تھنگز فال اپارٹ ایک عظیم ناول


”تھنگز فال اپارٹ“ نائجیرین رائیٹر چنووا ایچی بی کا بہت مشہور ناول ہے۔ یہ افریقہ کے ملک نائجیریا میں رہنے والے اگبو قبیلے کے لوگوں کی زندگیوں کا احاطہ کرتی ایک اہم ادبی دستاویز ہے۔ اس ناول میں مصنف نے اگبو قبیلے کے کلچر، عقائد، رسم و رواج اور ان کی زبان کے بارے اگاہی دینے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ اس کے بعد مصنف نے ان قبائل پر یورپی نو آبادیاتی قبضے اور اس کے تباہ کن اثرات کا تفصیلی جائزہ بھی پیش کیا ہے۔

اس سے پہلے جوزف کانریڈ نے اپنا مشہور ناول ”ہارٹ آف ڈارکنس“ بھی افریقہ میں نوآبادیاتی استحصال کے موضوع پر ہی تحریر کیا تھا لیکن وہ ایک ”کالونیل“ تحریر تھی جس کا مصنف ہی نہیں بلکہ ناول کے تمام اہم کردار بھی یورپی تھے۔

جبکہ تھنگز فال اپارٹ ایک ”پوسٹ کالونیل“ تحریر ہے جسے ایک مقامی مصنف نے تحریر کیا ہے اور اس کے اہم کردار بھی افریقی ہیں۔ مصنف نے بھی اپنی محکوم اور متاثرہ قوم کے نقطہ نظر کو پیش کیا ہے۔ ہم ”تھنگز فال اپارٹ“ کو جوزف کانریڈ کے ناول کا جواب بھی کہہ سکتے ہیں۔

ایچی بی خود کہتا ہے کہ،
”جب تک خود شیر اپنی تاریخ نہیں لکھتے، تب تک تاریخ شکاری کے گن ہی گائے گی“ ۔

یہ ناول ایک افریقی پہلوان ”اکونکو“ کی کہانی ہے جس کا باپ انوکا ایک کاہل اور ناکام شخص تھا جسے گانے بجانے سے ہی فرصت نہیں تھی۔ اس لیے جب وہ مرا تو اس پر کافی قرض چڑھ چکا تھا۔ اگبو جیسے معاشرے میں جہاں مردانگی کے معیار بہادری، طاقت، جرات اور کامیابی سے عبارت تھے وہاں انوکا کی زندگی بدترین ناکامی کی علامت ٹھہری اور یہ اس کے اکلوتے وارث اکونکو کے لیے بھی سوہان روح کا باعث بنی۔

جیسا کہ ایچی بی لکھتا ہے،
”ان لوگوں میں ضعیفی کا احترام ضرور کیا جاتا تھا، لیکن اس سے بڑھ کر کارناموں کی تعظیم کی جاتی تھی“ ۔

جبکہ اکونکو اپنے باپ کے برعکس ایک عالی ہمت شخص تھا جو اپنے باپ کی ناکامی کا داغ دھونے کے لیے سخت محنت کرتا ہے اور اپنی طاقت سے ریسلنگ کے کئی مقابلے جیتتا ہے وہ کیٹ نامی چیمپین ریسلر کو ہرا کر سب پر اپنی دھاک بٹھا دیتا ہے۔ اس طرح وہ اپنی محنت سے بہت سی دولت اور مرتبت حاصل کر لیتا ہے۔

جیسے جیسے کہانی آگے بڑھتی ہے تو ہم دیکھتے ہیں کہ نائجیریا کی سر زمین پر یورپی لوگوں کی عیسائی مشینری کی شکل میں آمد ہوتی ہے۔ وہ جلد ہی یہاں اپنا تسلط قائم کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اکونکو کا باغی ذہن یورپی استعمار کو قبول نہیں کرتا وہ اپنے قبیلے کے لوگوں کو یورپی لوگوں کے آگے مزاحمت پر اکساتا ہے۔ لیکن اس کے اپنے ہی لوگ عین وقت پر اس کا ساتھ چھوڑ جاتے ہیں اور آخرکار اکونکو دلبرداشتہ ہو کر اپنی جان لے لیتا ہے۔

اس ناول کے اہم تھیم طاقت اور مردانگی ہیں۔ مصنف ہمیں بتاتا ہے کہ اگبو لوگوں میں طاقت ہمیشہ مردوں کو حاصل ہے مرد ہی سیاہ و سفید کے مالک ہیں۔ جبکہ عورتوں کو صرف بچے پیدا کرنے والی مخلوق اور مرد کی ملکیت سمجھا جاتا ہے۔ باپ کی وراثت میں بھی عورتوں کا کوئی حصہ نہیں ہے ساری دولت بیٹوں کو ملتی ہے۔

اس ناول کے ہیرو اکونکو کی ساری زندگی بھی طاقت سے ہی عبارت ہے۔ وہ اپنی طاقت سے معاشرے میں دولت، عزت اور شہرت حاصل کرتا ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ یورپی لوگ بھی اپنی طاقت سے ہی نائجیریا پر اپنا تسلط قائم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ طاقت کے علاوہ مذہب، اقدار اور روایات بھی ناول کے اہم موضوعات ہیں۔

مصنف نے اگبو سوسائٹی کو ایک ایسی سوسائٹی کے طور پر پیش کیا ہے جس کے لوگ اپنے مذہب اور روایات سے جڑے ہوئے ہیں اور کسی اندرونی یا بیرونی تبدیلی کو آسانی سے قبول نہیں کرتے۔ اس کے علاوہ زبان بھی ناول کا اہم موضوع ہے زبان کو اگبو لوگوں کی زندگیوں میں اہم مقام حاصل ہے۔ اسی لیے ایچی بی بھی اگبو زبان کے بہت سے الفاظ ناول میں استعمال کرتا ہے۔ ایچی بی کے علاوہ کانریڈ یا کوئی اور رائٹر یہ الفاظ استعمال نہیں کر سکتا تھا۔

اس ناول میں مصنف نے سمبولزم کا بھی خوبصورت استعمال کیا ہے۔ ٹڈی دل سفید فام یورپیوں کی آمد کو ظاہر کرتے ہیں جو نائجیریا میں عیسائی مشینری بن کے آتے ہیں لیکن بعد ازاں اپنا قبضہ قائم کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ ٹڈی دل کو دیکھ کر وہاں کے لوگ بہت پرجوش ہوتے ہیں کیونکہ ٹڈیاں ان کے لیے لذیذ کھانا ہیں۔ لیکن ایچی بی یہ بھی بتاتے ہیں کہ ٹڈی دل کس طرح لمحوں میں ہرے بھرے کھیت چٹ کر جاتے ہیں۔ اور درختوں کی شاخوں تک کو توڑ دیتے ہیں۔ ناول میں ٹڈی دل تباہی اور بربادی کو ”سمبولائز“ کرتے ہیں۔

تھنگز فال اپارٹ نائیجیریا کا نمائندہ ناول سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ ہمارے سامنے نائجیریا کی ثقافت، تاریخ، شناخت اور یورپی استعمار کے بدتر اثرات کی ایک مکمل تصویر پیش کرتا ہے۔ اس ناول سے نہ صرف یورپی استعمار کے اثرات بلکہ اس سے پہلے والے افریقی معاشرے کی پیچیدگیاں بھی کھل کر ہمارے سامنے آ جاتی ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments