ایک منفرد اور بے مثال لائبریری


علم آگاہی یا واقفیت کی ایک شکل ہے۔ اسے حقائق سے آگاہی یا عملی مہارت کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔ علم کا مطلب اشیاء یا حالات سے واقفیت بھی ہو سکتا ہے۔ حقائق کا علم جسے تجویزی علم بھی کہا جاتا ہے، کے بارے میں اکثر فلسفیوں کے درمیان وسیع اتفاق ہے کہ تجویزی علم حقیقی عقیدے کی ایک شکل ہے۔ علم کئی طریقوں سے پیدا کیا جا سکتا ہے۔ تجرباتی علم کا سب سے اہم ذریعہ ادراک ہے جو حواس کا استعمال ہے۔ بہت سے نظریہ دان خود شناسی کو علم کے ذریعہ کے طور پر بھی شامل کرتے ہیں۔

علم کسی شخص یا کسی چیز سے واقفیت، آگاہی رکھنا یا سمجھنا ہے جیسے حقائق، معلومات، وضاحت یا مہارت۔ علم تجربہ یا تعلیم کے ذریعے ادراک، دریافت یا سیکھنے کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے۔ علم انسانیت کی ترقی کے لیے شعور، شناخت اور معلومات فراہم کرتا ہے۔ علم انسانی ذہنوں میں پیدا ہوتا ہے اور جب لوگ اس کے حصول اور پھیلانے کے لیے کام کرتے ہیں تو اس میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔

علم زیادہ تر کتابوں سے حاصل ہوتا ہے۔ کتاب ایک تحریری یا مطبوعہ کام ہے جس میں صفحات ایک سرورق کے ساتھ مجلد ہوتے ہیں۔ کتابیں علم، تفریح اور تحریک کا ایک حقیقی ذریعہ ہیں۔ وہ ہمیں اپنے اردگرد کی دنیا کے بارے میں جاننے، نئے خیالات دریافت کرنے اور مختلف ثقافتوں اور نقطہ نظر کے بارے میں بصیرت حاصل کرنے میں مدد کرتی ہیں۔ کتابیں پڑھنا ہماری علمی صلاحیتوں، یادداشتوں، ذخیرہ الفاظ اور تجزیاتی صلاحیتوں کو بہتر بناتا ہے۔

علم کے لئے کتابیں بہت اہم ہیں کیونکہ وہ نئی معلومات، تخیل اور تخلیقی صلاحیتوں کو ظاہر کرتی ہیں۔ وہ علم میں اضافہ کا سبب بنتی ہیں ہم ان میں سے مختلف تصورات اور ثقافتوں کو دریافت کرتے ہیں۔ وہ کمیونٹی سے ہمدردی اور ذاتی رابطے میں سہولت فراہم کرتی ہیں۔ کتابیں آپ کی بہترین دوست ہوتی ہیں۔ آپ کے تخیل کو روشن کرتی ہیں۔ آپ کی ذات میں اعتماد پیدا کرتی ہیں اور آپ کو ذہنی اور جذباتی طور پر بڑھنے میں مدد کرتی ہیں۔ کتابیں علم کو محفوظ رکھنے کا ایک بہترین ذریعہ ہیں۔

بہت سی کتابیں جب ایک جگہ اکٹھی ہو جائیں اور انھیں ترتیب وار الماریوں میں محفوظ رکھا جائے تو ایسی جگہ کو لائبریری کہتے ہیں۔ لائبریری کتابوں، مخطوطات، جرائد اور ریکارڈ شدہ معلومات کے دیگر ذرائع کا مجموعہ ہے۔ ان میں عام طور پر حوالہ جات کے کام شامل ہوتے ہیں، جیسے انسائیکلوپیڈیا جو حقائق پر مبنی معلومات اور اشاریہ جات فراہم کرتے ہیں، جو صارفین کو دوسرے ذرائع سے معلومات تلاش کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ تخلیقی کام بشمول شاعری، ناول، مختصر کہانیاں، موسیقی کے اسکورز اور تصاویر، غیر فکشن جیسے سوانح حیات، تاریخ اور دیگر حقائق پر مبنی رپورٹس اور رسالے، علمی جرائد اور سلسلہ وار شائع ہونے والی کتابیں لائبریری میں رکھی جاتی ہیں۔

راقم پچھلے دس سالوں میں مشرق وسطی، یورپ، برطانیہ، چین اور دیگر بہت سے ممالک کی سیاحت کے دوران اکثر لائبریریوں کا متلاشی رہا۔ کتابوں سے دوستی کی وجہ سے لائبریریاں میری دلچسپی کی جگہ تھیں۔ مجھے سینٹ پیٹرزبرگ، فرانس کے علاوہ لندن کی برٹش لائبریری، برمنگھم کی سینٹرل لائبریری دیکھنے کے علاوہ اپنے ملک کے بڑے شہروں کی سرکاری اور نجی لائبریریاں دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے۔ ان لائبریریوں کا انتظام و انصرام بہت اچھی اور ذمہ دار انتظامیہ سنبھالے ہوئے ہیں۔ ان می لائبریریوں میں لاکھوں کی تعداد میں کتابیں موجود ہیں۔

لیکن آج میں آپ کو ایک انتہائی منفرد اور بے مثال لائبریری کے بارے میں بتانے لگا ہوں جس کا کمال یہ ہے کہ یہ ایک انتہائی سادہ سی لائبریری ہے۔ شیشے کے دروازوں والی الماریوں میں ہر طرح کی کتب موجود ہیں لیکن ان الماریوں پر کسی قسم کا کوئی تالہ نہیں لگا ہوا اور نہ ہی کوئی پہرے دار موجود ہے۔ کتابیں پڑھنے کا شوق رکھنے والا کوئی بھی آئے، برامدے میں پڑے ہوئے سادہ سے بینچوں پر آ کر بیٹھے، کتابیں نکال کر پڑھے، واپس رکھے یا نہ رکھے، گھر لے جائے، کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔

بچوں کی کہانیاں، خواتین کے لئے ڈائجسٹ، کچن گارڈن سے لے کر ہر طرح کے پکوان کی ترکیبوں کی کتابیں، افلاطون، ارسطو سے لے کر جدید دانشوروں پر کتابوں کے علاوہ ڈاکٹر اسرار احمد کے بیان القرآن کی تفسیر، معارف الحدیث کا مکمل سیٹ، تحریک آزادی کشمیر سے تحریک پاکستان تک، اردو ادب و تاریخ، سوانح عمریوں، تصوف غرض ہر طرح کی کتابیں اس لائبریری میں موجود ہیں۔

یہ مثالی معاشرہ لائبریری، مثالی معاشرہ بنانے کی طرف گامزن آزاد کشمیرکی تحصیل ڈڈیال کے ایک دور دراز دیہات میں واقع پچوانہ گاؤں کے وسط میں محمد آزاد خان کی کریانہ کی دکان کے برامدے میں قائم کی گئی ہے۔ بڑے سے برآمدے میں الماریاں بنا کر بڑی مہارت اور خوبصورتی سے اسے لائبریری کی شکل دی گئی ہے۔ دکان پر گاؤں کے بزرگ، جوان آ کر بیٹھتے ہیں سودا سلف لیتے ہیں، اپنی پسند کی کتاب بیٹھ کر پڑھتے ہیں یا اٹھا کر گھر لے جاتے ہیں اور پڑھ کر واپس کر جاتے ہیں۔

گاؤں کی پڑھی لکھی خواتین بھی اس سے استفادہ کرتی ہیں۔ کتاب سے رشتہ جوڑنے اور اس کو استوار رکھنے کے نیک اور پختہ ارادے سے یہ لائبریری قائم کی گئی ہے۔ لائبریری کے لئے کتب کا انتخاب، مختلف موضوعات پر کتابوں کا چناؤ، ادب، فلسفہ، تاریخ، مذہب اور سب کی پسند کی کتب کا انتخاب ایک تھکا دینے والا کام ہوتا ہے۔ یہ کام گاؤں کے چند پڑھے لکھے نوجوانوں نے کیا ہے۔ علاقہ کے ایک مخیر صاحب نے گاؤں کے درمیان کریانہ کی ایک دکان کے خالی برامدے میں الماریاں بنوا دیں۔

ابتدائی طور پر کچھ صاحب علم حضرات نے اپنی کتابوں کے ذخیرہ سے کچھ کتب عنایت کیں۔ ان چھوٹی چھوٹی عنایتوں سے بہت سی کتابیں جمع ہو گئیں۔ ابتدائی طور کتابیں الماریوں میں ترتیب وار بڑے سلیقے سے رکھی گئی ہیں۔ کتاب پڑھنے میں دلچسپی رکھنے والا کوئی بھی فرد اپنی پسند کی کتاب اس لائبریری سے پڑھنے کے لیے لے جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں گاؤں کے نوجوان طلبا و طالبات کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے تا کہ ان میں کتابیں پڑھنے کا رجحان پیدا ہو۔ نزدیکی علاقہ کے کالجوں اور سکولوں میں بھی اس لائبریری کے بارے میں معلومات فراہم کی گئیں ہیں تا کہ وہ اس سے مستفید ہو سکیں۔

ضلع میرپور کی تحصیل ڈڈیال کے پچوانہ گاؤں میں مکالمہ اور معافی کی بنیاد پر مثالی معاشرے کے قیام کی طرف قدم اٹھانے اور مثالی لائبریری کے قیام کی خبروں نے دیگر علاقوں کے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ اس پر آشوب دور میں مکالمہ اور معافی کی بنیاد پر ایک مثالی معاشرے کا قیام ایک بڑی مثبت سوچ اور عمل ہے جس کو سب نے سراہا۔ آزاد کشمیر کے انسپکٹر جنرل پولیس نے اس مثالی معاشرے کی طرف قدم اٹھانے، خصوصاً تعلیم کے فروغ کے لیے اتنی اچھی لائبریری کے قیام کو سراہا اور یہاں کا دورہ کر کے پچوانہ کے گاؤں کے لوگوں کی حوصلہ افزائی کی۔

آج کل کے سوشل میڈیا کے دور میں ایک دور دراز کے دیہات میں واقع گاؤں میں مثالی معاشرے کے قیام اور ایک منفرد پبلک لائبریری کے قیام کی خبر منگلا چھاؤنی کے اسٹیشن کمانڈر تک پہنچی۔ انھوں نے اس اقدام کو بہت سراہا اور اپنے ایک پیغام میں کہا کہ ایسے مثالی معاشرے کا قیام عالمی امن کی طرف ایک سفر کا آغاز ہے۔ انھوں نے پچوانہ میں مثالی پبلک لائبریری کے لیے اپنی طرف سے ایک خطیر رقم سے مختلف موضوعات پر کتب خرید کر لائبریری کو تحفہ بھجوایا جو ان کی علم اور کتاب سے دوستی کی ایک قابل ذکر مثال ہے۔

میں نے بھی جب اس مثالی معاشرے کے بارے میں جاننے کے لیے اس گاؤں کا سفر کیا تھا تو گاؤں کے وسط میں اس لائبریری کو دیکھ کر مجھے ایک خوش گوار حیرت ہوئی اور میں نے بڑی توجہ سے اس میں موجود کتب کا جائزہ لیا۔ اتنی اچھی اور معیاری کتابیں دیکھ کر مجھے دلی خوشی ہوئی۔ ایسے دور دراز گاؤں میں ایسی لائبریری کے قیام کا مقصد علم کی روشنی پھیلانا ہے جو ایک خوش آئند قدم ہے۔ علم و ادب کی روشنی سے معاشرے میں ایک مثبت تبدیلی آئے گی جو مثالی معاشرے کے قیام میں بہت معاون ثابت ہوگی۔ اس دور دراز دیہات کے چند باشعور افراد کا اٹھایا ہوا یہ قدم دوسرے علاقوں کے رہنے والوں کے لیے ایک روشن مثال ہے جس کی پیروی کر کے دوسرے علاقوں میں بھی علم کی روشنی کو مزید پھیلایا جا سکتا ہے۔

Facebook Comments HS