جنگ کی ڈائری (پہلا حصہ)


آزادی کی قیمت

آزادی پر کٹ مرنے کو
موت اگر تم کہتے ہو
مر جانا ہی اچھا ہے
اس جینے سے جس میں ہر دن
سسک سسک کر زندہ رہنا
قدم قدم پر نام بتانا
آتے جاتے ہر ناکے پر
گھڑی گھڑی پہچان کرانا
اس ذلت سے جینے سے تو
بہتر ہے لڑ کر مر جانا
تم نے ہم کو قید کیا ہے
یہ وہ قید ہے
جس میں پیدا ہونے والے بچوں کو
یہ بھی تو معلوم نہیں
باہر کی دنیا کیسی ہے
آزادی کس کو کہتے ہیں
بلا اجازت سانس بھی لینا جرم جہاں پر
بندوقوں کے نرغے میں
پل کے جواں ہونے والوں کو
موت سے کب ڈر لگتا ہے
آتے جاتے روک روک کر
روز ہمارا ننگا جھاڑا لینے والو
ہم نہ رہیں پر جاتے جاتے
تم کو ننگا کر جائیں گے

                                (11 اکتوبر 2023)

٭٭٭         ٭٭٭

انخلا

اک طرف سمندر ہے
اک طرف سپاہی ہیں
بیچ میں نہتے لوگ
یہ کوئی لڑائی ہے
وارننگ آئی ہے!
دس منٹ کا وقفہ ہے
دس منٹ کے وقفے میں
گھر سے تم نکل جاؤ
اس کے بعد کر دیں گے
گھر تمہارے ہم مسمار
کاش سوچ سکتے وہ
اس قلیل وقفے میں
کس طرح یہ ممکن ہے
باپ میرا بوڑھا ہے
تیز چل نہیں سکتا
ماں مری بہت بیمار
اور میری زوجہ کو
درد زہ کے ہیں آثار
سامنے سمندر ہے
اور پشت پر دیوار
بیچ میں نہتے ہم
جائیں تو کدھر جائیں
دس منٹ کا وقفہ بھی
ختم ہونے والا ہے

                          (12 اکتوبر 2023)

٭٭٭         ٭٭٭

لٹل فلسطین کے لٹل وادیا کے نام

(چھے سالہ وادیا الفیومے شکاگو کے قصبے لٹل فلسطین میں پیدا ہوا۔ وہ 11 اکتوبر 2023 کو وہیں قتل کیا گیا۔)

وادیا!
تم کو اسکول جانا تھا اور ہسپتال آ گئے
اور پھر سرد خانے میں جا سوئے تم
اے مرے چھے برس کے حسیں لاڈ لے
یہ جگہ تو نہیں تھی تمہارے لئے
میرے ننھے فرشتے یہ میں نے سنا
آخری لفظ تم نے کیے تھے ادا
ماما میں ٹھیک ہوں
زندگی روپڑی
موت ڈر سی گئی
مرحبا میرے ننھے بہادر مرے وادیا مرحبا
شکر کرتا ہوں میں
تم کو کاندھا ملا اور جنازہ تمہارا پڑھایا گیا
اور ہے انصاف کی بھی توقع مجھے
کیوں کہ تم ایک آزاد دنیا میں پیدا ہوئے
اور آزاد دنیا میں مارے گئے
ایسی آزاد و پر امن دنیا جہاں
ایک ننھا فلسطین آباد ہے
جو تمہاری جنم بھومی تھی میرے ننھے شہید
جس جگہ خوں تمہارا گرا
کتنے گل دستے رکھے ہوئے ہیں وہاں
رنگ، نسل اور مذہب کی تفریق سے بالا تر
لوگ آتے ہیں اور پھول رکھ جاتے ہیں
اور میں سوچتا ہوں کھڑا اس جگہ
ایک بستی یہ ننھا فلسطین ہے
جو تمہاری جنم بھومی تھی
اک فلسطین وہ
جو کہ میری جنم بھومی ہے
جس کے بچوں کا کوئی نہیں پوچھنے والا بھی
وہ جو تشنہ دہن رہ گئے
وہ کہ جن کے سروں پر چھتیں گر پڑیں
وہ جو بے گور اور بے کفن رہ گئے
وہ بھی تم جیسے معصوم تھے وادیا
ان کی آنکھوں میں بھی خواب تھے جو سزا بن گئے
پھول سے جسم وہ بھی تو تھے
چیل کووں کی جو کہ غذا بن گئے
میں تمہیں رووں اے وادیا
یا کہ ماتم کروں دور افتادہ اپنے فلسطین کا
                                                (14 اکتوبر 2023)

٭٭٭        ٭٭٭

یوگا میٹ

ہٹا دو مرے سامنے سے یہ اخبار
فوراً بدل دو یہ چینل کہ جس پر
مسلسل لڑائی کی خبریں چلے جا رہی ہیں
مرا دل الٹنے لگا ہے
بچھا دو مرے واسطے یوگا میٹ
اور کرنے دو یوگا
کہ میں خالی الذہن ہو کر
فقط اپنے باطن میں ہی جھانکنا چاہتی ہوں
سنا ہے کہ ہے ایک ہی راستہ شانتی کا
کہ باہر کی دنیا کے بارے میں کچھ بھی نہ سوچو
ہٹا دو مرے سامنے سے یہ اخبار
اور مجھ کو کرنے دو یوگا

                                 (20 اکتوبر 2023)

٭٭٭          ٭٭٭

یوگا کلاس

مری یوگا استاد کچھ کہہ رہی ہے
مگر مجھ کو کیسے خیالوں نے گھیرا ہوا ہے
مجھے کیسے کیسے سوالوں نے گھیرا ہوا ہے
مجھے ننھے بچوں کے
رونے بلکنے کی آواز آنے لگی ہے
مری یوگا استاد کچھ کہہ رہی ہے
مگر مجھ کو کچھ بھی سنائی نہیں دے رہا ہے
بہت نرم آواز میں دھیرے دھیرے
وہ کچھ شانتی کا سبق دے رہی ہے
مجھے پہلی بار آج یوں لگ رہا ہے
کہ وہ بے حسی کا سبق دے رہی ہے
وہ کہتی ہے جھانکو
ذرا اور تم اپنے باطن میں جھانکو
کلیجہ مرا درد سے پھٹ رہا ہے
میں باطن کو ظاہر سے کیسے جدا کر کے دیکھوں
مجھے ماؤں کی چیخ، بم کے دھماکوں کے آگے
سنائی نہیں دے رہا کچھ خدایا
دکھائی نہیں دے رہا کچھ خدایا

                                       (25 اکتوبر 2023)

٭٭٭        ٭٭٭

نیند کی گولی

سنو!
وہ نیند کی گولی اٹھا دو
ادھر اس شیلف پر جو
انتہائی داہنی جانب کو لال اور نیلی شیشی ہے
مجھے دے دو
سنو!
یہ سی این این اور بی بی سی
اور خاص کر کے الجزیرہ بند کردو
مجھے لگتا ہے
جیسے یہ لڑائی میرے گھر میں ہو رہی ہے

                                                 (24 اکتوبر2023)

٭٭٭       ٭٭٭

پناہ کی تلاش میں

نکل پڑے ہو تم کدھر
پناہ کی تلاش میں
پناہ تو کہیں نہیں
ڈھکیلتے ہی جائیں گے
تمہیں یہ اور دور تک
جنوب سے شمال تک
شمال سے جنوب تک
کھدیڑتے رہیں گے یہ
تمہیں یونہی ادھر ادھر
پناہ کی تلاش میں
نکل پڑے ہو تم اگر
تو جان لو
کہ پاؤں سے نکل گئی
جو ایک مرتبہ زمیں
پناہ پھر کہیں نہیں
                  (یکم نومبر 2023)

٭٭٭         ٭٭٭

گر زمیں نہیں بھی ہو

اسلحے کے بیوپاری
جو بھی ہوں جہاں بھی ہوں
ان کو اس سے کیا مطلب
کون کس کو مارے گا
وہ تو چاہتے ہیں بس
مال کے لئے اپنے
ایک مستقل منڈی
وہ جہاں کہیں بھی ہو
مجھ کو ایسا لگتا ہے
آنے والے وقتوں میں
جا کے وہ لگائیں گے
منڈیاں خلاؤں میں
گر زمیں نہیں بھی ہو
                          (3 نومبر 2023)

Facebook Comments HS