تھری چیئرز فار وحید مراد : ہپ ہپ ہرے!


نوٹ : ( 23 نومبر، وحید مراد کی برسی )
مشہور کامیڈین اور میزبان عمر شریف سے وحید مراد کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کے ہم عصر، پاکستان کے سدابہار ہیرو ندیم نے، اور دوسری باتوں کے، انھیں کچھ یوں خراج تحسین پیش کہا :

” اور جس انداز سے وحید گانوں کو پکچرائز کراتے تھے اس میں کوئی مبالغہ آرائی نہیں ہے کہ میں جہاں تک تھوڑا بہت اس کام کو سمجھتا ہوں اور کیا ہے تھوڑا۔ جس انداز سے وحید گانوں کو پکچرائز کراتے تھے میں نے بہت کم لوگوں کو ۔ نہ صرف ادھر بلکہ سرحد کے اس پار بھی کم لوگوں کو دیکھا ہے اس طرح کا گانا پکچرائز کراتے ہوئے“

اداکار ندیم کے اس تبصرے کو آگے بڑھاتے ہوئے، ذہن میں فوری طور پر یہ دو سوال ابھرتے ہیں، اولا ”یہ کہ وحید مراد اس میدان میں منفرد اور بے مثال کیوں ٹھہرے اور دوم یہ کہ آخر وہ کیا خصوصیات ہیں جن کے توسط سے ہماری فلموں کے لئے تخلیق کیے گئے نغمے، بصری اور صوتی اعتبار سے معمولی کے خانے سے نکل کر غیر معمولی کے پائدان پر پہنچ جاتے ہیں۔

منطقی دلیل تو یہی ہے کہ یہ خاص انفرادی حیثیت اختیار کر لینے کی مخلتف وجوہات اور تخلیقی اوصاف ہوتی ہوں گی جو نغمات کو ، اس مقام تک لے جانے میں غیر محسوس یا نمایاں طور پر معاون ثابت ہوتی ہیں۔ اس ضمن میں ایسی بہت سی مثالیں تلاش کر کے پیش کی جا سکتی ہیں مگر سر دست، موضوع گفتگو وحید مراد کی شخصیت ہے اس لئے، ماضی کی مشہور اردو فلم دیور بھابھی کا ایک نغمہ جسے مقبولیت اور پسندیدگی کا یہی غیر معمولی درجہ حاصل ہوا اور جس میں اداکار ندیم کے پسندیدہ ہیرو، وحید مراد سکرین پر چھائے رہے، ہمارے زیر بحث ہے۔

تصور کیجیئے، بہت ساری فلموں کے لئے بہت سارے خوبصورت نغمات لکھنے والے فیاض ہاشمی مستقبل کی اس خوبصورت تخلیق کے لئے الفاظ اور خیال کے چناؤ میں محو ہیں۔ وہ فیاض ہاشمی جن کی شاعری، اس سے بہت پہلے بھی، فلم بینوں کے دلوں میں کئی بار گھر بنا چکی ہے۔ ہند و پاک فلم انڈسٹری کا طویل تجربہ جن کے ہمراہ ہے۔

اس وقت ان کا قلم اور ذہن یکسوئی کے ساتھ ایک اور نئی تخلیق کے لئے آئیڈیاز کا متلاشی ہے۔ ڈائریکٹر کی طرف سے بتائی گئی سچیویشن بہ ظاہر کسی قدر غیر رومانٹک اور پھیکی سی ہے کیوں کہ گلیمر کی نمائندگی کرنے والی روایتی ہیروئن اس منظر میں یکسر شامل نہیں جو عام طور پر سکرین پر جاذبیت کا سبب تصور کی جاتی ہے۔ ایسے ( اور اس سے ملتے جلتے ) چیلنج، اکثر و بیشتر تخلیق کاروں کے مقابل ہوتے ہیں اور تخلیق کار کا کمال ہی یہ ہے کہ وہ خود کو ہر سچویشن سے ہم آہنگ کرتا چلا جائے تاکہ ایک بہتر اور مقبول تخلیق کا امکان پیدا ہو سکے۔

فیاض ہاشمی کی نتیجہ خیز تخلیقی اڑان کا پڑاؤ اب ماسٹر عنایت حسین کی غیر معمولی ہنر مندانہ صلاحیت کے حوالے ہو چکا ہے۔ حقیقتاً یہی وہ اہم ترین مرحلہ ہے، جہاں نغمے کی نغمگی طے پاتی ہے۔ بے جان لفظ متحرک ہوتے ہیں اور الفاظ کے پیچھے موجود جذبات ( اور محسوسات ) کو زندگی میسر آتی ہے۔ یہاں یہ کہنا ہرگز نامناسب نہ ہو گا کہ ماسٹر عنایت حسین کی دلکش دھنوں ہر، فلم اور موسیقی سے دلچسپی رکھنے والا، کون ہے، جو سر نہ دھنتا ہو۔ ان کا تخیل، اس وقت بھی الفاظ اور سچیویشن کی موزونیت کے تعاقب میں سرگرم عمل ہے۔

فیاض ہاشمی کی تخلیق کردہ چھوٹی بحر، انھیں بھی تیز رفتاری کے لئے اکسا رہی ہے تاکہ لفظوں کا موڈ پوری معنویت کے ساتھ بر قرار رہے۔ دراصل یہی وہ مقام ہے جہاں ترمیم و اضافے اور تراش خراش کی گنجائش، ایک تخلیق کو بہتر سے بہتر کی طرف نکھارنے کا حتمی موقع فراہم کرتی ہے۔

شاعر اور موسیقار کی مشترکہ تخلیقی کاوش جسے احمد رشدی کی دل موہ لینے والی آواز نے نغمے کا روپ دے دیا ہے، اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ اب مرحلہ، آواز کے تصویر میں ڈھلنے کا ہے اور یہی وہ موڑ ہے جس کے بارے میں سدا بہار ہیرو ندیم نے اپنے تجربے اور مشاہدے کے پیش نظر اپنے ساتھی فنکار سے نہایت فراخدلانہ عقیدت کا اظہار کیا ( اور جس سے ان کی اپنی مثبت شخصیت کا بھی اندازہ لگانا آسان ہو جاتا ہے ) ۔

احمد رشدی کی گائیکی کی یہ خوبی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ ایک پلے بیک سنگر کے طور پر وہ مختلف تاثرات کو اجاگر کرنے میں مہارت رکھتے تھے اور اس تخلیق میں بھی ان کی یہ صلاحیت نمایاں نظر آتی ہے۔ یہ بات بھی اب کسی وضاحت کی محتاج نہیں کہ وحید مراد کے ساتھ ان کا ملاپ، سونے پہ سہاگہ کی صورت ہوتا تھا اور ان دونوں کے گانے دیکھتے ہوئے یہ فرق مٹ جاتا تھا کہ اس پرفارمنس میں دو مختلف شخصیات شامل ہیں۔ دیور بھابھی کے اس نغمے میں بھی یہ سنگم ہمیشہ کی طرح اتنا ہی دل فریب دکھائی دیتا ہے۔

اس نغمے کے بارے میں یہ کہنا مبالغہ نہ ہو گا کہ ( تقریباً ) تین منٹ چھبیس سیکنڈ کے اس نغمے کو تین دفعہ دیکھیں یا چھبیس دفعہ، اس کی دلکشی، خوبصورتی اور رعنائی میں یکسر کمی محسوس نہیں ہوتی۔ جہاں احمد رشدی نے اس کی ادائیگی میں اپنا سکہ جمایا وہاں وحید مراد نے فیاض ہاشمی کی شاعری، ماسٹر عنایت حسین کی کمپوزیشن، احمد رشدی کی گائیکی اور فلم کے ڈائریکٹر حسن طارق کی ہدایات کا سکرین پر حق ادا کر دیا۔ ان کے گانوں کی فلم بندی کا وہ منفرد اسلوب جس کا آغاز 1964 میں ریلیز ہونے والی فلم ہیرا پتھر سے ہوا اور دیگر ریلیز شدہ فلموں سے ہوتا ہوا 1967 کی فلموں ارمان، دوراہا، رشتہ ہے پیار کا ، ماں باپ، انسانیت اور پھر صبح ہوگی کے بعد ، بے مثال اور باکمال قرار پایا، اور دیور بھابھی سے اس درجہ پر جا پہنچا، جس کے بارے میں پھر فلمی ناقدین میں کبھی دو رائے نہیں رہی۔

جس طرح ارمان کے لئے سہیل رعنا کی دلکش ترین، ایور گرین دھن کوکو کورینا اور اس پر وحید مراد کی لاجواب پرفارمینس اور خوب صورت سٹائل نے فلم بینوں کے ذہنوں پر گہرے نقوش چھوڑے اور اس نغمے کو تاریخی حیثیت حاصل ہوئی، اسی طرح وحید مراد پر فلمائے گئے دیور بھابھی کے تمام ہی نغمے بے پناہ مقبولیت سے ہمکنار ہوئے مگر تھری چیئرز فار بھابھی ہپ ہپ ہرے، کو بجا طور پر پاکستانی فلم انڈسٹری کا سب سے تیز رفتار سولو نغمہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ نغمے کے ابتدائی حروف ہپ ہپ ہرے سے لے کر اس کے اختتام تک، یہ، دلکشی، جاذبیت اور دلچسپی کا وہ سامان ہے کہ سکرین سے نظریں ہٹانا بد ذوقی محسوس ہوتا ہے۔

تین بند پر مبنی اس مختصر سے گیت میں ان گنت خوب صورت مظاہر آنکھوں کے سامنے گزرتے چلے جاتے ہیں۔ اتنے محدود وقت میں، اس قدر تنوع سے کام لینا، یہ وحید مراد جیسے ہر فن مولا فنکار کے ہی بس میں تھا۔ ایکشن، ایکسپریشن اور بھابھی اور بٹیا کے ساتھ ہم آہنگی، یہ اس دلاویز نغمے کے وہ پہلو ہیں جنہوں نے اس بلیک اینڈ وائٹ پیش کش کو واقعتاً رنگارنگ بنا دیا ہے۔ وہ رنگ جو اتنے برس بیتنے کے بعد بھی پھیکے نہیں پڑے۔

Facebook Comments HS