٹھانے سے پہلے ہزار بار سوچیں۔
ماضی کو دیکھتے ہوئے یہ سوالات بار بار دل و دماغ پر دستک دے رہے ہیں کہ کیا وقت کی گرد اس بڑے واقعہ کی شدت کو بھلا تو نہیں دے گی۔ کیا صوبہ پنجاب اور دوسرے صوبوں میں نو عمر ڈرائیوروں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے گا۔ کیا بچوں کو گاڑی اور موٹر سائیکل چلانے کی اجازت اور سہولت دینے والے والدین کو قانون کی گرفت میں لانے کے لئے قانون سازی کی جائے گی۔ کیا قانون سینہ زوروں اور طاقت وروں کی گرفت کے لیے روبہ عمل آ سکے گا یا طاقتور قانون کو جیب کی گھڑی بنائے رکھیں گے اور اسے صرف کمزوروں کے لیے بطور چھڑی استعمال کیا جاتا رہے گا۔ کیا ریمنڈ ڈیوس اور ساہیوال کے قضیوں کی طرح اس المناک سانحے کو بھی دیت کا خول چڑھا کر قصہ پارینہ بنا دیا جائے گا؟


