سکوتِ لالہ و گُل سے کلام پیدا کر

خُدا اگر دلِ فطرت شناس دے تجھ کو
سکوتِ لالہ و گُل سے کلام پیدا کر
ہر آدمی میں ایک کام کا آدمی ہوتا ہے ؛ وہی اصل آدمی ہوتا ہے۔ المیہ مگر یہ ہے کہ آدمی کے اندر کا آدمی ظاہر نہیں ہو پاتا۔ خارج کا آدمی مظاہر کی کشش اور غمِ دوراں میں اتنا کھپ جاتا ہے کہ اُس کا باطن اپنے اظہار کی تمنا کو حسرت کی نذر ہوتے دیکھتا ہے۔
حضرتِ انساں کا احساسی وجود جب بھی کسی منظر کی تصویر کشی کرنا چاہتا ہو، کسی خیال آرائی کو خامہ فرسائی کا روپ دینے کا متمنی ہو؛ اپنے فن، ہنر اور دیگر تخلیقی صلاحیتوں کو آشکار کرنے کا موقع پائے تو عین ایسے ہی وقت مختلف معاشی و معاشرتی مقتضیات اور پیشہ ورانہ مجبوریاں، خیال کو حقیقتِ حال کا ترجمان بننے سے قاصر کر دیتی ہیں۔
آدمی ایسے اوقات میں اپنے من کے فنکار کو تسلی اور دلاسا دیتے ہوئے منظر سے نکال باہر لاتا ہے کہ سردست دیگر ضروری اُمور سے نمٹ لیا جائے کیوں کہ یہ تخلیقی، علمی و ادبی مشغلے فرصت میں توجہ کے طلبگار ہیں۔ لیکن ایسی تمام آرزوئیں اور تمنائیں حسرت بن جاتی ہیں جب آدمی بہت دور نکل چکا ہوتا ہے اور پھر لوٹنے کا خیال تو آتا ہے پر نہ وہ مناظر باقی ہوتے ہیں اور نہ ہی اُن سے کچھ بھی کشید کرنے کی استطاعت و صلاحیت۔
افتخار عارف کی نظم ”بدشگونی“ اسی پس منظر کو پیشِ نظر کرتی ہے ؛
عجب گھڑی تھی
کتاب کیچڑ میں گر پڑی تھی
چمکتے لفظوں کی میلی آنکھوں میں الجھے آنسو بلا رہے تھے
مگر مجھے ہوش ہی کہاں تھا
نظر میں اک اور ہی جہاں تھا
نئے نئے منظروں کی خواہش میں اپنے منظر سے کٹ گیا ہوں
نئے نئے دائروں کی گردش میں اپنے محور سے ہٹ گیا ہوں
صلہ، جزا، خوف، نا امیدی
امید، امکان، بے یقینی
ہزار خانوں میں بٹ گیا ہوں
اب اس سے پہلے کہ رات اپنی کمند ڈالے یہ چاہتا ہوں کہ لوٹ جاؤں
عجب نہیں وہ کتاب اب بھی وہیں پڑی ہو
عجب نہیں آج بھی مری راہ دیکھتی ہو
چمکتے لفظوں کی میلی آنکھوں میں الجھے آنسو
ہوا و حرص و ہوس کی سب گرد صاف کر دیں
عجب نہیں میرے لفظ مجھ کو معاف کر دیں
عجب گھڑی تھی
کتاب کیچڑ میں گر پڑی تھی
ہمارے جیسے سماج کی سیاست جو سامراجی خمیر سے متشکل ہونے کے ناتے جبر و انتقام کے اوچھے ہتھکنڈوں کو استعمال میں لاتے ہوئے مخالف سوچ، فکر، نظریات اور شخصیات کو زیر عتاب لاتی ہے، سیاسی و مذہبی رہنماؤں کو زنداں کی نذر کرتی چلی آئی ہے جن میں سے چند پسِ دیوارِ زنداں اپنے خیالات، حالات اور افکار سے قرطاس کی شکم پری کرتے، اپنے جوہر تخلیقی کی آبیاری کرتے آئے ہیں۔ ایسی اسیری زحمت کم اور نعمت زیادہ ثابت ہوتی ہے۔ مزاحمتی ادب کی تر دامنی اس حقیقت کا بین ثبوت ہے۔
جسمانی حرکت جب مقید کر لی جائے تو جان کی تحریک کو جِلا بخش دیتی ہے۔ خارج کے معرکوں کی ناکامیاں باطن کے معرکوں کو معرکۃ الآرا بنا دیتی ہیں۔ پابندِ سلاسل لوگ اگر پابندِ خیال نہ ہوں تو تابندہ تر ہو جاتے ہیں۔ فرصت و فراغت میسر آ جائیں تو اِبنِ آدم کی خلاقی اپنے جوہر نایاب کو قلزم کی گہرائیوں سے بھی نکال باہر لاتی ہے۔
اسیری میں فرصت ہی نہیں فرقت بھی دستیاب ہوتی ہے سو اندر کا انسان باہر اور باہر کا اندر ہوتا ہے۔ سکوت میں کلام، زبانِ حال کا قیل و قال بن جاتا ہے۔
مفلسی حال و خیال درپیش نہ ہو تو قید و بند کی احتیاج ضروری نہیں، علمی و فکری معرکہ مردِ آزاد زیادہ بہتر انداز میں جیت سکتا ہے البتہ شرط یہ ہے کہ آزادی سے مراد صرف جسم کی آزادی نہیں، روح بھی آزاد ہو۔ سوچ اور فکر پر اگر معاشی، معاشرتی، مذہبی و سیاسی پہرے ہوں تو کاہے کی آزادی! آوازوں کے شور میں خموشیوں کی گونج کس کو سنائی دے سکتی ہے۔ سکوتِ شب میسر ہو تو ہی کوئی فطرت شناس سکوتِ لالہ و گل سے کلام پیدا کر سکتا ہے۔

