اگر حقیقی مطالعہ پاکستان ہو، تو کیا تماشا ہو


کہتے ہیں کہ کردار کے سوا تاریخ جھوٹ کا پلندا ہے۔ کیونکہ سماجی، سیاسی اور مذہبی تواریخ یا تو طاقت نے مرتب کیں یا پھر عقیدت کے قلم سے رقم ہوئیں۔ ہمارا خطہ ہمیشہ سے ہی روایت پرستی، شخصیت پرستی اور شاہ پرستی کا امین رہا ہے۔ وطن عزیز میں جب کسی طبقے کو مقتدر حلقوں کے مقابل ہزیمت کا سامنا ہوا تو اکثر اصلی مطالعہ پاکستان اور تاریخ کو منظر عام پر لانے کے مطالبے ہوئے۔ کاش ایسا ہو، مگر اس صورت میں ہماری برداشت کا پورا قومی، نظام انہضام، نا قابل علاج حد تک بگڑ سکتا ہے۔

پھر ایک آدھ کہاں، پوری قوم ہی منہ چھپائے پھرے اور نقلی مطالعہ کی بحالی کے سوا کوئی چارہ نہ رہے۔ مطالعہ و تاریخ کا حقیقی ورژن جہاں اسٹیبلشمنٹ، افسر شاہی اور اشرافیہ کے کرتوت ہائے سیاہ و سفید کو آشکارا کر کے ہمارے لیے وقتی راحت کا موجب بنے گا وہیں ہماری ہزاروں عقیدتوں، کج فکریوں، کم علمیوں اور ہٹ دھرمیوں کے بھانڈے بھی پھوڑ کر رکھ دے گا۔ اور وہ حسب معمول نصارٰی اور ہنود و یہود کی سازش قرار پائے گا۔ اصلی مطالعہ پاکستان یقیناً محمد بن قاسم کی ایک مظلوم بہن کی فریاد پر سندھ میں آمد کے قصوں سے شروع نہیں ہو سکے گا بلکہ اس کے حملے کے اصل محرکات لکھے جائیں گے۔

لکھا جائے گا کہ کاش راجہ داہر کی جگہ یہاں پنجاب کا سورما رنجیت سنگھ ہوتا تو اس کوفی حملہ آور کو ایرانیوں اور افغانوں کی طرح واپس بھاگنے پر مجبور کر دیتا۔ سلطان محمود غزنوی کی بت شکنی کے ساتھ ہندوستانی خزانوں کی افغانستان منتقلی کا ذکر ہوتا۔ نادر شاہ اور ابدالی کی غارت گری اور لوٹ مار کا مختلف زاویہ ہو تا۔ اس خطہ کے علاقوں کی تباہی کی بات ہوتی۔ یہاں کی ہزاروں عورتوں کو ان سترہ حملوں میں لونڈیاں بنا نے اور ان کی افغان اور ترک منڈیوں میں لگنے والی بولیوں کی گونج بھی سنائی دیتی۔

پھر کچھ کچھ محمود و ایاز، علا الدین خلیجی و ملک کافور اور مبارک خلجی و خسرو کی سچی باتیں بھی چھڑا کرتیں۔ یہ واضح ہو تا کہ حضرت غزنوی سترہ حملوں میں ایک بار بھی یہاں قیام کر کے اسلام کی خدمت کا ہرگز نہ سوچ پائے بلکہ دلوں کے ساتھ مسجدوں مندروں کو ڈھانے کے آداب ضرور نبھائے۔ ہم خلجیوں، غوریوں، تغلقوں، تیموروں، لودھیوں اور مغلوں کے شغلوں کی اصل جانکاری جان پائیں گے۔ شاید ہم تسلیم کرنے کے قابل ہو سکیں کہ جن غیر ملکی حملہ آوروں کو ہیرو سمجھ کر پوجے جا رہے ہیں، وہ تو لٹیرے تھے۔

اور جنھیں ولن کہہ کر لتاڑتے رہے وہی اس دھرتی کے باسی تھے۔ ہمیں پڑھایا گیا کہ ڈاکو چور لٹیرے مسلمان ہوں تو ولی اللہ اور مسیحا سمجھو۔ چاہے وہ آپ کے دیس کی عزتیں اٹھاتے و لوٹتے پھریں۔ تب ہم جانیں گے کہ سکندر اعظم نہیں ہمارا ہیرو تو پورس تھا۔ ہم ہر لمحے اپنا ڈی این اے عربوں، ترکوں اور افغانوں سے ملانے کی حسرت لیے ہوتے ہیں جبکہ ترک و عرب ہمیں کسی حوالے سے گھاس ڈالنے کو تیار نہیں۔ عرب کہتے ہیں کہ جن سائنسدانوں پر تم اتراتے ہو وہ ہمارے تھے۔ تم عجمیوں کا کچھ ہے تو دکھاؤ۔ مگر ہم انبیا کی سر زمین کے باسیوں سے زیادہ اسلام سمجھنے کے دعویدار بھی ہیں۔ اس لیے مشتاق یوسفی سے ایک عربی نے شکوہ کر ڈالا، مسلمان ہم بھی ہیں پر آپ تو کلمہ پڑھ کر باؤلے ہی ہو گئے ہیں، ۔ اگر واقعی مطالعہ اصلی ہو گیا تو شاید ابو الکلام آزاد، حسین مدنی، عطا اللہ بخاری اور علامہ مشرقی کے خلاف اگلے گئے زہر پر پشیمان ہوں اور مان لیں کہ مسلمانوں کو تقسیم کر کے کمزور اور لاچار نہ کرنے کی ان کی باتیں درست تھیں۔

پھر تسلیم کرنا ہی پڑے گا کہ بٹوارے میں ہندو، مسلم اور سکھ نہیں صرف انسان مرے اور بے گھر ہوئے تھے۔ اور غفار خان، جی ایم سید وغیرہ کے غلاف غداری کے فتاویٰ بصد احترام واپس لینا پڑیں۔ مگر کیوں۔ ہم سچ بولنے والوں کو غدار، کافر، ایجنٹ یا قادیانی ہی کہیں گے کیونکہ اپنا پختہ اعتقاد ہے کہ کھرا سچ وہی بد بخت بول سکتے ہیں۔ اصلی مطالعہ میں یہ بھی لکھا ہوتا کہ صدیوں سے ایک ساتھ ہنسی خوشی رہنے والے لوگوں اور مذہبوں کو جانی دشمن بنا کر الگ الگ کرنے کا نام دو قومی نظریہ ہے جو سقوط ڈھاکہ کی صورت میں انجام کو پہنچ گیا۔

قرار داد پاکستان اور یوم پاکستان کے حقائق سے آگاہی بھی ہو جاتی۔ یاد رہے کہ جمہوری حکومتوں کو بزور شمشیر گھر بھیجنے کی روایت اسٹیبلشمنٹ نے نہیں بلکہ بابائے قوم نے خود ایجاد فرمائی جب سرحد اور سندھ اسمبلیوں کو مخالف ہونے کی بنیاد پر ختم کر دیا گیا۔ بر سر اقتدار مسلم لیگ نے اپنی مرضی کا نصاب مرتب کیا جس میں اسلام، پاکستان اور غداری کے حوالے سے مرضی کے دائرے کھینچے گئے۔ پھر نتیجتاً قائد کی ایمبولینس کی خرابی اور لیاقت علی خان کا قتل بھی تاریخ کا ان دیکھا حصہ بنا۔

موجودہ مطالعہ پاکستان میں قائد و اقبال پر جائز تنقید بھی جرم ٹھہری۔ ورنہ آج قائداعظم پر پاکستان میں پی ایچ ڈی کرنے میں کچھ مانع نہ ہوتا اور قائد کے جارج ششم اور اس کے ولی عہدوں کی وفاداری کے حلف کی بابت کچھ پوشیدہ نہ رہتا۔ علامہ اقبال کا آخری عمر میں نظریہ قومیت پر رجوع بھی کہیں لکھا پڑھا جاتا۔ اور ان مشاہیر کی نجی زندگیوں اور افکار کا بھی کچھ اندازہ ہو پاتا۔ پھر آمروں کے ہتھے چڑھنے والی ہماری دیکھی بھالی، مقبوضہ جمہوریت، کے چرچے بھی عام ہوتے۔

یہی وجوہات ہیں کہ اصلی مطالعہ پاکستان اور کمشن حمود الرحمٰن کا بھانڈا پھوٹنا ممکن نہیں ورنہ صدیوں سے چلے آئے ہیرو، ولن اور ولن ہیرو بن سکتے ہیں جو ہماری قومی غیرت اور دینی حمیت کو کسی صورت قبول نہیں ہے۔ اس لیے اے ایمان والو اور اسلامی قلعہ کے مکینوں اسی مغالطہ پاکستان اور پسند کی تاریخ سے دل بہلاؤ، غریق خبط عظمت رہو اور بھنگڑے ڈالتے زندگیاں تمام کرتے رہو۔ اصلی مطالعہ پاکستان جزوی طور پر تو قابل ہضم ہو سکتا ہے مگر بحیثیت قوم، اتنے سچ قیامت سے کم نہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments