اقبال کا فکری ارتقا


اقبال کی شاعری اور فکری ارتقا کے تین ادوار ہیں۔ پہلا دور 1905ء تک کا ہے، جب وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے یورپ تشریف نہیں لے گئے تھے۔ دوسرا دور قیام یورپ کا ہے جو 1905ء سے 1908ء تک تین برسوں پر محیط ہے۔ ان کی شاعری کا تیسرا اور سب سے اہم دور یورپ سے واپسی کے بعد شروع ہوتا ہے۔ جس میں وہ محمد اقبال سے علامہ محمد اقبال، شاعر مشرق اور ترجمان حقیقت بنے۔ سر کا خطاب بھی حاصل کیا اور بلند پایہ فلسفی کی حیثیت سے پوری دنیا سے اپنا لوہا منوایا۔ اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ کے علمبردار بن کر اپنا پیغام پوری مسلم دنیا تک پہنچایا۔

اگر ان کے پہلے دور کی بات کی جائے تو علامہ اقبال نے اس وقت بھی ایک اعلیٰ شاعر کی حیثیت سے اپنے آپ کو منوا لیا تھا۔ ان کی نظم و نثر نے ہندوستان بھر میں دھوم مچائی ہوئی تھی۔ اگرچہ اس وقت بھی ان کی شاعری مظلوموں اور بے کسوں کے درد سے لبریز تھی مگر ابھی ان کی سمت متعین نہیں تھی۔ یہ ممتاز کلام تھا مگر روایتی شاعری تھی۔ ان کے ابتدائی دور کی شاعری انتہائی دلکش ہے مگر اکثر حسن و عشق سے عبارت ہے۔ شاعری کو مضبوط بنانے کی شعوری کوشش محسوس ہوتی ہے۔

اس میں داغ اور دیگر ہم عصر شعرا کا انداز سخن ہے، گل و بلبل کا ذکر ہے، عشق و محبت کے رنگ بکھرے ہیں اور فطرت کے نظاروں کا دلکش تذکرہ ہے۔ اگرچہ یہ شاعری باکمال اور پر اثر ہے مگر اقبالؒ کے اگلے ادوار سے مختلف ہے۔ اس دور کی مشہور غزلیں اور نظمیں ابر کوہسار، گل رنگین، صبح آفتاب، چاند، آرزو، موج، شمع، ماہ نو، بزم، قدرت، انسان، ایک آرزو، دریا کنارہ اور نیاشوالہ تھیں۔ یہ نظمیں اور غزلیں زیادہ تر بانگ درا کا حصہ ہیں۔

کسی عام شاعر کے لیے یہ شاعری عظیم اثاثہ ہوتی مگر اقبال عام شاعر نہیں تھے۔ انھیں قدرت نے اعلیٰ و ارفع مقصد کے لیے دنیا میں بھیجا تھا جسے انھوں نے کمال حسن سے نبھایا۔ ان کی شاعری اپنے اندر جو تعلیم اور پیام رکھتی ہے وہ رہتی دنیا تک بنی نوع انسان کے لیے مشعل راہ بنی رہے گی۔

جو لوگ فن برائے فن کے قائل ہیں وہ اقبال کی شاعری کے پہلے دور کو زیادہ اہم مانتے ہیں۔ یہاں سڈنی (آسٹریلیا) جہاں راقم مقیم ہے، ہندوستان سے تعلق رکھنے والے ایک سینیئر شاعر اور ادیب اوم کرشن راحت کے ساتھ ادبی نشستیں ہوتی رہتی تھیں۔ انھوں نے اردو شاعری، افسانہ نگاری اور ناول نگاری میں پندرہ بیس کتابیں لکھ رکھی تھیں۔ چند برس قبل تقریباً نوے برس کی عمر میں ان کا انتقال ہوا ہے۔ اقبالؒ کا ذکر ہوا تو فرمانے لگے۔

اقبالؒ برصغیر کے بہت بڑے شاعر تھے خاص طور پر ان کی نوجوانی کی شاعری سنہرے حروف میں لکھے جانے کے قابل ہے۔ ان کا لکھا ہوا ترانہ ’سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا، آج بھی ہندوستان کے اسکولوں میں پڑھا جاتا ہے۔ مگر درمیانی عمر کے بعد اقبال کے اندر ایسی تبدیلیاں رونما ہوئیں کہ وہ یک دم مذہب کی طرف مائل ہو گئے۔ اس کے بعد ان کی شاعری، شاعری کم اور تبلیغ زیادہ لگتی ہے۔ کاش وہ شاعر ہی رہتے مبلغ نہ بنتے ”

خیر یہ اوم کرشن راحت صاحب کا ذاتی خیال ہے جس سے نہ صرف مسلمان بلکہ اکثر غیر مسلم بھی متفق نہیں ہوں گے۔ جو ان کے فکر اور فلسفے اور ان کی عظمت انسانی کی شاعری کے دلدادہ ہیں۔ مسلمان کے ساتھ ساتھ اقبالؒ نے انسان کی عظمت اور اس کے ارفع مقام کو بھی موضوع سخن بنایا ہے جو تمام بنی نوع انسان کے لیے بہترین راہ عمل اور طرز حیات ہے۔

دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کر
نیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کر

اسلامی شاعری کے حوالے سے شکوہ خود علامہ اقبالؒ کے سامنے بھی کیا گیا۔ ایک ہندو کالج کے طلبہ علامہؒ سے ملاقات کرنے آئے اور بولے ”آپ صرف مسلمانوں کے لیے ہی کیوں لکھتے ہیں۔“

اس وقت تک علامہؒ کی اردو کی ایک ہی کتاب بانگ درا شائع ہوئی تھی آپ نے وہ منگوا لی اور پوچھا ”آپ جسے اسلامی شاعری کہتے ہیں وہ نظمیں اور غزلیں گن کر بتائیے“

جب شمار ہوئیں تو وہ بہت زیادہ نہیں تھیں۔ آپ نے فرمایا ”یہ آپ کے سوال کا ایک جواب ہے۔ اب حقیقت سنو۔ اگر کسی شخص کی ماں بیمار اور جاں بلب ہو تو وہ اس کی تیمار داری چھوڑ کر کسی اور کی خدمت کر سکتا ہے۔ جواب ملا“ نہیں ”

فرمایا ”میری قوم کی حالت اس وقت نا گفتہ بہ ہے۔ میں اسے اس حالت میں تنہا کیسے چھوڑ سکتا ہوں۔ “

علامہ اقبال کے دل میں قوم کا جو درد تھا وہ اس جواب سے عیاں ہے۔ تاہم ان کا فلسفیانہ اور شاعرانہ پیغام تمام بنی نوع انسان کے لیے ہے۔ وہ انسان کو اشرف المخلوقات اور خلیفۃ الارض کی حیثیت سے ارفع مقام اور مرتبہ کا حامل سمجھتے تھے۔

اقبال ؒکے پہلے دور شاعری کی سب سے خاص بات یہ تھی کہ اس میں وطنیت اور قومیت بلکہ قوم پرستی کا عنصر واضح نظر آتا تھا۔ ان کی شروع کی نظموں اور غزلوں جس میں ترانہ ہندی، شوالہ، اور ہمالہ شامل ہیں، میں وطنیت کوٹ کوٹ کر بھری ہے، جیسے :

سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستان ہمارا
اور یہ شعر ملاحظہ فرمائیے :
یہ ہندیوں کے فکر فلک رس کا ہے اثر
رفعت میں آسماں سے بھی اونچا ہے بام ہند

اس دور میں انھوں نے کئی ایسے شعر بھی کہے جس کی بعد میں انھوں نے شدید نفی کی۔ مثلاً اس دور کی لکھی نظم شوالہ میں فرماتے ہیں۔

سچ کہہ دوں اے برہمن گر تو برا نہ مانے
تیرے صنم کدوں کے بت ہو گئے پرانے
پتھر کی مورتوں میں سمجھا ہے تو خدا ہے
خاک وطن کا مجھ کو ہر ذرہ دیوتا ہے

یہ اقبالؒ کی نوجوانی کی شاعری ہے جس میں اس قدر قوم پرستی کا عنصر ہے۔ اقبال کی کی عمر اس وقت اٹھائیس برس تھی جب وہ اعلیٰ تعلیم کے

لیے یورپ تشریف لے گئے۔ یورپ میں تین سالہ قیام کے دوران اقبال کی اس قدر قلبی ماہیت ہوئی کہ واپس لوٹے تو وہ نئے اقبالؒ تھے جو مفکر اسلام اور شاعر مشرق بن کر نمایاں ہوئے۔ ان کے دل میں اسلام کی جو چنگاری بچپن اور لڑکپن کی تعلیم و تربیت کی وجہ سے رکھ دی گئی تھی وہ دیار غیر میں جا کر شعلہ بن کر ابھری۔ اس قلبی ماہیت کے بارے میں وہ خود فرماتے ہیں۔ :

دلیل صبح روشن ہے ستاروں کی تنک تابی
افق سے آفتاب ابھرا گیا دور گراں خوابی
مسلماں کو مسلماں کر دیا طوفان مغرب نے
تلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابی

یہ اقبالؒ کے قلب و ذہن کی عظیم تبدیلی تھی جس کے بعد ان کا رابطہ قرآن اور اس کے خالق سے گہرا ہوتا چلا گیا جو عمر کے ساتھ بڑھتا چلا گیا۔ ان کا وطنیت اور قومیت کا نظریہ بھی یکسر تبدیل ہو گیا۔ ان کے خیالات اور افکار کا دائرہ وسیع تر ہوتا چلا گیا۔ آگے چل کر وہ فرماتے ہیں۔ :

ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے
بازو ترا توحید کی قوت سے قوی ہے
اسلام ترا دیس ہے تو مصطفوی ہے

اقبالؒ کی قلبی کیفیت کی تبدیلی کتنی بڑی تھی کہ کل جو شخص کہہ رہا تھا ”خاک وطن کا مجھ کو ہر ذرہ دیوتا ہے“ وہ آج اس وطن کو سب سے بڑا بت قرار دے کر اسے پاش پاش کرنے کے لیے بے تاب ہے۔ اس کی جگہ ”اسلام ترا دیس ہے تو مصطفوی ہے“ کا رنگ غالب آ گیا جو دھیرے دھیرے ایک تحریک کی شکل اختیار کر گیا۔ یہ تبدیلی صرف ان کی شاعری ہی میں نہیں آئی بلکہ ان کی زندگی، ان کی سیاست اور ان کی علمی و ادبی زندگی پر بھی یہ رنگ حاوی ہونے لگا۔

وطنیت کے گیت الاپنے والا اقبال کہیں پس منظر میں چلا گیا۔ اس کی جگہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا داعی اور برصغیر کے مسلمانوں کے حقوق کا نگہبان بن کر ایک نیا اقبالؒ افق پر نمودار ہوا۔ ان کی تیسری پہچان بنی نوع انسان کی رفعت و سر بلندی اور اس کے حیات و فکر میں انقلاب برپا کرنے والے مصلح کی ہے۔ جس میں وہ انسان کا مقام، اس کی زندگی کا مقصد، اس کی اصل حیثیت اور اس کے اندر پوشیدہ صلاحیتوں کو یوں نمایاں کرتے ہیں کہ بنی نوع انسان کی شان ہی الگ دکھائی دیتی ہے۔

نہ تو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے
جہاں ہے ترے لیے تو نہیں جہاں کے لیے

وہ انسان کو اس کا بلند منصب بتا کر رک نہیں جاتے بلکہ اس منصب یعنی خلیفہ فی الارض کے شایان شان بننے کے لیے لائحہ عمل سے بھی آگاہ کرتے ہیں۔

فطرت نے مجھے بخشے ہیں جوہر ملکوتی
خاکی ہوں مگر خاک سے رکھتا نہیں پیوند

یوں علامہ اقبال ملت بیضا کی نشاۃ ثانیہ کے داعی، درد مند رہنمائے ملت اور عظمت انسانی کے پیامبر، ہر کردار میں بام عروج پر نظر آتے ہیں۔ ان کے کلام میں جو سوز حیات اور روح انسانی کا نغمہ موجود ہے وہ تا قیامت عشق و مستی اور جذب و جنون بن کر لہو گرماتا رہے گا۔

Facebook Comments HS