تاریخ، کہانی اور دھوکا


کردار کہانی کار کے قلم کے ہاتھوں اتنے تنگ آ گئے کہ انھوں نے آگے بڑھنے سے انکار کر دیا، کہ کہانی ویسے ہی آگے بڑھے گی جیسے کردار کی ضرورت ہو گی۔ اس کے برعکس قلم کہانی کار کی منشا کا پابند تھا اور اس کے نزدیک تاریخ کی تفہیم ویسے ہی ہونی چاہیے جیسا کہ وہ ”واقع“ ہوئی مگر کہانی کے کرداروں کا تصورِ تاریخ ’کیسے ہوا‘ کی بجائے ’کیسے واقع ہونا چاہیے تھا‘ سے جڑا ہوا تھا۔ ظاہر ہے کہ نظری اور عملی تضاد تصادم کی صورت میں ڈھلتا ہے، جبھی تو کردار اور کہانی کار کے قلم میں مباحثہ آغاز ہوا۔

قلم نے کردار کو کہا کہ تم عاشق ہو؛ تمھارا دل اندھا ہے، اس لیے تم پہ اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔

کردار سنتے ہی ہنس پڑا اور ہاتھ پہ ہاتھ مار کر قلم کو اس کی عصبیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مخاطب ہوا کہ ”جس کا اپنا دماغ بند ہے ؛ وہ مجھے اندھے دل کی بات سناتا ہے۔ جسے تعصب کا نشہ چڑھا ہو، اس کے ہاتھوں اور آنکھوں کا رنگ بتاتا ہے کہ وہ قابلِ اعتبار نہیں۔ میرے پاس دل تو تسلیم کیا تم نے، تمھارے پاس تو وہ بھی نہیں ہے۔ تصور اور وجود کو جو چیز جوڑتی ہے وہ جوہر ہی ہے اور دل جوہر ہے وجود کا۔ یوں تو تم لایعنی ٹھہرے۔ “

”جوہر، وجود سے باہر نہیں، وجود کے اندر ہوتا ہے۔“ قلم کا جواب کردار کی بات کو بڑھانے والا تھا مگر اس نے اس سے بھی اختلاف کا پہلو نکال ہی لیا اور بات بڑھاتے ہوئے بولا کہ ”یہاں جس دل کو تم جوہر کہہ رہے ہو؛ وہ اصل میں جوہر نہیں۔ بل کہ دل تو محض ظرف ہے، اس کا مظروف ارادہ ہے جو کہ اصل جوہر ہے۔“

”کن بھول بھلیوں میں پھر رہے ہو؟ اگر ارادہ دل کا جوہر ہے تو خواہش کہاں جائے گی؟“
”خواہش اور ارادہ میں حادث اور قدیم کا قضیہ کیسے حل ہو گا؟“

”اففف یہ عجیب و غریب منطق! خواہش اور ارادہ دونوں ضرورت کے تابع ہیں۔ مجھ سے بات سوچ سمجھ کر شروع کرو۔“

اس سے پہلے کہ قلم اور کردار کا مباحثہ مناظرے میں بدلتا؛ ورق کے میدان نے ان کو آواز دی اور اپنے سینے پہ تسوید کو پڑھنے کے لیے ان دونوں کو اپنی اور مخاطب کر لیا کہ بھئی دیکھو لڑو نہیں، ضرورت ہی قدیم ہی اور باقی سب حادث۔

”مثلا؟“ دونوں نے بہ یک وقت پوچھا۔

سینہ قرطاس نے کہا کہ میرے پاس کائنات کی آفرینش سے لے کر اب تک کا سارا مواد موجود ہے اور اس میں یہی نتیجہ نکلا کہ آپس میں کردار لڑیں یا نظریے، ایجاد ہو یا خاتمہ، دریافت ہو یا تجاہل؛ محرک ہمیشہ ”ضرورت“ رہی اور ضرورت طاقت ور کی خواہش کو ارادے اور ارادے کو عمل میں ڈھالنے والی وہ میکانکی چکی ہے جس کو دونوں پاٹوں کے درمیان کردار ہی آتے ہیں، اب چاہے وہ اونچے والے پاٹ سے جڑے ہوں یا نیچے والے سے۔

کردار اور قلم آپس میں ایک دوسرے کو دیکھ کر طاقت ور کی منشا کے غلام کا طعنہ دینے ہی والے تھے کہ فوراً ورق نے کہا کہ ضرورت کی اشکالی صورت بھی موجود ہے۔ ضرورت ”گت سمنی“ ہے، کسی ایک کو دھوکا ضرور دیتی ہے۔

کسی ایک؟
ہاں ہاں کسی ایک کو ضرور دیتی ہے : یا ضرورت آفریں کو یا ضرورت مند کو۔
گت سمنی کیا ہے؟
یہ علامت ہے اس دھوکے کی جس کے ساتھ ارادہ اور پچھتاوا، اذیت اور ہمیشہ کی اذیت میں ڈھل جائیں۔
سمجھ نہیں آئی ابھی بھی۔

او بھئی! گت سمنی وہ باغ ہے جہاں عیسیٰ کو آرام کے بہانے دھوکا دیا گیا جس میں عیسیٰ کی قربانی کا ارادہ بھی شامل تھا اور رات کو آرام کی ضرورت بھی۔ جس نے پچھتاوے اور اذیت کا روپ دھار لیا ہمیشہ کے لیے۔

”عیسی نے قربانی کا جو ارادہ کیا وہ ضرورت نہیں تھی کیا؟“

اعتراض معقول لگتا ہے مگر یہاں کردار کی نفسیات کا مسئلہ ہے، انسان کے لیے سب سے پُرسکون لمحہ وہ ہوتا ہے جب وہ قسمت کو قبول کر لیتا ہے، اس قبولیت کے ساتھ ہی اس کی تکلیف بھی ختم ہو جاتی ہے، اب وہ چاہے، خود کش حملہ آور ہو، فوجی ہو، سزائے موت پانے والا قیدی ہو یا کوئی نبی یا امام وغیرہ۔

اوہ یعنی ضرورت انسان کو فوجی بناتی ہے، فوجی کے اندر خواہش پیدا ہوتی ہے لڑنے کی اور وہ ارادہ کرتا ہے۔

یہ قلم کی خود کلامی تھی جسے ٹوک کر کردار نے کہا کہ ان کیفیات کا تقلب جس جس صورت میں بدلتا جائے گا، ویسے ہی نیا کردار سامنے آتا جائے گا۔ ہو سکتا ہے کہ شوقِ شہادت والی خواہش پہلے آ جائے تو ارادہ و ضرورت اس کے تابع آ جائیں، ہو سکتا ہے کہ ارادہ ہی خواہش سے پہلے آ جائے۔

ابھی کوئی تیسری صورت سامنے آتی کہ قلم نے کردار کو کہا کہ موجود مسلم دنیا میں اس ضرورت خواہش ارادہ کی مثلث میں اولیت کس کو دو گے؟

قرطاس نے آواز دی کہ طاقت کو اور اس کے آلہ گت سمنی کے تناظر میں بتانا، اور صرف طاقت ور کے کردار کا احاطہ نہ کرنا۔

کردار اتنے سوالوں کا جواب ایک ساتھ دینے کے لیے جُت گیا۔ کردار دوسری جنگِ عظیم کے بعد بننے والی سپر پاور کے شروع ہوا، اسے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ضرورت تھی تقسیم اور تصادم کی، اس نے پہلے پہل ایران کے منتخب حکم ران محمد مصدق کی حکومت کا تختہ الٹ کر فوجی انقلاب کے ذریعے رضا شاہ پہلوی کو شاہِ ایران بنا دیا۔ ادھر ایران ہی کے نظریاتی مخالف وہابی سعودی بادشاہت کی پشت پناہی جاری رکھی، مگر اس کے ذریعے وہ مصر کے ناصر کو قابو رکھنا چاہتا تھا جو کہ سوویت یونین کا حامی تھا، ادھر پاکستان کو افغانستان میں استعمال کر کے سوویت یونین کے خلاف ”جہاد“ شروع کرایا۔ اب سوویت یونین کا انہدام ہو گیا۔

یہاں قرطاس نے اپنے موقف کی دلیل کے لیے لقمہ دیا کہ سوویت یونین کا ٹوٹنا ضرورت۔ ارادہ اور خواہش کی تکمیل تھی مگر ضرورت آفریں کو اندازہ نہیں تھا کہ اس کا انت اسی کے لیے گت سمنی بن جائے گا، پچھتاوا اور اذیت اتنا ہو گا کہ اسی افغانستان میں سول وار شروع ہو جائے گی اور اس کے لڑنے والوں کو ”طالبان“ کہہ کر ان سے امریکا کو خود لڑنا پڑ جائے گا۔ ضرورت آفریں خود ضرورت مند بن جائے گا۔

پھر عراق ایران میں بھی یہی ہوا۔
کردار نے بات آگے شروع کر دی۔

امریکا نے عراقی صدر صدام کی پشت پناہی کی اپنے مخالف بیانیے پر استوار ایرانی انقلاب کی بیخ کنی کے لیے ایران سے جنگ شروع کرا دی۔ مگر یہاں کردار میں پھر ضرورت در ضرورت کام آئی، ایک طرف ایران کو امریکا مخالف نظریات پر سبق سکھائے جا رہے تھے جب کہ دوسری طرف ”یرغمالوں کے بدلے ہتھیار“ کی تجارت شروع کر دی، تاکہ دونوں ممالک کے پاس اسلحے کی کمی نہ آئے۔

قلم نے یہاں وضاحت چاہی کہ کیا ان چالوں کا علم دونوں اطراف نہیں ہو سکتا تھا؟

کردار نے کہا کہ بالکل ادراک ہے، جبھی تو آج کے شیعہ سنی ہوں یا لبرل سیکولر، بنیاد پرست ہوں یا ترقی پسند؛ دونوں کی سیاسی تخم ریزی کی فصل مغرب بیزاری سے شروع ہوتی ہے اور انتہا یا شدت پسندی پہ ختم۔

جب دونوں اطراف ادراک ہو چکا ہے تو پھر یہاں امن کیوں نہیں آ رہا؟
اقتدار اور اختیار کی جنگ۔
یہ جنگ کہاں سے جنم لیتی ہے؟
کسی نہ کسی خود ساختہ بحران سے؟
لڑی کہاں جاتی ہے؟

ایران کی سرحدوں، عراق کے شہروں، شام کے قصبوں، فلسطین کے ساحلوں، پاکستان کے میدانوں اور افغانستان کے پہاڑوں پر۔
اور جو وہاں نہیں لڑ پاتے ؛ وہ ہر شام ٹی وی شو پر، بازاروں میں دن نکلتے ہی، دوپہروں کو گلیوں میں رات گئے اپنے موبائلوں پر۔
اور جو آپس میں لڑ رہے ہوتے ہیں وہ خود کو سب سے ذہین ثابت کرنے کی سرتوڑ کوشش کرتے ہوئے یہ جتانا چاہ رہے ہوتے ہیں کہ یہ جنگ ہماری اپنی اور اندرونی جنگ ہے۔
ورق نے گت سمنی کی آواز لگائی اور ایک دم سکوت چھا گیا۔

Facebook Comments HS