اردو شاعری میں تازہ رجحانات
لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) کے گرمانی مرکز زبان و ادب میں منعقدہ قومی کانفرنس کی اس نشست کے لیے، وہ موضوع جو میرے لیے طے ہوا ہے اس میں کئی کٹھن مقامات آتے ہیں۔ خود شعری اصناف ہی کو لے لیجیے، کس پر بات ہو کس کو چھوڑ دیں۔ غزل، نظم، قصیدہ، مثنوی، مرثیہ، قطعہ، شہر آشوب، رباعی، گیت، ماہیا، ہائیکو وغیرہ۔ کچھ کا فیصلہ تو وقت نے کر دیا اور انہیں پچھاڑ کر ایک طرف کر دیا۔ اب گاہے گاہے کوئی اس طرف جاتا ہے تو یاد آتا ہے یہ بھی اردو شاعری کا ایک ذائقہ رہا ہے۔ یقیناً ً ایسی اصناف شعری پر اس نشست میں بات کی گنجائش نہیں نکالی جا سکتی۔ کچھ کا فیصلہ وقت نے کیا کچھ کا میں اپنی سہولت کے لیے کر لیتا ہوں ؛ یہی کہ اس نشست میں اپنی گفتگو کو صرف اردو غزل اور اردو کی جدید یا نئی نظم تک محدود رکھوں گا۔
شعری اصناف طے کرنے کے بعد اس موضوع میں دو الفاظ مزید ایسے ہیں جن پر پہلے بات کر لی جانی چاہیے۔ ایک لفظ ہے ”تازہ“ اور دوسرا اس سے متصل لفظ ہے ”رجحانات“ ۔ جب میں اس موضوع پر اپنے خیالات مجتمع کرنے بیٹھا تو یہ دونوں الفاظ مجھے الجھا رہے تھے۔ جب ہم کسی فن پارے میں تازگی کی بات کرتے ہیں تو کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ اس میں سے زمانی تصور منہا ہو جاتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ کلاسیکی روایت سے میر، سودا، انیس ذوق اور غالب لے لیں یا اپنی روایت سے حالی، اکبر اور اقبال، ان کے یہاں زیادہ تازگی محسوس ہوتی ہے اور قریب کے غزل گو شاعروں کے یہاں فن کے باقی تقاضے تو پورے ہوتے نظر آتے ہیں حتیٰ کہ کلاسیکی روایت کو برتنے اور زبان گاڑھا کرنے کے حیلے بھی کیے جاتے ہیں مگر ایک تازگی ہے جو بالعموم قضا ہو جاتی ہے۔
ایسا محض غزل کے باب ہی میں نہیں ہو رہا وہ نظم جسے ہم جدید اور نئی کے سابقے کے ساتھ جانتے ہیں ؛ اس کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے۔ اب اگر ہمیں تازگی اور توانائی رکھنے والی نظموں کی ذیل میں اقبال کی ”مسجد قرطبہ“ اور ”ذوق و شوق“ ، میرا جی کی ”سمندر کا بلاوا“ ، ن م راشد کی ”حسن کوزہ گر“ ، مجید امجد کی ”بس سٹینڈ پر “ یا ضیا جالندھری کی ”بڑا شہر“ اور لگ بھگ بھلا دیے گئے شاعر جیلانی کامران کی ”استانزے“ کو قریب ترین زمانے میں کہی گئی نظموں کے ساتھ رکھ کر دیکھنا پسند کرتے ہیں تو اس کا سبب یہی ہے کہ جو نظم نگار محض فیشن اور اپنے فن کے مظاہرے کے لیے نہیں لکھتے اپنے تخلیقی وفور کے سامنے دو زانو ہو کر ایسا کرتے ہیں ان کے فن پاروں پر بر سہا برس تک تازگی کا دریچہ کھلا رہتا ہے۔
یہیں میں جیلانی کامران کا کہا مقتبس کر رہا ہوں۔ انہوں نے ایک مقام پر یہ کہا تھا کہ شاعر کی ذمہ داری تسخیر کی ہے اور اس عمل میں وہ بے رحمی کو شدید کرب کی صورت جھیلتا ہے۔ بہ قول جیلانی کامران یہ کرب ایک شاعر، روشنی اور زندگی کے لیے جھیلتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک شاعر کے سامنے دو ہی راستے ہوتے ہیں یا تو وہ خود کشی کر لے یا ناخوشگوار صورت حال کو تسخیر کرے۔ موت اس کی ترجیحات میں ہے ہی نہیں لہٰذا وہ تسخیر کی طرف لپکتا ہے۔
یہ تسخیر بیرونی عمل نہیں کہ وہ علاقہ سیاسی اور سماجی کارکنوں کا ہوتا ہے ؛ ایک شاعر کے ہاں یہ عمل داخلی سطح پر ہوتا ہے۔ وہ علاقہ جو جیلانی کامران نے نشان زد کیا تھا، اس کی اغل بغل میں نئی نظم کا تعلق سماج اور اجتماع کے ساتھ بہت لطیف سطحوں پر بنتا ہے۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ نئے نظم نگار نے یہیں سے موضوعات کا تنوع لیا اور اسلوب کی تازگی ایک بھید کی صورت نئی نظم کا حصہ بنالی۔
آپ کہہ سکتے ہیں کہ موضوع کے مطابق تازگی کو نہیں بلکہ تازہ رجحان کو نشان زد کیا جانا تھا جب کہ میں تازگی پر اٹک کر رہ گیا ہوں۔ تو لیجیے صاحب! تازہ رجحان کو بھی ایک نظر دیکھ لیتے ہیں۔ رجحان کے قریبی معنیٰ ذاتی میلان اور فطری رغبت کے ہیں، جب کہ ذرا بعید معنوں میں اس کا اطلاق ایک گروہ کے میلان پر بھی کیا جاتا ہے اور شاید یہیں سے کچھ شاعروں کو رجحان ساز کہا گیا ہو گا۔ فرد کی سطح پر یہ لفظ تخلیقی میلان کہا جا سکتا ہے مگر جب یہ لفظ گروہی سطح پر برتا جاتا ہے تو ایک خرابی کی صورت پیدا ہو جاتی ہے یہی کہ یہ لفظ انفرادی تخلیقی میلان کے کسی نہ کسی سطح پر سمجھوتوں کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔
کہہ لیجیے یہ والا رجحان لگ بھگ ٹرینڈ اور فیشن کے معنی دینے لگتا ہے۔ شاید اپنے پیچھے چلنے والے ایسے ہی گروہ کے لیے ہی ظفر اقبال نے ”ان گھڑ مقلدین“ کی اصطلاح سجھائی تھی۔ یہ ان گھڑ مقلدین ہوں یا گھڑے گھڑائے، ان کے یہاں تازگی اور توانائی ضرور متاثر ہو گی۔ ایک مقلد لکھنے والا چاہے کتنا ہی فن اور زبان کی نزاکتوں پر قدرت رکھتا ہو وہ بے برکت ہی رہتا ہے۔
اس موضوع پر اپنی مشکلات گوش گزار کر چکا ہوں تو ایک دو باتیں قریب ترین زمانے کی بابت۔ جی میں جس زمانے کی بات کرنا چاہتا ہوں اس میں لگ بھگ ساری ادبی تحریکیں اپنا حلقہ اثر کھو چکی تھیں۔ اپنی شاعری کے زور پر مقبول ہونے اور معاشرے میں وسیع پیمانے پر لائق تکریم ہو جانے کا زمانہ ختم ہونے کو تھا۔ ناصر کاظمی، منیر نیازی، رسا چغتائی، محبوب خزاں، احمد مشتاق، عرفان صدیقی، ظفر اقبال، فہمیدہ ریاض، منیر نیازی، ناصر کاظمی، شہزاد احمد، قمر جمیل، احمد مشتاق، جون ایلیا سے لے کر خورشید رضوی، احمد فراز، افتخار عارف، پروین شاکر، اظہار الحق، غلام محمد قاصر، صابر ظفر، جمال احسانی، محمد خالد، خالد احمد، جلیل عالی، ریاض مجید، سلیم کوثر، علی اکبر عباس، غلام حسین ساجد تک غزل گو شاعروں کی خوش بخت قطار نظر آتی ہے ؛ (یہ نام کسی ترتیب میں ہیں نہ فہرست مکمل ہے کہ فہرست سازی مقصود ہی نہیں ہے ) سب کے نام لکھنا چاہوں تو کئی صفحات بھر جائیں ؛ مگر یہ سب یوں خوش قسمت رہے کہ ابھی ادب سماج نے حاشیے پر نہ دھکیلا گیا تھا۔
یہ مقبول ہوئے۔ اور جو کچھ زیادہ مقبول نہ ہوئے ان کی پیچھے رہتے ہوئے بھی شناخت قائم ہو گئی جیسے علی مطہر اشعر اور یوسف حسن۔ مگر پھر یوں ہوا کہ وقت نے پانسہ پلٹا تو ادب حاشیے پر چلا گیا۔ اس پانسہ پلٹ کر بدل چکے زمانے میں ایک طرف اگر سائنسی ترقی اور بہ طور خاص مصنوعی ذہانت تک پہنچنے کے کرشمے ہیں تو دوسری طرف رواں وقت کے چہرے پر سیاست، صارفیت، جنگ، دہشت، قومی اداروں کے بکھراؤ، وسائل کی لوٹ کھسوٹ، عام آدمی کی بے بسی اور غیاب، اور تہذیبی تنزل و انارکی کے انسانیت کے گال پر پڑنے والے تھپیڑوں کی خراشیں ہیں۔
اس صورت میں روایتی شاعری کو معاصر شاعری مان لینا ممکن نہیں ہو گا۔ چاہے دھندلی ہی سہی کچھ لکیریں تو ہوں گی جو اس زمانے میں کی گئی شاعری کو پہلے سے مختلف کر رہی ہوں گی۔ یہ موضوع اگرچہ کتاب بھر کا ہے مگر اپنی بات کو مختصر رکھنے کے لیے غزل اور نظم پر ہی بات کی جا سکتی ہے اور وہ بھی صرف ان لکھنے والوں کے حوالے سے جنہوں نے شعرا کے ہجوم میں اپنی الگ شناخت بنائی اور اپنے عصر کو بھی اپنے تخلیقی تجربے میں شامل کیا ہے۔ جن کے ہاں برہنہ گفتاری نہیں ہے اور وہ ہیئت، اسلوب، موضوع اور اظہار کے قرینوں میں لائق توجہ ہو گئے ہیں۔
ہماری شاعری کی مقبول ترین صنف غزل ہے۔ وقت گزرتا چلا گیا مگر اس کی مقبولیت میں کمی نہ آئی۔ یہ الگ بات کہ اظہار و بیان کی نئی صورتوں کی تاہنگ بھی اس عرصے میں بڑھی جس نے نظم کو مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کیا لیکن اس سب کے باوجود غزل شاعروں کی ترجیح رہی ہے۔ اس سارے عرصے میں اس صنف کے مخصوص تلازمے سے انحراف کی صورتیں سامنے آتی رہیں اور اظہار میں نکھار کی صورتیں نکلتی رہیں جیسے شکیب جلالی اور اقبال ساجد کے ہاں ہوایا کم از کم ایسے دعوے ہوتے رہے۔
یہ تبدیلیاں داخلی سطح پر جہاں جہاں ہوئیں لطف میں اضافہ ہوا۔ تاہم اردو غزل ایک تہذیبی صنف سخن ہے اور اپنی مضبوط روایت رکھنے کی وجہ سے خارجی سطح پر اس نے چھیڑ چھاڑ قبول نہ کی۔ گزشتہ صدی کے اختتام سے بہت پہلے اس صنف کو بدلنے کے بہت سے حلیے ہو چکے تھے ؛ جیسے سلیم احمد کی اینٹی غزل، ظفر اقبال کا غزل میں طنز، تمسخر اور پیراڈاکس لانے کے لیے لسانی توڑ پھوڑ کا عمل، مظہر امام اور علیم صبا نویدی والی آزاد غزل، فرحت قادری کی مثلث غزل، خاطر غزنوی والی مطالعاتی غزل وغیرہ وغیرہ۔ مگر یوں ہے کہ سب تھک ہانپ کر الگ ہو بیٹھے ہیں۔ اردو غزل کے باذوق قارئین کو تو کچھ ایسا پسند آتا ہے کہ غزل کا رچاؤ ہو، بات کا کوئی نیا زاویہ ہو اور کہنے کا اپنا سلیقہ ہو؛ جی کچھ ایسے۔ :
ایک پتھر کہ دست یار میں ہے
پھول بننے کے انتظار میں ہے
۔ قمر جمیل
کل میں نے محب، اس کو عجب طور سے دیکھا
آنکھوں نے تو کم، دل نے بہت غور سے دیکھا
۔ محب عارفی
دیکھتے ہیں، بے نیازانہ گزر سکتے نہیں
کتنے جیتے اس لیے ہوں گے کہ مر سکتے نہیں
محبوب خزاں۔
اس رستے پر پیچھے سے اتنی آوازیں آئیں جمال
ایک جگہ تو گھوم کے رہ گئی ایڑی سیدھے پاؤں کی
۔ جمال احسانی
پیغمبروں سے زمینیں وفا نہیں کرتیں
ہم ایسے کون خدا تھے کہ اپنے گھر رہتے
۔ افتخار عارف
وہ پرندہ جسے پرواز سے فرصت ہی نہ تھی
آج تنہا ہے تو دیوار پہ آ بیٹھا ہے
۔ سلیم کوثر
خیر، نئی صدی کے آغاز سے پہلے نمایاں ہو چکے شاعر عباس تابش اور اجمل سراج سے لے کر ، رؤف امیر، ذوالفقار عادل، طارق نعیم، اختر عثمان، قمر رضا شہزاد، شاہین عباس، شاہد ذکی، رحمان حفیظ، حمیدہ شاہین، ادریس بابر، ضیا الحسن، جاوید احمد، انجم سلیمی، محسن شکیل، بیرم غوری، غافر شہزاد، انعام ندیم، افضل خان اور دوسرے اپنے اپنے رنگ میں غزل کہہ رہے تھے اور کہہ رہے ہیں۔ یہ سارا سفر روایت کے فکری اور حسی ارتقا کی ذیل میں تو رکھا جاسکتا ہے اس سے انحراف کی صورت میں نہیں۔ اگر کہیں اکا دکا انحراف کی مثالیں ہیں اور انہوں نے توجہ بھی پائی تو بہت جلد غزل اپنی روش پر رواں ہوتی رہی ہے۔
رواں صدی کے غزل گو شعرا کی سب سے بڑی آزمائش یہ ہے کہ تین پیڑھیوں کے بزرگ شاعر ابھی تک غزل کہہ رہے ہیں اور خوب کہہ رہے ہیں ؛ جیسے
1۔ ظفر اقبال، سحر انصاری اور ان کے ہم عمر ہم عصر۔
2۔ خورشید رضوی، افتخار عارف اور ان کے ہم عمر ہم عصر۔
3۔ عباس تابش، اجمل سراج اور ان کے ہم عمر ہم عصر۔
انہی برگدوں کے سائے میں اکیسویں صدی کے شعرا نے اپنی قامت نکالنی تھی۔ ان 23 برسوں میں شہزاد اظہر، سجاد بلوچ، عابد سیال، سعید راجہ، اشفاق ناصر، ساجد رحیم، شکیل جاذب، سعید دوشی سے لے کر طالب حسین طالب، محسن چنگیزی، سعید شارق، عنبرین حسیب عنبر، اسحق وردگ، حماد نیازی، ضمیر قیس، احمد جہاں گیر اور زاہد سرفراز جیسے نوجوانوں تک، ایک باصلاحیت نسل سامنے آئی ہے۔ میں نے چند نام گنوا دیے مگر ناموں کا یہ سلسلہ جہاں بھی روکوں گا اس میں کچھ نہ کچھ تو اضافہ ہونے کو رہ جائے گا۔
لگانے کو ناموں کی لمبی قطار موجود مگر ان میں کچھ اپنے کڈھب موضوعات سے چونکا نا چاہتے ہیں کہ مشاعرے میں یہی چلتا ہے۔ کچھ کو رجحان سازی کا ہوکا مار گیا کہ اس صنف میں ایسے حیلے نہیں چلتے۔ تاہم جن کے ہاں لہجے کا ٹھہراؤ ہے اور ان کا ذاتی تخلیقی میلان ایک اعجاز کی صورت شعر میں اترتا ہے ہمارے لیے وہ تازگی اور توانائی کے سبب لائق توجہ ہو جاتے ہیں۔ نوجوان شاعر زاہد سرفراز کی دو مختلف غزلوں کے دو اشعار دیکھیے، بہت سادہ سے ہیں، سہولت سے کہے ہوئے مگر ان میں کانٹینٹ انسانی جبلت سے پیوست اور تہذیبی حوالوں سے جڑ کر بہت جاندار ہے اور تاثیر میں بھی خوب ؛ کچھ ایسا کہ پڑھتے ہوئے دونوں اشعار دل میں اترتے ہیں، وجود کے اندر دیر تک ایک گونج پیدا کرتے رہتے ہیں اور شعور میں بھی ایک لرزاہٹ پیدا ہوتی ہے۔ :
محبت عام سا اک واقعہ تھا
ہمارے ساتھ پیش آنے سے پہلے
۔
کنویں کی سمت بلا لے نہ کوئی خواب مجھے
میں اپنے باپ کا سب سے حسین بیٹا ہوں
آپ ملاحظہ فرما سکتے ہیں کہ ان اشعار میں غزل کی اپنی راسخ روایت سے رشتہ استوار رکھ کر اس حسی تجربے کو راہ دی گئی ہے جو بہ قول جیلانی کامران روشنی اور زندگی کی تسخیر کی راہ میں ایک کرب سے گزرتے ہوئے شاعر کو ہوا۔ ایک اور نئے غزل گو شاعر کو دیکھیے ؛ احمد جہاں گیر۔ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ اس شاعر کی غزل کی زبان کہیں کہیں بدلی ہوئی ہے ایسا زاہد سر فراز کے یہاں نہیں ہوا اور ایسا ہر بار احمد جہاں گیر کے یہاں بھی نہیں ہوتا۔
تاہم ایسا ہے کہ اس شاعر کا ذاتی میلان ہر بار اسے مختلف کر رہا ہے۔ مختلف بھی اور تازہ بھی۔ اس شاعر کا شعری مجموعہ ”شاہ دریا“ نظر سے گزرا تو سچ کہتا ہوں کہ اس کے اب تک اثر میں ہوں۔ احمد جہاں گیر کی ایک نعتیہ غزل کا مطلع جس میں زبان کی دھج اس شاعر کی اپنی ہے اور پھر ایک اور غزل کا شعر جہاں زبان کا ایسا التزام نہیں ہوا مگر پھر بھی احساس کی تاثیر مختلف ہو گئی ہے۔ :
سبز چمکتا در کھل جائے، اور سنگھاسن ظاہر ہو
کوئی سخی آواز پکارے، سندھی شاعر حاضر ہو
۔
زندگانی کو صحرا سے تشبیہ دوں، موت کو باغ سے
جب یہ ویراں سڑک ختم ہو جائے گی، تب وہ گلزار ہے
جدید نظم کا معاملہ کچھ الگ سا ہے۔ جس نظم کی میں بات کر رہا ہوں اس کے اولین صورت گر ن م راشد، میرا جی، مجید امجد تھے۔ آپ چاہیں تو ان ہی میں فیض احمد فیض کو بھی گن لیں کہ زمانہ تو ایک ہی تھا اور حمید نسیم کے مطابق وہ انسانی روابط کے شاعر تھے اور فیض کا کمال یہ بنتا ہے کہ انہیں پڑھنے والے پر دکھ سہتے ہوئے بھی عالم نشاط کا سا نشہ چھایا رہتا ہے۔ فیض اقبال کے بعد مقبول ترین شاعر ہیں۔ فیض بہ قول اصغر ندیم سید پوزیشن لینے والے شاعر تھے ؛ اور ان سے بھی نظم کا ایک سلسلہ چلا مگر واقعہ یہ ہے کہ نئی نظم نے ن م راشد کے اسلوب کی پیروی کی۔
نظم کا موجود اسٹرکچر ٹوٹ چکا تھا اور اسے توڑنے میں اور نیا سانچہ بنانے میں راشد اور میرا جی نے بہت کام کیا تھا۔ جس معنیاتی دنیا سے راشد اور میرا جی کلام کرنا چاہتے تھے اس کے لئے نئی لغت درکار تھی۔ نئے اسلوب کے لئے راہ ہموار کرنا تھی اور نئے فکر و احساس کے اجالے کے لئے منجمد تاریکی کو کاٹنا تھا۔ انہیں جس معاشرتی گھٹن کا احساس شدت سے تھا اور جن اخلاقی قدروں کو وہ جھوٹا سمجھ رہے تھے وہ بڑا حوصلہ مانگتی تھیں اور یہ حوصلہ راشد اور میرا جی میں تھا۔ جس ماضی کی راشد نفی کر رہے تھے، اس ماضی کی نظم سے کٹنا ان پر لازم ہو گیا تھا، صرف نظم سے نہیں ماضی کے سارے شعری وسائل، بہ طور خاص غزل کی روایت سے۔ اپنے تہذیبی ماضی سے بھلا مکمل طور پر کوئی کیسے کٹ سکتا ہے؟ راشد بھی جدا نہ ہو سکے اور یہ ان کی ناکامی نہیں ان کی نظم کی کامیابی بنتی چلی گئی۔
میرا جی کے ہاں راشد کے مقابلے میں فکری لپک کم سہی مگر داخلی سوز و گداز کہیں زیادہ تھا۔ ناقدین نے ان کا سلسلہ میرا جی کی اپنی محرومیوں سے جوڑا ہے اور کسی حد تک یہ بات درست بھی معلوم ہوتی ہے۔ تاہم مجھے کہنے دیجئے کہ میرا جی، راشد کی طرح ماضی سے بگڑے ہوئے نہیں تھے۔ لہٰذا ماضی کی زندہ روایات سے جڑنے کو عیب نہ گردانا۔ وہ تسلیم کرتے تھے کہ تاریخ اور نسلی یادیں مل کر گزرے ہوئے زمانے کو بھی اپنا تجربہ بنا دیا کرتی ہیں۔ اور یہ بھی کہ آدمی کا شعور ماضی، حال اور مستقبل سے مل کر متشکل ہوتا ہے۔
مجید امجد کو ذرا دیر مانا گیا تاہم مان ہی لیا گیا اور درست مانا گیا کہ انہوں نے انسان کی حسی اور لاشعوری زندگی کو نظم میں سمو کر اسے عجب طرح کی ندرت سے ہمکنار کیا تھا۔ مجید امجد کے ہاں وقت زندہ بدن میں دل کی طرح دھڑکتا ہے۔ جہاں مجید امجد کی نظم ہے وہاں سے ماضی بھی جھلک دے جاتا ہے اور مستقبل کا چہرہ بھی درخشاں رہتا ہے کہنہ وقت کی بوڑھی کبڑی دیواروں کے پاؤں چاٹتی گلیاں ہوں یا گزرے دنوں کے ملبے تلے ٹوٹتے فرش اور اکھڑتی اینٹیں، اشکوں سے معمور شامیں ہوں یا پھر چلمنوں سے پرے کا منظر جو نظر نہیں آتا مگر نظر میں رہتا ہے، سب مجید امجد کی نظم کا حصہ ہو گیا ہے۔
بعد میں نظم نگاروں کا ایک سلسلہ ہے جو اوپر کے شاعروں میں سے کسی ایک سے اپنا سلسلہ جوڑتا رہا ہے۔ ساٹھ کے عشرے میں لسانی تشکیلات کا غوغا بلند ہوا۔ نئے لسانی ڈھانچے کو اپنانے کے مشورے دیے گئے تاکہ نئی زندگی کے کامپلیکس مسائل سے اسے ہم آہنگ کیا جا سکے۔ تب افتخار جالب کا کا مجموعہ ”ماخذ“ توجہ کا مرکز بنا رہا۔ جس شدت سے اس رویے کو تحریک بنانے کی کوششیں ہوئیں اتنی ہی تیزی سے لکھنے والوں نے اس سے منہ پھیر لیا کہ کوئی بھی ادق اور غیر مانوس زبان اور اجنبی صوتیات کو اپنے تخلیقی تجربے کے لیے موزوں نہ پاتا تھا۔
نئی نظم پھر سے اپنے معمول کی روش پر رواں ہو گئی۔ ضیا جالندھری، ساقی فاروقی، آفتاب اقبال شمیم، احسان اکبر، یاسمین حمید، ثمینہ راجہ، سرمد صہبائی جیسے نظم نگاروں کے بعد علی محمد فرشی، نصیر احمد ناصر، ابرار احمد، وحید احمد، رفیق سندیلوی، جاوید انور، افتخار بخاری، انوار فطرت، سعید احمد، فہیم شناس کاظمی، روش ندیم، شہزاد نیر، فرخ یار، یامین اور دوسرے شاعروں نے نظم کے باب میں اپنا اپنا حصہ ڈالا۔ مجھے تو ہر ایک کا تخلیقی مزاج الگ الگ سا لگا۔
کوئی بھی کسی ایک رجحان کا اسیر نہ تھا۔ مثلاً دیکھیے ؛ فرشی کی نظم اجتماعی، وجودی اور سیاسی صورت حال کی تظہیر ہے اور وہ بھی ایک دھند کے التزام کے ساتھ۔ نصیر کے یہاں فرد کا اپنا وجود اور اس وجود سے وابستہ شعری دانش اہم ہو جاتی ہے۔ ابرار احمد کے یہاں فرد کے ماضی کا تجربہ ہے۔ نصیر کے ہاں اگر ایک نوع کی نرگسیت کا احساس رہتا ہے تو ابرار احمد کی نظم کی سطر سطر سے رومانویت کی مہک پھوٹتی رہتی ہے۔ وحید احمد کی نظموں میں غنایت، ایک خاص نوع کا آہنگ، تہذیبی اور تاریخی اشارے اور لفظوں سے تصویر بنانے کا عمل کچھ یوں فراواں ملتا ہے کہ نظم کی جمالیات مختلف ہو جاتی ہے۔
رفیق سندیلوی کچھ اور مختلف ہو گئے ہیں۔ وہ استھیٹک آف ایوری تھنگ کے قائل ہیں حتی کہ اس بد صورتی سے بھی خوب صورتی کشید کر لیتے ہیں جسے دیکھ کر عام صورتوں میں ابکائی آتی ہے۔ نظم کے باقی شاعر بھی آپ کو مختلف تخلیقی دھج کے ساتھ نظر آئیں گے۔ ان نظم نگاروں کے بعد آنے والی وہ نسل ہے جو ”تازہ ترین“ ہے ؛ جی۔ وہ نظم نگار جو اس صدی کے گزشتہ بائیس، تئیس برسوں میں سامنے آئے۔ ان میں پروین طاہر، ارشد معراج، عمران اذفر، سلطان ناصر، عنبرین صلاح الدین، نینا عادل، خوشحال ناظر سے لے کر ناہید قمر اور سرمد سروش تک، سب کسی ایک رجحان کے پابند نہیں ہیں۔
دو مثالیں دے کر اجازت چاہوں گا کہ بات طویل ہو رہی ہے۔ پہلی مثال ناہید قمر کی ہے اور یہ ایسی نظم نگار ہیں کہ اپنی بے پناہ تخلیقی توفیقات کو کام میں لا کر فرد کے تہذیبی وجود کو اندر سے ادھیڑ کر اپنا الگ سے رنگ جماتی ہیں۔ میں نے کہیں لکھا تھا کہ کچھ نظم نگار ایسے ہیں جو انسانی وجود کے اندر اتر کر زندگی کا ساز یوں چھیڑتے ہیں کہ نہ صرف زندگی کی نئی معنویت قائم ہوتی ہے زبان کا باسی پن بھی جھڑ جاتا ہے۔ انسانی حیات کے کچھ سوالات کو ناہید قمر نے برت کر کیسے زبان کو تازہ کیا ہے ایک نظم کے ٹکڑے میں ملاحظہ کریں :
”۔ مرگ برشاہ
پرکاہ سے بدتر ہیں ترے جاہ و حشم
شہر پانی پہ کھڑا ہے، سو بہے جاتا ہے
چشم خونناب کا گریہ جو کہیں پر ٹھہرے
دھوپ دیوار پہ، دیوار زمیں پر ٹھہرے
باب احسان کھلے، بیعت رضوان کھلے
چشمہ ء خضر عبث، تخت سلیماں بے سود
کعبہ ء دل کی روایات میں ”تحویل“ بھی ہے
مسلک صبر کی میزان پہ تلنے والو
فتنہ ئیاس فروشاں سے نہ ہارو
کہ ابھی آتش و فیل کے قصے میں
ابابیل بھی ہے ”
۔ (ہوا جانتی ہے )
اب ذرا نئے زمانے کے ایک اور نظم نگار سرمد سروش کا قرینہ ملاحظہ ہو۔ نئی نظم جہاں پہنچ چکی ہے، سرمد کی نظم وہاں اپنا انفراد قائم کرتی ہے۔ سرمد سروش کی نظم ”ہم گؤپال کی لاگ ہیں“ ۔
”حیف صد حیف!
خالہ سکینہ کی بیٹی،
جسے عورتیں کوستی تھیں
کہ تیرہ برس ہی میں بر مانگتی ہے،
وہ تنگ آ کے کل خودکشی کر گئی ہے
گوالوں پہ لعنت خدا کی
فراوانی شیر کی حرص میں
اپنی بھینسوں کو ٹیکے لگا کر
ہمیں ظاہراً کم سنی ہی میں بالغ بنا دیتے ہیں
آنجہانی کو میں پاس سے جانتا تھا
حقیقت میں وہ بالغہ بالعلامات تھی
’بالغہ بالکرامات ہرگز نہیں تھی
گوالوں کے فرعون پر بھی ہو لعنت خدا کی
کوئی جا کے یوسف سے تعبیر پوچھو
کہ اب ان گنت گائیں فرعون کا خواب ہیں
ایسی گائیں کہ جو نہ تو دبلی نہ موٹی ہیں لیکن
بہت تیز رو ہیں،
ہر اک شے کچلتی چلی جا رہی ہیں
زمانے میں دو قسم کے لوگ ہیں
اک گؤپال ہیں،
دوسرے ان گؤپال کی لاگ ہیں
دودھ سے زندگی ہے
اسی دودھ کی صارفیت میں ہم رات دن مستعد ہیں
خدا ان گوالوں کو سمجھے
فراوانی شیر کی حرص میں،
جو ہمارے لیے یہ مہ و سال مہمیز کرتے چلے جا رہے ہیں
ہمیں نوجوانی میں بوڑھا کیے جا رہے ہیں ”
۔ (ہم گؤپال کی لاگ ہیں )
نثر میں شاعری پر بات رہ گئی حالاں کہ یہ بھی اسی نئے زمانے کی دین ہے، خیر پھر کبھی سہی کہ بات طول پکڑ گئی۔ چلتے چلتے بس اتنا کہنا ہے کہ غزل اور نئی نظم کی دو دو مثالوں سے قطعاً ً یہ مراد نہیں ہے کہ نئی نسل کے باقی شاعروں کے ہاں تازگی اور توانائی نہیں ہے۔ بس یہاں یہ عرض کرنا مقصود رہا ہے کہ پہلے بھی یہ خوبی شاعروں کے ہاں انفرادی تخلیقی جو ہر کی عطا تھی اور گزشتہ بائیس تئیس برسوں میں نمایاں ہو کر سامنے آنے والے لائق توجہ غزل گو اور نظم نگار شاعروں کے ہاں بھی اسی راہ سے فن پاروں کا حصہ ہو رہی ہے۔
۔
(یہ تحریر ”پاکستان کے معاصر ادبی رجحانات“ کے موضوع پر لمز کے گرمانی مرکز زبان و ادب کے زیر اہتمام قومی کانفرنس منعقدہ 17۔ 18 نومبر 2023 میں پڑھا گیا۔ اس کانفرنس میں پاکستان کی تمام زبانوں کے مندوبین شریک ہوئے تھے )


