کیا نواز شریف پاکستان کی معیشت بحال کر سکتے ہیں؟

سوال:۔ پچھلے دنوں پاکستان کے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف تقریباً چار سال کے بعد وطن واپس تشریف لا چکے ہیں اور ابھی ان کا نعرہ اور ان کی پارٹی کا جو دعویٰ ہے کہ وہ حکومت میں آ کر سب کچھ ٹھیک کر دیں گے۔ پاکستان کا اس وقت معاشی بدحالی، مہنگائی اور دیگر ملکی بحرانوں سے سامنا ہے اور وہ ان تمام سے ملک کو نکال لیں گے۔ ان کا یہ دعویٰ کس حد تک درست ہے اور اس کو اعداد و شمار اور سائنسی بنیادوں پر پرکھنے کی ضرورت ہے کہ وہ کس حد تک وہ ملک کو ان بحرانوں سے نکال سکتے ہیں۔
جواب:۔ شکریہ اس دلچسپ سوال کا جواب دینے سے پہلے میں میاں نواز شریف کی ماضی کے حکومتوں کا حوالہ دوں گا کہ ماضی میں ان کے مقاصد، حصول کا طریقہ کار اور نتائج کیا تھے پھر ان کی روشنی میں یہ طے کیا جا سکے گا کہ وہ کس حد تک حالیہ ملکی بحرانوں کو حل کر پائیں گے۔
وزیر اعظم کے طور پر میاں صاحب کا پہلا تقریباً اڑھائی سالہ دور حکومت جو 1991 ءسے 1993 ءتک کا ہے اس دوران انہوں نے جو چیدہ چیدہ کام کیے ان میں انہوں نے پہلی دفعہ پاکستانی معیشت کو Liberalize کیا یعنی آزاد معیشت کی پالیسی اپنائی اور Protection of Economic Reforms Act 1992 لایا گیا۔ اس وقت پاکستان کی معیشت کا حجم خاصا کم تھا اور درآمدات و برآمدات پر خاصی پابندیاں تھیں اور غیرملکی کرنسی میں لین دین کرنا یا اس کو ملک میں لانا یا دوسرے ممالک میں لے کر جانا نہایت مشکل تھا۔ پہلے قدم کے طور پر اسے پاکستانی معیشت کو پوری دنیا کے لیے کھولنے کی ایک کوشش کہا جا سکتا ہے اور اس کے لیے Protection of Economic Reforms Act 1992 کو بنیادی حیثیت حاصل ہوئی۔ اس ایکٹ کی ایک خاص بات یہ تھی کہ غیرملکی کرنسی اکاؤنٹس اور اس کی درآمد اور ذرائع کے متعلق کچھ نہیں پوچھا جائے گا۔ یہ قانون اچھا تھا یا برا یہ ایک علیحدہ سے بحث ہے لیکن یہ اس دور کو ایک اہم پیش رفت تھی۔ اس کے بعد میاں صاحب نے نج کاری کی پالیسی پر کامیابی سے عمل کیا۔ اسی پالیسی کے تحت مسلم کمرشل بینک کو پرائیویٹ کیا گیا۔ نتیجہ کے طور پر سرکاری تحویل میں چلنے والا بینک جو سرکاری خزانے پر بوجھ بن رہا تھا پرائیویٹ ہاتھوں میں جانے کے بعد اس میں لاکھوں نوکریاں پیدا ہوئیں اور ٹیکس کی مد میں ملکی معیشت میں اہم حصہ ڈال رہا ہے۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ میاں صاحب نے نج کاری کی کامیاب پالیسی متعارف کروائی۔
اسی دوران میاں صاحب نے بڑے منصوبوں (Mega Projects) کی بنیاد رکھی۔ ان میں موٹر وے ایک اہم منصوبہ تھا جس پر خاصی تنقید اور لے دے بھی ہوئی جس پر ایک علیحدہ سے بحث کی جا سکتی ہے۔ غازی بروتھا منصوبے کا اجرا کیا گیا، چشمہ نیوکلیئر انرجی کوٹ ادو اور پھر ایک دوسرا منصوبہ چین کے ساتھ مل کر بھی شروع کیا گیا۔ آخر میں پیلی ٹیکسی سکیم کا منصوبہ شروع کیا گیا جس پر خاصی تنقید بھی ہوئی۔ اس منصوبے پر 1500 ملین روپے یا 500 ملین ڈالر خرچ ہوئے اور سکیم کا مقصد یہ تھا کہ بے روزگار پڑھے لکھے نوجوان اور دوسرے افراد باعزت روزگار کما سکیں۔ اس سکیم کے سبب پاکستان کے فارن کرنسی کے ذخائر میں 500 ملین ڈالر کی کمی واقع ہوئی جو کہ اس وقت اس سکیم پر ایک بڑی تنقید تھی۔ ان سکیموں اور منصوبوں کی بدولت میاں صاحب کو بہت زیادہ عوامی پذیرائی اور مقبولیت حاصل ہوئی۔
میاں صاحب کا دوسرا دور حکومت جو 1997 ءسے 1999 ءتک کا تھا۔ اس میں انہوں نے بدنام زمانہ آئینی شق 58 / 2 Bکو ختم کیا جس کے تحت ماضی میں صدور مملکت منتخب حکومتوں کو ختم کیا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ سابقہ دور کی نج کاری کی پالیسی کو جاری رکھتے ہوئے حبیب بینک اور یونائٹیڈ بینک کی کامیاب نج کاری کی۔ یہ ادارے آج پاکستان کے روز افزوں ترقی کرتے ہوئے کامیاب ادارے ہیں اور حکومت کو سالانہ اربوں روپے کا ٹیکس دیتے ہیں۔ اسی دور میں موٹروے کا افتتاح ہوا اور اس کا باقاعدہ استعمال بھی شروع ہوا۔ سندھ میں جرائم کی بیخ کنی کے لیے ملٹری کورٹس بنائے گئے۔ میاں صاحب کے اس دور کی سب سے بڑی کامیابی انڈین وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کا دورہ پاکستان تھا جس میں اعلان لاہور پر دستخط ہوئے جس سے دونوں ملکوں کے مابین امن کے لیے اقدامات کا آغاز ہوا۔ 1998 ءمیں کامیاب ایٹمی دھماکوں کے بعد ملک ایٹمی طاقت بن گیا۔ معاشی پابندیوں کے نتیجے میں فارن کرنسی اکاؤنٹس کو منجمد کیا گیا۔ کارگل کی جنگ اس دور کا آخری واقعہ ہے۔
میاں صاحب کے تیسرے دور 2013 ءتا 2017 ءمیں اسلام آباد کا نیا ائر پورٹ، سولر پاور پلانٹ، اسلام آباد میٹرو بس سروس، داسو ڈیم، دیامیر بھاشا ڈیم کا سنگ بنیاد، بجلی کی لوڈشیڈنگ کو ختم کرنے کے لیے پاور پلانٹ لگائے اور سب سے بڑی بات یہ کہ سی پیک منصوبے پر کام کیا۔
سوال:۔ ادائیگیوں کا توازن کا بحران، شرح ترقی، افراط زر یا قیمتوں میں اضافوں جیسے بڑے بحرانوں سے میاں نواز شریف اور ان کی ٹیم کس طرح نبرد آزما ہو سکتی ہے۔
جواب:۔ اس دفعہ میاں صاحب کا بیانیہ یا موقف ترجیحات کی بنا پر نہیں بنایا گیا بلکہ اسے یک نکاتی ایجنڈا کہا جا سکتا ہے یعنی ”وہ معیشت بچانے آرہے ہیں“ ۔ اس ضمن میں میاں صاحب کی کیا پلاننگ ہے وہ ہمیں معلوم نہیں ہم تو صرف اندازہ ہی لگا سکتے ہیں۔ اس وقت تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے کہ اس اگر کوئی بھی فرد پاکستان کے معاملات کو ٹھیک کرنے کی کوشش کرے تو اسے سب سے پہلے ”معیشت میں ٹھہراؤ، سنبھلنے، دم یا سانس لینے کی گنجائش“ پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے کیونکہ اس وقت پانی ملکی معیشت کے سر کے اوپر سے گزر چکا ہے۔ ملک کو اس وقت 18 سے 20 بلین ڈالر کی فوری ضرورت ہے تا کہ ڈیڑھ یا پونے دو سال کا عرصہ مل جائے اور اس عرصہ میں بحالی معیشت کا پلان نافذ کیا جا سکے۔ اگر یہ رقم نہ ملے تو کوئی بھی کچھ نہیں کر سکتا۔ اب یہ میاں صاحب پر منحصر ہے کہ وہ کس حد تک سانس لینے کی گنجائش پیدا کر پاتے ہیں۔ کیا سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر، چین اور دیگر میاں صاحب یا پاکستان کو رقم یا کسی اور طریقے سے مدد کر پائیں گے۔ میاں صاحب ایک تجربہ کار سیاستدان ہیں اور ماضی میں بھی ان کے ان ممالک سے اچھے تعلقات رہے ہیں۔ قرین قیاس تو یہی لگتا ہے کہ انہوں نے اس کا انتظام کیا ہوا ہے۔ چونکہ چین پاکستان کے ساتھ سی پیک جیسا بڑا پراجیکٹ کر رہا ہے اس لیے ہو سکتا ہے کہ چین بھی خوشی سے مدد کردے۔ میاں صاحب کے یورپ اور امریکہ سے بھی بہتر تعلقات ہیں اس لیے آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی اداروں سے بھی تعاون کی توقع رکھی جا سکتی ہے۔ اگر پاکستان میں الیکشن ہوتے ہیں اور میاں صاحب وزیراعظم بنتے ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ ان کا پہلا قدم ڈوبتی معیشت میں ٹھہراؤ لانے یا سانس لینے کی گنجائش پیدا کرنے کا ہونا چاہیے اور وہ اس میں کامیابی کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں۔
اگلی یا دوسری بات یہ ہے کہ میاں صاحب نے معیشت چلانی ہے اور پیسے آنے کے بعد وہ ماضی والی 75 سالہ پریکٹس نہیں کر سکتے کیونکہ اب اس کی گنجائش نہیں ہے۔ اب ملکی معیشت کو ٹھیک کرنے کے لیے ایک بڑی سرجری کی ضرورت ہے اس کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں۔ اب سرجری کرنے سے پہلے ایک اور مرحلہ ہے جسے میاں صاحب نے طے کرنا ہے اور وہ ہے کہ سی پیک کے تحت چین کی بنیادی صنعت یا ایسی صنعت جس میں لیبر یا محنت کی زیادہ ضرورت ہے جو اب چین کو مہنگی بھی پڑنی شروع ہو گئی ہے کو پاکستان میں شفٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ چونکہ مغرب نے چین کی مصنوعات پر ٹیکس عائد کر دیے ہیں جس سے چینی برآمدات مہنگی ہو گئی ہیں۔ اس میں چین کو بھی فائدہ ہے کہ وہ چیزیں کسی دوسرے ملک میں بنائے اور وہاں سے برآمد کرے اور اس طرح چین اپنا خام مال بھی بیچ سکتا ہے۔ اس سے پاکستان کی برآمدات میں بھی اضافہ ہو جائے گا جس سے پاکستان کے فارن ایکسچینج کے ذخائر میں اور روزگار کے مواقعوں میں بھی اضافہ ہو گا۔ ہماری نظر میں سی پیک میاں صاحب کے لیے ایک سنہری موقع ہو سکتا ہے۔ اس بعد پھر معاشی سرجری کی ضرورت ہو گی۔ سرجری سے مراد یہ کہ جو ماضی میں جس طرح ملک چلتا رہا ہے اب اس طرح سے نہیں چل سکے گا۔
سوال:۔ حکومت میں چونکہ بیشمار لوگ ہوتے ہیں جن کے اپنے اپنے معاشی مفادات اور ایجنڈے ہوتے ہیں اور وہ حکومتی پالیسیوں پر اثر انداز بھی ہوتے ہیں۔ کیا میاں ایسے لوگوں کی موجودگی میں معیشت کی سرجری کر پائیں گے اور کیا میاں صاحب کے پاس اس طرح کی ٹیم موجود ہے جو معاشی سرجری یا اصلاحات کی صلاحیتیں رکھتی ہو۔
جواب:۔ اس ضمن میں اول بات یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت بنتی ہے تو وہ اور بات ہے اور اگر مسلم لیگ (ن) اتحادیوں کے ساتھ حکومت بناتی ہے تو وہ اور بات ہے۔ اتحادیوں کے ساتھ حکومت کی صورت میں ہر کسی کا اپنا اپنا مفاد ہو گا اور کھینچا تانی کی صورتحال تو رہے گی۔ اس صورت حال میں سرجری والی بات بہت مشکل ہے۔ جہاں تک بات میاں نواز شریف صاحب کی ہے تو ہم اپنے ذاتی تجربہ کی بنا پر کہہ سکتے ہیں کہ وہ پاکستان کی سیاست یا معیشت کو بہت گہرائی سے سمجھتے ہیں اور وہ معاشی اصلاحات کا ذہن یا سوچ بھی رکھتے ہیں۔ وہ آج سے پچیس سال پہلے سے بھی معاشی اصلاحات کا ارادہ رکھتے ہیں اور وہ اس کا مکمل ادراک بھی رکھتے ہیں۔
اب ہم آتے ہیں زمینی حقائق اور ٹیم کی طرف تو عرض ہے اس ضمن میں دو باتیں ہیں۔ میاں شہباز شریف کے کام کرنے کا انداز بالکل مختلف ہے۔ وہ بہت محنتی ہیں اور کام کو پایہ تکمیل تک پہنچا کر ہی دم لیتے ہیں۔ طریقہ کار کے طور پر وہ نوکر شاہی کو ساتھ ملاتے ہیں، بہتر افسروں کا انتخاب کرتے ہیں اور ان کی تربیت کرتے ہیں اور اسی نظام کے اندر رہتے ہوئے کام کو سرانجام دیتے ہیں۔ اس طریقہ کار کے اپنے فائدے اور نقصانات ہیں۔ اس نظام کی خامی یہ ہے کہ یہ جیمز واٹ کے زمانے کے بھاپ انجن کی طرح ہے جسے دھکا لگائیں بھی تو نہیں چلے گا اور اگر کسی صورت وہ چل بھی جائے تو پرانی ٹیکنالوجی ہونے باعث وہ کام نہیں کر سکے گا۔
میاں نواز شریف معاشی اصلاحات کا مکمل ذہن تو رکھتے ہیں لیکن ان گرد جو ٹیم ہے انہیں اصلاحات سے کوئی سروکار نہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ میاں صاحب ان اصلاحات کو کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ اکیلے یہ کام نہیں کر سکتے۔ ہمارے علم کے مطابق اس ٹیم میں کوئی ایک بھی ایسا فرد نہیں جو سرجری یا اصلاحات کے حق میں ہو اور وہ نظام حکومت کو پرانے نظام کے تحت ہی چلانے کی کوشش کریں گے۔ جبکہ ہماری سوچ ہے کہ اس نظام کو بنا کسی بڑی سرجری کے ٹھیک کیا ہی نہیں جاسکتا۔
ہماری ساری بات کا لب لباب یہ ہے کہ جب تک آپ سول سروس اصلاحات نہیں کرتے، بڑھتی ہوئی آبادی پر کنٹرول، فیڈرل بیورو آف ریونیو کے 23 ہزار ملازمین کو موجودہ ٹیکس دہندگان سے علیحدہ کر کے ایک نئی ایجنسی کے قیام اور ایف بی آر کے موجودہ ملازمین کو نئے ٹیکس دہندگان کی تلاش پر مامور کر کے ان کی کارگزاری کا انحصار نئے ٹیکس دہندگان کی تعداد اور ان سے حاصل شدہ ٹیکس کی رقوم پر نہیں کرتے اور زراعت پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ہم اس وقت 22 ملین ایکڑ پر گندم کی کاشت کرتے ہیں اور اگر کسانوں کو جدید بیج فراہم کر دیا جائے تو یہی فصل 18 ملین ایکڑ پر کاشت ہو گی اور پیداوار اتنی وافر ہو گی کہ افغانستان کی ضروریات کو بھی پورا کرسکے گی۔ چار ملین ایکڑ بچ جانے والی اراضی پر دالیں اور سورج مکھی کی کاشت سے 6 بلین ڈالر ان کی درآمدات کی مد میں بچائے جا سکیں گے۔ اس طرح کی اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔ خلاصہ کے طور پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ میاں صاحب سانس یا دم لینے والے مرحلے، سی پیک اور چینی صنعت کی درآمد کے معاملات کے مرحلوں کو کامیابی سے طے کر لیں گے اور جہاں تک معاشی اصلاحات کو سوال ہے تو ان کے لیے میاں صاحب کے پاس کوئی ٹیم نہیں ہے۔
سوال:۔ الیکشن پر سپریم کورٹ کے ایکشن سے لگ رہا ہے کہ الیکشن تو ہو ہی جائیں گے۔ معاشی اصلاحات کے لیے سیاسی استحکام کی ضرورت تو ہو گی۔ اس استحکام کا حاصل کرنے میں میاں صاحب کا کیا کردار ہو سکتا ہے اور ہمیں اس کے لیے کیا کرنا چاہیے۔
جواب:۔ اگر ہم اس وقت میاں صاحب کو مشورہ دیں تو وہ کچھ اس طرح سے ہو گا کہ وہ باہر آ کے اعلان کریں کہ ایک بڑی پارٹی کے لیڈر جو اس وقت پابند سلاسل ہیں ان کو رہا کریں کیونکہ میں ان سے سیاسی مقابلہ کرنے آیا ہوں اور وہ ان سے کھل کر مقابلہ کریں۔ میاں صاحب بھی ایک بڑے لیڈر ہیں۔ سیاست کی وجہ سے ہمارا معاشرہ تقسیم در تقسیم کا شکار ہو چکا ہے اور اس بڑھتی ہوئی نفرت کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔ میاں صاحب جہاں معیشت کو ٹھیک کرنے کا نعرہ لگا رہے ہیں وہاں میاں صاحب کو ایک مدبر لیڈر بننے کی ضرورت ہے اس طرح وہ نفرتیں کم کرنے کا سبب بن سکتے ہیں اور اس کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ وہ عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کریں۔ اس کے بعد صاف اور شفاف انتخابات ہوں اور کوئی بھی الیکشن میں جیت جائے۔ اگر اس طرح نہیں ہوتا تو الیکشن متنازع ہو جائیں گے۔ سیاسی استحکام کے بغیر اگر معاشی ٹھہراؤ اور سی پیک بھی شاید آ جائے مگر معاشی اصلاحات سیاسی استحکام کے بغیر نہیں ہو سکتیں۔
(نیا دور ٹی وی پر ہارون خواجہ کے رضا رومی کے ساتھ مکالمے کا اردو ترجمہ)

