زرداری، بلاول اور گڈ کاپ، بیڈ کاپ کا کھیل

گڈ کاپ، بیڈ کاپ اصطلاح ایسی صورت حال کو بیان کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جس میں دو لوگ مل کر کچھ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ان میں سے ایک دوستانہ اور خوشگوار ہوتا ہے اور دوسرا دھمکی یا طاقت کا استعمال کرتا ہے، لیکن دونوں کا مقصد ایک ہی ہوتا ہے۔
ملکی سیاسی منظر نامے کو ایک چکرا دینے والا موڑ سامنے آیا ہے۔
حال ہی میں سابق صدر آصف علی زرداری نے سینئر صحافی حامد میر صاحب کو دیے گئے انٹرویو میں اپنے جانشین و پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو ناتجربہ کار قرار دیا ہے۔
آصف علی زرداری نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ بلاول مکمل ٹرینڈ نہیں ہے، پڑھا لکھا ہے، اچھا بولتا ہے، لیکن تجربہ تجربہ ہوتا ہے، بلاول تین پی والی پیپلز پارٹی کے چیئرمین ہیں، لیکن وہ چار پی والی جماعت کے سربراہ ہیں۔
اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں سے لے کر میڈیا اور میڈیا سے عام آدمی تک تاثر دیا جا رہا ہے کہ باپ بیٹے کے درمیان اختلافات ہیں، ان باتوں کو زیادہ تقویت تب ملی جب انٹرویو کے اگلے دن خبر چلی کہ بلاول بھٹو دبئی روانہ ہو گئے ہیں۔ دوسرے دن ایک اور خبر سامنے آئی کہ سابق صدر آصف علی زرداری بھی دبئی پہنچ گئے ہیں جس کے بعد یہ تاثر مضبوط ہو گیا کہ باپ بیٹے کے درمیان سیاسی پالیسیوں پر اتفاق نہیں ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کے بیانات اور سابق صدر کے انٹرویو کے بعد ایسا لگتا ہے کہ یہاں گڈ کاپ، بیڈ کاپ کا کھیل چل رہا ہے، کوچ نے اپنے نائب کو اپنے تربیتی میدان کے بیڈ کاپ کے طور پر استعمال کیا، جس سے وہ گڈ کاپ والے کا کردار ادا کر سکیں۔
نواز شریف کی وطن واپسی کے بعد سیاسی ماحول بظاہر نواز شریف کے حق میں نظر آ رہا ہے، لیول پلیئنگ فیلڈ نواز شریف سیٹ کر چکے ہیں۔
نواز لیگ نے دباؤ ڈالنے کے لیے سندھ میں پیپلز پارٹی مخالف ووٹ حاصل کر نے کے لئے جوڑ توڑ شروع کرلی ہے اور سندھ میں ایک سیاسی اتحاد قائم کیا ہے جس میں ایم کیو ایم، جی ڈی ای، ای این پی سمیت دیگر جماعتیں شامل ہیں جبکہ کئی سیاسی رہنما و اثر و رسوخ رکھنے والے افراد مسلم لیگ نون شمولیت کر چکے ہیں۔
آصف علی زرداری نے اپنے انٹرویو میں واضح طور پر پیغام دیا ہے کہ مرکز میں نون لیگ کے پاس اکثریت نہیں ہوگی اور حکومت بنانے کے لیے انہیں پیپلز پارٹی کی ضرورت پڑے گی۔
ایک بار مفاہمت کی پالیسی اختیار ہو سکتی ہے، اگر مخلوط حکومت آ بھی گئی تو وزیر اعظم کا تعلق کس جماعت سے ہو گا؟ اس پر بحث ہو نا باقی ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے سربراہ آصف زرداری نے سیاسی روابط کے لیے کمیٹیاں تشکیل دیں ہیں، جو پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں سیاسی حلقوں سے رابطے قائم کریں گی۔
پنجاب کے اندر آصف زرداری کا اثر نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ پنجاب میں بلاول بھٹو کا ایک سافٹ امیج موجود ہے اسی طرح سندھ میں بھی آصف زرداری اور بلاول کے لیے الگ الگ رائے رکھنے والے لوگ ہیں، ان تمام لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے گڈ کاپ، بیڈ کاپ کھیلا جا رہا ہے جو یقیناً پیپلز پارٹی کے لیے سود مند ثابت ہو گا۔

